![]() |
|
Spaces home اظہرالحق کی دنیا - Azhar...ProfileFriendsBlogMore ![]() | ![]() |
اظہرالحق کی دنیا - Azhar's Worldکچھ باتیں میری کچھ دنیا کی - Something about my self, somthing about world
June 13 جا مشرف جااک اک دل کی ہے یہ صدا
جا مشرف جا ،جا مشرف جا رب سے بس ہے یہ دعا جا مشرف جا ، جا مشرف جا عزت نہی ہے راس تجھے
کوئی نہ ڈالے گھاس تجھے بس اک بُش ہے دنیا میں جو دیتا ہے آس تجھے تو بھی اب امریکا جا
جا مشرف جا، جا مشرف جا تیرا بُت اب ٹوٹ چکا ہے
دور ہیں جنہوں نے پوجا ہے
انجام کے بارے میں سوچ ذرا تخت نہیں اب تو تختا ہے جا ہُن تو کھسماں نوں کھا
جا مشرف جا، جا مشرف جا May 30 شنید
دھرتی شعلے اگلے گی کب تک آخر یہ دنیا اک شخص کے گناہوں کی May 17 اے بیمار وطناے، بیمار وطن ، تیری کیا دوا کروں
زخم زخم اے دھرتی ماں،تیری کیا دوا کروں تیرے بیٹے ، تیرے قاتل
خوں سے بھرے ہیں تیرے ساحل ولیوں کی بستی ہے یہ جس میں بھرے ہیں سب جاہل عشق ہی نہیں سچا ، خود کو کیا فنا کروں
تیرے سپنے بھی میں بھولا، کیسے اب وفا کروں تو دیس ہے دل والوں کا تو دھرتی ہے متوالوں کی ہر دل میں تو ہی دھڑکتا ہے تجھ پر حکومت جیالوں کی خود کو جلاکہ اب میں کیا ضیاء کروں
بیچ کہ اپنی دھرتی ماں ، کیسے اب حیا کروں بتا مجھے میں کیا کروں
ذلت میں کب تک جیتا رہوں اپنا مجرم ، منصف خود ہی ہوں کس سے جا کہ پھر گلہ کروں ظلمتوں کے دور میں اب تو میں ڈرا کروں
بزدل ہوں ، پھر بھی خود سے لڑا کروں اے بیمار وطن تو ہی بتا ۔ ۔ میں کیا کروں میں کیا کروں!!!!
تو آباد رہے شاد رہے آزاد رہے اے میرے وطن دل کے چمن تیرے لئے بس یہ ہی میں دعا کروں!!!! زندہ کو لاش بنا دیتے ہیںزندہ کو لاش بنا دیتے ہیں
یقیں کو کاش بنا دیتے ہیں میرے دیس کے حاکم ہیں ایسے
دیس کو تاش بنا دیتے ہیں جسکو اخلاق کہتی ہے دنیا
ہم تو معاش بنا دیتے ہیں کچھ نہی بدلا ما سوائے پہناوا
یہ بود و باش بنا دیتے ہیں زردار ہیں حاکم شریفوں پر
غرباء کو قلاش بنا دیتے ہیں پیٹ کا دوزخ بھرے کا کب تک
توانا کو فراش بنا دیتے ہیں بچھڑ جائے جسکا کوئی اپنا زندگی اسکی تلاش بنا دیتے ہیں لوح سے خوں ٹپکتا ہے اظہر
قلم سے خراش بنا دیتے ہیں
April 12 لالا ، لا ، لااب یہ مت سمجھیے گا کہ میں کوئی گانا گانے جا رہا ہوں، پنجاب اور سرحد میں بڑے بھائی کو پیار سے “لالا“ کہتے ہیں ، اور انگریزی میں “لا“ کا مطلب ہوتا ہے قانون LAW ، اور عربی میں “لا“ کا مطلب ہوتا ہے نہیں ۔ ۔ ۔ اب ذرا اسی جملے کو پڑھیں کہ “لالا LAW لا “ مگر یہ آخری والا “لا“ جو ہے وہ عربی والا نہیں اردو والا ہے ، یعنی لالا جی اب تو LAW ، لا دیں ۔ ۔ ۔ کیونکہ اگر LAW لا (عربی والا یعنی نہیں ) تو پھر سب پرابلم ہیں ۔ ۔ سو اسلئیے لالا ، LAW ، لا ۔ ۔ ۔ اب آپ کی مرضی اسے گائیں یا ۔ ۔ ۔ گنگنائیں ۔ ۔ ۔ ویسے اس کے جواب میں حکومتی جواب بھی ، لا لا لا ، لگتا ہے ، جبکہ عوام بھی چیخ رہی ہے لا لا لا (لانے والا لا ) جبکہ ہمارے وکلا بھی چیخ رہے ہیں LAW LAW LAW ، اب ہر جگہ سے لا لا کی صدائیں آ رہیں ہیں ۔ ۔ ۔ اب سمجھ نہیں آ رہا کہ کون کیا کہ رہا ہے سب مکس ہو گا ہے بلکے ری مکس ہو گیا ہے ۔۔۔۔ کیوں جی ذرا گائیں تو ۔ ۔ ۔ لا لا لا لا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔
|
یھ وہ سائیٹس ہیں جن پر میں اکثر جاتا ھوں
میرے دوست بلاگرز جن کے بلاگ پڑھنا میرے معمولات میں شامل ہے
اردو میں ویب پر شائع ہونے والے رسائل و جرائد
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|