Azhar Ul Haq's profileاظہرالحق کی دنیا - Azhar...BlogLists Tools Help
June 09

سفید کمرے کی کالی دیوار - آخری قسط

امریکی اور اسرائیلی کمانڈو انکے پیچھے لگ چکے تھے ، اسلئے اب انہیں اپنا مشن جلدی پورا کرنا تھا ، وہ اس وقت لیفکے شہر کے نواحی علاقے میں موجود تھے یہ ایک جھنگل نما جگہ تھی ، لیباٹری بھی اسی علاقے میں تھی ، کیونکہ اسکے سگنل بہت اسٹرنگ تھے اس جگہ  ۔ ۔ ۔ ۔  ناصر کے سامنے اس وقت سرکٹوں کا ڈھیر پڑا ہوا تھا ، یہ سرکٹ اسنے بہت ساری الیکٹرانکس دیوائیسز سے نکالے تھے  ۔ ۔ ۔  وہ انہیں جوڑ رہا تھا ، دوسری طرف صابر اور اسحاق ، بنگلے کے باغیچے میں تاریں بچھا رہے تھے ، جو کہ چھت پر ایک ڈش کے ساتھ لنک تھیں  ۔ ۔ ۔  انکے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ٹی وی تھا ، جسپر سگنل آ جا رہے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔انہوں نے وائرز کو ٹی وی تک لے جا کر چھوڑ دیا  ۔ ۔ ۔ تھا  ۔  ۔۔  ناصر نے انکی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا  ۔ ۔ ۔ یار کچھ کھا بھی لو  ۔  ۔۔
ٹائم کہاں ہے کھانے کا  ۔ ۔ ۔ پتہ ہے کوناگی میں لانچ رات آٹھ بجے تک پہنچ جائے گی  ۔  ۔ ۔
ہاں کام ہو گیا ہے ، بس فٹنگ کرنی ہے  ۔ ۔ ۔
مگر بتاؤ بھی کہ کیا ہوا ہے  ۔ ۔ ۔
بتاتا ہوں پہلے کچھ کھلا تو دو تم بے شک نہیں کھانا
ارے میں سینڈوچ بنا لاتا ہوں ۔ ۔ ۔ صابر نے کہا 
بلیک کافی کے ساتھ لانا  ۔  ۔۔
مجھے بھی  ۔ ۔  اسحاق نے کہا  ۔ ۔ ۔
اوکے باس  ۔ ۔ ۔ صابر کچن کی طرف چلا گیا  ۔ ۔ ۔
ناصر نے ٹی وی کے اندر ایک سرکٹ فٹ کیا  ۔ ۔ ۔ اور دوسرا سرکٹ لے کر باغیچے میں گیا اور تاروں کے ساتھ منسلک کر دیا جو اسحاق اور صابر نے بچھائیں تھیں  ۔ ۔ ۔ ۔
اسے مٹی میں دبا دینا چاہئے  ۔ ۔ ۔ اسحاق نے کہا  ۔ ۔ ۔
ہاں یہ تو کرنا پڑے گا پہلے ٹیسٹ ہو جائے  ۔ ۔ ۔
وہ واپس اسی کمرے میں آئے ٹی وی آن کیا  ۔ ۔ ۔ ۔ ناصر نے ریموٹ اٹھایا اور چینل سرچ کرنے لگا  ۔ ۔ ۔  ایک فریکیونسی پر آ کہ اس نے روک دیا ، ٹی پر آڑی ترچھی لائنز آ رہی تھیں  ۔ ۔ ۔   ہیڈ آفس ملاؤ  ۔ ۔ ۔ اسحاق نے سٹئلائٹ فون سے ایک کی دبائی ۔ ۔ ۔ ۔  پروگرام آ رہا ہے کیا  ۔ ۔ ۔  ناصر نے فون لے کر پوچھا  ۔ ۔ ۔ دوسری طرف سے اثبات میں جواب ملنے پر ناصر نے کہا کہ کنٹرول چیک کرو  ۔   ۔  آبجیکٹ کنٹرول میں ہے  ۔ ۔ ۔ ۔
اسی لمحے میں صابر کھانے کی ٹرے کے ساتھ اندر آیا  ۔ ۔ ۔
شکر ہے کام ہو گیا   ۔ ۔ ۔ ناصر نے فون بند کرتے ہوئے کہا  ۔ ۔ ۔ اب ہم جا سکتے ہیں 
مگر تم نے کیا کیا ہے  یہ تو بتاؤ  ۔  کیونکہ لیب تو ادھر ہی ہے اور  ۔ ۔ ۔
میں بتاتا ہوں  ۔ ۔ ۔  ناصر نے ایک سینڈوچ کا نوالہ لیتے ہوئے کہا  ۔ ۔ ۔
میری کوشش تھی کہ ہم قبرص سے باہر اس لیباٹری کو تباہ کریں ، اور میں اس میں کامیاب رہا ہوں ، ہم لیباٹری کے اندر نہیں جا سکتے اور نہ ہی کوئی ادھر سے باہر آئے گا ، مگر اس وقت لیباٹری میں تیس عدد وہ لوگ موجود ہیں جنکے برین میں چپ فکس کی جا چکی ہے ، میں نے انہیں کو کنٹرول کیا ہے ، اور ہیڈ آفس کے کنٹرول روم سے انہیں کنٹرول کر کہ چیک کیا جا چکا ہے  ۔ ۔ ۔
یعنی ہم انہیں لیب تباہ کرنے کے لئے استعمال کریں گے  ۔  ۔
بالکل  ۔ ۔ ۔
اور یہ سرکٹ ،
یہ ہمارے لئے لنک کا کام کرے گا سٹیلائٹ لنک کا  ۔ ۔ ۔ ۔
اور اس طرح کرے گا کہ کوئی اسے ڈی ٹیکٹ نہیں کر سکے گا اور کرے گا بھی تو اسے یہ سگنل اپنا ہی لگے گا  ۔  ۔  یاد ہے وہ وائرلیس جس سے میں نے چپ نکالی تھی  ۔ ۔ ۔  یہ وہ ہی چپ ہے  ۔ ۔  ۔
ہم نے چھے مہینے کا کرایہ دے چکے ہیں لہذا کوئی ادھر آئے گا نہیں ،
چلو پھر ریڈی  ۔ ۔ ۔  ہم بیس منٹ میں ساحل پر ہونگے  ۔ ۔ ۔
انشااللہ  ۔ ۔ ۔
اور تھوڑی دیر میں وہ کوناگی کے ساحل کی طرف جا رہے تھے جہاں پر ایک لانچ انکی منتظر تھی
-----------------------------------------------------
لیب کے اندر بہت خاموشی تھی ، پچھلے ایک ہفتے سے کوئی بھی شخص چپ کی فٹنگ کے لیئے نہیں لایا گیا تھا ، ڈاکٹر گور ایک میز پر بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر مختلف کمروں کے منظر دیکھ رہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ اسکے چہرے پر بے زاری نمایاں تھی  ، اسنے میز پڑے لال فون کو اٹھا اور ایک ہی نمبر دبایا ۔  ۔ ۔  تھوڑی دیر تک اسے انتظار کریں کا پیغام ملتا رہا  ۔  ۔۔ پھر ایک بھاری آواز گونجی  ۔ ۔ ۔ یہ کرنل ڈیوڈ تھا لیب کی سیکورٹی کا انچارج ، کرنل ہم کب تک یوں ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں گے ، ڈاکٹر گور نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا
جب تک خطرہ پوری طرح ٹل نہیں جاتا  ۔ ۔ ۔ ۔
کب تک ٹلے گا خطرہ  ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر نے پوچھا
کچھ کہا نہیں جا سکتا  ۔ ۔ ۔
اسی لمحے کمپیوٹر کی اسکرین پر ایک ونڈو کھلی جس پر لکھا تھا ارجنٹ میسج  ۔ ۔ ۔  میں تمہیں فون کرتا ہوں پھر ڈاکٹر نے کہا اور میسج کھول ، جس میں لکھا تھا کہ ، کچھ جوان جنکو چیپ لگائی تھی وہ اپنی زبان میں کوئی گیت گا رہے ہیں مل کر  ۔ ۔ ۔  اور ایک دوسرے پر سرکس کے انداز میں حرکتیں کر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔
ڈاکٹر نے جلدی سے کچھ کیز دبائیں  ۔ ۔  ۔ لیب ٹاپ کی اسکرین کالی دیوار والا ایک کمرہ تھا ، جس کے وسط میں جوان بیٹھے گیت گا رہے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔
ہونٹ انابی آنکھیں شرابی
چاند سا چہرہ ، مکھڑا گلابی
اس پے تیرا مسکرانا ، مر جاؤں گا
او جان جاناں مر جاؤں گا
ڈاکٹر مسکرا دیا  ۔ ۔ ۔ ارے یہ تو ایک فوک گیت ہے ، وہاں کے لوگ گاتے ہیں ایسے  ۔ ۔ ۔  اسنے دیکھا جوان ایک دوسرے کے کاندھے پر چڑھے ہوئے تھے اور ایک جوان کالی دیوار کو ہاتھوں سے ناپ رہا تھا  ۔ ۔  ۔ ۔   ہا ہا ہا  شاید یہ کمرے کی چھت سے باہر نکلنا چاہتے ہیں بے وقوف  ۔ ۔۔ ۔
-------------------------------
ہیڈ آفس کے کنٹرول روم میں ناصر  بہت ساری اسکرینوں کے سامنے بیٹھا تھا ، اس ہال میں بہت سارے ایسے ہی ڈیسک تھے  ۔۔ ۔ ۔  سامنے ایک بڑی اسکرین تھی جس پر کالی دیوار والے کمرے کا منظر تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  جس میں ایک جوان کالی دیوار ناپ رہا تھا  ۔ ۔ ۔
سر مجھے اسکا سنٹر پوائینٹ مل گیا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ایک طرف سے آواز آئی ، یہ عامر تھا ، میٹھمیٹکس ایکسپرٹ  ۔ ۔ ۔ 
گڈ  ۔ ۔ ۔
سر میں نے سب جوانوں کے قد  سے بھی اندازاہ کر لیا ہے کہ کون یہ کام کرے گا
ویری گڈ  ۔  ۔ ناصر نے کہا  ۔ ۔
او کے  ۔ ۔ ۔ ناؤ ایکشن  ۔ ۔ ۔۔
سر پروگرام فیڈ کیا جا چکا ہے ، ہمارے اندازے کے مطابق یہ کام دو منٹ میں پورا ہو گا اور کیونکہ ہمارا سٹالایٹ ڈیلے دو منٹ کا ہی ہے اسلئے ہمیں چار منٹ بعد نظر آئے گا  ۔۔ ۔  
مگر یہ جو دو منٹ کا بلیک آؤٹ ہے اسکا کیا ہو گا
یار اسی لئے کہا تھا کہ یہ کام وہیں کرنا چاہیے تھا قبرص میں صابر کی آواز گونجی 
نہیں سر یہ بلیک آؤٹ نہیں ہو گا  ۔ ۔ ۔  ہم پوری سٹڈی کر چکے ہیں  ۔ ۔ ۔
او کے پھر گو آہیڈ  ۔ ۔
بسم اللہ  ۔۔۔ ۔ ناصر نے کہا اور ایک بٹن دبا دیا ۔۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں جوانوں میں جیسے پارہ بھر گیا تھا  ۔ ۔ انہوں نے ایک جوان کو اٹھایا جو تیر کی طرح اکڑ چکا تھا اور اٹھا کر کالی دیوار کی طرف دوڑ لگا دی  ۔۔۔  اسی طرح ایک دوسرے جوان کو بھی کچھ جوانوں نے اٹھایا اور کالی دیوار کی طرف دوڑ لگا دی اور جیسے ہی انکے سر دیوار سے ٹکرائے  ۔ ۔ ۔ ایک چھناکے کی آواز آئی  ۔ ۔۔  اور کالی دیوار ریزہ ریزہ ہو گئی  ۔ ۔  ۔
اللہ اکبر  ۔ ۔ ۔ اللہ اکبر  ۔ ۔ ۔ سارا ہال گونچ اٹھا
--------------------
یہ یہ کیا کر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر گور نے  ۔ ۔  اپنی اسسٹنٹ کودیکھا  ۔ ۔ ۔ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ انہیں ایک جگہ مت رکھیں  ۔ ۔ ۔  کالی دیوار ٹوٹ چکی تھی  ۔۔۔   جوان ادھر ادھر بکھر گئے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ جوان کنٹرول مشین پر بیٹھ چکے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔
نہیں میں یہ نہیں ہونے دوں گا  ۔۔ ۔ ڈاکٹر گور نے چلاتے ہوئے کہا  ۔۔ ۔ ۔
مگر اسی وقت کنٹرول روم میں گن مین داخل ہوئے اور انہوں نے جوانوں پر گولیاں برسانی شروع کر دیں  ۔ ۔
ارے بے وقوفو یہ کیا کر رہے ہو ساری مشینری تباہ ہو جائے گی  ۔۔ ۔
کچھ جوانوں نے گن مینوں سے مشین گنیں چھین لیں تھیں  ۔ ۔ ۔
اور وہ لیب میں پھیل چکے تھے  ۔ ۔ ۔ اور بے دھڑک فائیرنگ کر رہے تھے  ۔ ۔ ۔
ڈاکٹر گور فون پر چلا رہا تھا  ۔ ۔  
ایک جوان کو اسنے کمیونیکیشن روم میں جاتے دیکھا  ۔ ۔  یہ یہ کیا کر رہا ھے  ۔ ۔  یہ ان پڑھ جاہل اس مشین کی فریکوینسی بدل رہا ھے  ۔ ۔ ۔ ۔  اوہ اوہ  ۔  ۔ اسنے اپنی اسکرین پر دیکھتے ہوئے کہا  ۔۔ ۔ نہیں یہ خواب ہے ایسا نہیں ہو سکتا  ۔ ۔ ۔
سب ہو سکتا ہے ڈاکٹر گور  ۔ ۔ ۔ اسکے لیب ٹاپ میں آواز ابھری  ۔ ۔ ۔ ۔ یہ لیب تباہ کی جا رہی ہے  ۔ ۔۔ ۔  مگر کیوں  ۔ ۔ ۔ اگر تھوڑی دیر اور ہم نے اس کمیونیکیشن کو جاری رکھا تو ہمارے بہت سارے راز کھل جائیں گے  ۔۔ ۔ ۔   گڈ بائے ڈاکٹر  ۔ ۔ ۔
نہیں   ۔ ۔ ۔ نہیں سنو  ۔۔ ۔ سنو  ۔ ۔  ۔ ۔ تم مجھے مار دو مگر یہ فارمولہ لے لو  ۔ ۔ ۔  یہ فارمولہ یہاں کے سوا کہیں نہیں ہے  ۔ ۔ ۔
کنٹرول تو بہت جگہ ہیں ڈاکٹر  ۔ ۔ ۔۔ ۔
مگر فارمولہ ادھر ہی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔  اور اگر یہ مین کمپیوٹر تباہ ہوا تو باقی سب کنکشن ختم ہو جائیں گے  ۔ ۔  ۔  اسنے لال فون کا ایک بٹن دبایا  ۔۔ ۔  پریزیڈنٹ پلیز  ۔ ۔۔ ۔ ۔
ہلیو  ۔ ۔ ۔  ۔ ایک آواز ابھری  ۔ ۔
سر ۔ ۔  ۔  چپ سیون ایٹ سیکس  ۔ ۔ ۔ ڈسٹرائے ہو جائے گی اگر لیب تباہ ہوئے  ۔ ۔ ۔ ۔
سوری ڈاکٹر  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ سب کا مشترکہ فیصلہ ہے
مگر گریٹ اسرئیل  ۔ ۔ ۔ ۔
اسرئیل از اگری  ۔ ۔ ۔
ناٹ پاسیبل  ۔ ۔ ۔  نو نو نو  ۔ ۔ ۔ نہیں ہو سکتا اسرائیل کبھی بھی نہیں ۔ ۔ ۔  تم گریٹ اسرائیل کو  ۔ ۔ ۔  نہیں روک سکتے  ۔ ۔  ۔
نان سنس  ۔ ۔  ۔  یو  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر نے پریزیڈنٹ کو ایک بھر پور گالی دی ۔ ۔ ۔ ۔
شٹ اپ  ۔ ۔ ۔  اور فون ڈسکنکٹ ہو گیا  ۔۔ ۔ ۔ ۔
اور ساتھ ہی کان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا  ۔ ۔۔ ۔  اور لیب کے پرخچے اڑ گئے   ۔ ۔ ۔  آبادی سے میلوں دور لوگ اسے صرف ایک دھم کی آواز ہی محسوس کر سکے کیونکہ ساری لیب زیر زمین تھی  ۔ ۔ ۔ ۔  اور چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں تھیں لیب کے اوپر جو اس دھماکے کی آواز کو دبا گئیں  ۔ ۔ ۔۔
-------------------------------------------------
ناصر یہ تہمارا کارنامہ ہے  ۔۔ ۔ ۔ ۔ نہیں  ۔ ۔ ۔ یہ میرا نہیں یہ اس جوان کا کارنامہ ہے جس نے اس راز کو بے نقاب کیا ہے
لال خان اور اقبال دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو رہے تھے
پروفیسر شکیل اور وکٹر بھی وہیں تھے  ۔ ۔۔  ۔  اور انہیں دلاسا دے رہے تھے
ویسے کیا خیال ہے کمانڈر اب ایسا کوئی اور اسٹیشن نہیں ہو گا  ۔۔ ۔
ہو گا تو سہی  ۔ ۔ ۔ مگر جیسے ہم نے دیکھا کہ ڈاکٹر گور کا کہنا تھا کہ وہ فارمولا وہیں تھا  ۔ ۔ ۔ ۔
نہیں فارمولا تو ڈی کوڈ ہو گیا تھا  ۔ ۔ ۔ ہاں چپ کا پلانٹ وہیں تھا  ۔ ۔ ۔ 
پھر بھی انہیں یہ کام کرنے میں اب کافی دیر لگے گی   ۔ ۔ ۔ ۔
ہم نے چپ ڈیٹیکٹر بنا لیا ہے اور ایک ایک کر کہ ہم ان جوانوں تک پہنچیں گے  ۔ ۔ ۔ جو اس کا شکار ہوئے ہیں
اور ہمیں انکی مدد سے بہت سارے دھشت گردوں کا بھی پتہ چلے گا  ۔ ۔ ۔
ویسے ایک بات ضرور کہوں گا ، شکیل صاحب بولے
جی وہ کیا
کہ اب مجھے بھی یقین آ گیا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی میں کسی سے کم نہیں ہیں
ہاں  ۔۔ ۔ اور اسکی وجہ ہے  ۔ ۔ ۔
وہ کیا  ۔۔ ۔ ہمارے برینز میں پیدائیشی طور پر ایک چپ ہوتی ہے
یعنی سارے ہموطنوں میں  ۔۔
جی اور وہ چپ ہے  ۔۔ ۔ محبت کی  ۔ ۔ ۔ دوستی کی اور وطن پرستی کی  ۔  ۔
ہاں یہ تو ہے  ۔ ۔  ۔
مگر یہ بھی تو ہے کہ اس چپ کو بھی کوئی نہ کوئی کنٹرول ضرور کر لیتا ہے  ۔ ۔۔ ۔
ہاں یہ بھی ہے ۔ ۔ ۔  جیسے ہمارے لیڈران اور دانش ور  ۔ ۔ ۔ وغیرہ انکو کنٹرول کیا جا سکتا ہے
مگر عام آدمی  ۔۔ ۔ ۔  کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے  ۔ ۔ ۔
ہاں یہ تو ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی لمحے کمانڈر اسحاق کے فون کی بیل بجی  ۔ ۔ ۔ اسنے فون سنا  ۔ ۔
او کے سر  ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے افسوس ہے ، آپ چاروں کے لئے ایک بری خبر ہے
وہ کیا  ۔ ۔ ۔۔  ۔ ۔
آپ بھی نام بھی گمشدہ لوگوں کی فہرست میں رکھا گیا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مگر  ۔ ۔ ۔
سوری  ۔ ۔ ۔  گڈ بائے  ۔ ۔۔ ۔ ۔  کمانڈر اسحاق  ۔ ۔ ۔ نے اپنی ٹوپی صحیح کی  ۔ ۔ ۔اور ناصر اور صابر کے ساتھ باہر نکل گیا
چند فوجی آئے اور انہیں بندوقوں سے ہانکتے ہوئے  ۔ ۔ ۔ ۔ ایک بند وین میں ڈال دیا  ۔ ۔
اور پھر وہ کسی نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہو گئی  ۔ ۔ ۔  ۔ ۔
------------------------------------------------
اسے ایسا لگا کہ جیسے آنکھوں پر پڑا پردہ ہٹ گیا ہو  ۔۔ ۔ ۔  اس نے اپنے جسم پر لپٹا بارود دیکھا اور ہاتھ میں اسکا ٹریگر تھا  ۔ ۔ ۔  وہ چیخنے لگا  ۔ ۔۔ ۔ اور بھاگنے لگا   ۔ ۔ ۔  پولیس نے نشانے پر رکھا تھا  ۔ ۔ ۔ اور کچھ گرم سلاخیں اسکی پیٹھ میں گستی چلی گئیں  ۔ ۔ ۔ ۔ اسنے ویران ہوتی آنکھوں سے دیکھا کہ پولیس والے اس پر گولیاں برسا رہے تھے  ۔ ۔ ۔ اور اسکے ذہن میں صرف ایک ہی سوچ ابھر رہی تھی کہ کب کہاں اور کیسے  ۔ ۔۔ ۔  اسنے یہ بارود اپنے جسم پر باندھا  ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر اسکے ذھن کے پردے پر ایک کالی دیوار ابھری  ۔ ۔ ۔ ۔ اور  ۔۔ ۔ وہ دیوار اندھیرے میں بدل گئی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ساتھ ہی ایک دھماکہ ہوا اور اسکے جسم کے پرخچے اڑ گئے  ۔ ۔ ۔ اسکے ذھن نے ہاتھ کو ٹرئیگر دبانے کا سگنل دے دیا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔۔ ۔
June 06

سفید کمرے کی کالی دیوار - دوسری قسط


ہے بھگوان ، میرے ساتھ ایسا کیا ہوا ہے ، کل پاپا بھی کہ رہے تھے کہ تم اب شلوار قمیض نہ پہنا کرو ، بلکہ پینٹ شرٹ میں رہا کرو ، لگتا ہے کسی نے مجھے مسلمان سمجھ کر اغواء کیا تھا ، مگر ایسا کیوں ، وہ جتنا سوچ رہا تھا اتنا ہی الجھ رہا تھا ۔۔۔
اگلے دن وہ جب یونیورسٹی پہنچا تو ، سب دوستوں نے گھیر لیا ، کیا ہوا کہاں تھے ، ہزار سوال مگر جواب کا تو اسے خود نہیں معلوم تھا ، مگر اسے بار بار اسے اس سفید کمرے کی کالی دیوار یاد آ رہی تھی ، اس نے اپنے سب سے قریبی دوست ، اقبال سے اسکا ذکر کیا ، اقبال اسکا واحد ایسا دوست تھا جو اس کی دلچسپیوں میں حصہ لیا کرتا تھا ۔
تم کیا سمجھتے ہو تمہارے ساتھ انہوں نے کیا کیا اور پھر تمہیں چھوڑ دیا
یار یہ ہی تو میں نہیں سمجھ پا رہا ، لال خان نے الجھے لہجے میں کہا
تم نے اپنے اندر کیا چینج فیل کیا ہے ؟ اقبال نے پوچھا
یار سوائے گنجا ہونے کے اور کوئی تبدیلی نہیں تھی مجھ میں
کیا سر کے کسی خاص حصے میں درد محسوس ہوتا ہے ؟
نہیں یار ۔ ۔ ۔ ۔  لال خان مزید الجھ چکا تھا
اچھا یہ بتاؤ کہ تہماری روز مرہ کی زندگی میں کیا فرق آیا ہے
کچھ نہیں ، سوائے اسکے کہ اب میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھے کچھ کرنا چاہیے ، ہاں کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے کوئی میرے اندر بول رہا ہو ۔ ۔ ۔۔ مگر شاید یہ وہم ہی ہو
ہم ۔ ۔ ۔ اقبال نے بھی گہری سانس لی
وہ دونوں ایک ہوٹل میں داخل ہوئے ، اور چائے کا آرڈر دیا  ۔ ۔ ۔
اچھا ایک کام کرتے ہیں  ۔ ۔ اقبال نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
کیا  ۔ ۔۔
تمہیں یاد ہے ہم لوگوں نے ڈائناٹیکس کے بارے میں کچھ کلاسز لیں تھیں
ارے ہاں ، وہ اپنے وکٹر پنگا  ۔ ۔   نے  ۔ ۔
پنگا نہیں بھائی ، پے نی گا  ۔ ۔۔ 
ارے وہی پنگا ہی ہوا نا  ۔ ۔ تو کیا تم چاہتے ہو کہ وہ میرا سیشن کرے
ہاں ، آزمانے میں کیا حرج ہے  ۔ ۔ ۔
چلو ابھی چلتے ہیں ، لال نے اٹھتے ہوئے کہا
ہاں ٹھیک ہے  ۔ ۔ ۔ دونوں نے چائے ختم کی اور وکٹر پےنگا کی طرف اپنی موٹر سائکلوں پر نکل پڑے
------------------------------------
وکٹر پے نگا ، لال کی یونیورسٹی میں کلرک تھا ، مگر اسکی سب کے ساتھ بنتی تھی ، ہنس مکھ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ سب کا ساتھ بھی دیتا تھا اسلئے اسٹوڈنس اور استاد سب کا دوست تھا ، اسے ماروئی علوم سیکھنے کا خبط تھا ، مگر سائنس کی بکس بھی پڑھتا تھا اسلئے الجھا ہوا رہتا تھا ،  اسکی فیملی کسی دوسرے شہر میں رہتی تھی ، اسلئے ایک کمرے کے گھر میں اکیلا ہی رہتا تھا ، جس میں اسکی کتابیں بکھری رہتی تھیں  ۔ ۔ ۔ اقبال نے اسکے گھر کے دروازے پر لگی بیل پر ہاتھ رکھ دیا  ۔  ۔۔
دروازہ ایسے کھلا جیسے وکٹر انہیں کے انتظار میں تھا  ۔۔ ۔
ارے لال بابو ، وہ اسے اسی نام سے بلاتا تھا جس سے لال کو چڑ تھی ، اور اسنے بھی جواب دیا
جی پنگا بھائی  ۔ ۔ ۔  ہم ہیں
پھر پنگا اے کتنی دفعہ کہا ہے کہ پے نی گا ،
اور میں نے کتنی بار کہا ہے کہ لال خان  ۔ ۔ ۔
ارے ارے تم تو ادھر ہی شروع ہو گئے ، اقبال نے درمیان میں ٹوکا ، وکٹر بھائی اندر نہیں آنے دو گے کیا  ۔ ۔
ارے ارے کیوں نہیں ، تو دروازہ پورا کھولو ، ورنہ یہ پھٹپھٹیاں کوئی اٹھا لے جائے گا  ۔ ۔
او کے اوکے   ۔ ۔ ۔
وہ موٹر سائکلیں صحن میں کھڑی کر کے اندر آ گئے ،
کیا پیو گے  ۔ ۔
صرف سادہ پانی  ۔۔  دونوں ایک ساتھ بولے
اور پھر ہنس پڑے
وکٹر نے فریج سے پانی کی بوتل نکالی اور گلاس میں پانی ڈال کہ لال خان کو دیا اور دوسرے گلاس میں پانی انڈیلتے ہوئے پوچھا  ۔ ۔ لال بابو کیا ہوا تمہارے ساتھ ، کچھ سراغ ملا ؟
سراغ کے لئے تہمارے پاس آئے ہیں ، لال کی جگہ اقبال بولا
میرے پاس وہ اسے گلاس پکڑاتے ہوئے حیرت سے بولا
تم نے ایک دفعہ کہا تھا نا کہ تم ڈائنایٹیکس کی مدد سے پتہ کر سکتے ہو کہ ہم چاہے بے ہوش ہوں تو ہمارے اردگرد کیا ہوا؟
ہاں ، آڈیٹنگ سے پتہ چل سکتا ہے ، مگر میں ایکسپرٹ نہیں ہو اس علم کا ، مجے بتاؤ کیا ہوا
یار لال کو اغواء والی جگہ پر ایک بار ہوش آیا تھا ، اور اسے صرف ایک کمرہ یاد ہے جسکی دیواریں سفید تھیں اور ایک کالی دیوار تھی  ۔۔ ۔
اوہ  ۔÷ ÷  ÷ یہ تو اچھی بات ہے ، یعنی تمہارا لاشعور واقعٰی ہی کام کر رہا تھا
تو پھر کیا تم میری مدد کر سکتے ہو ۔ ۔
کوشش کر سکتا ہوں  ۔ ۔۔ اگر چاہو تو میرے استاد کے پاس چلتے ہیں جس سے میں نے یہ علم جانا ہے  ۔ ۔
ہاں یہ ٹھیک ہے  ۔  ۔ ویسے وہ کون ہے  ۔ ۔ ۔
تم جانتے ہو انہیں
ہیں  ۔ ۔ ۔ اقبال نے حیرت سے پوچھا  ۔  ۔  ہم جانتے ہیں
پروفیسر شکیل صدیقی  ۔ ۔  ۔
سر شکیل  ۔  ۔ دونوں کے منہ سے نکلا  ۔ ۔ ۔ نہیں یار  ۔ ۔ ۔
ہاں   ۔ ۔۔ ۔   وکٹر کے لہجے میں اعتماد تھا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور تھوڑی دیر میں وہ شکیل صدیقی کے گھر میں تھے  ۔ ۔ ۔  جو لال کی آڈیٹنگ کے لئے تیار ہو چکے تھے  ۔ ۔ ۔
انہوں نے لال کو ایک ایزی چئیر پر بٹھایا  ۔۔ ۔
اور کہا آنکھیں بند کرو  ۔۔۔
بتاؤ تم کہاں تھے جب تمہیں اغواء کیا گیا
میں گھر جا رہا تھا ، جب ایک آدمی میرے پاس آیا  ۔۔ ۔ اور کہا کہ اسکی کار کا ٹائیر پنکچر ہو گیا ہے ۔ تو میںنے اسکی کار کی طرف گیا  تو پچھلی سیٹ کا دروازہ کھلا اور اس آدمی نے مجھے دھکا دیا اور میں گاڑی کےاندر تھا ۔۔۔ جیسے میں اندر گرا کسی نے میرے منہ پر گیلا کپڑا رکھ دیا  ۔ ۔ ۔ پھر مجھے کچھ ہوش نہیں کیا ہوا  ۔ ۔ ۔
شکیل صاحب نے اسے واقعہ پھر دھرانے کو کہا  ۔ ۔ ۔
میں گھر جا رہا تھا  ۔ ۔ کہ ایک آدمی میرے پاس آیا
آدمی کیسا تھا  ۔ ۔ ۔  اسنے کیا پہنا تھا  ۔  ۔۔ شکیل صاحب سوال کرتے گئے اور پھر لال خان بتاتا گیا ۔۔ ۔
شکیل صاحب ایک ہی واقعے کو بار بار سنتے اور ہر بار مزید تفصیل میں جاتے حتہ کہ جب لال خان نے بتایا کہ وہ کسی ایسی جگہ پر ہے جہاں فارسی بولی جاتی ہے  ۔ ۔ ۔ تو وہ اور اقبال حیران رہ گئے  ۔ ۔۔ ۔
اور جب قبرص کی لیباٹری کی بات ہوئی تو پروفیسر شکیل کے بھی پسینے چھوٹ چکے تھے  ۔ ۔ ۔
وہ آڈٹ سیشن کو کمپلیٹ کر چکے تھے  ۔ ۔۔  ۔ ۔ ۔
لال خان اب تھر تھر کانپ رہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  شکیل صاحب نے ٹھنڈے پانی کی بوتیلں لے کر آئے اور تینوں نے پانی پیا ۔ ۔ ۔ ایک عجیب سی خاموشی تھی  ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ یہ  ÷ ۔ ۔  ۔ ۔ بہت ہی خطرناک چیز ہے  ۔۔ ۔ مجھے گورمنٹ کو بتانا ہو گا  ۔  ۔ ۔
ہاں ۔۔۔ یہ بہت ضروری ہے  ۔ ۔ ۔ لال تم کوشش کرو کہ زیادہ وقت اقبال کے ساتھ گذاروہ  ۔ ۔ ۔ ۔ اقبال  ۔ ۔ ۔تم بھی اسکی ہیلپ کرنا بلکے ٹہرو میں ابھی اپنے ایک دوست کو فون کرتا ہوں ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پھر شکیل صاحب کے لنکس سے لال خان ، فوج کی ایک لیب میں پہنچ چکا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ اسکے والدین کو بھی بتا دیا گیا تھا ، اقبال اسکے ساتھ تھا ، پروفیسر شکیل کو بھی فوج نے اپنی حفاظت میں لے لیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب کچھ چند گھنٹوں میں ہوا تھا  ۔ ۔ ۔
ایم آر آئی ، کے بعد اسکے برین میں چھپی چپ کا پتہ چل چکا تھا ۔۔۔۔۔ جس سے ایک خاص قسم کی ریز نکل رہیں تھیں  ۔ ۔ ۔ جنہیں ڈی کوڈ کیا جا رہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  قبرص میں فوج کے ایجنٹ کو انفارمیشن دی جا چکی تھیں  ۔۔ ۔
تقریباً تین دن لگ گئے تھے ان سب باتوں میں اس درمیان لال خان نے اپنے ذہن میں آوازیں سنیں تھیں  ۔ ۔  اور اسنے اقبال پر حملہ بھی کیا تھا  ۔ ۔ ۔ اسلئے اسے احتیاط کے طور پر ایک کمرے میں بند کر دیا گیا تھا  ۔  ۔۔  جو بالکل خالی تھا ، اسے کھانا بھی چھت سے دیا جاتا تھا  ۔۔  ۔ لال پوری طرح سے سمجھتا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے ، اسلئے وہ تعاون بھی کر رہا تھا
قبرص سے انٹیلی جنس رپورٹس آ چکی تھیں ، اور ایک کمانڈو مشن ترتیب دیا جا چکا تھا ، لال کی ویوز کا منبع پتہ کیا جا چکا تھا اور وہ ایک امریکی سیارے کے چینلز استعمال کر رہا تھا  ۔  ۔ ۔  جو کہ جی پی ایس (گلوبل پوزیشنینگ سیسٹم ) کو استعمال کرتا تھا  ۔۔ ۔ یہ ایک عام سیارہ تھا جو کہ ہر طرح کی جی پی ایس ڈیوائس کے ساتھ لنک ہو جاتا تھا  ۔۔۔ لیکن جب لال جسے مسلسل مانیٹر کیا جا رہا تھا ،  نے چلانا شروع کیا کہ مجھے ادھر کیوں بند کیا ہے باہر نکالو  ۔ ۔ ۔  تو پتہ چلا کہ لال کو ایک روبوٹ کی طرح کنٹرول کیا جا رہا تھا  ۔ ۔ ۔ اسلئے اسے اب ایک میگنیٹک فیلڈ میں بھیج دیا گیا تھا ، اور اس کمرے کی دیواروں کو پلاسٹک سے بنایا گیا تھا تا کہ لال کو خودکشی پر مجبور نہ کیا جا سکے  ۔ ۔ ۔ ۔
دوسری طرف کمانڈر اسحاق کی ٹیم قبرص پہنچ چکی تھی  ۔ ۔ ۔  اور لیب کا پتہ بھی چلا لیا گیا تھا ، یہ سب کچھ انتہائی خفیہ تھا مگر پھر بھی کالی بھیڑوں کی وجہ سے اسرئیل اور امریکہ کے خفیہ ادارے بھی سرگرم ہو چکے تھے ، لیباٹری پر حفاظتی انڈیکیٹر انتہائی سطح پر کر دیا گیا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔
کمانڈر اسحاق اس وقت ایک شاپنگ پلازہ کے پلے لینڈ میں گیم کھیل رہا تھا ، وہ اس وقت ایک لاابالی جوان لگ رہا تھا ، جو قبرص میں پیسے اڑانے آیا ہو  ۔ ۔ ۔   اسکے ساتھ کیپٹن ناصر جمیل تھا جو کمیونیکیشن انجنئیر تھا اور اس وقت ہوٹل میں ڈانس فلور پر ایسے ناچ رہا تھا جیسے اسے ناچنے کے سوا کوئی کام ہی نا ہو ، یہ الگ بات کہ اس کی آنکھیں اس سیکیورٹی گارڈ پر لگی ہوں جسکے پاس ایک الگ طرح کا وائیرلیس نظر آ رہا تھا   ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اسی ڈانس فلور کے بار کے پاس میجر صابر تھا جو اس وقت بئیر کا مگ لئے چسکیاں لے رہا تھا ،  میجر صابر بلانوش تھا مگر نشہ اس پر ہوتا ہی نہیں تھا   ۔ ۔ ۔ ۔  پیسے بنانے کا ماہر تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  کسی بھی جگہ کسی کی جیب کی صفائی ہو یا پھر بینک ڈکیتی یا پھر اے ٹی ایم مشین  ۔ ۔ ۔ ۔ سب اسکے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا اور دوسری خصوصیت تھی کہ وہ روپ ایسے بدلتا تھا کہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا  ۔ ۔ ۔ اسی لئے اپنے بے تکلف دوستوں میں وہ بھانڈ کہلاتا تھا  ۔ ۔ ۔  مجھے وہ وائرلیس چائیے ناصر نے صابر کے پاس آ کر سیکورٹی والے کی طرف اشارہ کیا  ۔ ۔ ۔ مل جائے گا  ۔ ۔ ۔ میں کمرے میں جا رہا ہوں  ۔ ۔ ۔۔
تھوڑی دیر میں وہ تینوں ایک کمرے میں موجود تھے  ۔  ۔  ۔۔  ناصر نے اس وائرلیس کو جو  صابر نے اسے لا کر دیا تھا کھولا ہوا تھا ، مجھے یقین ہے یہ اسرائیلی کوڈ ہے  ۔۔ ۔  اسنے ایک چپ کو سرکٹ سے الگ کیا اور ایک  دوسرے سرکٹ میں لگا دیا جو اسنے بنایا تھا اس میں سے آوازیں آنے لگیں  ۔ ۔ ۔ ۔  لیب کو لاک کر دیا گیا ہے ، اب اس میں کوئی آ جا نہیں سکتا  ۔ ۔ ۔  ۔  اسی لمحے کمانڈر کے موبائیل کی بیل بجی  ۔ ۔ ۔ ۔ اور خطرہ ہے ۔۔ ۔ ۔  بھاگو  ۔ ۔ ۔  ناصر نے اپنا سرکٹ اٹھایا اور تنیوں ایک ساتھ کمرے سے باہر تھے  ۔ ۔ ۔ کاریڈور میں کوئی نہیں تھا  ۔ ۔ ۔  صابر نے آرام سے چلتے ہوئے ایک کمرے کے لاک پر ایک کارڈ لگایا  ۔ ۔ ۔ آٹومیٹک ڈور کھل گیا  ۔ ۔ ۔ اور تینوں کمرے کے اندر تھے  ۔ ۔ ۔  کمرے کے اندر پہنچتے ہی لاگ جیسے وہ کسی کاٹھ کباڑ کے کمرے میں آ گئے ہوں ، کمرے میں شاید مرمت کا کام چل رہا تھا  ۔ ۔ ۔اسی لمحے میں کان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا  ۔ ۔ ۔  تینوں تو تیار ہی تھے جیسے  ۔  ۔ ۔ پھر جیسے کاریڈور میں طوفان آ گیا ہو ، لوگ اپنے اپنے کمروں سے نکل رہے تھے  ۔۔ ۔  ۔ ۔ انہیں بھی دروازے سے دھواں اندر آتا دکھائی دیا اور ساتھ ہی فائر الارم بج اٹھا  ۔ ۔ ۔ ۔  تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور گیلے رومال منہ پر رکھ کر باہر نکل آئے کاریڈور میں بھگدڑ مچی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔  وہ اسی بھگدڑ میں شامل ہو کر ہوٹل سے نکل آئے تھے  ۔ ۔ ۔  تھوڑی دیر میں ہوٹل خالی ہو چکا تھا  ۔ ۔  ۔ ۔
(جاری ہے )
کوشش کروں گا کہ تیسری اور آخری قسط جلد پیش کروں
April 26

سفید کمرے کی کالی دیوار - پہلی قسط

چپ ٧٨٦ ، ایک ایسی مائیکرو چپ ہے جو برین کے ایک مخصوص حصے میں فکس کی جاتی ہے ، اور پھر وہ شخص ایک سنٹرل سسٹم سے منسلک ہو جاتا ہے ، جسے اپنی مرضی سے استعمال کیا جاتا ہے ،
اسے ایک یہودی سائنسدان نے اٹلی میں بنایا تھا ، جو کہ معذور افراد کو دوبارہ فعال کرنے والے دماغی سسٹم پر کام کر رہا تھا ، مگر نائن الیون کے واقعٰی کے بعد اس نے اسے اسرائیل کو دے دیا اور پھر امریکہ کی ایک انتہائی جدید لیب میں اسے مزید اضافوں کے ساتھ خود کُش بمبار بنانے کے لئے استعمال کیا جانے لگا
ایسے لوگوں کے لئے ، عرب ممالک اور وسطی ایشیائی ممالک کے علاوہ ، برصغیر پاک و ہند سے بھی لوگوں کو اغوا کیا جانے لگا ، کوشش کی جاتی کہ مذہی طور پر جذباتی نوجوانوں کو اس کام میں استعمال کیا جائے ، کیونکہ چپ کی وجہ سے وہ آسانی سے اپنے آپ کو ختم کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مگر ایک غلطی نے اس چپ کو دنیا سے ہی مٹا دیا ، شاہد خان ، جو ایک سی آئی اے کی طرف سے بندے اٹھانے پر معمور تھا ، پشاور میں ایک لڑکے کو جب اٹھایا تو وہ بھول گیا کہ وہ لڑکا مسلمان نہیں تھا ، پشاور کے چند گنے چنے ہندو تاجروں میں سے ایک کا بیٹا تھا ، نام تھا اسکا لال خان ، دوسری غلطی یہ ہوئی کہ یہ لڑکا پڑھا لکھا تھا ، اور وہ بھی سائنس کا اسٹوڈنٹ ، جو اپنا فارغ وقت طرح طرح کے تجربات میں گذارتا تھا، مگر وہ بہت بحث کیا کرتا تھا ، کہ مسلمان اگر بہت اچھے ہیں تو پھر انکے ساتھ اتنا برا کیوں ہے ، اسی بحث مباحثے کی وجہ سے وہ شاہد خان کی نظروں میں آ گیا تھا  ۔ ۔ ۔
شاہد نے اسے اغوا کر کے کابل پہنچایا اور وہاں سے ایران اور پھر ترکی کے راستے یونانی قبرص ، جہاں چپ لگانے کی لیب تھی ، لال کو بے ہوش کیا گیا ، بلڈ چیک کر کے ڈاکٹروں نے آپریشن ٹیبل پر اسے ڈال دیا ، لال کا سر پہلے ہی مونڈ دیا گیا تھا ، اسے ٹیبل پر الٹا لٹایا گیا تھا ، ایک ڈاکٹر نے اسکا سر ایک شکنجے میں جکڑ دیا تھا ، اور اسکے اوپر ایک روبوٹیک آرم کو لایا گیا تھا ، یہ ایک بہت ہی سنسیٹیو روبوٹیک آرم تھی ، جسنے سارا آپریشن خودکار طریقے سے کرنا تھا ، اور پھر ایک مارکر سے ایک ڈاکٹر نے ایک ریپورٹ کو دیکھتے ہوئے گول دائرہ سا بنایا ، اور دوسرے ڈاکٹر نے اپنے سامنے کے پینل سے ایک بٹن کو دبا دیا ، روبوٹیک آرم سے ایک نیلے رنگ کی روشنی نکلی اور پھر اسی نشان پر آ کر رک گئی ، ایک چھوٹی سی آری چلنے لگی اور ساتھ ہی سرخ رنگی کی لیزر بھی چل رہی تھی ، جو زخم سے خون کے اخراج کو روک رہی تھی ، پھر ایک انچ کا گول دائرہ سا بن گیا ائر پھر ایک روبوٹیک آرم نے اسے اٹھایا ، اور اندر سے دماغ نظر آنے لگا ، روبوٹ نے چپ اٹھائی جسکے ساتھ ریشم کی طرح تار لپٹے ہوئے تھے ، پھر روبوٹ نے وہ تار دماغ کے ساتھ منسلک کرنے شروع کر دئیے ، اسکرین پر اسکا کافی بڑا عکس نظر آ رہا تھا ، ساتھ ہی آواز آنا شروع ہو گئی ، ویلڈنگ اسٹارٹ ، ویلڈنگ کمپلیٹ ، لیفٹ آرم ٹیسٹنگ ، لال خان کا بایاں بازو اوپر نیچے ہلنے لگا ، لیٍفٹ ہینڈ ٹیسٹنگ ، لال خان اپنے بائیں ہاتھ کو موڑنے لگا ، پھر آواز ابھری ، لیفٹ تھمب ٹیسٹنگ ، انڈیکس فنگر ٹیسٹنگ ، اور اسی طرح باری باری ہر اعضاء کا ٹیسٹ ہونے لگا ، ٹیسٹنگ کمپلیٹ کی آواز آتے ہی ، روبوٹ نے ، فکسنگ چپ کمپلیٹ کا میسج دیا اور ، پھر سر کے کاٹے ہوئے حصے کو دوبارہ اسی جگہ لگا دیا گیا ، اسیمبلنگ کمپلیٹ ، اور پھر روبوٹ نے ایک اسپرے کیا ، تو جلد ایسے برابر ہو گئی جیسے وہاں کبھی کچھ ہوا ہی نا تھا  ۔ ۔ ۔ پلاسٹک سرجری کمپلیٹ کی آواز آتے ہی روبوٹ آرمز ہٹ گئیں اور ایک ڈاکٹر نے اسکی آکسیجن اور دوسرے آلات کو لال خان کے جسم سے الگ کیا ، اور اسٹریچر کو دھکیلتے ہوئے ایک کمرے میں لے آئے ، جہاں اسے ایک بیڈ پر منتقل کیا گیا  ۔ ۔ ۔  اور وہ کمرے کا دروازہ بند کر کے چلے گئے ، لال خان ابھی تک بے ہوش تھا ، تھوڑی دیر میں وہ ہلنے لگا اور اسنے آنکھیں کھول دیں ، اسکی آنکھوں میں ویرانی سی تھی ، وہ دیوار کی طرف دیکھنے لگا جس کا رنگ کالا تھا ، اصل میں دوسری طرف سے اسے دیکھا جا رہا تھا ،  دوسری طرف ایک کنٹرول روم تھا ، جس میں مختلف لوگ اپنی اپنی اسکرینوں پر جھکے ہوئے  تھے ،  ایک وہیل چئیر پر ایک بوڑھا گھومتا پھر رہا تھا ، یہ ڈاکٹر گور تھا ، اس تمام پروجیکٹ کا نگران،  کنٹرول روم بہت سارے ایسے کمروں سے منسلک تھا جس میں آبجیکٹ کو رکھا جاتا تھا ، ایک طرف سے دروازہ کھلا اور ایک باوردی لمبا آدمی داخل ہوا اسکے ہاتھ میں ایک فائل تھی ، اس نے ڈاکٹر گور کو وہ فائل دی  اور بولا ، سر پی کے ون ون نائین ، فائنل رپورٹ ، اور فوجی انداز میں سلوٹ کر کہ چلا گیا ، ڈاکٹر نے لال خان کی طرف دیکھا جو ابھی تک صرف حیرت سے آنکھیں جھپکا رہا تھا ، ہونہ ، ماریا ، وہ اپنی وئیل چئیر کو ایک لڑکی کی ڈیسک کے سامنے لا کہ بولا ، ٹیسٹ ہم ، اوکے ڈاکٹر ، ماریا نے  اپنے کی بورڈ پر انگلیاں چلانا شروع کیں ، بیٹھو ، اور لال خان اٹھ بیٹھا ، اسکی آنکھوں میں ویرانی اور بڑھ چکی تھی ، قرآن سناؤ ، وہ چپ رہا ، قرآن سناؤ ، وہ پھر چپ رہا ، ڈاکٹر ماریا نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا ، اوکے کوئی اور کمانڈ دو ، ابھی وہ پوری طرح ہوش میں نہیں ہے
ہاتھ اوپر ، نیچے ، دیوار پر ہاتھ مارو  ۔ ۔ ۔ ایسے ہی ماریا اسے ٹیسٹ کرتی رہی ، اوکے ڈاکٹر یہ بالکل کنٹرول میں ہے ، ٹھیک ہے ، اسے کیمپ میں بھجھوا دہ ، لال خان کے کمرے میں ایک نرس داخل ہوئی اور اسنے لال خان کو انجیکشن لگایا ، اور پھر دو آدمی اسے ایک اسٹرئچر پر ڈال کہ باہر لے گئے  ۔ ۔۔ ادھر کنٹرول روم میں ڈاکٹر کے پاس ایک اور فائل آ چکی تھی  ۔ ۔ ۔
لال خان کو جب ہوش آیا تو اسنے اپنے آپ کو اپنی گلی کے نکڑ پر ٹیک لگا پایا ، پہلے تو وہ خالی آنکھوں سے سوچتا رہا پھر وہ یک دم چونک کہ اٹھا ، اسنے سر پر ہاتھ پھیرا تو پتہ چلا کہ اسکے بال نہیں ہیں ، اسنے اپنی جیبیں ٹٹولییں سب کچھ موجود تھا  ۔ ۔ ۔  رات کا وقت تھا اسنے اپنے گھر کا دروازہ کھٹکٹایا ، اوہ  ۔ ۔ ۔ اسکے باپ نے دروازہ کھولا تھا اور پھر وہ اس سے لپٹ گیا ، خداوند کا کرم ہے تو صحیح سے آ گیا ، وہ اس سے سوال پوچھ رہے تھے مگر لال خان کے پاس کچھ جواب نہیں تھا ، وہ کہتا رہا کہ اسے کچھ پتہ نہیں ہے ، اور جب اسنے سنا کہ وہ ایک ہفتہ غائیب رہا ہے تو ذہن پر زور ڈالنے کے باوجود اسے کچھ یاد نہ سکا ، ہاں بار بار اسے سفید کمرے کی کالی دیوار ضرور یاد آ رہی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔
 
 
 
(جاری ہے )
April 22

میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

بہت دنوں کے بعد جب لکھنے بیٹھا تو ظاہر ہے اپنے حالات سامنے تھے ، دل خوں کے آنسو روتا ہے اور اسی دل کی یہ صدا ہے ، شاید ہم سب بھی یہ ہی کہنا چاہتے ہیں کہ “میرا دیس تو ایسا نہیں تھا“

یہ لڑنے جھگڑنے والوں کی بستی
یہ نفرت کی سیاست چالوں کی بستی
یہ آگ اور انگاروں کی دنیا
یہ بندوقوں بموں بھالوں کی بستی
 
جیسا ہے یہ تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
 
بنایا تھا اسکو خوں دے کہ اپنا
سجایا تھا  ہم نے مل کہ یہ سپنا
مل کہ ہم نے کیا تھا حاصل
اک ساتھ تھا سب کے دل کا دھڑکنا
 
اک تھا ،ٹکروں کے جیسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
آندھی بھی آئی ، طوفاں بھی آئے
بادل بھی گرجے ، سیلاب بھی آئے
روکا سب نے دیوار بن کہ
دشمن کے گولے سینے پے کھائے
 
جینا اور مرنا  تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
کوئی بھوک سے بلکتا نہیں تھا
دکھوں سے کوئی سسکتا نہیں تھا
چوری تو تھی پر ڈاکا نہیں تھا
زردار تھے مگر کوئی اندھا نہیں تھا
 
مقصد جیون کا پیسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
میرا خدا ہم کو اتحاد دے دے
اجڑے ہوؤں کو آباد دے دے
دے دے ہمیں تو رحمتیں اپنی
ٹوٹے دلوں کو تو شاد دے دے
 
 
خدا سے یوں جدا سا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
April 10

میری پہچان ، پاکستان


زیادہ عرصہ نہیں گذرا مجھے اس صحرا میں (یعنی یو اے ای میں) ، گیارہ سال ہو گئے ہیں ، یعنی وطن سے بچھڑے گیارہ برس ہو چکے ہیں ، درمیان میں ہاتھ لگانے کے لئے جاتا رہا ہوں ، وہ بھی شاید اس لئے کہ میری فیملی ابھی ادھر ہی ہے ، ورنہ شاید وہ بھی نہ جاتا ، برسوں گذر جاتے ، میرا پاکستان سے تعلق صرف اتنا ہوتا کہ میرا پاسپورٹ پاکستانی ہے (یہاں ایسے بہت سارے لوگوں کو جانتا ہوں)، مگر پھر بھی آج میرے دوستوں میں یعنی قریبی دوستوں میں صرف پاکستانی ہی ہیں ، میرے لباس میں شلوار قمیض لازمی ہے ، میں کھانے پینے کے معمالے میں پاکستانی کھانے پسند کرتا ہوں ، میں اردو بولنا اچھا سمجھتا ہوں ، یعنی میں اندر اور باہر سے پاکستانی ہوں ، وہ ٢٣ مارچ ہو ١٤ اگست ہو یا پھر ٢٥ دسمبر ، میں آفس میں فخر سے اپنے سینے پر پاکستان کا پرچم سجاتا ہوں ، یہ چھوٹا سا دھاتی پرچم ہے ، جو آج سے ١٢ سال پہلے میں نے کراچی سے لیا تھا ، اور پھر جب میں ادھر آیا تو میں اپنے ڈیپارٹمنٹ کا دوسرا پاکستانی اور جس جگہ بیٹھ رہا تھا وہاں کا اکلوتا پاکستانی تھا ، پھر کچھ عرصے بعد ١٤ اگست آیا ، میں نے اور عمران نے فیصلہ کیا کہ اس بار ہم سارے اسٹاف کو مٹھائی بانٹیں گے ، اور پھر پاک غازی کے گلاب جامن ہم نے سارے اسٹاف کو کھلائے ، جن میں انڈین ، فلپینو، لبنانی اور لوکل سب کو حیرت ہوئی کہ ایسا کبھی نہ ہوا تھا ، خاصکر انڈینز کو ، اور پھر ١٥ اگست کو جب انڈیا کا یوم آزادی تھا تو انڈین دوستوں کو بھی ایسا ہی کرنا پڑا ، مگر کیا کرتے انڈیا کا جھنڈا نہ مل سکا سینے پر سجانے کے لئے تو میں نے انٹرنیٹ سے جھنڈے کو پرنٹ کیا اور انڈینز میں بانٹ دیا  ۔ ۔ ۔ ۔  ہماری پہچان پاکستان ہوئی ، پہلے شاید کوئی اپنی پہچان نہ کروا سکا تھا ، پھر یہ سلسلہ چل نکلا ، حتہ کہ اب جب ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں سب پاکستانی ہیں ، تو بہت اچھا لگتا ہے ، کہ ہماری پہچان ہمارا وطن ہے ۔
مگر ۔۔۔۔۔ اب ہم سبکو ڈر لگتا ہے ، کیوں   ۔ ۔ ۔ ہم دھشت گرد ہو چکے ہیں ، بیرون ملک ہماری پہچان اب دھشت گرد کے نام سے ہوتی ہے ، مجھے آج بھی ایک انڈینز دوست کی بات یاد آتی ہے کہ اظہر تم لوگوں کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ پاکستانی دھشت گرد بھی ہو سکتے ہیں ،  مگر اب میں کیا جواب دوں کسی کو ، ساری دنیا ہمیں دھشت گرد کہ رہی ہے ، میں لاکھ کہوں کہ یہ ہمارے خلاف سازش ہے ، مگر کون مانے گا ، جب میرے اپنے ہم وطن ہی نہیں مانتے ، جی ہاں کچھ اپنے ہی لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان ہی غلط ہے ، کچھ نے تو یہاں تک کہ دیا کہ اب جب پاکستانی پاکستان نہیں جانا چاہتے تو دوسرا کیوں کوئی جائے گا ، وہ پہچان کو چھپانے لگے ہیں ، انہیں پاکستان کے نام سے شرمندگی ہوتی ہے ، مگر کیا واقعٰی ہی ایسا ہی ہے ، قصور پاکستان کا ہے یا چند ناعاقبت اندیش حکمرانوں کا  ۔ ۔ ۔ خدا رہ پاکستانی رہیے پاکستان کی نمائندگی کیجیے پاکستان سے آپ ہیں پاکستان آپ سے ہے ، پاکستان آپکی پہچان ہے
اور یہ بات بھی یاد رکھیے کہ آج جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ صرف اسلئے ہو رہا ہے کہ ہم اپنی پہچان کھو رہے ہیں ، ہم بھول چکے ہیں کہ یہ وطن کیوں حاصل کیا گیا تھا ، خاصکر ہم لوگ جو بیرون وطن اپنے وطن کے سفیر ہیں ، ہمارے اوپر دھری ذمہ داری ہے ، کہ ہم اپنے وطن کا مقدمہ لڑیں ۔۔۔ اور ثابت کریں کہ ہم وہ نہیں ہیں جو ہمیں پیش کیا جا رہا ہے ، شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ دینے سے کچھ نہیں ہو گا ، ہمیں بولنا پڑے گا ، اپنے اردگرد کے لوگوں سے ، اپنے آپ سے  ۔ ۔ ۔ اور اپنے ہم وطنوں سے  ۔ ۔  ۔
سیماب اکبرآبادی کہ یہ قطعہ جو انہوں نے ١٩٤٧ میں کہا تھا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کیوں بنا
 
کارواں ملت کا ، آ پہنچا زمین پاک پر
چاند تارہ جگمگایا پرچم اسلام کا
بٹ گیا ہندوستاں ، کعبہ وفا کا بن گیا
اور آخر پھر گیا ، رُخ گردش ایام کا
 
 
خدارہ جو گردش ایام کا رخ اس وقت تک بدل چکا ہے ، اسے سمجھیے اور اقبال کی زباں میں بات یاد رکھیں
 
اے ارض پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہم
ہے خوں تیری رگوں میں اب تک رواں ہمارا
 
اور یہ بھی حقیقت ہے نا  ۔ ۔ ۔
 
 
سالار کارواں ہے،  میرِ حجاز اپنا
اس نام سے باقی آرام جاں ہمارا
 
 

Feed

The owner hasn't specified a feed for this module yet.

Feed

The owner hasn't specified a feed for this module yet.

Azhar Ul Haq Naseem

Occupation
Location
Interests
I'm Azhar, Azhar mean Open, shining . . yes I'm like my name . . .
میں ہوں اظہر ، اپنے نام کی طرح کھلا اور ظاہر ۔ ۔ ۔
یھ وہ سائیٹس ہیں جن پر میں اکثر جاتا ھوں
میرے دوست بلاگرز جن کے بلاگ پڑھنا میرے معمولات میں شامل ہے
اردو میں ویب پر شائع ہونے والے رسائل و جرائد