| Azhar Ul Haq 的个人资料اظہرالحق کی دنیا - Azhar...日志列表 | 帮助 |
|
|
2009/8/31 فوج ، ایجنسیاں ، سیاست دان ۔ ۔ ۔ ایک مطالعہیہ ایک چھوٹی سی کہانی ہے پاکستانی فوج اور ایجنسیوں کی ، شاید کچھ اب بدل جائے مگر ممکن ہے بھی اور نہیں بھی ، میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بیس پر لکھا ہے ، اگر کوئی غلطی ہو تو معذرت چاہوں گا ، آپ کی آراء کا منتظر رہوں گا ۔ ۔ پاکستانی فوج قیام پاکستان سے لے کر آج تک ساری دنیا کی نظروں میں رہی ہے ، ہندوستان کے بٹوارے کے ساتھ ہر چیز کا بٹوارہ ہوا ، سو فوج کا بھی ہوا ، مگر چالاک انگریز نے پاکستانی فوج کا سربراہ ایک گورا ہی رکھا ، اور ہمارے رہنماؤں نے سوچا کہ چلو اس طرح شاید گورا انکا حکم مانے ، مگر گورے نے قائد کے حکم کو ماننے سے انکار کیا (جنرل فرانک ) اور برطرفی سہی مگر اپنا جانشین ایک اور گورا ( ڈگلس گریسی ) کو چھوڑا اور اس نے بھی قائد کا حکم نہیں مانا مگر قائد تو دنیا ہی چھوڑ گئے ، تو گوروں نے فوج کو ایسا “ٹرین “ کیا کہ پاکستان کا پہلا ڈکٹیٹر پالنے کے لئے دے دیا ، پاکستان کی فوج اس وقت برٹش آرمی کا بہترین حصہ تھی ، اسی لئے جب سبھاش چندر بوس نے اپنی آرمی بنائی تو اس آرمی میں برٹش افسروں اور سپاہیوں نے اپنی خدمات پیش کیں تو جرمنوں نے انکی بہت تعریف کی (اصل میں ہٹلر اس آرمی کو اتحادی افواج کے خلاف استعمال کرنا چاہتا تھا ) انگریز نے اپنی حکومت قائم رکھنے کے لئے بہترین مخبری (انٹیلی جنس) کا نیٹ ورک بنایا تھا ، اسی لئے پاکستان فوج کے اس خصے کی زیادہ اہمیت تھی یعنی ملٹری انٹیلی جنس کی ، کشمیر پر ہندوستانی فوج قبضہ کر چکی تھی ، دوسری طرف مہاجرین کی آمد تھی ، تیسری طرف ایک نوزیدہ ملک کو بیرونی دنیا میں اپنی پہچان بنانی تھی ۔ ۔ ۔ قدم قدم پر سازشوں کے جال تھے ایسے میں بہترین انٹیلی جنس ہی حکومت کی مدد گار تھی ، شروع میں ملٹری انٹیلی جنس اور پولیس نے مل جل کر ملک کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کیا ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان آرمی ، بانی پاکستان کو وہ سب کچھ نہیں دے سکی جو وہ چاہتے تھے ، حتہ کہ کشمیر کے موجودہ آزاد حصے کا سہرا بھی ان قبائیلوں کے سر جاتا ہے جنہوں نے اپنی جان دے کر بھارتی افواج کا مقابلہ کیا ۔ ۔ ۔ میں سمجھتا ہوں پاکستان کے خلاف پہلی کامیاب سازش ، بانی پاکستان کی زیارت سے واپسی پر انکی ایمبولینس کا خراب ہونا اور پھر کسی دوسری گاڑی کا نہ ملنا ۔ ۔ ۔ یہ وہ سازش تھی جس میں میں سمجھتا ہوں اس وقت کی آرمی اور پولیس کا بہت بڑا ہاتھ تھا کیونکہ وہ اسے بے نقاب نہیں کر سکیں ۔ ۔ ۔ اور اس کامیابی نے سازشوں کو مزید پھیلا دیا ، جسکے نتیجے میں لیاقت علی خان کی شہادت ہوئی ، اور اس وقت تک فوج میں غیر ملکی اثر نفوذ ہو چکا تھا ، گورنر جنرل غلام محمد اپنی عیاشیوں میں گم تھے ، نوزیدہ مملکت تھی ، عوام میں خلوص تھا ، انصار مدینہ کی مثال قائم کر رہے تھے ، مگر وہیں پر ایسے بھی لوگ موجود تھے ، جو جھوٹے کلیم کا دھندا چلا رہے تھے ، بھارت سے آنے والے کروڑ پتی ، پاکستان آ کر فقیر بن چکے تھے ، اور فقیر لکھ پتی ہو چکے تھے ، حکمران جانتے تھے کہ عوام کے جذبات کو کیسے ابھارا جائے ، وہ بیداری جیسی فلموں پر ٹیکس معاف کر کے عوام کو پاکستانیت سکھا رہے تھے ۔ ۔ ۔ پاکستان اور ہندوستان میں صرف ایک فرق تھا بٹوارے میں ، ہندوستان سے مہاجروں کی لٹی پٹی ریل گاڑیاں آ رہی تھیں اور پاکستان سے سونے سے لدی گاڑیاں ہندوستان جا رہی تھیں ، فسادات کا محور ہندوستانی مسلم اقلیت کے علاقے تھے ، نظام حیدر آباد اور خان آف قلات جیسے لوگ پاکستان کو مدد دے رہے تھے ورنہ پاکستان جن سازشوں کا شکار تھا وہ اسے زندہ نہ رکھ سکتیں ۔ ۔ خیر بات ہو رہی تھی فوج کی ، پاکستان بنانے والے مخلص تھے ، لیاقت علی خان کے ذہن میں ١٩٤٥ کا بجٹ تھا ، سردار عبدالرب نشتر ، عبدلحق اور قاضی عیسٰی جیسے لوگ اقتدار کو خدمت سمجھتے تھے ، اسلئے وہ عوامی لوگ سمجھے جاتے تھے ، مگر فوج میں افسران اسکے بالکل برعکس تھے ، انہیں عوام سے لنک صرف مہاجرین کی آبادکاری اور سرحدی محافظت تک تھی ، فوج کے جونیر افسران بہت جذباتی تھے اور عوام کے ساتھ تھے سپاہی تو عوامی ہوتے ہی ہیں ، مگر فوج کے سربراہان اور حکمرانوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی شروع ہو چکی تھی ، اصل میں یہ سوچ شاید اسی دن بن گئی تھی جب جنرل گریسی نے قائد اعظم کے حکم کو رد کیا تھا ۔ ۔ ۔ اور اسی سوچ نے اسکندر مرزا کو اقتدار سنبھالنے کا موقعہ دیا ۔ ۔ ۔ ۔یہ اسکندر مرزا اس میر جعفر کی نسل میں سے تھا جسنے ٹیپو سلطان کو دھوکہ دیا تھا ۔ ۔ ۔ اور اسی بنیاد پر اپنے اباء کی خدمات کی دہائی دے کر برٹش انڈیا کی فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا ۔ ۔ ۔ اسکندر مرزا نے گورنر جنرل بن کر مارشل لاء لگا دیا ۔ ۔ ۔ آج تک اس مارشل لاء کی کوئی منطق پیش نہیں کی جا سکی ۔ ۔ ۔ اور یہاں سے ہی فوج میں اقتدار کے حصول کے لئے رسہ کشی شروع ہوئی ، اسکندر مرزا جو صدر بن چکے تھے انکو فیلڈ مارشل ایوب خان نے ہٹا دیا ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں سے پاکستان کی فوج کا ایک نیا روپ بنا ، ایوب خان نے عوام پر اپنی گرفت مضبوط کی ، انٹیلی جنس کو شاید سب سے پہلے ملکی رہمناؤں کی جاسوسی پر لگایا گیا ، فوج نے سیاست میں حصہ بھی اسی دور میں لیا ، فاطمہ جناح کو شکست دینے کے لئے فوجی اور بیورکریسی نے مل جل کر انتخابات کا ڈرامہ رچایا ۔ ۔ ۔ ۔ ایوب خان نے پاکستان کو بین الاقومی طور پر ایک فوجی طاقت کے طور پر متعارف کروایا ۔ ۔ ۔ لیاقت علی خان نے روس کو چھوڑ کہ جو دورہ امریکا کیا تھا ، اس کے تاثر کو زائل کیا ایوب خان نے ، اور بھارت کے روس کی قربت کو کم کرنے کے لئے ایوب خان نے روس سے تعلقات کو استوار کیا ، جسکے نتیجے میں ہم نے اسٹیل مل حاصل کی ، پاکستان سیٹو اور سنٹو جیسے فوج معاہدوں کا رکن بنا یعنی پاکستان دونوں بلاک میں تھا ۔ ۔ ۔ ایوب خان نے بیرونی دنیا پر اپنا رعب تو جما لیا تھا مگر اندرونی سطح پر وہ ناکام تھے، بھارت نے پاکستان کے اسی ابھرتے ہوئے امیج سے گھبرا کر اور اندرونی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر ١٩٦٥ کا حملہ کیا ، جو ناکام یا کامیاب رہا یہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اچانک حملے کی وجہ پاکستانی ایجنسیوں کی ناکامی تھی ، کیونکہ وہ تو ایوب خان کے اقتدار کو مضبوط کر رہی تھی ، مشرقی پاکستان کے لیڈروں کو تنہا کیا جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ عوام میں ایوب خان کے خلاف غصہ بڑھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ایوب خان ہر ڈکٹیٹر کی طرح اپنی ایجنسیوں پر بھروسہ کئے بیٹھے تھے ۔ ۔ ۔ مگر جب وہ تاحیات صدر بننے کے خواب دیکھنے لگے (جو ہر ڈکٹیٹر دیکھتا ہے ) عوام بپھر گئی ۔ ۔۔ ملٹری انٹیلی جنس نے ایوب کو جانے کا کہ دیا اور ویسے بھی اس دوران ایک نوجوان نے جو ایوب کو ڈیڈی کہتا تھا ، باپ کو عاق کر دیا تھا ، ظلفقار علی بھٹو ۔ ۔ ۔ عوام میں اپنی اہمیت منوا چکا تھا ۔ ۔ ۔ اور پھر ایوب خان نے اپنی کمان ایک شرابی اور عیاش جنرل یحیٰی خان نے حوالے کر دی ۔ ۔ ۔ ۔ یحیٰی خان ۔ ۔ ۔ پاکستان کا رنگیلے شاہ ثابت ہوا ۔ ۔ ۔ اس دوران بھارت کو پھیر موقع ملا اور مشرقی پاکستان پر فوج کشی کر دی گئی ۔ ۔ ۔ انتخابات بھی ہوئے ۔ ۔ ہماری ایجنسیاں کچھ بھی نہ کر سکیں ۔ ۔ ۔ جانے کہاں سوئ ہوہیں تھیں جب مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی اور شانتی باہنی کا بیج بویا جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ سیاست دانوں نے اسی کو موقع جانا اور اقتدار کی رسہ کشی ہونے لگی ۔ ۔ ۔ اور اسی میں رسہ ٹوٹ گیا ۔ ۔ اور اپنے اپنے حصے کے رسے کے ساتھ سب رسہ کشی کرنے لگے ۔ ۔ ۔ بھٹو جو کہ ایوب کے صحبت زدہ تھے ، اپنے ڈیڈی کی روایت پر عمل کیا اور سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گئے اور انہوں نے ایجنسیوں کو اپنی خدمات پر لگا دیا ۔ ۔ ۔ بھٹو نے سات سال تک پاکستانی سیاست کو نئے رنگ دیے ۔ ۔ ۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی تاریخ میں صرف بھٹو کا دور خالص سیاسی تھا ، بلکہ سیاسی اکھاڑہ تھا ۔ ۔ ۔ بھٹو نے فوج میں بھی اپنا اثر چھوڑا ۔ ۔ ۔ خاصکر ایجنسیوں میں ۔ ۔۔ سیاست میں فوج تھی پہلے ہی مگر سیاسی مخالفت میں فوج کی خفیہ ایجنسیوں کو سب سے پہلے بھٹو نے استعمال کیا ۔ ۔ ۔ ٹارچر سیل بنائے گے ۔ ۔ ۔ سیاسی مخالفوں کی “عزت افزائی“ کی گئی ۔ ۔ ۔ مگر بھٹو نے بھی اپنے ڈیڈی والی غلطی کی ۔ ۔ ۔ وہ بین الاقوامی لیڈر تو بنے اور عوام میں مقبول ہونے مگر عوام کے لئے روٹی کپڑا مکان کے نعرے کے سوا کچھ نہ کر سکے ۔ ۔ ۔ ۔ بھٹو کی حکومت کی وجہ سے فوج میں واضح تبدیلی ہوئی ۔ ۔ ۔ فوج میں اسلامی عنصر واضح ہوا اور سیکولر عنصر نے بھی اپنی جگہ بنا دی ۔ ۔ ایجنسیوں کا بھی قبلہ بدلنے لگا ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس قبلہ کی تبدیلی بھٹو جیسا سیاست دان بھی نہ سمجھ پایا اور ۔ ۔ ۔ ۔ جنرل ضیاء الحق نے انکا دھڑن تختہ کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ میں ایک بات سمجھتا ہوں کہ شاید فوج نے جو پہلا اتحاد حکومت کے خلاف یا پیپلز پارٹی کے خلاف بنایا وہ قومی اتحاد تھا ۔ ۔ ۔ کیونکہ اسے فوج کی حمایت حاصل تھی ۔ ۔ ۔ مگر دوغلے سیاستدان اس “فیور“ کا فائدہ نہ اٹھا سکے اور اسلامی مارشل لاء لگ گیا ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان روس افغان جنگ میں بین الاقوامی ایجنسیوں کا اڈا بن گیا ۔ ۔ ۔ روسی کے جی بی ، امریکی سی آئی اے ، بھارتی را اور حتہ کہ ایرانی ایجنسیز تک پاکستان کے کونے کونے میں پھیل گیئیں مخبر خریدے اور بیچے جانے لگے ۔ ۔ ۔ میں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ ایجنسیاں جو روس کے ساتھ جنگ کے لئے بنائی گئیں تھیں انہیں بعد میں ختم نہیں کیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ایم آئی (ملٹری انٹیلی جنس ) ، آئی بی (انٹیلی جنس بیورہ ) وغیرہ نے اپنی بہت سی ذیلی ایجنسیاں بنائیں ۔ ۔ ۔ جو کافی حد تک خود مختار تھیں ۔ ۔ ۔ ان ایجنسیوں نے افغانستان میں بہت “کارنامے“ انجام دئیے ۔ ۔ ۔ “مجاہدین“ کے “ٹولے“ بنائے ۔ ۔ ۔ اور پھر ان ٹولوں کو افغانستان میں پھیلا دیا ۔ ۔ ۔ اندرونی طور پر بیرونی طاقتیں پاکستان کو کمزور کر رہی تھیں ، یعنی ہماری ایجنسیاں بیرون ملک سرگرم عمل تھیں اور بیرونی ایجنسیاں ہمیں کھوکلا کر رہی تھیں ۔ ۔ ۔ روس افغانستان سے نکل گیا اور امریکہ پاکستان سے ۔ ۔ ۔ اور باقی سب لوگ ادھر ہی رہ گئے ۔ ۔ ۔ افغان “مجاہدین“ اور “مہاجرین“ ۔ ۔ ۔ ۔ اور بھارتی ایجنسیاں ۔ ۔ ۔ اس چیز کا احساس ١٩٨٤ کے آغاز میں ہوا جب کراچی میں تشدد پھوٹ پڑا ایک طالبہ ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئی ، ہنگامہ ہوا ۔ ۔ ۔ اور کرفیو لگا دیا گیا ۔ ۔ ۔ فوجی حکمرانوں کی یہ ہی منطق خراب تھی ایک طرف وہ سیاست دانوں کو ہم نوا بنا رہے تھے دوسری طرف انہیں کو دبا رہے تھے ۔۔ ۔ ایک ایسے واقعے کو جسے عام پولیس ہینڈل کر لیتی ۔ ۔ ۔ اسے سیاسی بنایا گیا اور پھر فوجی بنا کہ کرفیو لگا دیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب ایجنسیوں نے اپنے گھر کی طرف دیکھا تو ۔ ۔ ۔ ۔ چوں چوں کا مربعہ تیار تھا ۔ ۔ ۔ ۔ کسی کو کچھ پتہ نہ تھا کہ کیا کرنا ہے ، لیڈر خریدے اور بیچے جانے لگے ۔ ۔ ۔ اور اس کام کے لئے وہ پیسہ استعمال کیا گیا جو افغان وار کی خدمات کا صلہ تھا ۔ ۔ ۔ ۔ جو فوج کے پاس “وافر“ مقدار میں موجود تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر ہمارے امیر المومنین مرد مومن مرد حق ضیاء الحق نے بین الاقوامی سطح پر پر پرزے نکالنے شروع کئیے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ اور سیاست دانوں کو “تھلے “ لگانے کا منصوبہ بھی ریڈی تھا ۔ ۔ ۔ ایم کیو ایم کو لسانی طور پر کھڑا کیا جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ کہ یہ لوگ سیاست دانوں پر پریشر گروپ بنا سکیں ۔ ۔ ۔ معصوم وزیر اعظم جونیجو اپنی آل پارٹی کانفرنس کے ڈرامے کی اور اوجڑی کیمپ کے حادثے میں جنرلوں کے ثبوت مٹانے کے عمل کا “راز“ فاش کرنے کی سزا بھگت چکے تھے کہ ۔ ۔ ۔ اللہ کے نیک بندے کو اللہ نے ہوا میں ہی اٹھا لیا ۔ ۔ ۔ ۔ اس حادثے نے ہماری فوج کے ان تمام افسران کو ایک ہی جھٹکے میں ختم کر دیا گیا جو کسی نہ کسی حوالے سے روس افغان جنگ سے متعلق تھے ۔ ۔ ۔ مجھے ان میں سب سے زیادہ افسوس تھا برگیڈیر صدیق سالک کی شہادت پر ، ایمرجنسی جیسے ناول کے خالق اور پھر سقوط ڈھاکہ کی پہلی سچی جھلک کے مصنف ہونے کی وجہ سے میں انکا مداح تھا ۔ ۔ ۔ خیر اس حادثے میں اور کچھ بچا ہو یا نہ ہو ۔ ۔ ۔ ہماری خفیہ ایجنسیاں بچ گئیں ۔ ۔ ۔ جنرل حمید گُل ۔ ۔ زندہ رہے ، اسد درانی زندہ رہے ۔۔ ۔ اور اس وقت کے جہانگیر کرامت بھی کراماتی طور پر زندہ رہے ۔ ۔۔ خیر ایجنسیاں جو خود مختار نہیں بھی تھیں ، انکی بھی ڈوریاں ہلانے والے نہ رہے ۔ ۔ ۔ اور پھر فوج کو ڈر ہوا کہ کہیں عوام پیپلز پارٹی کو نہ لے آئیں ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بے نظیر کا استقبال دیکھ چکے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور بے نظیر کی پارٹی فوج کو بھٹو کی موت کا ذمہ دار قرار دے چکی تھی ۔ ۔ ۔ مگر ۔ ۔ بے نظیر آ ہی گئی ۔ ۔ ۔ ۔ اور ایجنسیاں ڈر کے مارے وہ کھیل کھیلنے لگیں جن کے نتیجے میں پاکستان کی ایجنسیاں جو صدر کے ماتحت تھیں ۔ ۔ ۔ بے نظیر کو گرانے میں کامیاب ہو گئیں ۔۔ ۔ ۔ اور نواز شریف کو لایا گیا ۔ ۔ ۔ مگر نواز شریف جو خود ضیاء کی غیر جماعتی اسمبلی کی پیداوار تھے ۔ ۔ ۔ اور بے نظیر کے دور میں پنجاب کے وزیر اعلٰی کے طور پر طفیلیے سیاست دان سے عوامی سیاست دان تک سفر کر چکے تھے ۔ ۔ ۔ لہذا وہ بھی صدارتی محل کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ ۔ ۔ اب ایجنسیاں سیاست دانوں کو اپنے ہاتھوں پر نچا رہیں تھیں اور آنا جانا لگ گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے امپورٹڈ وزیر اعظم تک استعمال کر لیا تھا ۔ ۔ ۔ اور پھر اسی میوزیکل چئیر کے گیم میں جنرل مشرف نے ١٩٧٧ والا کھیل کھیلنا چاہا مگر اس وقت تک حالات بدل چکے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان جو بین الاقوامی طاقتوں نے بھلا دیا تھا ، گریٹ افغان گیم کا حصہ بن چکا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اور نواز شریف اور بے نظیر دونوں کو باہر دھکیل دیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ایوب خان کو ٦٥ کی جنگ اور عالمی پولرازیشن نے اقتدار کو طول دینے کا موقعہ دیا تھا ، ضیاء کو روسی جارحیت نے اور مشرف کو نائن الیون نے ۔ ۔ ۔ ۔ سامنے کے کھلاڑی اور تھے اور خفیہ اینجنسیاں نئے نئے کھیل کھیل رہیں تھیں ، بھٹو دور میں جیسے فوج دو حصوں میں بٹی تھی ایسے ہی مشرف دور میں ہوا ، اس دفعہ سیکولر طبقہ اوپر آیا مگر مشرف کی ضرورت سے زیادہ امریکہ نوازی نے ملک میں جو بحران جنم دئیے وہ مشرف کو لے ڈوبے ۔ ۔۔ ایوب خان نے سیاسی طفیلیے بنانے کا فارمولہ بنایا ، ضیاء نے منشیات اور کلاشنکوف سے ملک کو بھر دیا اور مشرف نے خود کُش حملوں کا تحفہ دیا ۔ ۔ ۔ ۔ بے نظیر اور نواز شریف بین الاقوامی کھیل کو سمجھ چکے تھے ، اسی لئے دونوں نے میثاق جمہوریت کیا ، اور واپس آ گئے ، حکمرانوں کو نواز شریف سے اتنا ڈر نہیں تھا جتنا بے نظیر سے تھا ، امریکہ کو بھی بے نظیر کی فکر تھی کیونکہ اس کا لھجہ بدل چکا تھا ۔ ۔ وہ اب عوامی زبان میں بول رہی تھی ۔۔۔۔ یہ زبان ویسی ہی تھی جیسی کبھی بھٹو کی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایجنسیوں کو پتہ تھا کہ اب اگر بے نظیر برسر اقتدار آئی تو فوج کا حکمرانوں پر اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا ، اس دوران انہیں ایجنسیوں کو پتہ تھا کہ بے نظیر کا امیج ایک سیکولر لیڈر کا ہے جبکہ نواز شریف کنزرویٹو سمجھے جا رہے تھے ، پاکستان کی تیسری جماعت یعنی مذہبی جماعتیں سرحد میں اپنے اثر کو کھو چکی تھیں اور باقی ملک میں بھی انکی عزت انکے کرتوتوں کی وجہ سے نہیں تھی ، ١٩٧٧ کے بعد سے مذہبی جماعتوں کا جھکاؤ فوج کی جانب رہا تھا ، مگر اب فوج کو معلوم تھا کہ مذہب کے نام پر اب عوام سے نہیں کھیلا جا سکتا کیونکہ طالبان نے مذہب کی غلط تشہیر کی تھی ۔ ۔ ۔ فوج کے سیکولراور کنزرویٹو حصوں دونوں نے دونوں لیڈروں کو منظر سے ہٹانے کا فیصلہ کیا مگر بے نظیر پر حملہ کامیاب ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ جنرل مشرف کا خیال تھا کہ بے نظیر اسکا ساتھ دے گی مگر ججز کی برطرفی اور ایمر جنسی نے بے نظیر کے خیالات کو بدل دیا تھا ، اور وہ ایک بار پھر نواز شریف کی ہم آواز تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ فوج کی ایجنسیاں ایک بار پھر سیاست دانوں کی ٹوہ میں تھیں ۔ ۔ ۔ مگر اس دفعہ سیاست دانوں کے کھیل کھیلا ۔ ۔ ۔ اور ایک آمر کو پہلی بار “باعزت“ رخصت کیا ، مگر سیاست دانوں کی اقتدار کی ہوس آج بھی ہے ہماری زیادہ تر ایجنسیاں صدر کے ماتحت ہیں اور اسی لئے صدر صاحب زیادہ تر ملک سے باہر رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور باقی ایجنسیاں ۔ ۔ ۔ ۔ امریکی خاطر مدارات میں لگیں ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک چھوٹی سی جھلک ہے جو ہمارے ملک کی ایجنسیاں کھیل کھیلتیں ہیں ، میں جانتا ہوں کہ آپ لوگ اس تاریخ کو جانتے ہیں مگر ایجنسیوں کی نظر سے دیکھیں تو شاید ہمیں پتہ چلے کہ ہم ابھی تک ایک ڈر سے نہیں نکل پائے کہ اقتدار اگر ہاتھ سے نکل گیا تو کیا ہو گا ، یہ ڈر سیاست دانوں اور فوجی افسران دونوں میں ہے ، اسی لئے ایک دوسرے کے خلاف یہ برسر پیکار رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور دوسری طرف ہماری ڈسپلن فوج ، ان ڈسپلن سیاست دانوں کا شکار بھی بنتی ہے ۔ ۔ ۔ آج ہمارے سیاست دانوں میں کوئی بھی قائد اعظم جیسا نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ ہماری فوج کے سربراہوں میں جنرل گریسی کی روح موجود ہے جو آج بھی عوامی نمائندے کا حکم ماننے سے انکاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2008/8/13 آزادی کی کہانی - آخری قسط - تقسیم ہندسائمن کمیشن نے ١٩٢٧ میں کچھ اور اصلاحات پیش کیں اور اسی سال مسلمانوں نے دہلی تجاویز پیش کیں جنہیں کانگریس نے پہلے منظور کیا اور پھر مسترد کر دیا جسکی وجہ سے مسلمانوں نے ایک پارٹیز مسلم کانفرنس بلائی اور ان حالات کا جائزہ لیا ، ١٩٢٨ میں جواہر لال نہرو نے اپنی مشہور رپورٹ پیش کی جو مسلمانوں کے خلاف جاتی تھی اسلئے مسلم لیگ نے اسے یکسر مسترد کر دیا اور یہاں سے ایک الگ سفر شروع ہوا کانگریس ہندؤں کی جماعت بن گئی اور مسلم لیگ مسلمانوں کی ۔ ۔ ۔ گول میز کانفرنسوں میں بھی ہندوستان کی آزادی کی بات کی گئی مگر کوئی بھی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا ۔ ۔ ۔ ١٩٣٥ میں جو قانون بنا اسکے مطابق کانگریس اور مسلم لیگ کو وزارتیں ملیں مگر کانگریس نے یہ حکومت نہ چلنے دی اور آخر ١٩٤٠ میں لاہور کے جلسے میں مسلم لیگ نے علاحدہ وطن کا مطالبہ کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔
ہندو اخبارات نے اسے قراداد پاکستان کا نام دیا جو آگے چل کر سچ ثابت ہوا اور دو قومی نظریہ کی سچائی بھی سامنے آ گئی ۔ ۔ ۔ ١٩٤٢ میں کرپس مشن نے مزید اصلاحات دیں مگر کانگریس کی ہندوستان چھوڑ دو کی تحریک نے اور پھر سبھاش چندر بوس کی ائی این اے ( انڈین نیشنل آرمی) کے قیام نے مزید مشکلات پیدا کر دیں
١٩٤٤ میں گاندھی جناح مذاکرات پاکستان کے ایشو پر ناکام ہو گئے اور ١٩٤٦ میں مسلم لیگ نے اپنی وزارتوں سے ہندوستانیوں کے دل میں مقام پیدا کر لیا ، اور ١٩٤٦ میں کیبنٹ مشن نے ہندوستان کی خود مختاری کے لئے تجاویز پیش کیں اور جنکا اختتام تین جون ١٩٤٧ کے آزادی کے منصوبے پر ہوا ۔ ۔ اور ہندوستان تقسیم کے لئے تیار ہو گیا ۔ ۔ کانگریس نے اس منصوبے کی بہت مخالفت کی مگر مسلمان ہند نے جو عہد ٢٣ مارچ ١٩٤٠ کو کیا تھا وہ ١٤ اگست ١٩٤٧ کو پورا ہو گیا ۔ ۔ پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک عظیم اسلامی ملک بن کہ ابھرا ۔ ۔ ۔
چوبیس گھنٹوں کے بعد ہندوستان سو سالہ غلامی سے آزاد ہو گیا ۔ ۔ آج یہ دونوں ملک ایک حقیقت ہیں اور ہماری دعا ہے کہ ملک امن و محبت سے رہیں ۔ ۔ ۔
آزادی کی کہانی ختم نہیں ہوئی ۔ ۔ بلکہ یہ چل رہی ہے ، ہم کہنے کو ١٩٤٧ میں آزاد ہو گئے تھے مگر ہم نے اپنی اس آزادی کی قدر نہیں کی ۔ ۔ اسی لئیے آج ہم ظاہری طور پر آزاد ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر غلام ہو چکے ہیں ۔ ۔ ۔
میں نے اس کہانی میں صرف حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی ہے اگر کوئی غلطی ہو گئی ہو تو اسکی معذرت چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔
کوشش کروں گا کہ اس سلسلے پر مذید کچھ لکھ سکوں اگر وقت نے اجازت دی ۔ ۔ ۔ آپکی آراء کا منتظر رہوں گا ۔ ۔ ۔
اظہرالحق شارجہ ، متحدہ عرب امارات اگست ٢٠٠٨ آزادی کی کہانی - تیرہویں قسط - ایک اور چنگاریپہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا میں تبدیلیاں شروع ہو چکی تھیں ، جنکا لامحالہ اثر ہندوستان پر بھی ہوا ، خاصکر مسلمانوں پر ۔ ۔ عثمانی سلطنت کا زوال بہت اثر کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ جسکی وجہ سے ١٩١٩ میں تحریک خلاف چلائی گئی ۔ ۔ ۔ اور گاندھی جی کی عدم تعاون کی تحریک نے بھی اسکو بہت اچھا بوسٹ دیا اور انگریز بہت مشکل میں پڑ گئے ۔ ۔ ۔ تحریک خلافت اور عدم تعاون کی تحریک میں سیکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور مارشل لا لگا دیا گیا ۔ ۔ ۔ مگر اسکا سب سے افسوسناک واقعہ جلیاںوالا باغ کا تھا جس میں تقریباً چار سو کے قریب لوگ مارے گئے اس واقعے کا مرکزی کردار جنرل ڈائیر تھا اسکی وجہ سے جمیعت علمائے ہند نے جہاد کا فتویٰ دیا اور لوگ جوق در جوق اس تحریک میں شامل ہونے لگے مگر ۔ ۔ ۔ ترکی ہار گیا ۔ ۔ ۔ اور مسلمانوں میں بہت مایوسی پھیل گئی ۔ ۔ ۔ مگر اس میں زیادہ قصور مسلمانوں کا اپنا بھی تھا جو تنکوں کی طرح سے بکھرے ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ ہندوستان کے مسلمان رہنما مسلمانوں کی اس کیفیت کو سمجھتے تھے ۔ ۔ ۔ خاصکر علامہ محمد اقبال ۔ ۔ ۔ انہوں نے اپنی شاعری کی مدد سے قوم میں ایک نئی روح بیدار کی ، مسلمانوں کو انکا ماضی بھی بتایا اور انکا مستقبل بھی ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے اپنی نظموں اور ترانوں سے ایک نسل کو متاثر کیا ۔ ۔ ۔ ۔ اقبال نہ صرف ایک اچھے شاعر تھے بلکہ ایک اسکالر بھی تھے ۔ ۔ انہوں نے ہی ١٩٣١ کے مسلم لیگ کے جلسے میں مسلمانوں کی الگ ریاست کا تصور پیش کیا ۔۔ ۔ یہاں یہ بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ تصور ہندوستان کی فیڈریشن کے اندر رہتے ہوئے تھا ۔ ۔ ۔ ۔ مگر ہندؤں کی کم ظرفی اور انگریزوں کی سازشوں نے اسے ایک الگ ملک کی تحریک میں بدل دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آزادی کی کہانی - بارہویں قسط - جناح اور گاندھی١٩٠٥ میں انگریزوں کا ایک فیصلہ مسلمانوں کے حق میں گیا ۔ ۔ ۔ اور وہ تھا بنگال کی تقسیم ، جسکی وجہ سے مسلمانوں کو بنگال میں کافی فائدہ ہوا ، ٣٠ دسمبر ١٩٠٦ کو سر سید کی محمڈن ایجوکیشن کانفرنس میں جو ڈھاکہ میں ہوئی نواب سلیم اللہ کی تجویز پر مسلمانوں کی ایک الگ سیاسی تنظیم کی تجویز کو پسند کیا گیا اور نواب وقار الملک ( جو اس جلسے کی صدارت کر رہے تھے ) حمایت کی اور یوں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام ہوا ۔ ۔ ۔ جسکا ہیڈ کواٹر لکھنؤ میں تھا اور سر آغآ خان اسکے پہلے صدر تھے ۔ ۔ ۔ شروع میں اسکے چھے نائب صدور بھی تھے اور ابتدائی اراکین کی تعداد چار سو کے قریب تھی ۔ ۔ ۔ مولانا محمد علی جوہر نے اسکا منشور لکھا اور سید امیر علی نے ١٩٠٨ میں لندن میں بھی مسلم لیگ کی شاخ قائم کی جسنے محمد علی جنا کو ہندوستان لانے پر آمادہ کیا ۔ ۔ ۔ ۔ اور دوسری طرف ١٩١٥ میں گاندھی جی اپنے رفقاء کے اسرار پر ساؤتھ افریقہ سے واپس آئے جو کہ ١٩٠٢ میں ہندوستان چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔ ۔ ۔
یہ عجیب مماثلت ہے دونوں رہنماؤں میں (جناح اور گاندھی میں) کہ دونوں نے وکالت کی تعلیم حاصل کی دونوں نے پریکٹیس ہندوستان میں شروع کی ، دونوں ہی مایوس ہو کر ہندوستان چھوڑگئے اور دونوں ہی اپنے دوستوں کے کہنے پر واپس ہندوستان آئے اور اپنی اپنی قوم کو انگریزوں سے آزادی دلوائی ۔ ۔ ۔ جنگ ایک تھی ، مگر اسکے انجام دو ہوئے ۔ ۔ ۔۔
دو عظیم رہنما جناح اور گاندھی شروع میں اکھٹھے تھے اور دونوں ہی ہندو مسلم اتحاد کے قائل تھے اسلئے ایک عرصے تک مسلم لیگ اور کانگریس میں کوئی خاص اختلاف سامنے نہ آیا ۔ ۔ ۔ بلکے گاندھی اور جناح کے درمیان مسلسل رابطہ رہا ۔ ۔ ۔ اور اسی کی وجہ سے ١٩١٥ میں مسلم لیگ اور کانگریس نے ملکر اصلاحات کو مزید وسعت دینے کی ڈیمانڈ کی اور اس میں سولہ رکنی وفد نے وائسرائے سے ملکر اسے ہندوستان میں ہندوستانیوں کی حکومت کی تجویز دی ۔ ۔۔ اور ان کوششوں میں جناح پیش پیش تھے اور اسی وجہ سے انہیں سروجنی نائیڈو نے ہندو مسلم اتحاد کا سفیر قرار دیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(جاری ہے ) آزادی کی کہانی - گیارہویں قسط - برطانوی دورگو مغل سلطنت کا سورج غروب ہو چکا تھا اور ساری دنیا میں مسلمان شکست و ریخت میں تھے مگر ۔ ۔ ۔ امت مسلمہ سے خدا نے کبھی بھی امید نہیں چھینی ۔ ۔ ۔ کوئی نہ کوئی تحریک ضرور اٹھتی رہی جسنے اس تشخص کو زندہ رکھا جو ایک اور نشاہ ثانیہ کی وجہ بنا ۔ ۔ ۔ جہاں انگریزیوں نے ہندوستان کو نقصان پہنچایا ، وہیں نئی جدت بھی دی ۔۔ ۔ اٹھارویں صدی کے وسط میں ہندوستان میں ریل گاڑی کا آغاز ہوا ، ٹیلی گراف کی لائنیں بچھائیں گئیں اور تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوا ۔۔ ۔ ۔ افسوس اس وقت کے مسلمانوں نے اسے کافروں کی چیزیں سمجھا اور ہندؤں نے انہیں اپنایا اور انگریزوں سے زیادہ قریب ہو گئے ۔ ۔ ۔ ہندؤں نے نئی تعلیمات کو قبول کیا اور مسلمان صرف مذہبی تعلیمات تک محدود ہو کر رہ گئے ۔ ۔ ۔
١٨٨٥ میں انگریزوں کے ایک گروہ نے انڈین نیشنل کانگریس قائیم کی جسکا بنیادی مقصد ہندوستانیوں کو حقوق دلانا تھا اور اسکی باگھ دوڑ بال گندھار تلک نے سنبھالی اور پہلی بار کسی پلیٹ فارم سے انگریزوں کے قبضے کے خلاف آواز بلند کی گئی ۔۔ ۔۔ کانگریس کے پہلے صدر چندر بینر جی تھے ۔ ۔
دوسری طرف سر سید احمد خان نے مسلمانوں میں تعلیم کی روح پھونکی اور اسی تعلیم کی وجہ سے مسلمانوں نے ١٩٠٦ میں مسلم لیگ قائم کی ۔ ۔ ۔
١٨٥٧ کی جنگ آزاد تک ایک چیز مشترک ہو چکی تھی اور وہ تھی زبان ۔ ۔ ۔ جسے اردو کہا جاتا ہے ، مگر جب مسلمانوں کی سلطنت ختم ہوئی تو اردو ہندی تنازعہ کھڑا ہو گیا ۔ ۔ ۔ اردو کیونکہ عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی اسے مسلمانوں کی زبان کہا گیا اور ہندی کو گورمکھی میں لکھ کر ہندؤں کی زبان ٹہرایا گیا ۔ ۔ ۔ گرچہ بولنے میں دونوں ایک ہی تھیں ۔ ۔ ۔
(جاری ہے ) 2008/8/12 آزادی کی کہانی - دسویں قسط - ایک اور دورِ غلامیانگریز جانتے تھے کہ وہ طاقت سے ٹیپو سلطان کو شکست نہیں دے سکتے انہوں نے حیدرآباد کے نظام کو سازش کے تحت شکست دی اور معاہدے کو توڑتے ہوئے میسور پر حملہ کر دیا ١٧٩٩ میں ٹیپو سلطان کو شکست ہوئی ۔ ۔۔ وہ میدان جنگ میں شیر کی طرح لڑا اور شہادت پائی ، اسنے اپنے مقولے کو سچ کر دیکھایا کہ “شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے “ آزادی کی جنگ کا وہ پہلا سپاہی تھا جسکی عظمت کو انگریزوں نے بھی تسلیم کیا ۔ ۔ ۔ مغل سلطنت نام کی باقی تھی دہلی میں بادشاہ آتے رہے اور جاتے رہے ، جن میں محمد شاہ رنگیلے جیسے لوگ بھی تھے اور شاہ عالم جیسے بھی ۔ ۔۔ اورنگزیب سے بہادر شاہ ظفر تک تقریباً سترہ بادشاہ گزرے ، مغل سلطنت صرف دہلی تک رہ گئی اور پنجاب میں سکھ اور بنگال میں مرہٹوں کا زور بڑھتا چلا گیا اور ١٨٥٧ میں پورا ہندوستان انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا ۔ ۔ ۔ ۔
مگر ایک بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مسلمانوں نے اپنی عظمت کو ایسے ہی نہیں کھویا ۔ ۔ انہوں نے آخر دم تک جدوجہد کی ، سید احمد بریلوی ، شاہ ولی اللہ ، شاہ اسماعیل وغیرہ انگریزوں سکھوں اور مرہٹوں سے آخر دم تک نبرد آزما رہے ۔ ۔ ۔
انگریز اپنے زرخرید غلاموں کی مدد سے دہلی کی طرف بڑھتے چلے گئے اور انہیں پتہ چل گیا کہ اب لوہا گرم ہے ، تو انہوںے نے اپنے قبضے کو باقاعدہ کرنے کے لئے چال چلی ۔۔ ۔ دہلی کے سپاہیوں کو بندوقں کے جو کارتوس دئیے گئے تھے ان کے اوپر چرما چڑھا ہوا تھا جسے سپاہی کو دانتوں سے کھیچ کر اتارنا پڑتاھ ۔ ۔ ۔ اور بندوق کو بھرتا ۔ ۔ ۔ بتایا گیا کہ کارتوسوں پر جو چرمہ ہے وہ سؤر اور گائے کا ہے ، مسلمانوں میں سؤر حرام ہے اور ہندؤ گائے کو مقدس جانتے ہیں ۔ ۔۔ ۔ یہ واقع ایک بنیاد بن گیا بغاوت کی اور بقول انگریز کے غدر کی ۔ ۔ ۔ اور انگریز اس غدر کو کچلنے کے بہانے دہلی میں داخل ہو گئے ۔۔ ۔ اور بادشاہ کو قید کر لیا ۔ ۔ ۔ تاریخ کے اوراق کے مطابق اگر بہادر شاہ ظفر ، جنرل بخت خان کی بات مان لیتا تو شاید آج کی تاریخ کچھ اور ہوتی مگر وہ بادشاہ وہ تھا کہ جب بھاگنے کا وقت آیا تو وہ اس انتظار میں تھا کہ کوئی خادم اسے جوتا پہنائے ۔ ۔ ۔ تو وہ کسی کا ساتھ کیسے دیتا ۔ ۔ ۔ اور پھر ١٨٥٧ میں دہلی اجڑ گئی ۔ ۔ ۔ مغلوں کا جلال ختم ہوا اور تاجدار برطانیہ کا سورج طلوع ہوا جسے اگلے سو سال تک ہندوستان کی دھرتی کو جلانا تھا ۔ ۔ ۔ اور ہندوستانیوں کو کتوں کے برابر کرنا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ دہلی کی تباہی نے سارے ہندوستان کو مایوس کر دیا اور خاصکر مسلمان مزید پستی میں چلے گئے ۔ ۔ ۔ ۔
(جاری ہے ) 2008/8/9 آزادی کی کہانی - نویں قسط - برطانوی راجسولہویں صدی کے آخر میں انگریزوں اور مغلوں کے درمیان بیجاپور کی لڑائی ہوئی اور پھر انکے درمیان معاہدہ امن ہوا اور اورنگزیب کے زمانے میں ہی ایسٹ انڈیا کمپنی کو عروج ملا اور ہندوستان کی ایک مصروف تجارتی منڈی بن گیا ۔ ۔ ۔ اورنگزیب کے دور میں مرہٹوں نے بغاوت کی اور پچاس سال کے بعد بنگال میں ایک بڑی لڑائی لڑی گئی ۔ ۔ ۔
سترویں صدی کے شروع میں اورنگزیب کی وفات کے بعد نادر شاہ نے دھلی فتح کیا اور مرہٹوں نے سلہٹ اور بسین پر قبضہ کیا ۔ ۔ ۔ ١٧٥٠ میں مرہٹوں نے امن معاہدہ کیا اور تھوڑے ہی عرصے کے بعد سراج الدولہ نے کلکتہ فتح کر لیا ۔ ۔ ۔ اور یوں برصغیر تقسیم در تقسیم ہوتا چلا گیا ۔ ۔ ۔ ۔
انگریزوں نے پلاسی کے میدان میں سراج الدولہ کو شکست دی جو غداروں کی وجہ سے جنگ میں ہار گیا تھا ۔ ۔ ۔ اور اسکی کے ساتھ انگریزوں نے ودیواش میں فرانسیسیوں کو شکست دی ، پانی پت کی تیسری لڑائی میں احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کو شکست دی اور یوں حیدرآباد دکن اور میسور کی ریاستوں میں مسلمانوں کی حکومتیں قائم ہو گئیں اور حیدر علی جیسے سلطان سامنے آئے مگر انگریزوں نے اپنے قدم جمانے شروع کر دئیے تھے ۔ ۔ ۔ بکسر کی لڑائی میں میر قاسم کو شکست ہوئی اور انگریزوں نے بینگال بیہار اور اڑیسہ پر اپنا راج قائم کر دیا ۔ ۔ ۔۔
جب میسور کی پہلی لڑائی میں انگریز مقابلہ نہ کر سکے تو انہوں نے حیدر علی کے ساتھ امن کا معاہدہ کیا ۔ ۔ جو دراصل ایک چالاکی تھی اور انگریز مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے وقت چاہتے تھے ۔۔ ۔
دس سال بعد ١٧٨٠ میں چار کی لڑائی کے بعد انگریز پھر غداروں کی وجہ حیدر علی کو ہرانے میں کامیاب رہے اور پٹس انڈیا ایکٹ ١٧٨٤ کے مطابق انگریزوں نے تجارت کے ساتھ ساتھ حکومت کرنے کے ضوابط بھی طے کرنے شروع کر دئیے ۔ ۔ ۔
سترہویں صدی کے اختتام پر ٹیپو سلطان اور انگریزوں کے درمیان پہلی مرتبہ جنگ ہوئی اور انگریزوں نے ایک بار پھر ٹیپو جیسے سلطان کی قیادت اور بہادری کو دیکھتے ہوئے پینترا بدلہ اور سرنگا پٹم میں ایک امن معاہدہ کیا ۔ ۔ ۔۔
ٹیپو سلطان ایک بہادر اور جری سالار تھا ، وہ حیدر علی کا سب سے بڑا بیٹآ تھا ، انگریزوں نے گو حیدر علی کو شکست دی تھی مگر معاہدے کے پابند بھی تھے اس لئے وہ میسور پر حاکمیت نہ کر سکے ، حیدر علی کی وفات کے بعد ٹیپو سلطان میسور کا حاکم بنا اور اسنے حیدرآباد دکن کے نظام اور مرہٹوں کی مدد سے انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی ۔۔ ۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے عثمانیہ سلطنت اور افغانستان اور حتہ کہ نپولین بونا پارٹ سے بھی مدد چاہی تھی مگر ان تک یہ خط بہت دیر سے پہنچا ۔ ۔ ۔
(جاری ہے ) 2008/8/7 آزادی کی کہانی - آٹھویں قسط - مغلوں کا زوالسولیں صدی کے آغاز میں اکبر کا انتقال ہوا اور جہانگیر تحت نشین ہوا ، جہانگیر کا زمانہ بہت اچھا گردانا جاتا ہے ، اسے عادل بادشاہ بھی کہا گیا، مگر اسکی ذات کبھی بھی شک سے خالی نہیں رہی ، یہاں تک کہ نور جہاں کے پہلے شوہر شیر افگن کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ اسے جہانگیر نے ہی قتل کروایا ، خیر ایک بات سمجھ میں نہیں آتا کہ نور جہاں نے انار کلی کی کہانی نہیں سنی تھی کیا ؟؟؟ ورنہ وہ جہانگیر سے شادی کیسے کرتی !!! جہانگیر کے دور حکومت میں انگریزوں اور ڈچ نے اپنی اپنی فیکٹریاں لگائیں اور اپنی سازشوں کا گھیرا آہستہ آہستہ تنگ کرنا شروع کیا ۔ ۔ ۔ جسکی مثال سر تھامس رائے کی بحثیت سفیر تقرری تھی ہندوستان میں ۔ ۔ ۔
جہانگیر کے بعد شاہ جہاں تحت نشین ہوا ، شاہ جہاں نے ہی تاج محل تعمیر کروایا جو اسکی محبوب بیوی ممتاز محل کی یاد میں تعمیر ہوا ، اسے تعمیرات کا جنون تھا ، لاہور اور دہلی کی مساجد ، قلعے اور ٹھٹھہ (سندہ) کی شاہ جہانی مسجد اسکی یادگاریں ہیں ۔۔ ۔
شاہ جہاں کے دور میں ہی انگریزوں کو ایسی سہولیات دیں جس سے انہیں اپنے قدم جمانے میں آسانیاں ہوئیں جسکی مثال مدراس میں سینٹ جارج کا قلعہ تھا ، شاہ جہاں کے بعد اورنگزیب برسر اقتدار آیا اور اسنے شاہ جہاں کو قلعے میں قید کر دیا اور شاہ جہاں نے اپنی باقی زندگی تاج محل کو دیکھتے ہوئے گذاری ۔ ۔ ۔
اورنگزیب کے دور میں مغل سلطنت انتشار کا شکار ہونا شروع ہوئی اور انگریزوں سے پہلی جنگ میں بیجاپور ہاتھوں سے نکل گیا ۔ ۔ ۔ مگر ١٦٩٠ میں انگریزوں اور مغلوں کے درمیان ایک امن معاہدہ ہوا اور انگریزوں نے قدم جمانے کا وقت لے لیا ۔ ۔ ۔
اور پھر اورنگزیب کی وفات کے بعد مغل سلطنت سوکھے پتوں کی طرح بکھرتی چلی گئی ایک کے بعد ایک بادشاہ آیا اور سازشوں کا دور شروع ہوا ۔ ۔ ۔ اسی درمیان میں انگریزوں نے فرانسیسوں کو شکست دی اور ہندوستان پر اپنا جھنڈا گاڑھنے کے خواب دیکھنے لگے ۔ ۔ ۔
(جاری ہے )
2008/8/6 آزادی کی کہانی - ساتویں قسط - مغلیہ دوربابر نے ایک مظبوط سلطنت کی بنیاد رکھی اسکی سلطنت کابل سے کندھار تک اور ہمالیہ سے گوالیار تک پھیل گئی ۔ ۔ ۔ بابر کا بیٹا تھا ہمایوں ۔ ۔ ۔ کہا جاتا ہے کہ ہمایوں بیمار ہوا تو اس نے دعا مانگی کہ ہمایوں کی بیماری اسے یعنی بابر کو لگ جائے ۔ ۔ ۔ اور ایسا ہی ہوا اور جب بابر دنیا سے رخصت ہوا اور ہمایوں تحت نشین ہوا ۔ ۔ ۔ مگر اسے کچھ ہی عرصے کے بعد سلطنت سے ہاتھ دھونے پڑے ۔۔ ۔ ایک افغان شیر شاہ سوری نے کابل تا دھلی اپنی حکومت قائم کی اور ایک یادگار تاریخ رقم کی ، اس دور کی ترقی کی یادگار شیر شاہ سوری کی سڑک (جسے گرینڈ ٹرنک یا جی ٹی روڈ بھی کہا جاتا ہے ) مثال ہے ، اسی راستے کو کبھی جرنیلی سڑک بھی کہا جاتا تھا ۔ ۔ یہ سڑک کلکتہ سے شروع ہو کر کابل تک جاتی ہے ۔ ۔ ۔ انفرا اسٹریکچر کے علاوہ اسنے کافی اصلاحات کیں ، جس میں ڈاک کا نظام اور مواصلات کو بھی بہتر کیا ۔ ۔ ۔
تقریباً پندرہ برس کے بعد ہمایوں نے ایران کے راستے حملہ کر کہ اپنی سلطنت واپس لی اور اسی دوران ہندوستان میں ایک نئے مذہب کی بنیاد پڑی ۔ ۔ ۔جسے گرونانک نے پھیلایا ، لوگ اسے سکھ مذہب کے نام سے جانتے ہیں ۔۔ ۔ سکھ مذہب کی وجہ وہ ہی تھی جو بدھ مت کی تھی ۔ ۔ ۔ ہندو تو دوغلی قوم تھی ہی مگر مسلمانوں میں بھی ایسے لوگوں کا غلبہ ہو چکا تھا ۔ حتہ کہ بزرگان دین کی وجہ سے بہت اچھا معاشرہ تھا مگر پھر بھی گرو نانک نے اسلام اور ہندو مت سے مایوس ہو کر یہ مذہب بنایا ۔ ۔ ۔ سکھ توحید کے قائل ہیں اور اعمال کا تصور بھی اسلام جیسا ہی ہے ۔۔ ۔ مگر شرک کرتے ہیں ۔۔ ۔ گرونانک صاحب کو خدا کا حصہ مانتے ہیں ۔ ۔ ۔ مگر سکھ مذہب پھر بھی اسلام سے زیادہ قریب ہے ۔ ۔ ۔ حتہ کہ موجودہ گولڈن ٹیمپل (امرتسر) کا سنگ بنیاد حضرت میاں میر نے رکھا ۔ ۔ ۔ تھا ۔ ۔ ۔
ہمایوں کا دور حکومت ہندوستان کو اکھٹا کرنے میں لگا اور اسکی فتوحات کے بعد اسکا بیٹآ اکبر تحت نشین ہوا ۔ ۔ ۔ اکبر اعظم کا بھی زیادہ وقت جنگوں میں گذرا اور سازشوں سے نپٹتا رہا مگر اکبر کے دور میں ہندؤں کو بہت آسانیاں ملیں اسکی وجہ اسکی ہندو بیوی جودھا بائی بھی تھی (کچھ جگہ پر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جودھا بائی جہانگیر کی بیوی تھی ۔ ۔ ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اکبر نے جو سیاسی شادیاں کیں تھیں ان میں راجپوت ہندو عورت اسکی بیوی ضرور تھی ) اور اکبر کی اسی ملی جلی سوچ نے دین احمدی کو جنم دیا ۔ ۔ ۔ جسکی وجہ سے آج بھی اکبر کو ایک بڑا سیکولر حکمران مانا جاتا ھے
اکبر کے ہی عہد میں انگریزوں نے اس سرزمین پر تجارتی کمپنی بنا کہ قدم رکھا ۔ ۔ ۔ اس کمپنی کو سولہ سو عیسوی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے قائم کیا گیا اور اسکے کے تھوڑے عرصے کے بعد ہالینڈ میں یونائیٹڈ ایسٹ انڈیا کمپنی بھی بنائی گی اور پھر ہندوستان کی سونے کی چڑیا کو پھنسانے کے لئیے جال تیار ہونے لگے ۔ ۔ ۔
(جاری ہے ) 2008/8/5 چھٹی قسط - سونے کی چڑیامحمود غزنوی نے جب راجہ جے پال کو شکست دی اور جب وہ سومنات کے بُت توڑنے جا رہا تھا تو اسے ہر طرح کا لالچ دیا کہ وہ مندر کے بُت نہ توڑے مگر اس نے کہا کہ میں بت شکن ہوں اور پھر محمود غزنوی تاریخ کے اوراق میں بت شکن کے نام سے ہمیشہ کے لئے زندہ رہ گیا ۔ ۔ ۔ ایک غیر مصدقہ روایت ہے کہ جب نبی اکرم(ص) نے کعبے کے بت توڑے تو ایک بت “منات“ ۔ ۔ ۔ نام کا کسی طرح سے بچ گیا یا اسکے ٹکڑوں کو ہندوستان لے آیا گیا ۔ ۔ ۔ اور وہیں اسے جوڑ کر اسکی پوجا کی گئی ۔ ۔ ۔اور اسی وجہ سے سومنات کا مندر مشہور تھا اور یہ ہی وجہ تھی کہ محمود غزنوی نے اس بت کو توڑا ۔ ۔ ۔ ۔
مسلمانوں کو اصل عروج ہندوستان میں یہاں سے ہی ہوا ، اور ہندوستان کے رہنے والوں نے مسلمان حکمرانوں کے بہتر اور اچھے سلوک کی وجہ سے اور بزرگان دین کی کاوشوں سے جوق در جوق اسلام قبول کرنے لگے ، اسکی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ راجے مہاراجوں کے ظلم سے تنگ تھے اور دوسرے اونچی اور نیچی ذات کے ھندوؤں کے درمیان بہت فرق آ چکا تھا ۔ ۔ ۔ جس نے مسلمانوں کے لئے راہ ہموار کی ۔۔ ۔
مسلمان عربوں نے ناصرف ہندوستان کے لوگوں کے دلوں پر اثر کیا بلکے یہاں کی تہذیب و ثقافت پر بھی اثر انداز ہوئے ۔ ۔ ۔ اور پھر ہندوستان کی تہذیب جو پہلے سے ہی ایران روم اور یونان کی تہذیبوں کی آمیزیش سے رانگین تھی عرب مسلمانوں نے اسے مذید حسین بنا دیا
محمود غزنوی کے ہی حسن سلوک کا کرشمہ تھا کہ جس نے خاندان غلاماں کو بارویں صدی میں اقتدار سے نوازا ۔ ۔ ۔ قطب الدین ایبک اور التتمش جیسے بادشاہوں نے سلطنت کی بھاگ دوڑ سنبھالی ، قطب مینار آج بھی اس دور کی عظمت کی یاد دلاتا ہے ۔ ۔ ۔ قطب مینار کے بارے میں ایک روایت ہے کہ اگر کوئی شخص اسکے آہنی خو کو اپنے بازو میں پوری طرح سمیٹ لے تو اسکی ہر خواہش پوری ہو جائے گی ۔ ۔ ۔ تو آپ میں سے جو بھی قطب مینار جائے تو یہ کام ضرور کرے ۔ ۔ ۔۔
خاندان غلاماں کے بادشاہ بہت متقی اور پرہیز گار تھے خاصکر التتمش علماء کرام کو بہت عزت دیتا تھا ۔ ۔ ۔ التتمش کی ہی سمجھداری تھی کہ شمال کی جانب سے اٹھنے والے فتنے چنگیز خان کی تاتاری افواج نے ہندوستان کو اتنا نقصان نہییں پہنچایا جتنا بغداد کی سلطنت کو ۔ ۔ ۔ ۔
مارکوپولو نے اسی زمانے میں ہندوستان کا سفر کیا اور اسکی عظمت کے قصے بیان کیے ہیں ۔ ۔ ۔
خاندان غلاماں کے بعد خلجی خاندان برسر اقتدار آیا اور تقریباً ایک سو سال تک ہندوستان تغلق خاندان کے زیر اثر رہا ۔ ۔ ۔ ۔
اور پھر ایک بار ۔ ۔ ۔ تیمورلنگ نے ہندوستان کو روند ڈالا ۔ ۔ ۔ تیمور ایک جارح فاتح تھا ۔ ۔ تاریخ اسے اچھے لفظوں سے یاد نہیں کیا جاتا ۔ ۔ ۔ شاید اس لیئے کہ وہ ایک تاتاری منگول تھا اور اس نے بھی ظلم کے ساتھ لوگوں کو قتل کیا ۔ ۔ ۔ ۔
تیمور کے جانے کے بعد اندرونی خلفشار بڑھ گیا اور ہندوستان چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو گیا جس کی وجہ سے ایک طرف بہامی ریاست تھی تو دوسری طرف لودھی خاندان کی حکومت ۔ ۔۔ اور پندرھویں صدی میں جب واسکو ڈی گاما نے ہندوستان کا سفر کیا تو کچھ ہی عرصے کے بعد پُرگالیوں نے گوا کو فتح کیا اور یہاں سے ہی برصغیر میں مسلمانوں کے علاوہ دوسری قوموں کا تسلط شروع ہوا ۔ ۔ ۔اور قطب شاہی کے بعد پانی پت کے میدان میں ایک ترک چغتائی ظہیر الدین بابر نے کابل کو فتح کرنے کے بعد عظیم مغل سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ ۔۔ ۔ جو آنے والے وقتوں میں ہندوستان کو سونے کی چڑیا کا نام دی گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(جاری ہے ) 2008/8/4 پانچویں قسط - اسلام کی آمدسندھ کے راجہ داہر کے بارے میں متضاد رائے ہیں ۔ ۔ ۔ مگر اتنی بات یقیناً ہے کہ سندھ کے جھنگلات میں ڈاکؤں کا راج تھا (جیسا کہ آج بھی ہے ) اور ساحل کے کنارے ہونے کی وجہ سے وہ قزاقی بھی کرتے تھے ، مسلمانوں کا پیشہ زیادہ تر تجارت تھا اور اموی خلیفہ نے ایک لُٹنے والے مسلمان تجارتی قافلے کی ایک لڑکی کے پُرسوز خط پر بغداد کے انیس سالہ نوجوان محمد بن قاسم کو سندھ کی مہم سپرد کی ، لیکن حملے سے پہلے راجپوت راجہ داہر کو خلیفہ نے کہا کہ وہ ان ڈاکؤں کی سرکوبی کرے اور مسلمانوں کا لوٹا ہوا مال واپس کروائے مگر راجہ داہر نے اسکے پیغام پر توجہ نہیں دی اور محمد بن قاسم ٧١١ع میں دیبل کے راستے راجہ داہر پر حملہ آور ہو کر اسے شکست دی اور کشمیر تک کے علاقے کو فتح کر لیا ، محمد بن قاسم آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتا تھا ، مگر خلیفہ ولید نے اسے واپس بلا لیا ، کچھ روایات کے مطابق اسے بغداد پہنچنے سے پہلے ہی قتل کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ اموی سلطنت کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی تھیں ۔ ۔ جسکی وجہ سے مسلمان سندھ پر اپنا تسلط زیادہ دیر تک برقرار نہ رکھ سکے ۔ ۔ اور یوں ہندوستان میں چھلکیا کی سلطنت نے عروج لیا جسنے تقریباً پینتیس سال تک حکومت کی ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ موجودہ پاکستان علاقوں پر حکومت نہیں چلا سکا ۔۔ ۔ حتہ کہ اموی اور عباسی خلفہ نے اسکو اپنے زیر نگیں رکھا (سندھ کو) جسکی وجہ سے ان علاقوں میں مسلانوں کی آمد و رفت بڑھتی رہی ۔ ۔ ۔ جسنے یہاں کے لوگوں پر بہت اچھا اثر ڈالا اسی وجہ سے جب محمود غزنوی نے ١٠٠١ ع میں راجہ جے پال کو شکست دی اور سومنات کا مندر توڑا تو عوامی طور پر اسے بہت پزیرائی ملی ۔ ۔ ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ راجہ اور اسکے حمایتیوں کی طرف سے اسے بہت مزاحمت ملی ، جسکی وجہ سے اسے ہندوستان پر سترہ حملے کرنے پڑے ۔ محمود غزنوی نے مسلمانوں کے لئے ہندوستان کی وا کر دی تھی ، وہ دروازہ جسے محمد بن قاسم نے کھولا تھا ۔ ۔ اسکا مکان ١٠٠١ میں محمود غزنوی نے تعمیر کیا اور اس تکبیر کے نعرے کی بازگشت آج بھی ہمارے کانوں میں سنائی دیتی ھے ۔ ۔ ۔ ۔
(جاری ہے ) 2008/8/3 چوتھی قسط - عروج و زوالچندر گپت موریہ اس خطے کا ایک ایسا حکمران تھا جو اپنی ذہانت اور چالاکی سے حکومت چلاتا رہا اس نے یہ حکومت سیلاکاس نیکتار کو جنگ میں شکست دے کر لی تھی ، اور اسی نے موریہ سلطنت کی بنیاد رکھی اور کسی حد تک متحدہ ہندوستان کا پہلا حکمران بنا ۔ ۔ چندرگپت موریہ نے حکومتی اصلاح کی اور حکومت چلانے کے طریقے وضح کئے ، اُسی نے اس خطے کا پہلا سکہ رائیج کیا، اس کے دور میں جہاں لوگ خوشحال ہوئے مگر اسکی اصلاحات نے بہت لوگوں کو دکھ بھی دیا ۔ ۔ ۔
چندرگپت موریہ نے اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے کے پانچ سال بعد حکومت اپنے بیٹے بندوسرا کے حوالے کی اور خود تارک دنیا ہو گیا ۔ ۔ ۔ بندوسرا نے موریہ سلطنت کو نا صرف وسیع کیا بلکے افغانستان سے لے کر آسام تک اپنا سکہ رائیج کر دیا ۔ ۔ ۔ بندوسرا وہ ہی بادشاہ ہے جسکے بارے میں ویدوں میں ذکر ہے ، کہ اسکی ماں نے اسکی پیدائیش سے پہلے زہر کھا لیا تھا اور پھر اس کو بکری کے پیٹ میں پالا گیا اور جب اسے جنم ملا تواسکا جسم دانوں سے بھرا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ اسی وجہ سے اسے نقطے والا بھی کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
بندوسرا کے بعد اسکا بیٹا اشوک تخت نشین ہوا ، وہ ایک بہادر سپاہی تھا ، اور اس نے اپنے باپ کی بادشاہی کے زمانے میں کافی فتوحات کی تھیں اسنے اپنی زندگی کی بڑی جنگ کالنگا میں لڑی جس میں لاکھوں انسانی جانیں ضائع ہوئیں ، انہیں ہلاکتوں کو دیکھ کر اشوک کا ذہن امن کی طرف گیا اور اسنے بدھ مت کی امن والی زندگی کو اپنا لیا اور بدھ مت قبول کر لیا ۔ ۔ ۔ اسی کے دور میں جانوروں کو مارنا گناہ قرار دیا گیا اور گوشت کھانا ترک کر دیا گیا اور سبزی خوری کو رواج دیا گیا ۔ ۔ ۔
اشوک اعظم ایک بہت ہی نیک دل بادشاہ تھا ، ٹیکسلا کے کھنڈرات اسکی عظمت کے گواہ ہیں ، اور اسی اشوک کی لاٹ آج ہندوستان کا قومی نشان ہے ، اور ہندوستانی پرچم کے درمیان اشوک چکر (دھرم چکر) بھی اسی کی عظمت کا اعتراف ہے ۔ ۔ ۔ اشوک کے زمانے میں بدھ مت کو ساری دنیا میں پھیلایا گیا ، اسنے ٣٢٣ ق م میں اس دنیا سے منہ موڑ لیا ۔ ۔ ۔اس وقت تک موریہ سلطنت ۔ ۔ ایک مضبوط سلطنت رہی اور اگلے دو سو سال تک ایک سکھ و چین کا دور رہا ۔ ۔ ۔
اور اسکے بعد ہندوستان ایک بار پھر سازشوں کی لپیٹ میں آیا اور سَنگ خاندان نے موریہ خاندان کا عروج ختم کیا ۔ ۔ ۔ مگر خود بھی وہ زیادہ عرصے تک نہ ٹِک سکے اور کُشان نے ہندوستان کی باگ دوڑ سنبھال لی ۔ ۔ ۔۔ ۔
کشان کے بعد گپتا نے جو چندرگپت موریہ دوئم کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں ہندوستان کو علم و فضل کی بلندیوں پر پہنچا دیا ۔ ۔ ۔
جب عرب میں اسلام کی کرنیں پھوٹ رہیں تھیں ، گپتا خاندان کا زوال شروع ہو چکا تھا ۔ ۔ ۔ اور پھر ٧١١ عیسوی میں محمد بن قاسم نے سندھ کو فتح کیا اور یوں بقول قائد اعظم محمد علی جناح کے ۔ ۔ پاکستان کی تحریک کا آغاز ہوا ۔ ۔ ۔
(جاری ہے ) 2008/8/2 تیسری قسط - ہندوستان کا قیامسب سے پہلے معذرت ، میں روانی میں محمود غزنوی کو بھی سمندر کے راستے لے آیا ، مگر یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے ہندوستان پر قدم سمندر کے راستے قدم رکھا ۔ ۔ ۔ --------------------------- آریوں نے ایک ہزار قبل مسیح میں خود کو سندھ سے پار پھیلانا شروع کیا اور وہ گنگا کی وادی میں پہنچے اور پھر جمنا اور سرسوتی دریاؤں کے ملاپ سے ہندو تہذیب نے جنم لیا ، اسکا عروج ہمیں مہا بھارت میں نظر آتا ہے ، مہابھارت ایک طویل لڑائی کی داستان ہے ، یہ لڑائی پانڈوں کے درمیان رسہ کشی سے شروع ہوئی اور پانڈؤں کے بھائی دھرشترا (جو اندھا پیدا ہوا تھا ) اس کے بیٹے کوریوں کے درمیان چلی ۔ ۔ ۔ دھرشترا کی بیوی تھی گاندھاروی (ٹیکسلا کی گندھارا تہذیب نے اسی عورت کی کوکھ سے جنم لیا ) جس نے ایک سو کوریوں کو جنم دیا (مہابھارت میں اس کا طویل بیان ہے ) جبکے پانڈوں کے صرف پانچ بیٹے تھے ، جن میں کُنتی سے تین اور مادھری سے دو تھے ، یودھشتیرا سب سے بڑا پانڈو تھا ، جسے دھرمپترا بھی کہا جاتا ہے ، بھیما ایک بہت طاقت ور انسان تھا جب کے ارجن ایک بہت خوبصورت جوان اور ہوشیار انسان تھا ۔ دھرم پترا عوام میں مشہور تھا جسکی وجہ سے کوریوں کا سب سے بڑا بیٹآ دھوریادھنا ، پانڈؤں سے حسد کرنے لگا تھا اور یہ حسد لڑائی کی بنیاد بنا ۔ ۔ ۔ ۔
مہا بھارت کے کچھ کردار بہت دلچسپ ہیں اور انوکھے بھی ، اصل میں یہ کہانی برسوں تک لکھی جاتی رہی ہے اسلئے اسکے منصفین بلکل الگ راستہ اپنا لیتے ہیں جس سے پڑھنے والا بہت دیر تک الجھتا ہے ، خیر ۔ ۔ ۔ مہابھارت کو یہاں ہی چھوڑتا ہوں ۔ ۔ آگے بڑھتے ہیں ، کروکشتر کی لڑائی میں پانڈؤں کو شکست ہوئی اور ہندو تہذیب کا عروج شروع ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں سے ہی ہمیں لفظ ہندو ملتا ہے ، جو دراصل “اِندو“ ہے یعنی دریائے سندھو ۔ ۔ ۔ ۔ اور استھان کا مطلب ہے رہنے کی جگہ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یوں بنا “اندو استھان“ یعنی سندھو کے کنارے رہنے والوں کی جگہ ۔ ۔۔ ۔ ۔ اور اب اسے “ہندوستان“ کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٥٤٤ ق م میں مہاتما بدھ نے اس تہذیب کو بدل کہ رکھ دیا اور ایک سچائی کی تلاش میں نکلنے والے سدھارتھ نے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی جسے آج ہم بدھ مت کے نام سے جانتے ہیں
بدھ کی کہانی کسی حد تک رام سے ملتی ہے وہ بھی ایک شہزادے تھے اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر سچائی کی تلاش میں نکلے ، چھے برس کی مسلسل تلاش نے انہیں نروان دیا اور ایک درخت کے تلے (بدھی درخت جسے اب “بدھ گیاں“ کہتے ہیں ) اپنی زندگی کے پنتالیس (٤٥) سال گزارے اور اسی درخت کے تلے دنیا سے گذر گئے ۔ ۔ ۔۔ بدھا بے شک نیپال کی ایک ریاست کے شہزادے تھے اور بدھ مت نے موجودہ نیپال سے جنم لیا مگر بدھ تحریک کو عروج ٹیکسلا میں ہوا ( مہابھارت میں اس کا نام تیکشیلا آیا ہے ) اور وہ تہذیب آج ہم گندھارا کے نام سے جانتے ہیں ۔ ۔ ۔
اور پھر ٣٢٥ ق م میں سکندر اعظم اپنی فتوحات کو بڑھاتا ہوا موجودہ جہلم اور ملتان تک لے آیا اور یہ ہی وجہ ہے کہ گھندھارا کی تہذیب ہمیں قدیم سامی ، رومی اور یونانی تہذیبوں سے میل کھاتی نظر آتی ہے ۔ ۔ ۔
سکندر یونانی فاتح تھا ، جنوب مشرقی یورپ سے ہوتا ہوا ایران کو فتح کرتا ہوا کوہ ہندو کُش کے راستے سے ہندوستان میں داخل ہوا جہاں اسکی بڑی جنگ پنجاب کے راجہ پورس سے ہوئی ۔ ۔ تاریخ دان کہتے ہیں کہ پورس اور سکندر کے درمیان معاہدہ ہو گیا تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سکندر کی افواج مسلسل لڑائی سے تھک چکی تھیں اور پھر جہلم کے بعد سکندر نے اپنے ملک کی راہ لی ۔ ۔ ۔۔
یہاں ایک دور کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان ہزار سالوں میں ہندوستان کتنی بنیادی تبدیلیوں سے گذرا ۔ ۔ ہندو مت کا عروج اور پھر اسی سے بدھ مت کا ظہور اور عروج اور مہابھارت کی جنگ اسکندر اعظم کی آمد نے اس خطے کو ایک نیا رنگ دیا جسکا اثر نہ صرف زبان و ثقافت پر پڑا بلکے ایک باقاعدہ حکومت قائم ہونے کی وجہ سے ۔ ۔ ۔ خوشخالی کا ایک نیا دور آیا ۔ ۔ ۔ جسے آج بھی دنیا اشوکِ اعظم کا دور کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
(جاری ہے ) 2008/8/1 آزادی کی کہانی - دوسرا حصہ - دریائے سندھ کی تہذیبدوسرا حصہ (دریائے سندھ کی تہذیب) -------------------------- برصغیر میں قدیم ترین انسانی آثار پوٹھوہار کی وادی میں دریائے سواں کے کنارے ملے ہیں ، جن سے پتہ چلتا ھے کہ پتھر کے اوزار استعمال کرنے والے انسان بھی اسی دھرتی پر موجود تھے ، دریائے سواں آج بھی راولپنڈی شہر میں بہتا ہے مگر اب وہ صرف ایک نالہ بن کہ رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔ جس مصدقہ تاریخ کا ہمیں سُراغ ملتا ہے وہ تقریباً سات ہزار (٧٠٠٠) قبل مسیح کی ہے ، پرانی ویدوں کے مطابق ودیا یہاں کے باشندے تھے اور آریوں نے آ کر ان پر حکومت کی ، کچھ محققین کے مطابق ودیا اور آریا کوئی قومیں نہیں بلکہ زبانیں تھیں ، مگر کچھ بھی ہو یہ حقیقت ہے کہ دریائے سند کے کنارے ایک عظیم تہزیب نے جنم لیا جسکے آثار ہمیں پانچ ہزار سال پرانے موئن جو داڑو میں نظر آتے ہیں ۔ موئن جو داڑو کی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ یہاں سے سو سے کم لوگوں کے ڈھانچے ملے میں (جو میرے خیال میں اس شہر کے باسیوں کے نہیں ہیں ) اور شہر بالکل ایسا ملا ہے کہ جیسے کوئی بسے بسائے شہر کو چھوڑ کر چلا گیا ہو ، نہ کوئی قبرستان نہ کوئی شمشان گھاٹ ۔۔۔۔۔ اگر وہ لوگ مردوں کو جلاتے تو جلانے کی جگہ ملتی اور اگر دفناتے تو قبرستان ملتا مگر ایسا کچھ نہیں ملا میرا اپنا خیال ہے کہ وہ مردوں کو کھا جاتے ہوں گے ۔ ۔ ۔ ویسے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دریا میں بہا دیتے ہوں!!!!!!
ہم اگر ذرا آگے بڑھتے ہیں تو ہمیں ہڑپہ نظر آتا ہے پنجاب میں تقریباً چار ہزار سال پرانی اس تہذیب سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ کتنے علوم و فنون سے واقف تھے ، گو اس وقت تک ہڑپہ اور موئن جو داڑو کی تحریریں نہیں پڑھیں جا سکیں مگر کچھ محققین کے خیال میں یہ دیوناگری رسم الخط کی بنیاد ہیں ، کچھ کے مطابق یہ قدیم مصری یا یونانی زبانوں سے اخذ ہیں ۔ ۔۔ مگر خیر ہمارا موضوع اس وقت لسانیات نہیں ہے کہ ان تفصیلات میں جا سکیں ۔ ۔ ۔ اس پر پھر کبھی سہی ۔ ۔۔
دریائے سندھ کی تہذیب کو ہم تین ہزار قبل مسیح سے لیکر پندرہ سو قبل مسیح تک گردانتے ہیں ، ان پندرہ سو سالوں میں دریائے سندھ کی تہذیب نے عروج پایا اور جس کی بنیاد پر آرینز نے پندرہ سو قبل مسیح میں قبضہ کیا اور اس تہذیب کو گنگا جمنا اور سرسوتی کی وادیوں میں پھیلا دیا ۔ ۔ ۔
یہ بڑی عجیب بات ہے کہ وہ خطہ جسے آج ہم پاکستان کے نام سے جانتے ہیں ، کبھی بھی کیسی ایک حکمران کے پاس نہیں رہا (سوائے اشوک اعظم کے) اور ہمیشہ افغانستان و ایران سے ملنے والوں درے اس خطے کا نشانہ رہے ۔ ۔ ۔ جنکا پتہ ہمیں آریوں ، یونانیوں اور ایرانیوں کے قدیم حملوں سے ملتا ہے ۔ ۔
وہ درہ خیبر ہو یا بولان یا پھر قراقرم کی شاہراہ ، ان راستوں نے ہمیشہ برصغیر کو ساری دنیا سے ملائے رکھا ، اور حملہ آوروں کو بھی سہولت رہی ہے ، درے انہیں کیموفلاج کرتے رہے ، صرف مسلمان اس خطے پر سمندر کے راستے آئے ( محمود غزنوی اور محمد بن قاسم ) نے دیبل (موجودہ کراچی ) کے راستے اس خطے پر قدم رکھا ۔ ۔ ۔
تو یہ تھی کچھ کہانی ، دریائے سندھ کی تہذیب کی ، جو تین ہزار سے پندرہ سو قبل مسیح تک ہے ، اگلی قسط میں انشااللہ اسکے بعد کے ادوار کا ذکر ہو گا ۔ ۔ ۔
چلتے چلتے ایک حدیث یاد آ گئی ، جو اس سندھ کے توسط سے ہے ، جب نبی کریم (ص) یمن میں تجارت کی غرض سے تشریف لے گئے ، تو انہوں نے اپنے غلام میسرہ سے سندھ کے تاجروں کی طرف اشارہ کر کہ کہا تھا ، کہ یہ سندھ کے تاجر ہیں ، سبحان اللہ ، یعنی موجودہ سندھ کا لفظ ہمارے نبی کریم (ص) کی زبان مبارک سے ادا ہوا ہوا ہے جو بعد میں اسی خطے کا باب السلام کہلایا ۔ ۔ ۔ ۔
(جاری ہے ) 2008/7/31 آزادی کی کہانی ( حصہء اول)دوستو اگست کا مہینہ شروع ہو گیا ہے ، ھم برصغیر والوں کے لئیے یہ مہینہ بہت اہم ہے ، اسی مناسب سے یہ سلسلہ شروع کر رہا ہوں، امید ہے پسند آئے گا ، یہ چودہ قسطوں پر مشتمل ہمارے دیس کی کہانی ہے ، جو کچھ سال پہلے اردوستان ڈاٹ کام پر پیش کی جا چکی ہے ، اس وقت یونی کوڈ موجود نہ تھا اسلئے اب اسے یونی کوڈ میں پیش کر رہا ہوں
یہ ایک غیر جانب دارانہ مطالعہ ہے ہماری تاریخ کا ، مگر ہو سکتا ہے اس میں میری پاکستانیت اور اسلامیت چھلک ہی جائے ، اور مجھ سے اگر کوئی غلط بیانی ہو جائے یا کوئی میری کسی بات کی تصیح کرے تو میں اسے خوش آمدید کہوں گا ، میرا بنیادی مقصد اپنے پاس موجود معلومات کو آپ تک پہنچانا ہے ۔ ۔
-------------------------------------------------------------------------- ابتدائیہ ------- غلامی شاید برصغیر کی قسمت ہے ، ہزاروں سال پہلے آریہ لوگوں نے ہمالیہ کے دروں سے آ کر یہاں کے رہنے والوں کو غلام بنایا ، پھر یہاں ایک عظیم تہذیب نے جنم لیا جسے تاریخ دان دریائے سند کی تہذیب بھی کہتے ہیں ، پھر یہ تہذیب پھیلی اور گنگا ، جمنا اور سرسوتی دریاؤں نے اسے پروان چڑھایا ، اور دریائے بیاس کے کنارے ایک بڑے مذہب نے جنم لیا جسے ہم بدھ مت کے نام سے جانتے ہیں (یہاں میں واضح کر دوں کہ ہندو مت مذہب نہیں ہے تھا بلکہ ایک نظام تھا ۔ ۔ ۔ جسے فاتح لوگوں نے وضح کیا تھا ) ۔ ۔ اشوک اعظم کے زمانے میں یہاں کی تہذیب نے ترقی کی اور یونان اور روم کی تہذیب کی امیزیش سے ایک عظیم تہذیب نے عروج پایا جسکے آثار ٹیکسلا اور کلکتہ و بنارس کے قدیم کھنڈروں میں دیکھے جا سکتے ہیں بدھ مت کا عروج اشوک کے دور سے شروع ہوا اور مشرق بعید تک پھیلا ، مگر اشوک کے بعد ہندوستان ریاستوں میں تقسیم ہوتا چلا گیا اور مسلمانوں کی آمد تک برصغیر بہت ساری ریاستوں میں تقسیم ہو چکا تھا ۔ ۔ ۔ اور پھر مسلمانوں کے بعد انگریزوں ، پرتگیزیوں فرانسسیوں وغیرہ نے بھی ہندوستان کو متحد نہ کیا ۔ ۔ ۔ اور پھر یہ ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تکون میں ڈھل گیا ۔ ۔ ۔ ۔
----------------------------------- (جاری ہے ) |
|
|