| Azhar Ul Haq 的个人资料اظہرالحق کی دنیا - Azhar...日志列表 | 帮助 |
|
|
2009/10/23 ایگری کلچر کنٹری Agreeculture countryچلیں جی ، جماعت اسلامی نے عوام سے پوچھ لیا ، کہ کیری لوگر بل چاہیے کہ نہیں ، ظاہر ہے چونکہ جماعت اسلامی کا جواب نہیں تھا اسلئے عوام نے بھی نہیں بولا، یعنی عوام کی زبان جماعت کی زبان ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟
اچھا ادھر بھی دیکھیں ، ہمارے وزیر مداخلہ کا بھی کہنا ہے کہ عوام اب ساتھ دے رہی ہے حکومت کا ، یعنی حکومت جو کچھ کر رہی ہے ، عوام بھی وہ ہی چاہ رہی ہے ۔ ۔ ۔ یعنی جو حکومت کی بات وہ ہی عوام کی بات ۔ ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟؟
اوہ ہو، آپ چینل بدل بدل کر کیوں دیکھ رہے ہیں ایک ہی چینل پر سب کچھ آتا ہے ، سوائے میز اور میزبانوں کے کچھ بھی فرق نہیں ، اور سب میڈیا بھی یہ ہی تو کہتا ہے نا ۔ ۔ کہ عوام کی آواز ۔ ۔ ۔ میڈیا کی آواز ۔ ۔ ایک ہی ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟؟
آہا ، یہ ہمارے تاجر بھائی ہیں ، ساری کی ساری معیشت انکی دُم ۔ ۔ اوہ سوری ۔ ۔ انکے دَم سے چل رہی ہے ، بے چارے کبھی عدالت کی کھاتے ہیں کبھی دھشت گردوں کی ۔ ۔ ۔ اور پھر بھی عوام انکی عظمتوں کی قائل ہے ، وہ چینی چالیس کی بیچیں یا ایک سو چالیس کی ۔ ۔ ۔ عوام کو کوئی اعتراض نہیں ۔ ۔ ۔ سو عوام انکے ساتھ اور وہ عوام کے ساتھ ۔ ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟؟
اور ہاں جی زرا ابھی غازیوں کی طرف بھی نگاہ کریں ۔ ۔ ۔ ۔ آئی ۔ایس پی آر (اس میں آئی اور آر اردو کا ہے باقی فرنگی زبان کا ، آر کے بعد پار لگانا مت بھولیے گا ) ۔ ۔ ۔ شہادتیں ہو رہیں ہیں ، دونوں طرف سے یعنی مارنے والا بھی جنتی اور مرنے والا بھی ۔ ۔ ۔ اصل میں پہلے شہادت کی سند فوج جاری کرتی تھی اعزاز وغیرہ دے کر ، اب تو دوسری پارٹی بھی سند جاری کر رہی ہے ، بلکہ شہادت سے پہلے ایڈوانس میں ۔ ۔ ۔ ۔ اور دونوں کا دعویٰ ہے کہ عوام انکے ساتھ ہیں ۔ ۔ ۔ یعنی فوج عوام اور طالبان سب ٹھیک ۔۔۔۔۔ ہیں جی ؟؟؟؟؟
ارے میں تو اپنے جج صاحبان کو بھول گیا جنہیں کُرد بھائی فرعون بھی کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مگر سمجھ نہیں آتا کہ کہا جاتا ہے کہ ہر فرعون را موسٰی یعنی ہر فرعون کے لئے ایک موسٰی ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مگر اتنے سارے فرعونوں کے لئے ۔ ۔ ۔ ایک بھی موسٰی نہیں ۔ ۔ ۔ ویسے بھی عوام فرعونوں سے راضی ہے ۔ ۔ تو انصاف اور عوام راضی تو کیا کرے گا قاضی ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟؟؟
بہت سوچا کہ آخر ایسا کیسے ممکن ہے کہ سب کے سب ٹھیک ہوں اور عوام سب کے ساتھ ہو!!!!!!! اور پھر جواب مل گیا ۔ ۔ ۔ ۔ جی ہاں جواب مل گیا ۔ ۔ ۔ اصل میں ہمارا ملک ایگری کلچر کنٹری Agreeculture country ہے ۔ ۔ ۔ یعنی ہمارا کلچر ہے ایگری ہونا ۔ ۔ ۔سو ہم ہر چیز سے ایگری ہیں ۔ ۔ ۔ بلکہ ہم ایگری سے بھی ایگری ہیں اور ناٹ ایگری سے بھی ایگری یعنی ایگری ہیں ۔ ۔ اور ظاہر ہے یہ ہمارا کلچر ہے اور سب کچھ بدل سکتا ہے ہمارا کلچر نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ بھی ایگری کلچر !!!! مجھے یقین ہے آپ میرے سے ایگری ہوں گے ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟؟؟ 2009/9/3 ایک کیو ایم - مزید باتیں اور جواباتانکل اجمل نے میری ایم کیو ایم کی تحریر کو اپنے بلاگ پر جگہ دی ، جسکے لئے میں انکا شکر گذار ہوں ، آج میں اسی پوسٹ سے جڑے ہوئے کچھ سوالوں کے جواب دے رہا ہوں ، مگر پہلے کچھ میرے اپنے بارے میں تاکہ آپ لوگ سمجھ سکیں کہ یہ مضمون لکھنے والا کون ہے ۔ ۔ ۔
- پہلی بات میری پیدائش کراچی میں نہیں ، پنڈی میں ہوئی تھی ، لیکن میرا بچپن ، جوانی کراچی میں ہی گذری ، پہلی کلاس سے گریجویشن تک تعلیم میں کراچی میں ہی حاصل کی ١٩٧٦ سے لیکر ١٩٩٩ تک میری فیملی بھی کراچی میں ہی تھی ، مگر اب پنڈی شفٹ ہو چکے ہیں
- میرا تعلق ایک کشمیری گھرانے سے ہے ، ہمارے آباء کشمیر سے آ کر پنڈی میں آباد ہوئے ، اور میں مہاجر نہیں ہوں ، ہاں کراچی میں ہماری حیثیت مہاجروں کی سی تھی ، کیونکہ ہم نے زندگی وہاں گذاری اور اپنے وطن (یعنی پنڈی) میں بعد میں آئے ، مگر میں آج بھی کراچی کو اپنا شہر سمجھتا ہوں ، وجہ یہ ہے کہ میں تو پچھلے دس سال سے بیس دن سے زیادہ پنڈی نہیں رہا
- اور مہاجر (یعنی اردو اسپیکنگ) کے لوگوں سے میرا تعلق اتنا گہرا ہے کہ میری دو بھابھیاں خالص اردو اسپیکنگ فیملی سے ہیں ، اور انکی فیملیاں ایم کیو ایم کی کتنی قریب ہیں ، وہ یہ ہے کہ ان فیملیز میں دو “یونٹ انچارج“ ہیں ۔ ۔ ۔
- میرے دوستوں میں زیادہ تر اردو اسپیکنگ ہیں ، اور انکا تعلق کراچی سے ہے ، اور وہ ایم کیو ایم کے بہت نزدیک ہیں ، مگر وہ ان لوگوں میں سے ہیں ایم کیو ایم کے جو تنقید برداشت بھی کرتے ہیں اور غلطیوں کو مانتے بھی ہیں ، اور بہت اچھے انسان ہیں ، اور اسی لئے وہ میرے دوست ہیں آج تک ۔ ۔ ۔ ۔
- میں نے دس سال کراچی کے مختلف اسٹیٹیوٹ میں کمپیوٹر پڑھایا ہے ، پیٹرومین ، آئی سی ٹی اور ایڈوانس کمپیوٹر اکیڈیمی ، کیمبرج کمیپوٹر اور فاسٹ جیسے انسٹیٹیوٹ میں رہا ہوں ۔ ۔ اور مجھے فخر ہے کہ ملیر میں میں پہلا انسٹریکٹر تھا جسنے ملیر جیسے ایریا میں سندھ ٹیکنیکل بورڈ سےمنظور کروایا اور ان کے اسٹوڈنٹس کو وہ جگہ دلائی جو اس زمانے میں صرف بڑے انسٹیوٹ کے لئے سمجھا جاتا تھا اور ۔ ۔ یاد رہے میرے سارے اسٹوڈنٹ اردو اسپیکنگ تھے
- اور میں ہی وہ بندہ ہو جسنے کراچی کی پبلک لائبریری کو کمپوٹریز کیا تھا ، آپ کراچی کے ہمدردوں کو کتنی لائبریریز کا معلوم ہے ؟ تیموریہ ، یا لیاقت لائبریری مگر فرئیر ہال لائبریری ، غالب لائبریری اور کورنگی اور اورنگی کی لائبریریز کو کون جانتا ہے ؟
- یاد رہے یہ میں اس وقت کر رہا تھا جب کراچی میں ایم کیو ایم ایک طاقت بن چکی تھی ، آپ نے ایم کیو ایم کی تنقید کا حصہ پڑھا مگر کسی نے ایڈمینسٹیریٹر فارق ستار کا پیراگراف پڑھا ہے ؟ ، کسی نے ایم کیوایم کے ان بچت بازاروں کا حصہ پڑھا ؟
- دوستو میں ایم کیو ایم کا مخالف نہیں ، میرے کالج میں یہ جماعت موجود تھی ، میرے محلے میں موجود تھی میرے گھر میں موجود تھی ۔۔ ۔ ۔ سو کیا میں ایم کیو ایم کو نہیں جانتا؟؟
- ایک بات پتہ نہیں میں کیوں نہیں کہنا چاہتا تھا مگر اب کہنی پڑ رہی ہے ، میں اسی ٨٠ کے آخر سے ٩٠ کے درمیان تک ، میں میڈیا میں کافی ایکٹیو رہا ، یاد رہے یہ پاکستان میں پی ٹی وی کی اجارہ داری کے خاتمے کا آغاز تھا اور این ٹی ایم اور ایس ٹی این جیسا میڈیا شروع ہو چکا تھا ، میں ان دنوں ٹی وی ، ریڈیو اور فلم (ایسٹرن فلم اسٹیوڈیو میں شوٹنگ ہوتیں تھیں ) اور اسٹیج میں برابر حصہ لیتا تھا ، بے شک میرا زیادہ کام آف دا اسکرین ہے مگر شاید اب بھی کچھ لوگوں کو “اے ہاشمی“ یاد ہو ۔ ۔
- یہ میری خود نمائی (اللہ مجھے معاف کرے ) صرف اسلئے بیان کر رہا ہوں کہ آپ دوستوں کو پتہ چلے کہ میں یہ باتیں کس بنیاد پر کرتا ہوں ، میرے ایک کالج فیلو کو قائد کے غدار کے طور پر قتل کر دیا گیا تھا ، اسکی ماں نے اسے اسکی انگلیوں سے پہچانا ۔ ۔ ۔
- آپ کو شاید یاد نہ ہو میں یاد دلاتا ہوں کہ لاشوں کو عورتوں نے کندھا دیا ، بے شک مگر آپ کو معلوم ہے کیوں ؟ اسلئے نہیں کہ مرد نہیں تھے ، بلکہ انہیں مجبور کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ورنہ اس وقت کے اخبار میں ایم کیو ایم کے ایک ہمدرد ندیم کمانڈو کی نماز جنازہ تین پولیس والوں نے ادا کی تھی ۔ ۔ ۔ جسکی تصویر اس وقت کے اخبارات میں موجود ہے ۔ ۔ ۔ ۔
- چلیں یہ سب اسٹیبلشمنٹ کی کارستانیاں تھیں ، فوج کو ایم کیو ایم سے خار تھی ۔ ۔ ۔ مگر کوئی صرف اتنا بتا دے کہ کھجی گراؤنڈ میں کن لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا ، اور وہاں پولیس کے داخلے پر گھر گھر سے کیوں پتھراؤ ہوتا تھا ؟
- اگر آفاق اور عامر ایجنسیوں کے بندے ہیں تو آج بھی حقیقی کے علاقوں میں الطاف حسین کو کیوں برا سمجھا جاتا ہے ؟
- جو لوگ شاہ فیصل کالونی کے رہنے والے ہیں انہیں معلوم ہے ، کہ اسی چوراہے پر جہاں الطاف حسین کی تصویر پر روز تازہ پھول چڑھائے جاتے تھے وہیں اسی تصویر پر جوتوں کے ہار بھی پڑے !!!!!!!!
- آپ کیوں بھول جاتے ہیں اس زمانے میں جن جوانوں کے قتل پر الطاف بھائی خون کے آنسو روتے تھے ، انکے نام کیا تھے ؟ کیا وہ نام شریف لوگوں کے ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔؟؟؟
- کیا الطاف بھائی نے مہاجر قوم کو اپنا سونا بیچ کر ہتھیار خریدنے کو کیوں کہا ؟ اور شاید میری بھلکڑ قوم طالبان کے آمد کے غوغے پر الطاف بھائی کے ہتھیار خریدنے کے بیان کو بھول چکے ہیں ۔ ۔ ۔ تو پھر بیس سال پہلے کا بیان کہاں یاد آئے گا
اب میں ایک اور طرف آتا ہوں ، جہاں مہاجر قومی مومنٹ ، متحدہ قومی مومنٹ بنی ۔ ۔ ۔ ۔ اور حقیقی کہاں سے آ گئی ، حق پرست کون تھے ؟ اور پھر کہاں گئے ؟ جی ہاں یہ چولے بدلے جاتے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ایم کیو ایم کے یہ نام تو یاد ہیں مگر آپکو پی پی آئی یاد ہے ؟ جی ہاں پنجابی پختون اتحاد ، کیا کوئی بتائے گا یہ پی پی آئی کیوں بنی تھی ، یہاں ایک تبصرے میں ایک قوم کی بات کی گئی تھی ، میں نے اس “حملے“ کی وڈیو دیکھی تھی ، جسکا آغاز ایک سین سے ہوتا ہے جس میں اس مخصوص قوم کے گھر کو جلایا جا رہا تھا کہ کچھ بچے بھاگ کر نکلے اور انہیں پکڑ کر دوبارہ اسی آگ میں اچھال دیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر ایک آبادی کو دیکھایا گیا جس کو “علاقہ غیر“ سے آنے والے لوگوں نے گھیرا اور پھر ۔ ۔ ۔ ایک ایک گھر کو جلایا گیا اور وہ ہی کیا گیا جو انکے ساتھ ہوا تھا ۔ ۔ ۔ میں ان کو الفاظ میں کیسے بیان کروں ۔ ۔ ۔ بس انسان کو درندہ بنتے دیکھا ہے میں نے ۔ ۔ ۔ ۔
خیر جب مہاجر قومی موومنٹ کو اپنی طاقت بنانے کے لئے جن لوگوں کا سہارا لیا تھا وہ کسی نہ کسی طرح جرائم میں ملوث تھے ، جب ایم کیو ایم نے دھونس دھاندلی سے جگہ بنا لی ، مگر ظاہر ہے آپ چاہے کتنے ہی طاقت ور ہوں ، اقتدار کے ایوانوں میں غنڈہ گردی نہیں چل سکتی ، وہاں غنڈہ گردی بڑی سطح پر کی جاتی ہے ، اس لئے مہاجر قومی موومنٹ نے “شدت پسند“ عناصر کو خود سے الگ کرنا چاہا ، تو ظاہر ہے وہ لوگ تو اس جماعت کو اوپر لے کر آئے تھے انکا اثر اتنی جلدی نہیں جا سکتا تھا ۔ ۔ ۔ اس لئے ایک اچھے آدمی جسے دنیا عظیم طارق کے نام سے جانتی تھی ، اسنے ایم کیو ایم کو ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی شروع کی ۔ ۔ ۔ تو انہیں وہ ہی صلہ ملے جو “غداروں“ کو ملتا ہے ۔ ۔ ۔
اب ایم کیو ایم حق پرست جماعت بنی ۔ ۔ ۔ اور پھر صوبائی اسمبلی سے قومی اسمبلی تک پہنچی ، ایم کیو ایم نے دو اتنخابات میں سمجھ لیا تھا کہ اسمبلیوں میں “شدت پسند“ نہیں بلکہ “چُپ شاہ“ جیسے لوگ چاہیے جو “خادم“ رہیں ۔ ۔۔ اور پھر ملکی سطح پر قوم پرست جماعت کو وہ اہمیت نہیں مل سکتی تھی جو ایک سیاسی جماعت کو ملنی چاہیے ، اس کی مثالیں جئے سندھ تحریک اور سرائیکی تحریک اور بلوچی تحریک کے اسمبلی ممبران کی تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ اسلئے ملکی سطح پر چولا بدلا گیا ۔ ۔ ۔ اور ایم کیو ایم نے یہ بھی سمجھ لیا تھا کہ عوامی بھتے سے انکا امیج متاثر ہو رہا تھا ، اور پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے ساتھ قربت سے بھی انہیں بہت کچھ سیکھ لیا تھا کہ “کمانے“ کے اور بہت اچھے ذریعے ہیں ۔ ۔ ۔ جیسے ٹھیکوں میں کمیشن اور کمیشن پر ٹھیکے ۔ ۔ ۔
سو ایم کیو ایم اب ایک سیاسی جماعت بن چکی ہے ، بالکل پی پی اور ن لیگ کی طرح ، اس میں وہ ہی سوچ ہے جو کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو سکتی ہے ، اقتدار کا راستہ اسمبلیوں سے ہو کر جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اب یہ جماعت اسی پر کاربند ہے
اچھی بات یہ ہوئی ہے ، کہ یہ جماعت اب مڈل کلاس کی نمائیندہ بننے کی اہل ہے ، مگر اسکے لئے اسے اپنے ماضی سے تعلق توڑنا ہو گا اور قوم سے معافی مانگنا ہو گی ، اور اگر یہ لوگ اپنی غلطیوں کو نہیں مانیں گے تو پھر یہ ہمیشہ “متنازعہ“ رہیں گے ۔ ۔ ۔ اور کراچی کو منی پاکستان ہی رہنا ہو گا ۔ ۔ ۔
باقی رہی الطاف حسین کی بات تو ظاہر ہے ہر سیاسی پارٹی شخصیت پرستی پر چلتی ہے ، ن لیگ کو نواز شریف چاہیے ، پی پی کو زرداری ، تو شخصیت پرستی ہر جماعت میں ہے ، تو پھر اس جماعت پر اعتراض کی وجہ کوئی نہیں ہونی چاہیے ، مگر پاکستانی جماعت کا لیڈر پاکستان میں ہی ہونا چاہیے ، کم سے کم کبھی کبھی پاکستان کا دورہ ہی کر لیا کرے صدر زرداری کی طرح ۔ ۔ ۔ ۔
2009/8/28 ایم کیو ایم - کچھ یادیں کچھ باتیںآج ایک نئی بحث شروع ہوئی تو اپنے آپ کو روک نہیں سکا لکھنے سے ، میں سمجھتا ہوں کہ میرا فرض ہے کہ جو میں سمجھتا ہوں اسے اپنے ہم وطنوں تک پہنچاؤں ، میں نے اپنا بچپن اور جوانی کراچی میں گذاری ، اور جب باقی ملک “آزادی“ کے مزے لے رہا تھا ، ہم کراچی والے کرفیو کی “قید“ میں بند تھے ۔
میں کوشش کروں گا اپنے اس مضمون کو مختصر رکھنے کی ، یہ بات ہے ١٩٨٤ کے اواخر کی ، ملک میں مارشل لاء تھا مگر عوام کے لئے ایک “مرد مومن“ کی حکومت تھی ، ناظم صلات (نمازوں کو پڑھوانے والے ) کا دور تھا ، ہر طرف فوج کے جلوے تھے ، بین الاقومی سٹیج پر روس بکھر رہا تھا ، امریکہ افغانی “مجاہدین“ کے لئے مدد دے رہا تھا ، اور پاکستان “اخوت اسلامی“ کے ریکارڈ توڑتے ہوئے لاکھوں “بے سہارا“ افغانوں کی مدد سے کلاشنکوف اور ہیروئین کلچر میں خود کفیل ہو رہا تھا ۔
ایسے میں کراچی کے کالجوں میں ابھرتی ہوئی ایک تنظیم جو کراچی میں ہجرت کر کے آنے والوں کی اس نسل میں سے تھی جس نے اپنی آنکھ ہی اس آزاد ملک میں کھولی تھی ، جسے اس شہر میں ہی نہیں اس ملک میں ایک پڑھی لکھی اور سمجھدار قوم سمجھا جاتا تھا ، جس میں حکیم سعید جیسے سپوت تھے ، جس میں سلیم الزماں صدیقی جیسے سائینسدان تھے جس میں رئیس امروہی جیسا شاعر اور بجیا اور حسینہ معین جیسی لکھاری تھیں ۔ ۔ ۔ اسی قوم کے جوانوں کی ایک تنظیم تھی اے پی ایم ایس او یعنی آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹ آرگنازئیزشن ، اور یہ کوئی خاص بات نہ تھی کہ اسی شہر کے کالجوں میں اور یونیورسٹیز میں پی ایس اے (پنجابی اسٹوڈنٹ ایسوی ایشن) اور پختون اسٹوڈنٹ فیڈریشن ، کشمیر اسٹوڈنٹ فیڈریشن جیسی تنظیمیں موجود تھیں تو کسی کو ایک اور “قومی“ تنظیم پر اعتراض کی وجہ نہیں بنتی تھی ، اور پھر ان سب سے بڑھ کر کراچی کے کالجوں میں جمعیت اور پیپلز اسٹوڈنڈنس جیسی سیاسی طفیلیے بھی موجود تھیں اور لسانی تنظیمیں بھی تھیں جن میں سرائیکی اور سندھی تنظیمیں تھیں یہ سب بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ مہاجر اسٹوڈنڈنٹس کا ابھرنا کوئی خاص بات نہ تھی ، یہ بھی یاد رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب طلبہ تنظیموں پر پابندی تھی مگر در پردہ انکی آبیاری بھی کی جاتی تھی ، اے پی ایم ایس او سے بھی پہلے جمیعت کے جھگھڑے مشہور تھے اور کالجوں میں سب سے زیادہ اسلحہ بھی اسی تنظیم کے پاس تھا ، کیونکہ شہری حکومت بھی جماعت اسلامی کی تھی اس لئے اسکی ذیلی تنظیموں پاسبان اور جمیعت کی اجارہ داری تھی ، میں ان لوگوں کو کنفیوز لوگ سمجھتا تھا اور ہوں کیونکہ یہ لوگ نہ تو مذہبی بن سکتے ہیں اور نہ ہی سیکولر ، اس وجہ سے انکے نظریے میں ہمیشہ ایک خلا رہتا ہے ، جبکہ انکے مقابلے میں آنے والی تنظیم نظریاتی طور پر مستحکم تھی اور اسکی سمت معین تھی ، یہ ٨٠ (اسی) کے عشرے کا درمیانی وقت تھا ، ہمارے افغانی “اسلامی“ بھائی سارے ملک میں منشیات اور اسلحہ پھیلا چکے تھے ، اور ہمارے حکمران افغانستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے ، ایسے میں کراچی جو ایک چھوٹا پاکستان تھا جس میں پنجابی سندھی بلوچی اور پٹھان کشمیری اپنے اردو سپیکنگ ہم وطنوں کے ساتھ رہ رہھے تھے ، اس پر سازش رچی گئی اور سازش کے لئے ہراول دستہ بنا ایم کیو ایم ، جو ایک فلاحی تنظیم کے طور پر ابھری تھی اور اسکی بنیاد تھی اسکی طلبہ تنظیم ، جنہوں نے بچت بازار لگائے تھے اور پھر مختلف اداروں میں اپنا نظریہ پھیلا دیا ، کوئی بھی جماعت یا تنظیم اس وقت ہی مقبولیت حاصل کر لیتی ہے جب اسے مظلوم ثابت کر دیا جائے ، ایسا ہی ہوا ایم کیو ایم کے ساتھ ، اسے ہمارے حکمرانوں نے کندھا دیا اور کراچی “جئے مہاجر“ کے نعروں سے گونجنے لگا ، اور لوگوں کو ایک مسیحا نظر آیا “الطاف حسین“ ، جو عوام کے اندر سے اٹھا ، عام سا آدمی جو کسی بڑی گاڑی کے بجائے ایک ہنڈا ففٹی میں اپنی سیاست کرتا ، وہ عام لوگوں میں مل جل جاتا اور عوام اسے اپنے میں سے ہی سمجھتے ، پھر جسے اپنا سمجھتے اسکا حکم بھی مانتے ، اور پھر ہنڈا ففٹی ایک مقدس چیز بن گئی ، شاید بہت لوگوں کے علم میں ہو گا کہ کراچی کے ایک بڑے جلسے میں لوگوں نے اس ہنڈا ففٹی کو چوم چوم کر چمکا دیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔
پاکستان کی بدقسمتی کہییے یا پھر قانون قدرت کہ جو بار بار یہ سمجھاتا ہے کہ اقتدار کے طالب ایک دن ذلت کی موت مرتے ہیں ، ایسے ہی ہوا ١٩٨٧ میں ، جب مرد مومن “شہید اسلام“ بن گیا ، اسلام کے اس سپاہی نے جو کارنامے انجام دئیے انکا شاخسانہ آج تک ہم بھگت رہے ہیں ، منشیات اور کلاشنکوف سے لیکر لسانی سیاست تک سب اسی دور کے پھل ہیں ، مگر اس کے بعد جو اقتدار کی رسہ کشی شروع ہوئی تو اگلے دس سال تک ایک میوزیکل چئیر کھیلا جانے لگا ، ایسے میں ہی کراچی کے “قائد عوام“ نے ان سب چیزوں کا فائدہ اٹھایا اور کراچی میں نو گو ایریا بن گئیے ، قائد کے غداروں کو بوری میں بند کیا جانے لگا ، اخبارات میں انسانوں کی مڑی تڑی لاشوں کی تصویریں چھپنے لگیں ۔۔ ۔ اور پھر ہم بے حس ہو گئے ۔ ۔ ۔
ایم کیو ایم ایک پریشر گروپ بن گئی ، جو ہر آنے والی حکومت کو بلیک میل کرتی ، پتہ نہیں لوگ کیوں بھول گئے کہ جب الطاف بھائی کی تصویریں آسمان سے لیکر پتے پتے پر جم رہی تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ جب فوج کے سپاہی عزیز آباد میں داخل ہونے کی کوشش کرتے تو پتھروں اور گولیوں سے انکا استقبال ہوتا ، لوگ کھجی گراؤنڈ کو کیوں بھول گئے پتہ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ادھر شہر کے اندر یہ ہولی کھیلی جا رہی تھی ادھر شہر کے مضافات میں اسلحے اور منشیات کے ڈیلر اپنے اڈے مضبوط کر رہے تھے ، وہ سہراب گوٹھ سے لیکر ناتھا خان کے پُل کے نیچے تک اپنے گاہک پیدا کر لئے تھے ۔ ۔ ۔ ۔
ضیاء الحق کے بعد تو کراچی میں وحشت کا راج ہو گیا تھا (میں نے جان بوجھ کہ وحشت لکھا ہے دھشت میں انسان صرف خوف کا شکار ہوتا ہے مگر ان دنوں کراچی کے لوگ وحشی بن چکے تھے ) جن لوگوں نے گولیمار اور سہراب گوٹھ کے واقعیات کی وڈیوز دیکھی ہیں وہ جان سکتے ہیں کہ میں نے وحشی کیوں کہا ، مجھے وہ رات آج بھی یاد ہے جب شاہ فیصل کالونی میں فساد ہوا تھا ، گرین ٹاؤن گولڈن ٹاؤن اور الفلاح سوسائٹی میں لوگ بازار جلا رہے تھے اور پھر رات ایک بجے کے قریب ہمیں شاہ فیصل کالونی کی جانب سے گولیوں کی آوازیں سنائیں دیں اور ان آوازوں سے بلند عورتوں اور بچوں کی چیخیں تھیں ، جو ایک عرصہ تک میرے کانوں میں گونجتی رہیں ۔ ۔
وہ شخص وحشی ہی تھا نا جس نے شیر خوار بچوں کو چیر دیا تھا ، وہ آدمی کیسا تھا کہ جسکی لاش کے ساتھ یہ لکھا ملا کہ قائد کے غداروں کا یہ ہی انجام ہوتا ھے ۔ ۔ ۔ کیا ہماری لائبریریوں میں اس وقت کے اخبار موجود نہیں ؟ جن میں سب جھوٹ تھا مگر کیا ایک سچ بھی نہیں مل سکتا ۔ ۔ ۔ جذبات بہت ہیں مگر کیا کہوں کہ
انسان کو جلتے دیکھا ہے جلاتے بھی دیکھا ہے
بندوقوں سے بچوں کو بہلاتے بھی دیکھا ہے خیرکرفیو لگا ، انتخابات ہوئے ، یہ کیسے انتخابات تھے ، کہ کراچی میں رجسٹر ووٹوں سے بھی زیادہ ووٹ ڈلے ، یہ کیسے انتخابات تھے کہ جن میں جیتنے والے اور ہارنے والوں کے درمیان لاکھوں کا فرق تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر کراچی میں آگ لگتی چلی گئی ۔ ۔ ۔ ۔ اور ایم کیو ایم نے چولے بدلنے شروع کئے ، انہیں پتہ لگ گیا تھا کہ حکومت میں رہنے کا گُر کیا ہے ، کسی کی بھی حکومت آئے ، ایم کیو ایم اسکے ساتھ رہے گی ، ایم کیو ایم کو کیا چاہیے تھا ، حکومت اور شہید ، دونوں اسے ملتے رہے ، اور ابھی تک مل رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ایم کیو ایم نے ساحر لدھیانوی کے اس شعر کو سچ کر دیکھایا ہے کہ
برسوں سے رہا ہے یہ شیوہ سیاست
جب جواں ہو بچے ہو جائیں قتل یہ سلسلہ چل پڑا ہے اور چلتا ہی رہے گا ، اس جماعت کی بنیاد ایک لسانی تنظیم تھی اور آج تک ہے ، الطاف حسین ایک ایسی مچھلی ہے جس نے اپنی قوم کے تالاب کو اتنا گندہ کر دیا ہے جسے صاف کرنے میں شاید ایک صدی لگے ۔ ۔ ۔ الطاف حسین کو اپنی قوم سے کوئی ہمدردی نہیں ، وہ اس کمزور عورت (بے نظیر بھٹو) سے بھی کمزور ہے جو سب جاننے کے باوجود واپس آئی ، اور اپنی جان تک قربان کر دی ، مگر شاید الطاف حسین جو دوسروں کو چوڑیاں پہننے کا اکثر مشورہ دیتے ہیں ، خود چوڑیاں پہن کہ بھیٹھے ہیں ۔ ۔ ورنہ ۔ ۔ ۔ بقول شاعر ، قوم پڑی ہے مشکل میں اور مشکل کشا لندن میں ۔ ۔
بات کہاں کی کہاں نکل گئی ، میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں ، الگ ریاست کا خواب ایم کیو ایم کا اس وقت کا خواب ہے جب وہ مہاجر قومی موومنٹ تھی ، اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ١٩٨٤ سے پہلے کراچی کے تمام اداروں میں اردو سپیکنگ نہ صرف اچھی سروسز اور پوزیشنز پر موجود تھے بلکہ بہت اچھی شہرت بھی رکھتے تھے ، کراچی کے “بھیے“ سب قوموں کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے ، انکے آپس میں رشتے داریاں تھیں ۔ ۔ ۔ دوستیاں تھیں ۔ ۔ ۔ یہ ایم کیو ایم نے ہنستے کھیلتے کراچی کو کیا بنا دیا ۔ ۔؟؟؟
ٹھیک ہے انہیں استعمال کیا گیا مگر جب وہ لوگ اقتدار میں آئے تو انہیں خود کو بدلنا چاہیے تھا ، یہ شاید ١٩٩٠ کے بعد کی بات ہے جب میری ملاقات ہوئی تھی اڈیڈمینسٹریٹر کراچی فاروق ستار سے ، میں سوچتا تھا کہ یار یہ بندہ تو بہت اچھا ہے ، جو عام لوگوں میں گھل مل جاتا ہے ، ان دنوں جب ٹارگٹ کلنگ عام تھی فاروق ستار جب بھی کہیں جاتے تو وہ آگے چلتے اور اتنا تیز چلتے کہ دوسرے لوگ انکا ساتھ نہیں دے پاتے ۔ ۔ ۔ اور اگر وہ ایم کیو ایم کو بہتر وقت دے سکتے مگر شاید وہ اپنی جماعت کے پابند تھے ۔ ۔ اور اسی وجہ سے انکے بعد جماعت اسلامی نے کراچی کو “فتح“ کیا ۔ ۔ ۔ اور اپنے مئیر کو لا سکی ۔ ۔ ۔
اور جماعت اسلامی نے وہ ہی غلطیاں کیں جو اقتدار کے لالچی لوگ کرتے ہیں ، اور ان سے حکومت چھن گئی ۔ ۔ ۔ گو انکے منصوبے اچھے بنے تھے مگر انکا افتتاح کسی اور نے کیا ۔ ۔ ۔
مختصر یہ کہ ایم کیو ایم ایک پریشر گروپ سے ایک قومی جماعت بنی ، اس جماعت کا اور منشور اپنی جگہ مگر ایک شق لازمی ہے ، وہ ہے فوج کی کردار کُشی ۔ ۔ ۔ اور یہ پہلے دن سے یہ ہی چل رہا ہے ۔ ۔ ۔ اور ابھی تک چل رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور شاید چلتا رہے گا ۔۔ کیونکہ “قائد“ لندن میں رہیں گے اور قوم ٹیلی فونک خطاب سنتی رہے گی ۔ 2009/4/5 ایک دھشت گرد سے انٹرویو!دوستو ان دنوں دھشت گردی بہت ہے اس کو جاننے کے لئے ہم نے بڑی مشکل سے ایک دھشت گرد کو انٹرویو دینے پر راضی کیا ۔ ۔ ۔ اصل میں انہیں ایک جگہ خود کُش حملہ کرنے جانا ہے ، اور انہیں شہادت کی بہت جلدی ہے اسلئے زیادہ طویل انٹرویو نہیں دے سکیں گے ۔ ۔ ۔
- آپ کا نام ؟
-دھشت گرد!! - آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں !!
- دھشت نگری سے ، ویسے کچھ لوگ اسے پاکستان بھی کہتے ہیں !! - اچھا ، مگر پاکستان میں تو اچھے لوگ رھتے ہیں
- ہاں مگر اب ہم نہیں رہنے دیں گے ، اپنی جان قربان کر کہ انہیں اپنے جیسا بنا دیں گے !! - اگر آپ برا نہ مانیں تو آپ اپنی قومیت یا مذہب بتا دیں
- دھشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا قومیت بھی نہیں ہوتی صرف دھشت مذہب اور دھشت گردی قومیت ہو سکتی ہے - اچھا آپ یہ دھشت کیوں پھیلاتے ہیں ؟
- اچھا لگتا ھے نا - ہیں !!! اچھا لگتا ہے لوگوں کو مارنا
- دیکھو جیسے آپ کو کھانا کھانا پڑتا ہے زندہ رہنے کے لئے ایسے ہی ہمیں دھشت گردی کرنی پڑتی ہے ، جس دن کوئی دھشت نہ پھیلے کھانا ہضم ہی نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ - مگر آپ کیوں ایسا چاہتے ہیں ؟ خود سکون سے رہیں اور باقی سب کو رہنے دیں
- کیوں کہ ہمیں سکون نہیں چاہیے ، آپ کو بھی سکون نہیں چاہیے ، دیکھو نا اگر دنیا میں لوگ ایک دوسرے کو حق دینا شروع کر دیں تو پھر یہ مسلہ ہی نہ ہوتا ۔ ۔ ۔ مگر لوگ کسی کو بھی سکون میں دیکھنا نہیں چاہتے - آخر آپ کو دوسروں کو مار کہ ملتا کیا ہے ؟
- تمہیں کھانا کھا کہ کیا ملتا ہے ؟ اور کھانا تم کیوں کھاتے ہو؟ - بھوک مٹانے کے لئے !!
- تو یہ بھی ایک بھوک ہے ، جو جانیں لے کر بجھتی ہے - مگر آپ کو پتہ ہے کتنے گھر اجڑ جاتے ہیں کتنے ۔ ۔ ۔
- بس بس بس ۔ ۔۔ تم لوگ بھی عجیب ہو ، بموں سے ، مزائلوں سے اور ڈیزی کٹرز سے جب مارتے ہو تو کوئی گھر نہیں اجڑتا ؟ کوئی نہیں بولتا کسی کو درد نہیں ہوتا ، کیا وہ انسان نہیں ہوتے ۔ ۔ ۔ کیڑے مکوڑے ہوتے ہیں نا ۔ ۔ - مگر اس طرح انہیں کو مارا جاتا ہے جو ہمارے امن کے لئے خطرہ ہوتے ہیں !!
- ہا ہا ہا ، امن کے لئے ہر جگہ ایک جنگ لڑی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ چند دن کے بچے سے لیکر نوے سال کے بزرگ تک خطرہ ہیں امن کے لئے اور امن کن کے لئے ۔ ۔ ۔ ۔ ان لوگوں کے لئے جو تم سے زیادہ امن میں ہیں ، تمہارے ہر شہر میں روز لاشیں گرتیں ہیں ، وہاں ایسا کب ہوتا ہے ، نشے میں ڈوبی شامیں ، مستی سے تھرکتے لوگ ، انہیں کیا پتہ کہ جنگ کیا ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ انہیں کیا پتہ لاش کیسی ہوتی ہے ، انکے لئے یہ صرف ایکشن فلم کے کسی منظر سے زیادہ نہیں ہے ، میرے پاس کتنا بارود ہے ، کتنا بارود ہے جس سے میں ماروں گا کتنے لوگوں کو ، ایک کو دس کو یا پھر سو کو ، مگر وہ تو ایک پل میں ہزاروں بستیاں اجاڑتے ہیں ، کاش میرے پاس اتنا بارود ہو کہ میں ان نشے میں ڈوبی بستیوں کو اڑا دوں ۔ ۔ ۔ دھشت گرد کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں اور آنسو بھی ، جیسے پانی میں آگ لگی ہو ۔ ۔ وہ ہچکیاں لینے لگا
- میں ۔ ۔ ۔ میں ۔ ۔ تم سے بدلہ نہیں لے رہا ، میں تو مجبور ہوں ، میرے پاس کیا ہے ، کبھی مجھے ڈالر سے خریدا جاتا ہے کبھی بیچا جاتا ہے ، کبھی مجھے کافر کہ کہ خود سے الگ کر دیا جاتا ہے اور کبھی مجھے قبائیلی کہ کر ابسلیٹ کر دیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ بہانے بہانے سے میرے گھر پر ڈاکے ڈالے جاتے ہیں ، تو میں کیا کروں ۔ ۔ ۔
- مگر احتجاج کے اور بھی تو راستے ہیں ،
- کونسے راستے ؟ اور کس سے کریں احتجاج کون سنے گا ، جہاں پر منصف خود انصاف کی تلاش میں ہو وہاں کون سنے گا - مگر اب ایسا نہیں ساری سوسائیٹی مظلوموں کے ساتھ ہے
- کونسی سوسائیٹی ۔ ۔ ۔ جو آج تک کسی ایشو پر متفق نہیں ہو سکے ، ارے ہم دھشت گرد کم سے کم ایک بات پر تو متفق ہیں کہ دھشت پھیلائی جائے ۔ ۔ ۔ تم تو امن کے لیے بھی متفق نہیں ہو ، کٹھ پتلیاں ہو جنکی ڈوریں کوئی اور ہلاتا ہے ۔ ۔ ۔ اور ایسے لوگوں سے دنیا کو پاک ہو ہی جانا چاہیے ۔ ۔ ۔ زنخے کہیں کے - دیکھیں ۔ ۔ آپ سبکو گالی دے رہے ہیں ، لوگ امن کے لیے جانیں قربان کر رہے ہیں
- امن کے لئے جان قربان کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ زندہ رہیں ۔ ۔ ۔ ۔ - واہ جی ہی جان دینے والا کہ رہا ہے
- ہاں میں مجبور ہوں ، میری ڈوریں کوئی اور ہلا رہا ہے ، مگر تم تو آزاد ہو ، مل کیوں جاتے ، مجھے روک کیوں نہیں لیتے ، آج سارے لوگ ان علاقوں میں چلیں جہاں پر سورش ہے انہیں گلے لگائیں اور بتائیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں ، انہیں انکے درد سے درد ہوتا ہے ، کیوں نہیں جاتے وہاں ۔ ۔ ۔ کیوں بلوچوں کو اکیلے کرتے ہو ، کیوں سواتیوں کو اپنے سے الگ کر رہے ہو کیوں ادھر نہیں جاتے ، ویسے تو پکنک اور ہنی مون سپاٹ بنا رکھا تھا نا اسے ، اب کیوں ڈرتے ہو ، اپنے ہی لوگوں کو تکلیف میں چھوڑ دیا ہے تم نے ، اسی لئے آج ہم تمہیں یاد دلاتے ہیں خود کو مٹا کر کہ ہم مٹنے والے نہیں !!! - مگر آپ کی لڑائی تو مغرب سے ہے امریکہ سے ہے آپ اپنے ہی جیسوں کو کیوں مار رہے ہو
- کیا تم نے کسی انگریز خود کُش حملہ آور کا سنا ہے ؟ - نہیں کبھی نہیں بلکہ تاریخ میں بھی ایسا نہیں
- کیا تم نے نے رومن گلیڈیٹر کا سنا ہے - ہاں سنا ہے ، اور ہاں انگریزوں میں تو نائٹ ہوتے تھے نا
- ہاں ، کیا تم لوگوں میں کوئی ، نائٹ یا گلیڈیٹر ہے ؟ - آج کل ایسے لوگوں کو کمانڈو کہتے ہیں
- ہا ہا ہا ، ہاں یہ بھی خوب کہا کمانڈو ۔ ۔ ۔ تمہارے ملک میں تو ایک خاکروب سے لیکر صدر تک کمانڈو ہوتے ہیں ، اور انکی حفاظت کے لئے مزید کمانڈو ، اور انکے لئے اور کمانڈو ۔ ۔ ۔ دوست کمانڈو اور نائٹ میں بہت فرق ہوتا ہے ، نائٹ اکیلا ہوتا ہے اور کمانڈو بہت سارے ۔ ۔ ۔ یعنی میں ایک نائٹ ہوں ۔۔ ۔ - نائٹ تو نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ بزدل نہیں ہوتا تھا ، وہ سامنے آ کر وار کرتا تھا
- میں سامنے ہی جا کر خود کو اڑاؤں گا تم دیکھ لینا - کیا آپ یہ سب کچھ کر کہ جنت میں جاؤ گے ۔ ۔ ۔
- جنت ۔ ۔ ۔ میں نےسوات جیسی جنت کو جہنم بنتے دیکھا ہے ، اب کسی جنت کی تمنا نہیں اور پھر میرا کوئی مذہب نہیں میں صرف ایک دھشت گرد ہوں ، صرف ایک دھشت گرد ۔ ۔ ۔ جسکا کام صرف دھشت پھیلانا ہے ، نفرت پھیلانا ہے - کیا کوئی ان تمام باتوں سے بچاؤ کا راستہ ہے ؟
- ہاں ہے ، اتحاد ، ایک قوم ایک جان ہو جائے تو ، کوئی بھی دھشت نہیں پھیلا سکتا ، کوئی سازش نہیں کر سکتا کوئی ظالم حاکم نہیں ہو سکتا کوئی ناانصافی نہیں ہو سکتی ۔ ۔ ۔ تہمارے پاس تو اتنی بڑی دولت ہے ، ایمان ، اتحاد ، تنظیم ، اس سے بہتر کیا ہو گا ، کیا یہ تمہارے قائد نے نہیں کہا تھا کہ ہمیں تو آئین چودہ سو سال پہلے ہی دیا جا چکا ہے ، ہمارے قانون تو بنے بنائے ہیں بس انہیں نافذ کرنا ہے ، جب تک تہماری ہپو کریسی ختم نہیں ہوتی کچھ نہیں بدلے گا ۔ ۔ ۔ - کیا آپ اپنا ارادہ بدل نہیں سکتے ؟
- کاش بدل سکتا ، ہمیں بدلنے کو تو کہ رہے ہیں خود کیوں نہیں بدلتے ، یاد رکھو جب تک خود نہیں بدلو گے کچھ نہیں بدلے گا ، اچھا اب تم جاؤ میں نے عبادت بھی کرنی ہے ، - عبادت ، مگر آپ نے تو ۔ ۔ ۔ ۔
- پلیز ، میں جانتا ہوں میں نے کیا کہا تھا ، مگر کچھ بھی ہو میں انسان ہوں ، اور جانتا ہوں رب نے مجھے کیوں بنایا ، اور میں اپنے رب کی دی ہوئی چیز کو ایسے ختم کر رہا ہوں ، اس سے معافی تو مانگ لوں - یعنی آپ کے اندر کا انسان زندہ ہے ، تو پھر ۔، ۔ ۔
- انسان زندہ ہے ، مگر اسے درندگی نے بھنبھوڑ دیا ہے ، تم نے کبھی کوئی ہارر مووی دیکھی ہے جس میں ایک ڈیمن کا خون کسی دوسرے کو لگتا ہے تو وہ بھ ڈیمن بن جاتا ہے ، میرے دوست ایسا ہی ہو رہا ہے ہمارے ساتھ بھی ، جب تک اکیلے اکیلے ہم سے لڑو گے ہم تمہیں بھی ڈیمن بناتے رہے گیں ۔ ۔ ۔ ۔ پھر تم چاہے صلیب دکھاؤ یا ہلال ۔ ۔ ۔ ۔ یا پھر اوم ۔ ۔۔ ۔ ہم پر کوئی اثر نہیں ہو گا ۔ ۔ ۔۔ اب جاؤ ۔ ۔ ۔ - مگر ۔ ۔ ۔ ابھی اور بہت کچھ پوچھنا ہے ۔ ۔
- کیا ؟ کیا تم یہ سب کچھ نہیں جانتے جو پوچھنا چاہتے ہو ۔ ۔ ۔ ۔۔ اور کیا تمہیں پتہ نہیں تمہیں کیا کرنا ہے ؟ - ہاں شاید ۔۔ ۔
- تو پھر خدا حافظ ۔ ۔ ۔ دھشت گرد نے کہا اور کھڑا ہو گیا ، میں نے اسے پہلی بار غور سے دیکھا تھا ، وہ ایک جوان آدمی تھا ، اسکی آنکھوں میں عجیب سی یاسیت تھی ، بال کچھڑی تھے اور ایسا لگتا تھا جیسے وہ کب سے نہ نہایا ہو ۔ ۔ اس نے مجھے جلتی نظروں سے دیکھا مجھے لگا کہ وہ کہ رہا ہو مجھے روک لو ۔ ۔ ۔ میں بھی شاید اسے روکنا چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ مگر شاید مجھے بھی اسکی شہادت کی ضرورت تھی ، میں نے اسے نہیں روکا اور وہ چلا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ 2009/3/13 بھیڑئیے نے بھیڑئیے کو پھاڑ ڈالا ، بات ختمبہت کچھ کہا جا رہا ہے بہت کچھ کہا جائے گا مگر میرے پسندیدہ مصنف و شاعر اسرار ناروی المعروف ابن صفی کا یہ قطعہ کتنا ہی سچا ہے ، اور سب کچھ کہ بھی رہا ہے
کچھ بھی تو اپنے پاس نہیں بجز متاع جاں
اب اس سے بڑھ کہ اور بھی ہے کوئی امتحاں ہم خود ہی کرتے رہتے ہیں فتنوں کی پرورش آتی نہیں ہے کوئی بلا ہم پہ ناگہاں اور بعد میں انہیں کی زبان میں اسکا انجام
یہ تو جنگل ہے کسی کی لاش پہ روئے گا کون بھیڑئیے نے بھیڑئیے کو پھاڑ ڈالا ، بات ختم 2009/1/15 ظلم رہے اور امن بھی ہو ، کیا ممکن ہے تم ہی کہو ؟اس دنیا کی عجیب ریت ہے ، ظالم کمزوروں پر ظلم ڈھاتا ہے اور پھر ایک دن ظالم بھی مٹ جاتا ہے ظلم بھی ، تاریخ کا یہ سبق بار بار دہرایا جاتا ہے ، اور دہرایا جاتا رہے گا ۔ ۔ ۔۔
فلسطین میں لاشوں کے انبار لگانے والے اسرئیل کو شاید معلوم نہیں کہ ایسے ہی منظر تاریخ نے کئی بار دیکھے ہیں اور پھر جنہوں نے یہ منظر بنائے تھے وہ اس اذیت سے مارے گئے کہ تاریخ آج تک انکے منہ پر کالک مل رہی ہے ، وہ فرعون ہو یا قارون ، وہ چنگیز خان ہو یا تیمور لنگ ۔ ۔ ہٹلر ہو یا پھر ملزووچ ۔ ۔ سب کے سب تاریخ کے آگے سرنگوں ہوتے ہیں ۔ ۔
آج یہودی یہ سمجھ رہے ہیں کہ طاقت سے انہوں نے سب کی زبانیں بند کر دیں ہیں ، مگر وہ دن دور نہیں کہ یہ ہی یہودی انہیں مظلوموں سے رحم کی بھیک مانگ رہے ہونگے ۔ ۔ ۔ میرے آقا و مولا (ص) نے ہمیں بتا دیا ہے کہ وہ وقت آنے والا ہے کہ جب یہ صہیونی درخت کے پیچھے چھپے گا اور درخت اس کا بتا دے گا ۔ ۔۔
کیا انہہں معلوم نہیں کہ ایسا ہونے والا ہے ؟ معلوم ہے ۔ ۔ ۔ مگر شاید یہ قانون قدرت ہے کہ طاقت ور کے بازو مضبوط ہو جاتے ہیں اور عقل کمزور ۔ ۔ ۔ مجھے کچھ دوستوں نے ایسی ای میلز بھیجھیں ہیں کہ یہودی اسلئے طاقت ور ہیں کہ وہ علم میں برتر ہیں انہوں نے ایجادیں کیں ہیں انہوں نے دنیا کو نظام دیا ہے انہوں نے ہر شعبے میں ترقی کی ہے جبکہ مسلمانوں نے کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں کی ۔ ۔ ۔ بلکے آپس میں لڑ مر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ منطق ہے کہ اگر کوئی طاقت ور ہو جائے اور دوسرا کمزور تو اس کمزور کو ختم کر دیا جائے ؟ اگر یہ ہی دستور دنیا ہے تو دھشت گرد کیا برا کر رہے ہیں وہ بھی اپنی طاقت کے نشے میں کمزوروں کو اڑا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ دھشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مگر ایک نظریہ ضرور ہوتا ہے ۔ ۔ اور وہ ہے ظلم ۔ ۔ ۔
دنیا کے سب ظالم چاہے وہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں ، ایک دن کمزور کے آگے اپنی ناکیں رگڑتے ہیں ، رحم کی بھیک مانگتے ہیں ۔ ۔۔ اور وہ دن مجھے دور نہیں لگتا ۔ ۔ ۔
برسوں پہلے کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ
ظلم رہے اور امن بھی ہو ، کیا ممکن ہے تم ہی کہو ؟
لہذا ظالم کو یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم جتنا بڑھے گا امن کی خواہش اتنی ہی کم ہوتی جائے گی ، اور پھر ظلم جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ۔ ۔ ۔ اور چاہے وہ کتنا ہی بڑا فرعون کیوں نہ ہو ۔ ۔ وہ کتنا ہی بڑا دانشور کیوں نہ ہو ۔ ۔ ۔ کمزور کے آگے کمزور پڑ ہی جاتا ہے ۔ ۔ اور وہ وقت زیادہ دور نہیں ۔ ۔ ۔ زیادہ دور نہیں
2008/9/7 کنگ اِز سنگھکہا جاتا ہے کہ دنیا میں فساد کی جڑ یہ تین عناصر ہیں ، یعنی ، زر ، زن ، زمین ۔ ۔ ۔ مگر اسی کا الٹ بھی یہ سمجھا جاتا ھے کہ دنیا میں اگر امن چاہیے تو وہ صرف از صرف زر ، زن اور زمین سے ہی ہو سکتا ھے ۔ ۔ ۔
ہمارے دیس میں ان دنوں “زر“ کا بہت چرچا ہے ، اور یہ “زر“ ایک “زن“ کی وجہ سے مشہور ہے اور اب تو اس “زر“ کو “زن“ کی قربانی سے “زمین“ بھی مل گئی ہے ۔ ۔ ۔ باپ تو تھا ہی “حاکم“ بیٹا بھی بن گیا ۔ ۔ ۔
ہمارے دیس کے لوگ بہت بھولے ہیں ، زرداروں کو حکومت دیتے ہیں ، یوسف کو “چاہ“ سے نکال کر منصب پر بیٹھا دیتے ہیں ، “رحمان“ کے سہارے امن قائم کرتے ہیں اور “تاثیر“ کی پُراثر باتوں پر فلسفے بگھارتے ہیں
ہم ۔ ۔ ۔ ۔ ہم بہت عجیب قوم ہیں ، بے چینی ہماری فطرت ہے ، جہاں ہمیں سکون ملنا شروع ہوتا ہے ، ہم وہاں خودکُش حملے کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ بم دھماکوں کے یہ ڈھول ہم اپنے گلے میں ڈالے پیٹتے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ اور رقص بھی کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مردہ ضمیر مردہ رہنماؤں کے مردہ بیانوں پر مَردود بن کر بیٹھ چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ پیروں میں صیاد کی زنجیریں جنہیں ہم گھنگرو سمجھ کر بجائے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ اور گائے جا رہے ہیں کہ “رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے “
یہ کارنامے ہیں ہمارے ، کون کہتا ہے ہم میں اتحاد نہیں ۔ ۔ ۔ ہم ہر اس بات پر متفق ہیں ۔ ۔ ۔ جو ہمیں مزید پستی میں لے جائے ۔ ۔ ۔ پاتال تو کہیں دور رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔ ہم اپنے درد خود پیدا کرتے ہیں اور پھر اسی پر آہ و فغاں کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
ہماری تاریخ بھی عجیب ہے ، ہم نے ہمیشہ جانے والے کو کوسا ہے اور آنے والے کو خوش آمدید کہا ہے ۔ ۔ ۔ وہ “لیاقت“ سے لبریز ہو یا پھر کوئی “غلام“ ۔۔ ۔ ۔ “اسکندر“ ہو یا پھر بے صبرا “ایوب“ ۔ ۔ ۔ ۔ ملک کو دولخت کرنے والا “مجیب“ ہو یا بابر عیش کوش کا داعی “آغا جی“ ۔ ۔ ۔ ۔ یا پھر عوامی “بھٹو“ ہو یا پھر اندھیروں بھرا “ضیاء“ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ “دختر مشرق“ ہو یا پھر “شریف“ بیوپاری ۔ ۔ ۔ اس ملک کا خسرو “پرویز“ ہو یا عزیز رکھنے والا “شوکت“ ۔ ۔ ۔ سب آتے جاتے رہے اور ہم صرف گردن گھما گھما کر انہیں “منصب“ دیتے رہے اور خود کو بے توقیر کرتے رہے ۔ ۔ ۔ ۔
کیا اس لئے ہندوستان دولخت ہوا تھا ؟ کیا پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے والے ایسے لوگ تھے ۔ ۔ ۔ ۔ کیا ان حالات کے ذمہ دار یہ چند گنے چُنے لوگ ہیں ؟ ۔ ۔۔ نہیں ہرگز نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اس ملک کا ایک ایک شہری ۔ ۔ ۔ ایک ایک باسی ان حالات کا ذمہ دار ہے ۔ ۔ ۔ ہماری وہ قوم ہے جو جہالت کے دور سے بھی پیچھے کی ہے ۔ ۔ ۔ ہم اپنی بیٹیاں زندہ دفن کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔۔اور بیٹوں کو غیروں کے ہاتھوں بیچتے ہیں ۔۔۔۔۔ ہم اپنے ہی ہم وطنوں کو قتل کرنا عبادت سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اپنا گھر جلانا ہمیں اچھا ہی نہیں بہت اچھا لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ہم قوم نہیں ریوڑ ہیں ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ کچھ جنگھلی جانورں کا جنہیں جب بھی کوئی چاہے جیسے بھی چاہے ہانک لیتا ہے ۔ ۔۔ ۔ ۔
آج میں خود کو قرون وسطیٰ کے اس بطل (نائیٹ) کی طرح سمجھ رہا ہوں ، جسکے جسم پر قسم قسم کے ہتھیار سجے ہوئے ہیں ، مگر وہ ان میں سے کوئی ہتھیار بھی استعمال کرنے کا ہنر نہیں رکھتا ۔ ۔ ۔ ۔ میرے مخالف میرے اس “گٹ اپ“ کو “کلاؤن“ کا روپ سمجھتے ہیں اور ہنستے ہیں ۔ ۔ ۔ اور میں پھر مزید بھونڈی حرکتیں کرتا ہے ۔ ۔ ۔۔ اور اپنے مخالفوں سے کہتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھو میرے پاس شاہین مزائیل ہے ، غوری مزائیل ہے ، میرے پاس الضرار ٹینک ہے ، میرے پاس تھنڈر ایٹین ہے ، میرے پاس آگستا ہے ، میرے پاس ایف سکسٹین ہے ۔۔ ۔ اور سب سے بڑھ کر میرے پاس ایٹم بم بھی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ مگر میرے ان “خطرناک“ کھلونوں سے کسی کو کوئی ڈر نہیں ۔۔ ۔ ۔ امریکہ کو بھی نہیں ، اسرائیل کو بھی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ القاعدہ کو بھی نہیں ، طالبان کو بھی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔
اور ہاں ۔ ۔ ۔ ہندوستان کو بھی نہیں ۔ ۔۔ ۔ ۔ کیونکہ انکا “سنگھ اِز کنگ “ ہے ۔ ۔ ۔ اور اب ہمارا “کنگ اِز سنگھ “ ہے ۔ ۔ ۔ ۔
کوئی “میچ“ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ ہم نے یوم دفاع پر ۔ ۔ ۔ یہ “دفعہ “ چار سو اکیاسی “دفع“ ، “دفع“ کیا ہے !!!!! 2008/7/30 آقا ۔ ۔ غلام آئے ہیں ملنےغلامی تو برسوں پہلے ہوتی تھی ، مگر شاید وہ اچھی غلامی تھی ، کہ صرف ایک فرد ہی غلام ہوتا تھا اور دوسرا فرد آقا ،مگر اب قومیں غلام ہوتیں ہیں ، غلام قوموں میں سب سے زیادہ مشہور قوم ہے “مسلمان“ ، مسلمان چاہے وہ ایرانی ہو یا افغانی ، افریقی ہو یا یورپی ، اور یا پھر اسلام کی ٹھیکے دار قوم پاکستانی ۔ ۔ قوم ۔ ۔ ۔ ویسے تو مسلمان تفرقے میں اپنی مثال آپ ہی ہیں ، جیسے شعیہ ، سُنی یا پھر عربی اور عجمی ۔ ۔ یا پھر کالے یا گورے مسلمان ۔ ۔ ۔ مگر تفرقے کی جو مثالیں پاکستانی قوم میں ملتیں ہیں وہ تو شاید ہی کسی دوسری قوم میں ملیں ۔ ۔ ۔ کبھی یہ شعیہ سنی میں تقسیم ہوتے ہیں ، کبھی بنیاد پرست اور روشن خیالوں میں بٹتے ہیں ، اور پھر پیاز کے چھلکوں کی طرح ، سندھی ، بلوچی ، پنجابی ، پٹھان اور مہاجر یا سرائیکی میں بٹ جاتے ہیں ، بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی بلکے یہ تو آغاز ہے ، پنجابی ہے تو وہ جٹوں اور آرئیوں میں تقسیم ہے ، سندھی ہے تو وہ بھٹوز اور زرداریوں میں تقسیم ہے اور بلوچی ہے تو وہ مینگل ، جتوئی اور بگٹی میں خود کی پہچان کروا رہا ہے اور پٹھان ہے تو پشتونوں اور غیر پشتونوں میں بٹا ہے ۔ ۔ ۔ اور مزے کی بات ہے کہ یہ سب مسلمان ہیں ۔ ۔ ۔ اور ہر کوئی دوسرے سے بڑا اور سچا مسلمان ہے ۔ ۔ ۔ اور جب مسلمان ہے تو غلام ہے ۔ ۔ ۔ اور غلام بھی کس کا ۔ ۔ جسکے نام سے مسلمان الرجک ہیں ۔ ۔ ۔ یہ مسلمان بھی عجیب غلامانہ ذھنیت رکھتے ہیں ، آزادی تو انہیں راس ہی نہیں آتی ، خلافت راشدہ کے بعد سے مسلمان ملوکیت کے ایسے غلام بنے کہ آج خلافت بھی نہیں ملوکیت بھی نہیں مگر پھر بھی غلام ہیں ، غلام ابن غلام ابن غلام ۔ ۔ ۔ اور پاکستانیوں کی غلامی کی تو شاید ساری تاریخ میں مثال نہ ملے ، یہ قوم خود کو آزاد کہتی ہے ، مگر اپنے غلامی کے دور سے بھی بدتر غلامی کا طوق گلے میں ڈال کر ایسے اترا رہی ہے جیسے کوئی بہت قیمتی زیور ہو گلے میں پڑا ہوا
انگریزوں نے اس قوم کو بنایا (کیونکہ ہندوستانی تو موجود تھے پہلے سے ) پھر اسنے اپنے آپ کو دوسرے گورے (امریکہ) کی گود میں دے دیا ۔ ۔ ۔ اور وہ دن آج کا دن امریکہ کبھی اسے کھلونے دے کر بہلاتا ہے ، کبھی طرح طرح کے ماسک بدل کر ڈراتا ہے اور کبھی جب یہ بہت رونے لگتا ہے تو لوریاں دے دے کر سُلا دیتا ہے ۔ ۔ ۔ اور اسے اپنی گود سے پھینک بھی دیتا ہے کبھی کبھی ۔۔ ۔
عجب بچہ ہے یہ ہمارا بھی
مار کھا کہ ہنسے مار کہ روئے آج پھر یہ “مُنا“ اپنے منہ بولے “آقا“ سے ملنے گیا ہے ، اور ایسے ہی گیا ہے جیسے ایک غلام کو جانا چاہیے ۔ ۔ ۔ اور ایسے ہی سر جھکا کہ سنے گا جیسے اسے سننا چاہیے اور “ڈو مور“ کا حکم لے کر آئے گا ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہاں آ کر اپنے جیسے چھوٹے بڑے غلاموں کو آقا کا حکم ۔ ۔ ۔ سنائے گا ۔ ۔ ۔ اور ہاں آقا اگر کوئی “پرشاد“ دے گا تو یہاں آ کر اسکا ڈھنڈورا پیٹے گا ، اور اگر اسے آقا کے ساتھ کچھ “سناپس شاٹس“ کا موقع ملا تو وہ کندھے سے کندھا ملا کر “چیز“ کہے گا ۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ یہ غلام ابن غلام ابن غلام ہے ۔۔ ۔ اور ساری قوم اس آقا کی طرف دیکھ رہی ہے ۔ ۔ کہ کب اسے کچھ “کام“ ملے تو وہ اپنی “دُم“ ہلا کر ہلکی سی “ووف“ بھی کرے اور آقا کے “مفادات“ کی نگرانی ہو بیٹھ جائے ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ وقت یاد کرتا رہے گا جب آقا نے اپنے محل میں اسے شرف ملاقات بخشا تھا اور وہ بار بار کہ رہا تھا
آقا ، غلام آئے ہیں
آقا ، بے دام آئے ہیں آقا ، اپنی غیرت اپنی عزت اپنی انا سب تجھ پے نچھاور آقا بیچنے کو اپنی دھرتی ماں لائے ہیں آقا ، غلام آئے ہیں آقا ، ہمیں قدموں میں رہنے دے آقا ، ہمیں اپنی پناہ میں رکھ آقا ، میری قوم کا بچہ بچہ تجھ پہ نثار میرے پیر و جواں ، تیرے پاس آنے کو بے قرار آقا ، سولہ کروڑوں غلاموں کا سلام لائے ہیں آقا غلام آئے ہیں ۔ ۔آقا غلام آئے ہیں ۔ ۔ ۔ 2008/6/12 جا مشرف جااک اک دل کی ہے یہ صدا
جا مشرف جا ،جا مشرف جا رب سے بس ہے یہ دعا جا مشرف جا ، جا مشرف جا عزت نہی ہے راس تجھے
کوئی نہ ڈالے گھاس تجھے بس اک بُش ہے دنیا میں جو دیتا ہے آس تجھے تو بھی اب امریکا جا
جا مشرف جا، جا مشرف جا تیرا بُت اب ٹوٹ چکا ہے
دور ہیں جنہوں نے پوجا ہے
انجام کے بارے میں سوچ ذرا تخت نہیں اب تو تختا ہے جا ہُن تو کھسماں نوں کھا
جا مشرف جا، جا مشرف جا 2008/3/25 یوسف کو صداشاید چاہ یوسف سے جو صدا ابھری تھی وہ قافلے نے سُن لی ، اور اس قافلے نے اس یوسف کو آج اپنا حاکم بنا دیا ۔ ۔ ۔ آج جمہوریت کی زلیخا نے اس یوسف کو رجھانہ شروع کر دیا ہے ، مگر دور کہیں اسی یوسف کا بوڑھا باپ اپنی آنکھیں اندھی کر چکا ہے ، پتہ نہیں کب اس یوسف کا کرتا اس تک جاتا ہے ، کیونکہ یہ یوسف خواب دیکھ چکا ہے ، بے جرم مجرم بھی ہے ، زندان کو بھی دیکھ چکا ہے اور اب خواب دیکھنے والوں کو اسکی تعبیر بھی چاہیے ۔ ۔
یہ وہ یوسف ہے جسنے ایک اتھاہ اندھیرے کنوئیں سے جو صدا دی تھی اس کا اتنساب اس “خاموش اکثریت“ کے نام کیا تھا کہ جسے بولے بغیر ارض پاک پر حیات جرم اور زندگی وبال ہی رہتی ۔ ۔ ۔ مگر آج اس خاموش اکثریت نے ایک گونج کے ساتھ اسے اس پاک دھرتی کی گدی سونپ دی ، کہ جسکا ہر انسان اسکا مرید ہو جائے گا اگر اسی کی دعا قبول ہو گئی
خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو خدا کرے میرے اِک بھی ہم وطن کے لئے حیات جرم نہ ہو ، زندگی وبال نہ ہو یہ وہی یوسف ہے جسے خدا کا حضرت موسٰی سے کہا یاد ہے کہ “فرعون سے نرمی سے بات کرو“ جسے باطل کے مٹنے کا یقین ہے اور وہ “خاموش اکثریت“ کی آرزو جانتا ہے
یہ وہ یوسف ہے جو “حسنی الحسینی سید“ کہلاتا ہے جو گیلان (ایران کا ایک شہر) کے بزرگ سے نسبت رکھتا ہے جو خانوادہ رسول(ص) سے نسبت رکھتا ہے اور جو “اوچ شریف“ (بہاول پور اور ملتان کے درمیان کا شہر) کے اولیاء کی اولاد سے ہے (حضرت موسٰی پاک شہید )
یہ یوسف حطہ سندھ و پنجاب کے درمیان شہر اولیاء کا فرد ہے جہاں کی زبان پاک وطن کی مٹھی ترین زبان ہے ( سرائیکی ) یہ زبان ہی پاکستان کو بیان کر لیتی ہے جسپر پنجابی سندھی بلوچی اور پشتو کا اثر واضح ہے اور اردو سمجھنے والا ہر شخص اسے آسانی سے سمجھ لیتا ہے ۔ ۔۔
یہ وہ شخص ہے جسکے اباء و اجداد اس ملک کی سیاست کا ہمیشہ سے حصہ رہے ہیں ۔ ۔۔ آج اسی خاندان کا فرد ملک کے سب سے اعلٰی عہدے تک پہنچا ہے
یہ وہ سید ہے جو سنی شعیہ اتحاد کی علامت سمجھا جاتا ہے ، اس یوسف کے والد کا قول ہے کہ “اگر کسی شخص کے ہاتھ میں شفا ہونے کے باوجود وہ کسی دوسرے شخص کو فیضیاب نہ کرے تو ایسا شخص خود بدنصیب ہے “ کیا یہ بیٹا ایسا کر پائے گا ؟؟؟
کہنے کو بہت کچھ ہے ، یہ یوسف ہمہ سفت انسان ہے ، زندگی کے ہر اچھے برے دور سے گذرا ہے ، اسے درد کا بھی پتہ ہے اور مرہم کا بھی ، وہ شکپیئر کے مرچنٹ آف وینس کا پرفارمر بھی ہے اور جالب و فیض کے شعروں کا شیدائی بھی ، وہ کھیل کود میں بھی رہا ہے اور ایمان کی حرارت بھی جانتا ہے ۔ ۔۔ یہ شخص اس دیس کی دیہی اور شہری زندگی سے واقف ہے ، سید زادیوں کے پردوں سے بھی واقف ہے اور یورپ کی بے باکیوں سے بھی ۔۔ ۔
ایوبی دور سے لیکر مشرفی دور تک یہ مخدوم زادہ کسی نہ کسی صورت کارِ حکومت کا حصہ رہا ہے کبھی موافقت میں تو کبھی مخالفت میں اسے ہر پارٹی کا تجربہ بھی ہے ۔۔ ۔
کچھ بھی ہے ، آج چاہِ یوسف کی صدا اس دیس کے ہر گھر میں پہنچ گئی ہے ۔ ۔ ۔ کیا اب یہ یوسف اپنے سامعین کو وہ بینائی دے گا جسے اس قوم کا ہر فرد رو رو کر کھو چکا ہے ۔ ۔۔
میں مایوس نہیں ہوں میری قوم مایوس نہیں ہے ، ہمیں اس یوسف سے امید ہے بہت ۔ ۔ میں اسی کی کتاب کا آخری قطعہ یہاں لکھتا ہوں شاید اس میں سب کچھ سمٹ گیا ہے
ہمیں زندگی کا شعور تھا انہیں بے زری نے بچھا دیا
گراں تھے سینہ خاک پر وہی بن کہ بیٹھے ہیں معتبر یہ بجا کہ آج اندھیرا ہے بس رُت بدلنے کی دیر ہے جو خزاں کے خوف سے خشک ہے وہی شاخ لائے گی برگ و بر اب رُت بدل گئی ہے ، خشک شاخوں پر کونپلیں نکلتیں نظر آ رہیں ہیں ۔۔ ۔ ۔ شاید یہ یوسف ۔ ۔۔ ۔ ہمیں آنے والے قحط سے بچا لے !!!!!!!!!!!!
-------------------------------------------------- یہ مضمون ، وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی کتاب “چاہ یوسف سے صدا“ کے تناظر میں لکھا گیا ہے 2008/3/11 چُپ چاپ پاکستانآج ٹی وی سے ایک پروگرام آتا ہے “بولتا پاکستان“ ، مگر کافی دنوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے سارا پاکستان خاموش ہو ۔ ۔۔ خود کش حملوں نے ہماری زبانیں کُنگ کر کہ رکھ دیں ہیں ، ہماری آنکھیں پتھرا گئیں ہیں اور ہم جیسے پتھر ہو کہ رہ گئے ہیں ۔ ۔ ۔ آج ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے یہ سب حالات ہماری بے حسی نے پیدا کئے ہیں ۔ ۔ ۔
١٩٤٧ میں جب ہمیں آزادی ملی تو ہم ایک نئی قوم تھے ۔۔ ۔ نئے نئے جذبے تھے ۔ ۔ ۔ مگر آہستہ آہستہ وہ جذبے مدھم پڑ گئے ۔ ۔ ۔ ہم بھول گئے کہ ہم کیوں آزاد ہوئے تھے ؟ جو لوگ آج پاکستان کو ایک سیکولر ملک سمجھنے کے لئے تیار ہیں اور تاریخ کو مسخ کرتے ہیں کہ پاکستان تو سیکولر ملک بنا تھا ۔۔ ۔ تو میرے خیال میں انکے لئے یہ ایک سوال ہی کافی ہے کہ اگر ایسا تھا تو ایک الگ ملک کی ضرورت کیا تھی ؟ صوبائی خود مختاری تو تھی ہی ۔۔ ۔ دو قومی نظریے کی کیا ضرورت تھی جبکہ مسلمان اور ہندو ایک ہزار برس اکٹھے گذار چکے تھے ۔ ۔۔
مگر شاید ان سوالوں کا جواب آئیں بائیں اورشائیں کے علاوہ کچھ بھی نہ ملے ۔۔ ۔ یا پھر وہ ہی ازلی چُپ ۔ ۔ ۔ جو ہماری بے حس قوم کا خاصہ ہے ۔ ۔ ۔
تو کیا کریں ۔ ۔ ۔؟ یہ وہ سوال ہے جسکا جواب سب کے پاس ہے ، اور وہ ہے کہ ہمیں اب ہجوم سے قوم بننا چاہیے ۔ ۔ ۔ ویسی ہی قوم جو ١٩٤٧ میں تھی ۔ ۔ یا پھر ویسی جیسی ١٩٦٥ میں تھی ۔۔ ۔ ۔
ٹھیک ہے مگر یہ ہو گا کیسے ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے کہ ہم ایک دوسرے کے برابر ہو جائیں ۔۔ ۔ ۔ آج جب لاہور کے پوش علاقے میں خود کش حملہ ہوا تو ہمارے چینلز کہ رہے تھے کہ وہاں کیوں ہوا ۔ ۔ وہاں تو لوگ آرام سے رہنے کے لئے آتے ہیں ۔۔ ۔ کروڑوں کی ملکیت والے یہ علاقے جن میں وہ لوگ بستے ہیں جنہیں ۔ ۔ ۔ باقی شہر کے لوگ نالی کے کیڑے نظر آتے ہیں ۔ ۔ ۔ آج ان پر حملہ ہوا تو یہ کہنے لگے کہ سیکیورٹی برچز ہیں ۔ ۔ ۔ کیوں ۔ ۔ اس سے پہلے کے حملوں میں مرنے والے کیڑے مکوڑے تھے ؟
یہ وہ وجہ ہے جسنے ہمیں انتشار کا شکار بنا دیا ہے ، دولت کی غلط تقسیم تو خیر سرمایہ درانہ نظام کی وجہ سے ہے مگر اختیارات کا استعمال تو سرمایہ درانہ نظام کی وجہ سے نہیں ۔ ۔ ۔ جب تک ہم اپنے جسم کے ہی کچھ حصوں کو ناکارہ سمجھتے رہیں گے ۔ ۔ ۔ ہمیں یونہی درد ملتے رہیں گے ۔۔ ۔ چاہے چوٹ جسم کے کسی ناکارہ حصے پر ہی کیوں نہ لگے ۔ ۔۔
ابنِ صفی نے ایک جگہ لکھا تھا ، خوبصورت الفاظ انسانیت کو چھٹکارا نہیں دے سکتے ۔ ۔ ۔ جب تک انسانیت کو انسان خوبصورت نہ سمجھے ۔ ۔ ۔ ۔ آج اس عظیم لکھاری کی بہت ساری باتیں یاد آتیں ہیں ۔۔ ۔ ۔ اسنے اپنی آخری کہانیوں میں ۔ ۔ ۔ سرخ ریچھ (روس) کے خاتمے کی پیش گوئی کی تھی اور ۔ ۔ ۔ موجودہ حالات کا بھی بتایا تھا ۔ ۔ ۔ اسنے ہمارے شمالی علاقہ جات کے بارے میں آج سے بیس پچیس سال پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہاں کے لوگ کیسے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان کے ساتھ کیسے رہا جائے ( شکرال اور شمال کا فتنہ جیسی کہانیاں آج حقیقت لگ رہیں ہیں ) امریکہ کا کردار ہمارے شمالی علاقہ جات میں چھپا نہیں ہے ۔ ۔ ۔
مگر شاید اب ہمارے درمیان کوئی ابن صفی جیسا بالغ نظر نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جو خوبصورت الفاظ سے ہمیں انسانیت کا خوبصورت ترین درس دے ۔ ۔ ۔ اللہ اس عظیم شخص کی مغفرت کرے ۔ ۔ ۔(آمین)
بات کہاں کی تھی کہاں جا پہنچی ۔ ۔ ۔ مگر سچی بات یہ ہی ہے کہ شاید ہمارے ہاں اب کوئی ایکس ٹو نہیں اور اگر ہے بھی تو وہ کسی مغربی طاقت کا آلہ کار ہے ۔۔ ۔ مجھے آج دن تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم مغرب کو ذھانت کا منبہ کیوں سمجھتے ہیں ۔ ۔۔ شاید اسلیے کہ اب ہم سوچنا ہی نہیں چاہتے ۔ ۔۔ ۔ ہمیں تھنک ٹینک چاہیے مگر وہ ہمارے مغربی آقاؤں کے ہوں ۔۔ ۔ ۔
ہم کیوں نہیں سمجھ پا رہے کہ ہم جن سے لڑ رہے ہیں وہ ۔ ۔ قوم ہزاروں برسوں سے لڑتی آ رہی ہے ۔ ۔ ۔ آریہ کے زمانے سے ۔ ۔ نیشا پور (پشاور) سے لیکر قندہار تک اور بولان سے لیکر خیبر تک ۔ ۔۔ جو قوم آباد ہے ۔ ۔ ۔۔ اس کو صرف محبت راس آتی ہے ۔ ۔ ۔ بندوق کی گولی کا جواب انہیں دینا اچھی طرح آتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہ قوم ہے جو سچ مچ کی آزاد ہے ۔۔۔ یہ لوگ جب محبت کی بولی بولتے ہیں تو رحمان بابا کی آواز آتی ہے ۔ ۔ ۔ اور جب یہ جنگی رجز پڑتے ہیں تو خوشحال خان خٹک کی شاعری دل گرماتی ہے انکے ۔۔۔ ۔ ۔ آج بھی ان میں انصاف کا بول بالا ہے ۔ ۔ ۔ وہ انصاف کرنا جانتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور ہم انصاف کو قید کر کہ رکھتے ہیں ۔۔ ۔ ۔ کیا یہاں مجھے حضرت علی (رض) کا قول لکھنا ضرور پڑے گا کہ معاشرے کفر پر قائم رہ سکتے ہیں ، نا انصافی پر نہیں ۔۔۔ ۔ تو وہ لوگ جن سے آج ہماری حکومت لڑ رہی ہے ، اور وہ حکومت جسنے نے انصاف کے پرخچے اڑا دئیے ہیں وہ انصاف کرنے والوں سے شاید صدیوں تک نہ جیت سکے ۔ ۔ ۔ اور اگر آج ہم انہیں محبت دیں ۔ ۔ ۔ وہ بات کریں جو رحمان بابا نے کی جو یوسف شیر بانو کی داستان میں ہے جو قصہ خوانی کے بازار سے لیکر سوات کی حسین وادیوں میں کی جاتی ہے تو شاید ہم ان دکھوں سے چھٹکارا پا سکیں ۔ ۔۔
آج بولتا پاکستان جو چُپ سادھے بیٹھا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بے انصافی ہے ۔ ۔ ۔ اس قوم کے ساتھ ۔ ۔ ۔ جو انصاف کرنا جانتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو ہمارے ہی وجود کا ایک حصہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔ کیا ہمیں اب بھی چُپ بیٹھنا چاہیے جب ہم ایک زندہ انسان کو آزاد کر کہ زندگی کی قید سے آزاد ہونے والے کی لاش وصول کرتے ہیں ۔ ۔۔ یہ انصاف ہے ؟ کیا اب بھی ہمیں یہ چُپ لگی رہے گی ۔ ۔ ۔ ۔ یہ چُپ چاپ پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید اب مزید چُپ برداشت نہ کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
انصاف زندہ ہو گا
کہ انصاف کبھی مرتا نہیں نمرود کی آگ کتنی ہی کیوں نہ ہو ابراھیم کبھی بھی جلتا نہیں کربلا ہے ، یزید بھی ہے
حسین کا عزم بدلتا نہیں ظلم بڑھے تو مٹ جائے حق کا حکم یہ ٹلتا نہیں آج غم کی شام ہے بے شک
دکھ کا سورج گو ڈھلتا نہیں مگر ہے یقیں کہ سحر ہو گی اندھیرا دیر تلک چمکتا نہیں ۔ ۔ ۔ انصاف ہو گا پھر سے کہ انصاف کبھی مرتا نہیں ۔ ۔ ۔ 2008/3/2 عظیم الشاں شہنشاہعظیم الشاں شہنشاہ
فرمانرواہ ہمیشہ ہمیشہ قابض رہے تیرا ہے یہ ایماں تو شاہ پاکستان پہلے پہلے پاکستان بعد میں تیری جان تو نہ جا ۔ ۔ تو نہ جا ۔ ۔ ۔ عظیم الشان شہنشاہ فرمانروا !!!! سب رنگ رنگ ماں
ہر آنگن ماں ہر الیکشن ماں ہر سلیکشن ماں جدھر منہ کیا ہے
ہوا چلی ہے تو صدر ہے تو مہابلی ہے تو نہ جا ۔ ۔ ۔
تو نہ جا ۔ ۔ عظیم الشان شہنشاہ تیرا مذہب
عیش و عشرت روشن خیالوں کی ہے حکومت جتنا کہیں اب
اتنا ہی کم ہے صوبوں کا تو ہی تو سنگم ہے تو نہ جا
ہاں تو نہ جا ۔ ۔ عظیم الشان شہنشاہ
فرمانروا ہمیشہ ہمیشہ تو قابض رہے عظیم الشان شہنشاہ پر وے ز مو شا رف 2008/2/12 چمکتا ہوا روشن اندھیرا !!!۔مجھے بچپن سے ہی اندھیرے سے ڈر لگتا ہے ، ڈر کیا ہے سمجھ نہیں آتا ، جب ذرا بڑا ہوا تو خود پر جبر کر کہ اس ڈر کو ختم کرنے کی کوشش کی ، مگر نہیں کر پایا ۔ ۔ ۔ اب جب کہ میں اندھیرے سے مانوس ہو چکا ہوں ، مگر پھر بھی ڈر باقی ہے ، بس اب اندھیرا ذرا بدل گیا ہے ۔ ۔ میں اسے روشن اندھیرا کہتا ہوں ۔ ۔ ۔ یا پھر چمکتا اندھیرا ۔ ۔ ۔ یہ روشن اندھیرا بھی عجیب ہے ، میں اس میں سب کچھ دیکھ سکتا ہوں ، ہر چیز بہت واضح نظر آتی ہے ، مگر پھر بھی اندھیرا لگتا ہے ۔ ۔ اور جب اندھیرا ہوتا ہے تو ڈر بھی لگتا ہے ۔ ۔۔
آج ایسا ہی کچھ اندھیرا مجھے اپنے دیس پر نظر آ رہا ہے ، میں اپنے دیس سے دور ہوں مگر مجھے میرا دیس چمکتا دکھائی دیتا ہے ، مگر جب میں اس چمک کو غور سے دیکھتا ہوں تو پتہ چلتا ہے ، کہ یہ خود کش حملوں اور برستی گولیوں کی چمک ہے ۔ ۔ ۔ اور جہاں یہ چمک نہیں وہاں مجھے کچھ برستی آنکھوں کے آنسوؤں کی چمک دکھائی دی ، اور باقی جگہوں پر پسینے کی ان بوندوں کی چمک تھی تو ضروریات زندگی کی تلاش میں یوٹیلٹی اسٹورز کے باہر کھڑی عوام کے ماتھے پر تھی ۔ ۔ ۔ اتنی چمک اور اتنا اندھیرا ۔ ۔ ۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔ ۔۔ بہت زیادہ ۔ ۔ اتنا تو کبھی میں بچپن میں نہیں ڈرا ۔ ۔ ۔ مجھے پتہ ہے جب میں ڈرتا تھا تو امی کی گود میں چھپ جاتا تھا ۔۔ ۔ میرے دیس کی دھرتی بھی ماں جیسی ہے ۔ ۔ روز کتنے ہی ڈرنے والوں کو اور ڈرانے والوں کو بھی اپنی گود میں لیتی ہے مگر ۔ ۔ یہ ڈر ہے کہ ختم ہوتا ہی نہیں ۔ ۔ ایک اور ڈر بھی ہے جو مجھے لوگوں سے لگتا ہے ، میں اکثر کہتا ہوں کہ میں اللہ سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا اللہ کے بندوں سے ڈرتا ہوں ، کیونکہ اللہ کا تو مجھے پتہ ہے کہ وہ میرے حق میں بہتر ہی کرے گا ، یہ بندے جو ہیں نا یہ کبھی بھی اچھا نہیں سوچیں گے میرے لئے ۔ ۔۔اور اسی لئے ان سے ڈر لگتا ہے ۔ ۔ ویسے میرے دیس کا ہر باسی دوسرے سے ضرور ڈرتا ہے ، گاہک دوکاندار سے ، دوکاندار گاہک سے ، ووٹر لیڈر سے لیڈر ووٹر سے ، امام مقتدی سے اور مقتدی امام سے ۔ ۔ ہم سب ایک دوسرے سے ڈرتے ہیں ۔ ۔ ۔ بازار میں ہجوم ہو تو ہر کوئی خود کش بمبار نظر آتا ہے ، کہیں پر تنہا ہوں تو ڈکیتی کا اور چھینا جھپٹی کا ڈر رہتا ہے ۔ ۔۔ مگر ہم عجیب قوم ہیں بالکل اسپین کے بُل فائٹرز کی طرح ۔ ۔ ہمیں پتہ ہے کہ یہ “بُل“ ہمیں مارے گا ہم پھر بھی لال خون سے تر اپنا پیراھن لے کر اسکے سامنے کھڑے ہوتے ہیں ۔ ۔ کہ آ بیل مجھے مار ۔ ۔ اور جب وہ مارتا ہے ۔ ۔ ۔ تو پھر ہم روتے ہیں چوٹ کھاتے ہیں درد ہوتا ہے ۔ ۔ اور پھر ہمیں غصہ بھی آتا ہے کہ لوگ یہ تماشا دیکھ کر تالیاں کیوں پیٹ رہے ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔؟؟؟
اگلے کچھ دنوں میں ہم “مقدر “ کے غلاموں کو اپنے “آقا“ منتخب کرنے ہیں ۔ ۔ یعنی ہمیں وہ “بُل“ منتخب کرنے ہیں جو ہمیں ماریں گے ، اور اگر موقعہ ملا تو ہم انہیں مار دیں گے ۔ ۔۔ اس کھیل میں ایسا تو چلتا رہے گا نا ۔ ۔ ۔ خون سے تر ۔ ۔ پوشاک ۔۔ یہ لال رنگ ۔ ۔۔ ہمارا پسندیدہ ہے ۔ ۔ کبھی ہم لال مسجد میں یہ لال رنگ لگاتے ہیں ۔ ۔ کبھی شمالی علاقہ جات میں ۔ ۔ ۔ شام کی لالی کو لال خون کے دان سے رنگتے ہیں ۔ ۔ کبھی ہمارے گالوں کی لالی ۔ ۔ چمکتی ہے اور کبھی ہم لالی کی دلالی کرنے لگتے ہیں ۔ ۔ ۔یہ چمک دمک بہت زیادہ ہے مگر ۔ ۔ پھر بھی اندھیرا گُپ اندھیرا ہے ۔ ۔ چمکتا ہوا ۔ ۔ روشن اندھیرا ۔ ۔ ۔۔ ۔ 2008/2/8 بے نظیر کا قتل اور ہماری قومبہت سوچا مگر سمجھ نہیں آ رہا کہ آخر ہماری حکومت بے نظیر کے قتل میں اسکی موت کی وجوہات کو کیوں اتنی اہمیت دے رہی ہے ، اس سانحے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ہماری سرعت تجزیاتی ٹیم نے جو کہا وہ آج دنیا کی بہترین تحقیقاتی ٹیم بھی کہ رہی ہے ، مگر اس کی وجوہات کیا ہے اس کی سمجھ نہیں آ رہی ۔ ۔ کہ آخر حکومت یہ ثابت کرنے پر کیوں تلی ہے کہ بے نظیر کی موت گولی سے نہیں ہوئی ۔ ۔۔؟؟
میں نے بہت سوچا ۔ ۔ تو کچھ سوالات ذہن میں ابھرے
١۔ حکومت یہ کہنے کی کوشش کر رہی ہے ، موت کی وجہ خود کش حملہ ہے ، کیونکہ ہتھیار سے وار کو تو کتنے ہی طریقوں سے روکا جا سکتا ہے مگر خود کش حملے کو نہیں
٢۔ حکومت اپنی ان کوتاہیوں یا حرکتوں کی پردہ پوشی چاہتی ہے جو اسنے قتل کے شواہد مٹانے کے حوالے سے سرانجام دئیے ، جیسے جائے وقوع کا دھو دینا ، پوسٹ مارٹم نہ کرنا وغیرہ
٣۔ عوام کی توجہ قتل کرنے والوں سے ہٹانا ، کیونکہ ایک خیال یہ بھی تھا ، کہ گولی سنیپر کی بھی ہو سکتی ہے ، جو کسی دور کے مقام سے چلائی گئی تھی ۔ ۔ ابھی تک یہ بات نہیں کی جا رہی کہ قاتل کے پیچھے کیا عوامل تھے ۔ ۔۔ حکومت اتنی زیادہ اپنی صفائیاں کیوں دے رہی ہے ۔ ۔ یاد رہے کہ مشرف اور آرمی کے درمیان ایک محاذ آرائی شروع ہو چکی تھی ۔ ۔ بے نظیر کی ڈیل کو لے کر
٤۔ حکومت نے اپنے ابتدائی ثبوتوں پر زور نہیں دیا تھا ، جیسے بیت اللہ محسود کی وہ مبینہ ٹیپ جسے سنایا گیا تھا ، القاعدہ کے رہنماؤں کے بیان اور دوسرے بیانات جو وقوتاً فوقتاً حکومت کے لوگوں کی طرف سے آئے ۔
٥۔ بے نظیر کے قتل کا فائدہ سب سے زیادہ کسکو پہنچا ؟ ، میری نظر میں مشرف کو ، مشرف نے بار بار کہا کہ ہم تو پہلے ہی کہ رہے تھے کہ عوامی اجتماعات خطرناک ہیں ، اور بے نظیر اسلام پسندوں کا پسندیدہ ٹارگٹ ہونگی ۔ ۔ اور یہ ہی پیغام وہ مغرب کو دیتے رہے ہیں ۔۔ دوسرا مشرف کو اپنے اوپر سے ق لیگ کا لیبل ہٹانا تھا ۔ ۔
٦۔ بے نظیر کے بعد قوم متحد ہونے کے بجائے بکھرتی جا رہی ہے ، پنجاب کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے ، پنجابیوں کو سندھیوں ،بلوچیوں ، مہاجروں اور حتہ کہ پٹھانوں تک کا دشمن دکھایا جا رہا ہے ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوامی سطح پر رابطے اچھے ہیں اور خواص ہی یہ آگ بھڑکا رہے ہیں ۔ ۔ ۔
٧۔ عوام پہلے ہی بنیادی ضروریات زندگی کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی ہے ، اسے بے نظیر کے قتل کی تحقیقات سے زیادہ دلچسپی نہیں ( چہلم اور بے نظیر کے مزار پر آمد کے جلوسوں کی مثال نہیں چلے گی ، کیونکہ وہ لوگ بھی امید کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ) اب حکومت کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ عوام کسی بھی طور کوئی سیاسی ایشو لے کر انتخابات پر اثر انداز ہوں ۔ ۔۔
٨۔ مشرف نے پہلے ہی کہ دیا ہے کہ اس دفعہ ووٹ کم پڑیں گے ، مگر جو پڑیں گے وہ مشرف کے حق میں ہونگے ، اگر بے نظیر کے اصل قاتل سامنے آ جاتے ہیں تو یہ کھیل بگڑ سکتا ہے ، مشرف نے چاہے دکھاوے کے انتخابات کروانے ہوں مگر کروانے ضرور ہیں
٩۔ بے نظیر کے قتل کی وجہ سے جو ہمدردیاں ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے پیدا ہوئیں تھیں ، وہ انتخابات کو ایک مہینہ ملتوی کر کہ اگر ختم نہیں کی گئیں تو کم ضرور ہو گئیں ہیں ، اس میں کافی زیادہ قصور پیپلز پارٹی کا اپنا بھی ہے ، خاصکر زرداری کو چئیرمین بنانا اور بلاول کو آگے لانا ۔ ۔ ۔ پیپلز پارٹی میں مزید تقسیم ہو رہی ہے ، لاشوں کی سیاست تو اسے ورثے میں ملی تھی مگر اب پارٹی آمریت اور خاندانی چپقلش بھی سامنے آ رہی ہے ۔ ۔ (فاطمہ بھٹو کے کالم اس بات کی گواہی ہیں )
١٠۔ مختصر یہ کہ حکومت نے اپنی بات منوا لی ، بین الاقوامی حیثیت میں بھی اور داخلی حیثیت میں بھی ، مشرف اپنی جگہ موجود ہیں اور رہیں گے ، پاکستان ایک کے بعد ایک بحران میں جا رہا ہے ، الیکشن بہت خونی ہونگے ، بے نظیر کا قتل اس سلسلے کا پہلا خون تھا ۔ ۔ مشرف اب مغرب کو قائل نہیں کر پا رہے ، طالبان افغانستان میں مضبوط ہو رہے ہیں ، فاٹا میں مقامی دشمن اب ایک نئے دشمن کو جنم دے رہے ہیں ، فوج کو پیشہ وارانہ زمہ داریوں میں لگایا جا رہا ہے ، عوام میں روشن خیال اور بنیاد پرستوں کے درمیان محاذ آرائی بڑھ رہی ہے ، غریب اور امیر کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں درمیانی طبقہ یا تر غریب ہو رہا ہے یا پھر امیر ۔ ۔ ۔
اب ان سب کا حل کیا ہے ؟
حل صرف ایک ہے ، اور وہ ہے انقلاب ۔ ۔ ۔ جب تک ہر گھر پر ان حالات کا منفی اثر نہیں ہو گا اس وقت تک ہم لوگ نہیں سدھریں گے ، ہم نام اسلام کا لیتے ہیں کام ہم کافروں سے بدتر کرتے ہیں ۔ ۔ اب دعا سے کچھ نہیں ہو گا ۔ ۔ ۔ نہ ہی کوئی پیر فقیر ہمیں بچا سکتا ہے ، کیونکہ اگر ایسا ہو سکتا تو بغداد والے اتنی تباہیاں نہیں دیکھتے ۔ ۔ ۔ جہاں کے متبرک مقاموں کو قتل گاہ بنا دیا گیا ۔ ۔ ۔
جب تک ہم اپنی انفرادیت ختم نہیں کرتے ، کچھ نہیں ہو سکتا ، میں مثال دے سکتا ہوں انٹر نیٹ پر موجود فورمز کی ، اور بلاگز کی جہاں کا ہر بندہ (مجھ سمیت) اپنے آپ کو تیس مار خان سمجھتا ہے ، اور اپنے آپ کو نیک اور شریف گردانتا ہے اور اپنے آپ کو ہر قصور سے مبرا قرار دیتا ہے ، یہ لوگ پڑھے لکھے ہیں ، سب سمجھتے ہیں ، علم و عمل کو بھی جانتےہیں ۔ اگر یہ ہی خود میں ۔ ۔ عاجزی اور انکساری پیدا کر لیں تو ہماری آدھی بیماریاں ختم ہو جائیں ۔ ۔ ۔ مگر کیا کریں ۔ ۔ ۔ ہم اپنی “پہچان “ کھونا نہیں چاہتے ۔ ۔ ۔ اور قوم جیسے “ہجوم“ کا حصہ بننا نہ مجھے پسند ہے ۔ ۔ ۔ نہ کسی اور کو ۔ ۔۔
تو پھر کیا مایوس ہو جائیں ؟؟ نہیں نہیں ۔ ۔ ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ، ہم جیسے لوگوں کے ساتھ تاریخ میں بار بار وہ سب کچھ ہوا ہے جو ہونا چاہیے تھا ۔ ۔ بیداری ہو گی ۔ ۔ بے شک کچھ عرصے کے لئے ۔ ۔ مگر شاید ۔ ۔ کافی کچھ کھونے کے بعد ۔ ۔۔ 2007/11/10 ایمر جنسی سے حکومت نے حاصل کیا کیا؟میری نظر میں حکومت نے اس ایمرجنسی سے درج ذیل اہداف حاصل کئے ہیں ، اور اگر آپ پچھلے ہفتے پر نظر ڈالیں تو یہ سب کچھ ایک کڑوی حقیقت کی طرح نظر آ جائے گا ۔ ١ ۔ سب سے بڑا ہدف جو حکومت نے حاصل کیا وہ عوام کی اور میڈیا کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹا دی ، یعنی مہنگائی اور بجلی کے بحران سے
٢- دوسرا بڑا ہدف جو حکومت نے حاصل کیا ، میڈیا کو اسکی حیثیت یاد دلائی ، جو سر پھرے میڈیا کو بہت جلد سمجھ آ گئی ہے اور مزید سمجھ آ جائے گی جلد ہی
٣ - ملکی اور غیر ملکی سطح پر اس تاثر کو بھی ذائل کیا گیا ہے ، کہ پاکستان میں فوج حاکمیت سے الگ ہونا چاہتی ہے
٤ - سیاست دانوں میں انتشار پیدا کیا گیا ہے ، جس سے عوام مزید ان سے متنفر ہو چکے ہیں
٥ - اعلیٰ عدالتوں کو بھی بتا دیا گیا کہ انصاف وہ ہی ہوتا ہے جو حکومت چاہے
٦ - پولیس کو ایک بار پھر اسکی طاقت اور قوت سونپی گئی ۔ ۔ ۔ ۔
٧ - مغربی طاقتوں کو یقین دلا دیا گیا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے ، پاکستان کا ریموٹ کنٹرول انکے پاس ہی رہے گا
٨ - مغرب کو باور کروا دیا گیا کہ اصل دھشت گرد پاکستانی ہیں ، انکو قابو کر لو سارا عالم اسلام قابو میں آ جائے گا
اور سب سے بڑی بات یہ کہ مغرب کو پتہ چل گیا ہے کہ وہ پاکستان سے صرف ایک آدمی کو قابو کر لیں باقی لوگ خود بخود قابو آ جاتے ہیں ، اور انکے بیک اپ بھی تیار ہو جاتے ہیں ۔ ۔ ۔
اللہ ہم پر اپنا رحم کرے (آمین) 2007/11/7 کھلا خط ، مشرف کی والدہ کے ناماسلام علیکم
آپ کی صحت کے لئے دعا گو ہوں ، آپ ہمارے دیس کے حاکم کی ماں ہیں ، اس حوالے سے جیسے مسز مشرف حاتون اول ہیں تو آپ اس وقت مادر اول جیسی ہیں ، جیسے کسی شرارتی بچے کی شکایت اسکی ماں سے کی جاتی ہے ایسے ہی میری شکایت آپ کے لائق اور شرارتی بچے کے بارے میں ہے ، ہم اس بچے کو پچھلے دس سال سے جانتے ہیں ، یہ ہمیں کھیلنے نہیں دے رہا ہے آنٹی ، ہمارے سارے کھلونے اسنے یا تو توڑ ڈالے ہیں یا پھر انکو اپنے قبضے میں لے لیا ہے ، وہ بہت بہادر نڈر تھا سب کے ساتھ کھیلتا تھا مگر پتہ نہیں اسے کیا ہوا ہے ، اب وہ سب کچھ اپنے ہی قبضے میں رکھنا چاہتا ہے
آنٹی جی ، آپ کو پتہ ہے نا جب کوئ بھی بچہ بدتمیز دکھاتا ہے تو لوگ یہ ہی کہتے ہیں کہ یہ اسکے ماں باپ کی تربیت ہے ، مگر مجھے نہیں لگتا کہ آپ نے اس گندے بچے کو ایسی تربیت دی ہو گی ، آپ خود محنتی خاتون تھیں ، آفسوں میں کام کیا ہے آپ نے ، آپ تو اتنی اچھی ہیں کہ لوگ آپ کو ماں جیسا سمجھتے ہیں ۔ ۔ مگر آنٹی جی ، کیا آپ اپنے شرارتی بچے سے ہمارے کھلونے واپس دلوا سکتیں ہیں ؟
آپ کو پتہ ہے آنٹی جی ، میں جب روتا ہوں تو بہت برا لگتا ہوں ، اور اوپر سے بھاں بھاں کر کہ روتا ہوں ، غصہ آتا ہے تو جو سامنے نظر آئے اسے مارتا ہوں توڑ پھوڑ کرتا ہے ، آپ کا بیٹا بہت طاقت والا ہے اسلئے اس سے کوئی لڑ نہیں سکتا ۔ ۔ ۔ مگر آپ تو اسکی ماں ہو ، ماں تو بیٹے کے کان کھنچ سکتی ہے ۔ ۔ ۔ کاش انکل زندہ ہوتے تو شاید وہ ہی اسے کچھ مت دیتے ، چھوٹے بھائ تو خود ہی گم سم ہیں ۔ ۔ ۔
آنٹی جی ۔ ۔ ۔ پلیز ۔ ۔ ۔ اپنے شرارتی بچے کو بولیں نا کہ وہ ہمارے کھلونے واپس کر دے ، اور اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو پھر ، ہم سب دوست روئیں گے ، چلائیں گے ، اور اگر غصہ آ گیا تو ۔ ۔ توڑ پھوڑ کریں گے ، ایسا نہ ہو کہ آپ کے بچے کو بھی “توڑنا“ پڑے ۔ ۔۔
پلیز آنٹی جی ۔ ۔ ۔ ۔پلیز ۔۔۔۔
آپ کے بیٹے کا کمزور دوست اور اسکے بے بس ساتھی آپ کو بہت “تھنکس“ کہیں گے ۔ ۔ ۔
وسلام ۔ ۔
منجانب ؛ تمام بے بس پاکستانی انسان ، جنپر آپ کا بیٹا حاکم ہے !!! 2007/9/28 معلوم لوگیہ وہ لوگ ہیں جنہیں سب جانتے ہیں ، انکی رگ رگ سے واقف ہیں ، بچہ بچہ انکے نام اور کام سے واقف ہے ، کچھ لوگ اچھے ہیں کچھ برے کچھ بڑے ہیں کچھ چھوٹے مگر سب لوگ انہیں جانتے ہیں ۔ ۔ انکو کچھ ایسے تقسیم کر سکتے ہیں
سیاسی لوگ ۔ یہ لوگ عوام کے بل پر رہنما بنتے ہیں ، اور پھر اپنے ہمراہیوں کو چھوڑ کر کسی اور سمت چلے جاتے ہیں ، مگر عوام کبھی بھی انہیں نہیں بھولتے ، عوام کو یہ ننگا بھوکا بھی کر دیں تو بھی عوام انکا ساتھ دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ سیاسی لوگ زندہ اگر ایک لاکھ کے ہوتے ہیں تو مرنے کے بعد ایک کروڑ کے بھی ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ زندگی انکی عید اور راتیں شب برات ہوتیں ہیں ۔
سماجی لوگ ۔ ان میں دو مزید قسمیں ہو سکتیں ہیں ، ایک پرخلوص سماج سیوا کرنے والے اور دوسرے این جی اوز والے ، یہ لوگ اکثر ائیر کنڈیشن فائیو سٹار ہوٹلوں میں بیٹھ کر غریبیوں کی زندگیوں کو بدلنے کے پروگرام بناتے ہیں اور اتنے محب وطن ہوتے ہیں کہ وطن میں کم ہی ٹھہرتے ہیں
فنکار لوگ ۔ یہ لوگ معاشرے کو تفریح فراہم کرتے ہیں ، معاشرے میں بول چال ، رہن سہن اور پہناوے انہیں لوگوں سے حاصل کئیے جاتے ہیں یہ لوگ عام لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں ۔ ۔ ۔۔ اور خود کو عام لوگوں سے دور رکھتے ہیں تا کہ وہ عام نہ لگ سکیں
شاعر و ادیب لوگ ۔ ۔ یہ لوگ جزبات کی تجارت کرتے ہیں ، اپنے قلم سے ایسے الفاظ و جملے تراشتے ہیں کہ عام آدمی متاثر ہوئے بنا نہیں رہتا ، مگر اکثر یہ لوگ دوہری زندتی گزارتے ہیں ، جو لکھتے ہیں وہ خود پر لاگو نہیں کرتے ۔ ۔ ۔ اسی لئے ایسے کچھ لوگ مشہور رہ کر بھی گمنام ہی رہتے ہیں
کھلاڑی لوگ ۔ یہ کھیلنے کودنے کے ماہر ہوتے ہیں ، عوام کو جب دل چاہے خوش کر دیتے اور جب چاہے غم دیتے ہیں ، پیسے کی خاطر کھیلتے ہیں اور نام وطن کا لیتے ہیں ۔۔ ۔ ۔ مگر اپنی رئٹائرمنٹ کے بعد وطن کو پہلی فرصت میں چھوڑ بھی دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ یا پھر کسی دوسرے وطن کے لوگوں کو اپنی قابلیت سے سکھاتے ہیں
ایسے بہت سارے لوگ ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور وہ ہماری زندگی پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔۔ مگر عام لوگ کبھی بھی ان خاص لوگوں کی زندگی میں اثر انداز نہیں ہوتے 2007/9/15 نامعلوم افراد ہمارے دیس میں آج کل نامعلوم افراد کا بہت زیادہ چرچا ہے ، اس دیس میں جو بھی ہوتا ہے اسے نامعلوم افراد کرتے ہیں ، وہ کامیابی ہو یا ناکامی ، قتل ہو یا فساد ، حادثہ ہو یا سانحہ ۔ ۔ ۔ سب کے پیچھے ہاتھ ہوتا ہے نامعلوم افراد کا ۔ یہ نامعلوم افراد کون ہیں کہاں سے آتے ہیں اور کہاں چلے جاتے ہیں اسکے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ، مگر سب جانتے ہیں کہ یہ سڑکوں پر دندناتے پھرتے ہیں ، ہر ادارے میں انکا حکم چلتا ہے ، ہماری حکومتیں انکے ایک اشارے کی منتظر رہتی ہیں ۔
یہ نامعلوم افراد اتنے معروف ہیں کہ ہر کوئی انہیں جانتا ہے ، انکا کوئی نام نہیں انکی کوئی شکل نہیں ، مگر اتنا ضرور ہے کہ اگر ہم آئینہ دیکھیں تو ہمیں اس میں کسی اجنبی کا چہرہ ہی نظر آئے گا ۔ ۔ ۔ ہم خود کو جو ظاہر کرتے ہیں وہ ہے ہی نہیں ۔ ۔ہمارا شمار ہوتا ہے نامعلوم افراد میں ۔۔ ہم ہی قاتل ہیں ہم ہی مقتول ۔ ۔ ۔ ہم ہی فریادی ہیں اور ہم ہی منصف ۔ ۔ ۔ مگر ہم کون ہیں ۔ ۔ ۔ ہم ہی تو ہیں وہ نامعلوم افراد ۔ ۔ ۔ جو ہر حادثے کے پیچھے ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ ہر واقعے کے پیچھے ہوتے ہیں ۔۔ ۔ ۔ 2007/7/10 لال آنسو!!باخبر ہونا بھی ایک عذاب سے کم نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ شخص کیا کرے جو سب جانے اور بے بس بھی ہو ۔۔ ۔ جذباتی بھی ہو اور حساس بھی ۔ ۔ ۔ شاعر بھی ہو اور لکھاری بھی ۔ ۔ ۔
کبھی کبھی مستقبل آپکے سامنے کھڑا ہوتا ہے ، کبھی کسی حسین دوشیزہ کی شکل میں اور کبھی ایک بھیانک حقیقت کی شکل میں ۔ ۔ ۔ ۔ مستقبل جو ایک فرد کا نہیں ہوتا سب کا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مگر یہ کیا ہوا کہ ہم سب کے سامنے ہمارا مستقبل اپنی بھیانک شکل لے کر کھڑا ہو گیا ۔ ۔ ۔۔
میں کبھی اچھا مسلمان نہیں رہا ۔۔ ۔۔ اللہ کے احکام کو مانتا ضرور ہوں مگر بے عمل بہت ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ایک چیز جو مجھ میں بہت ہی غلط ہے وہ جھوٹ سے بچنے کی عادت ۔ ۔ ۔مگر اب ۔ ۔ ۔ کیا سچ ہے کیا جھوٹ ۔ ۔ ۔ اسکا کوئی مطلب نہیں ۔ ۔۔ ۔
آج جو کچھ ہوا ، وہ اسلام کے نام پر ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ مسلمان مارے گئے ۔۔ ۔ اسلام کے نام پر ۔ ۔۔ مسلمانوں نے مارا ۔ ۔ ۔ اسلام کے نام پر ۔ ۔ ۔ ۔۔ اس ملک میں مارا جو اسلام کے نام پر بنا ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس شہر میں جسکا نام ہی اسلام کے نام پر رکھا گیا ۔ ۔ ۔ اور اس جگہ پر مارا گیا جہاں اسلام کی تعلیم دی جاتی تھی جہاں اسلام ۔ ۔ ۔ کی “پریکٹس“ کی جا رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔
جو مارے گئے ۔۔ ۔ تاریک راہوں میں ۔۔ ۔تاریک گوشوں میں ۔ ۔ ۔ ۔ اور شاید تاریکی ۔ ۔ ۔۔ ۔ میں ۔ ۔ ۔ وہ کوئی اور نہیں ہم تھے ۔ ۔ مجھے اسلام کی کوئی فکر نہیں ۔ ۔۔ ۔ ۔ کیونکہ اسکی حفاظت اور تبلیغ کا “ٹھیکہ“ اس کو پسند کرنے والے رب نے لے رکھا ہے ۔۔ ۔ مجھے فکر ہے ۔ ۔ ۔ اپنے مسلمانوں کی ۔۔ ۔ یہ وطن کہیں ۔۔ ۔ ۔ سربیا یا چیچینیا نہ بن جائے ۔۔۔ ۔ جہاں لوگوں کے نام تو مسلمانوں جیسے ہوں اور ۔ ۔۔۔ “کرتوت“ ۔۔ ۔ ۔ ملحدوں جیسے ۔ ۔ ۔ ۔
آج روشن خیال بہت خوش ہونگے ۔ ۔ ۔ ۔ اب کُھل کر کھیلیں گے ۔۔۔ ۔ ۔ نہ کوئی پابندی ۔ ۔ ۔ ۔ نہ کسی ملا کا ڈر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب تو عورتیں برقعہ نہیں پہنیں گیں ۔۔ ۔ ۔کہ وہ اب مسلمان علماء کا “کیمو فلاج“ ہے ۔ ۔۔ ۔اب کوئی بچہ ۔ ۔ ۔۔ ۔ بچپن میں مسجد نہیں جائے گا ۔۔ ۔ ۔۔ کہ کہیں اسے “طالب“ نہ بنا دیا جائے ۔۔ ۔ ۔
آج رات ۔ ۔ ۔ ۔ ہم سب سکون سے سوئیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ کہ اب کوئی ملا نہیں ۔ ۔۔ کچھ دن تک شاید کچھ سرپھرے ۔ ۔ ۔ ۔ “اوچھی“ حرکتیں کریں ۔۔ ۔ ۔ اور کچھ مزید مسلمانوں کو “شہید“ کے رتبے پر فائز کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر ۔ ۔ ۔ یہ یقین ضرور ہے ۔ ۔ ۔ ۔ کہ مستقبل کی جو بھیانک شکل سامنے کھڑی ہے ۔ ۔ ۔ اسکے پیچھے شاید ایک امن کی دوشیزہ بھی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ مگر ۔ ۔ ۔ ۔ میں جانتا ہوں کہ امید کا سورج اگر کبھی ڈھل بھی جائے تو ۔ ۔ ۔ ۔ بھی اسکی کرنیں اگلی صبح تک ۔ ۔ ۔ ایک ننھے سے چراغ کی شکل میں روشن رہتیں ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ مگر ۔ ۔ ۔
مگر یہ باخبر ہونا بھی عذاب ہے ۔۔۔ ۔۔شاید بہت بڑا عذاب ۔ ۔ ۔ ۔ جو حقیقت کی شکل میں ہم پر نازل ہو رہا ہے ۔ ۔۔ ۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠ یارب ۔۔ ۔۔ یہ خوں کی بارش میں ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارے سفید کپڑے ۔۔ ۔ ۔ ہمارے سنہرے جسم ۔ ۔ ۔ ۔ داغدار ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔ اے رب ۔ ۔ ۔ اب برسا ۔ ۔ ۔ ۔ وہ پانی ۔ ۔ ۔ ۔ آنکھوں سے ۔ ۔ ۔ جس سے دھل جائیں ۔۔ ۔ ۔ جسم ہمارے ۔ ۔ ۔ تاکہ یہ کفن ۔ ۔ ۔ ۔ صاف ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم ۔۔ ۔ مٹی میں جا بسیں ۔ ۔ ۔ --------------------------------------------------------------------------------------------------------- درد کے لمحوں میں ، جو آنکھیں بھیگ جاتیں ہیں ان آنسوؤں کا رنگ ۔ ۔ نہ جانے کیوں لال ہوتا ہے 2007/6/6 ڈاکٹر زواگو ۔ ۔ انقلاب کی کہانیدنیا کی تاریخ انقلابات سے بھری پڑی ہے ، وہ ہزاروں سال پہلے کے یونانی ، ایرانی یا پھر ہندوستانی انقلاب ہوں ، یا مذہبی انقلاب ، یا پھر جدید دور میں ، فرانسیسی، جرمن ، امریکن یا روسی انقلاب ۔ ۔۔ ہر انقلاب ایک نیا نظام لاتا ہے ، اور ہر نئے نظام کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ انسانیت کی بقا اور سلامتی کے لئے بنا ہے ، مگر کچھ ہی عرصے کے بعد اس نظام میں درڑاڑیں پڑ جاتی ہیں ۔ ۔۔ ۔ یا پھر ڈال دی جاتیں ہیں ، اگر انسانی نظام ہو تو اسکا متبادل ڈھونڈ لیا جاتا ہے اور اگر آسمانی نظام ہو تو اسے تبدیل کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔غرض ہر دور میں نظام انقلاب سے بدلا جاتا ہے ، اور ہر تبدیلی میں مزاحمت ہوتی ہے ، اور ہر مزاحمت میں خون بہتا ہے اور ہر بہتے خون سے ایک کہانی جنم لیتی ہے جسے دنیا یاد رکھتی ہے ۔
ایسی ہی کچھ کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے ڈاکٹر زاواگو کی ، جسے ایک روسی ادب کا شاہکار بھی کہا جاتا ہے ، مجھے روسی ادب میں دستووہسکی کا شاہکار ناول “ایڈیٹ“ بہت پسند ہے وجہ ہے اسکا کردار پرنس میشکن ، جو ایک سیدھا سادا سا جوان ہے اور سینٹ پیٹسبرگ میں جب آتا ہے تو اپنی سادہ لوحی سے نستاسیا فلی پوانا سے لیکر ایدلایا تک کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے ، دستو وسکی کا یہ ناول زار کے دور کے اواخر کا بتاتا ہے مگر اس کی انتہا ہمیں “بورس پاسٹر نیک“ کے ناول ڈاکٹر زاواگو میں نظر آتی ہے ۔ ۔ ۔ میں دونوں ناولوں کو سامنے رکھوں تو پرنس میشکن ڈاکٹر زواگو سے زیادہ خوش قسمت نظر آتا ہے ۔ ۔ ۔ بے شک پرنس میشکن سب کچھ بھول جاتا ہے مگر اسکے پاس ادلایا رہتی ہے ، مگر زواگو ، سڑک پر بے بسی سے مر جاتا ہے ۔ ۔ ۔
بورس پاسٹرنیک نے یہ کہانی روسی میں لینن کے انقلاب کے زمانے میں بیان کی ہے ، اور انقلاب کو پنپتے ہوئے بھی بتایا ہے ، اس ناول پر جو شاہکار فلم بنائی گئی اسے ڈیوڈ لین نے ڈائریکٹ کیا تھا ، عمر شریف نے لازوال کردار کو اپنی اداکاری سے لازوال بنا دیا ۔ ۔ ۔ مجھے آج یہ فلم اپنے ملک کے حالات دیکھ کر یاد آئی اور اسکے کچھ ڈائلاگ بھی ۔ ۔ ۔ یہ فلم ١٩٩٤ تک روس میں دکھائی نہیں جا سکی تھی ، اور اس ناول پر بھی پابندی تھی ، ١٩٥٨ میں بورس پاسٹرنیک کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا تھا اس ناول پر مگر روسی حکومت کے دباؤ پر اسنے یہ ایوارڈ قبول نہیں کیا تھا ، اور شاید وہ اسٹالن کی شان میں کچھ نظمیں نہ لکھتا تو شاید وہ زندہ بھی نہ رہتا ۔ ۔ ۔ ۔ مگر اب ڈاکٹر زواگو کی شکل میں وہ رہتی دنیا تک زندہ رہے گا ۔۔ ۔
ایک لکھنے والا جب قلم اٹھاتا ہے تو وہ بہت کرب سے گذرتا ہے ، پہلے وہ یہ کرب کتاب میں بیان کرتا تھا پھر موسیقی اور شاعری میں اور اب فلم کی شکل میں بھی یہ کرب بیان کیا جاتا ہے ، اور خاصکر جب کوئی قوم کسی انقلاب کی طرف پیش قدمی کر رہی ہو یا اسے دھکیلا جا رہا ہو ، تو اس قوم کے ادیب و شاعر اس قوم کی بہتری کا سوچتے ہیں لکھتے ہیں ۔ ۔ اور گاتے ہیں ، اور تماثیلیں بیان کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ جس سے قوم کی رہنمائی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ ہم سب اس دور سے گذر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں میں فلم ڈاکٹر زواگو کے کچھ ڈائلاگ لکھ رہا ہوں ۔ ۔ اب آپ کا کام ہے کہ انہیں آپ کن معنیٰ میں لیتے ہیں ۔ ۔ مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ الفاظ کسی کے بھی ہوں ۔ ۔ حالات ہمارے ہی بیان کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
----------------------------------------
- ایک شخص کا ایندھن کے لئیے ترسنا ، دکھ دیتا ہے ، مگر کچھ لاکھ افراد کی ضرورت شہر کو آگ لگا دیتی ہے -جب ایندھن ختم ہو گیا تو اسنے وسائل کی تقسیم کرنے والوں سے پوچھا
کیا اب ہم اسی طرح سے سردیوں میں رہا کریں گے ؟ -اور جب کوئی امن کا سبق دیتا ہے تو انقلابی کہتا ہے
انہوں نے بچوں اور عورتوں کو جانوروں کی طرح بٹھا دیا جو روٹی مانگ رہے تھے ، اب کوئی بھی پُر امن احتجاج نہیں کرے گا
-
اور ایک نیک دل دشمن یوں کہتا ہے ۔ ۔
یہ جو لوگ آج میرے ساتھ میرے ساتھی بن کر آئے ہیں ، کل یہ ہی لوگ فائرنگ اسکواڈ کے ساتھ آئیں گے تمہارے اور تہمارے گھر والوں کے لئے ، بولو کیا میں تمہارا دشمن ہوں جو تم میرے ساتھ نہیں چلتے (یہ مجھے بہت پسند ہے)
- اور جب زواگو کو زبردستی اپنے ساتھ لے جایا جاتا ہے ، تو وہ پوچھتا ہے مجھے کہاں لے جا رہے ہو سرحد پر مگر سرحد تو بہت دور ہے جہاں سے ہمارا حکم نہیں مانا جاتا ، وہیں سے سرحد شروع ہو جاتی ہے -
اور جب وہ اپنے قدموں پر کھڑے رہنے کے قابل نہیں رہتے تو وہ وہ ہی کرتے ہیں جسکا خواب کوئی فوج سوچا کرتی ہے
یعنی وہ اپنے گھر واپس جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور وہی انقلاب کی شروعات ہوتی ہے اور ان الفاظ کا مزہ شاید انگلش میں زیادہ ہی ہے
In bourgeois terms, it was a war between the Allies and Germany. In Bolshevik terms, it was a war between the Allied and German upper classes - and which of them won was of total indifference. My task was to organize defeat, so as to hasten the onset of revolution. I enlisted under the name of Petrov. The party looked to the peasant conscript soldiers - many of whom were wearing their first real pair of boots. When the boots had worn out, they'd be ready to listen. When the time came, I was able to take three whole battalions out of the front lines with me - the best day's work I ever did. But for now, there was nothing to be done. There were too many volunteers. Most of it was mere hysteria. - مجھے تہماری شاعری بہت پسند ہے
شکریہ کیا تم یہ نہیں سمجھتے کہ یہ جذباتیت وغیرہ فضول ہیں اب ، کیونکہ روس میں نجی زندگی مر چکی ہے ، تاریخ نے اسے مار دیا ہے ، اور شاید اسی لئے تم ہم سے (اشتراکیت سے) نفرت کرتے ہو میں اس سب سے نفرت کرتا ہوں جو تم نے کہا مگر اتنی نہیں کہ تمہیں قتل کر دوں - اور جب ایک شخص کہتا ہے ، کہ ایک بری خبر ہے ،
کیا ہمارے کھیت جلا دئیے نہیں اس سے بھی بری ہے کیا اب چائے پر بھی پابندی ہے انہوں نے زار (روسی بادشاہ ) کو خاندان سمیت قتل کر دیا ہے یہ تو ہونا تھا ۔ ۔ ۔ مگر ایسے ؟؟؟؟ اور شاید یہ پنچ لائین ہے ۔ ۔۔
In the hour of victory, the military will have served its purpose - and all men will be judged POLITICALLY - regardless of their military record! Meanwhile, there are still White units in this area - the Doctor stays |
|
|