| Azhar Ul Haq 的个人资料اظہرالحق کی دنیا - Azhar...日志列表 | 帮助 |
|
|
2009/4/10 میری پہچان ، پاکستانزیادہ عرصہ نہیں گذرا مجھے اس صحرا میں (یعنی یو اے ای میں) ، گیارہ سال ہو گئے ہیں ، یعنی وطن سے بچھڑے گیارہ برس ہو چکے ہیں ، درمیان میں ہاتھ لگانے کے لئے جاتا رہا ہوں ، وہ بھی شاید اس لئے کہ میری فیملی ابھی ادھر ہی ہے ، ورنہ شاید وہ بھی نہ جاتا ، برسوں گذر جاتے ، میرا پاکستان سے تعلق صرف اتنا ہوتا کہ میرا پاسپورٹ پاکستانی ہے (یہاں ایسے بہت سارے لوگوں کو جانتا ہوں)، مگر پھر بھی آج میرے دوستوں میں یعنی قریبی دوستوں میں صرف پاکستانی ہی ہیں ، میرے لباس میں شلوار قمیض لازمی ہے ، میں کھانے پینے کے معمالے میں پاکستانی کھانے پسند کرتا ہوں ، میں اردو بولنا اچھا سمجھتا ہوں ، یعنی میں اندر اور باہر سے پاکستانی ہوں ، وہ ٢٣ مارچ ہو ١٤ اگست ہو یا پھر ٢٥ دسمبر ، میں آفس میں فخر سے اپنے سینے پر پاکستان کا پرچم سجاتا ہوں ، یہ چھوٹا سا دھاتی پرچم ہے ، جو آج سے ١٢ سال پہلے میں نے کراچی سے لیا تھا ، اور پھر جب میں ادھر آیا تو میں اپنے ڈیپارٹمنٹ کا دوسرا پاکستانی اور جس جگہ بیٹھ رہا تھا وہاں کا اکلوتا پاکستانی تھا ، پھر کچھ عرصے بعد ١٤ اگست آیا ، میں نے اور عمران نے فیصلہ کیا کہ اس بار ہم سارے اسٹاف کو مٹھائی بانٹیں گے ، اور پھر پاک غازی کے گلاب جامن ہم نے سارے اسٹاف کو کھلائے ، جن میں انڈین ، فلپینو، لبنانی اور لوکل سب کو حیرت ہوئی کہ ایسا کبھی نہ ہوا تھا ، خاصکر انڈینز کو ، اور پھر ١٥ اگست کو جب انڈیا کا یوم آزادی تھا تو انڈین دوستوں کو بھی ایسا ہی کرنا پڑا ، مگر کیا کرتے انڈیا کا جھنڈا نہ مل سکا سینے پر سجانے کے لئے تو میں نے انٹرنیٹ سے جھنڈے کو پرنٹ کیا اور انڈینز میں بانٹ دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ہماری پہچان پاکستان ہوئی ، پہلے شاید کوئی اپنی پہچان نہ کروا سکا تھا ، پھر یہ سلسلہ چل نکلا ، حتہ کہ اب جب ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں سب پاکستانی ہیں ، تو بہت اچھا لگتا ہے ، کہ ہماری پہچان ہمارا وطن ہے ۔ مگر ۔۔۔۔۔ اب ہم سبکو ڈر لگتا ہے ، کیوں ۔ ۔ ۔ ہم دھشت گرد ہو چکے ہیں ، بیرون ملک ہماری پہچان اب دھشت گرد کے نام سے ہوتی ہے ، مجھے آج بھی ایک انڈینز دوست کی بات یاد آتی ہے کہ اظہر تم لوگوں کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ پاکستانی دھشت گرد بھی ہو سکتے ہیں ، مگر اب میں کیا جواب دوں کسی کو ، ساری دنیا ہمیں دھشت گرد کہ رہی ہے ، میں لاکھ کہوں کہ یہ ہمارے خلاف سازش ہے ، مگر کون مانے گا ، جب میرے اپنے ہم وطن ہی نہیں مانتے ، جی ہاں کچھ اپنے ہی لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان ہی غلط ہے ، کچھ نے تو یہاں تک کہ دیا کہ اب جب پاکستانی پاکستان نہیں جانا چاہتے تو دوسرا کیوں کوئی جائے گا ، وہ پہچان کو چھپانے لگے ہیں ، انہیں پاکستان کے نام سے شرمندگی ہوتی ہے ، مگر کیا واقعٰی ہی ایسا ہی ہے ، قصور پاکستان کا ہے یا چند ناعاقبت اندیش حکمرانوں کا ۔ ۔ ۔ خدا رہ پاکستانی رہیے پاکستان کی نمائندگی کیجیے پاکستان سے آپ ہیں پاکستان آپ سے ہے ، پاکستان آپکی پہچان ہے
اور یہ بات بھی یاد رکھیے کہ آج جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ صرف اسلئے ہو رہا ہے کہ ہم اپنی پہچان کھو رہے ہیں ، ہم بھول چکے ہیں کہ یہ وطن کیوں حاصل کیا گیا تھا ، خاصکر ہم لوگ جو بیرون وطن اپنے وطن کے سفیر ہیں ، ہمارے اوپر دھری ذمہ داری ہے ، کہ ہم اپنے وطن کا مقدمہ لڑیں ۔۔۔ اور ثابت کریں کہ ہم وہ نہیں ہیں جو ہمیں پیش کیا جا رہا ہے ، شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ دینے سے کچھ نہیں ہو گا ، ہمیں بولنا پڑے گا ، اپنے اردگرد کے لوگوں سے ، اپنے آپ سے ۔ ۔ ۔ اور اپنے ہم وطنوں سے ۔ ۔ ۔
سیماب اکبرآبادی کہ یہ قطعہ جو انہوں نے ١٩٤٧ میں کہا تھا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کیوں بنا
کارواں ملت کا ، آ پہنچا زمین پاک پر
چاند تارہ جگمگایا پرچم اسلام کا بٹ گیا ہندوستاں ، کعبہ وفا کا بن گیا اور آخر پھر گیا ، رُخ گردش ایام کا خدارہ جو گردش ایام کا رخ اس وقت تک بدل چکا ہے ، اسے سمجھیے اور اقبال کی زباں میں بات یاد رکھیں
اے ارض پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہم
ہے خوں تیری رگوں میں اب تک رواں ہمارا اور یہ بھی حقیقت ہے نا ۔ ۔ ۔
سالار کارواں ہے، میرِ حجاز اپنا
اس نام سے باقی آرام جاں ہمارا 2008/11/22 معجزے آج بھی ہوتے ہیںمجھے نہیں معلوم کہ بات کیسے شروع کروں ، ہاں اس پروردگار کا شکر ہے جس نے مجھے اس مشینی دور میں معجزے دیکھنے کا موقع دیا اور ایسے لوگوں سے ملوایا جن کے بارے میں صرف سنا تھا یا پڑھا تھا ۔۔۔۔۔
پچھلے چالیس پچاس دن میرے لئے کیسے گذرے میں جانتا ہوں یا میرا اللہ ۔ ۔ ۔ ۔ اس دن میں آفس سے گھر آ رہا تھا کہ میری بیگم کی ڈاکٹر کا فون آیا ، کہ آپ کی وائف کی رپورٹس آئیں ہیں اور اچھی نہیں ہیں ، آپ اکیلے مجھ سے مل لیں ۔۔ ۔ اور جب میں ان سے ملا تو بتایا کہ آپ کی وائف کو کارسینوما ہے جسے عرف عام میں بریسٹ کینسر کہتے ہیں ، اور مجھے فوراً آپریشن کروانا ہو گا کہ کینسر اپنی جڑیں پھیلا رہا ہے ۔ ۔ ۔ میں صحیح معنوں میں کنگ ہو کر رہ گیا ۔ ۔ ۔ میں کیسے بیگم سے کہوں گا کہ اسے کیا ہے میں جانتا ہوں کہ وہ بہت جلدی دل چھوڑ دیتی ہے چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لے لیتی ہے اور اتنی بڑی بات ۔ ۔ ۔ اور پھر لفظ سرطان ہی ایسا لفظ ہے جو خود ہی ایک خطرناک ہے ۔ ۔ ۔ بہرحال میں نے بیگم کو بتانے سے پہلے اپنی چھوٹی بہن جو پنڈی میں ہے اور ڈاکٹر ہے ، اس کو بتایا اور رپورٹس کو ای میل کیا ۔ ۔ اسنے وہاں کے ڈاکٹرز سے مشورے کے بعد کہا کہ جتنی جلدی ہو سکے آپریشن کرنا ہے اور ایک ایک دن قیمتی ہے ۔ ۔ ۔ میں اس پردیس میں اکیلا کیا کرتا یہاں یو اے ای میں فیملی میں سے کسی کو بلانا بہت مشکل تھا اور اوپر سے میری فنانشل پوزیشن بھی بہت خراب تھی ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ آپریشن اور اسکے بعد کے پروسیجرز ۔ ۔ ۔ مجھے چار ماہ سے ایک سال تک کے علاج کا کہا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر میرے بچے کو کون سنبھالتا میری نوکری کا کیا ہوتا ۔ ۔ ۔ بے شک میرے باسز اچھے ہیں انہوں نے سب کچھ سمجھا مگر نوکری تو نوکری ہی ہے ۔ ۔ ۔ سو میں نے پاکستان میں آپریشن کروانے کا فیصلہ کیا ۔ ۔ ۔ اور اپنی بہن کے تعاون سے پاکستان میں اسکا ارینج کر لیا ۔ ۔ ۔ بیگم کو بتایا کہ اس گلٹی کو نکالنے کا آپریشن کرنا پڑے گا اور کیونکہ بعد میں مشکل ہو گی ۔ ۔ ۔ مگر پھر بھی نہیں بتایا کہ یہ کینسر ہے ۔ ۔ ۔ اگر میں بتا دیتا تو شاید وہ آپریشن کے لئے تیار ہی نہ ہوتی ۔ ۔ ۔
اسی دوران میں یہاں (شارجہ) میں ایک سرجن سے بھی کنسلٹ کیا تو انہوں نے بھی فوری آپریشن کا کہا ۔ ۔ ۔ اور پھر میں ٢٨ اکتوبر کو پاکستان آ گیا ۔ ۔ ۔ جہاں ٢٩ اکتوبر کو سب ٹسٹ دوبارہ کئیے گئے اور پتہ چلا کہ کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے اور ڈاکٹرز نے ٣٠ اکتوبر بروز جمعہ المبارک کو دوپہر ساڑھے تین بجے آپریشن شروع کیا گیا ، تین سرجن ڈاکٹر تین ڈاکٹر اور چار امدادی افراد نے اس آپریشن کو انجام دیا میری بہن نے بھی آپریشن کو اسسٹ کیا گو ڈاکٹروں نے منع کیا تھا مگر ۔ ۔ ۔ اس نے نہیں مانا ۔ ۔ ۔ دو سے ڈھائی گھنٹے کا آپریشن کہا گیا تھا مگر آپریشن چھے گھنٹے طویل ہو گیا ۔ ۔ ۔ وہ چھے گھنٹے میں نے اور میری فیملی نے کیسے گذارے آپریشن تھیٹر کے باہر ۔ ۔ ہمیں ہی معلوم ہے درمیان میں جب میری بہن نے بتایا کہ جتنا سوچا تھا اس سے کہیں زیادہ بڑا کینسر ہے تو ہم نے اللہ کے آگے اپنی جبینیں جھکا دیں ۔ ۔ ۔ جس سے جو ہوا وہ پڑھا ۔ ۔ ۔ دنیا میں جہاں جہاں میرے دوست تھے رشتے دار تھے انہیں فون کر کہ دعا کے لئے کہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ اتنا لمبا انستھیزیا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے اور پھر میری بہن جب آپریشن تھیٹڑ سے نکلی اور مجھ سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کہ رونے لگی تو میرا دل جیسے بند ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اسکے منہ سے نکلا کہ اللہ نے معجزہ کر دیا اتنا مشکل آپریشن کامیاب ہو گیا ۔ ۔ ۔ تو میں وہیں سجدے میں گر گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہم سب نے سجدہ شکر ادا کیا اور بیگم کو آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ انہیں ہوش میں لایا گیا تھا مگر ابھی تک وہ انستھیزیا کے اثر میں تھیں خون کی بوتلیں لگیں تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر اگلے چوبیس گھنٹے ہمارے آنکھوں آنکھوں میں گذر گئے ۔ ۔ ۔ اور پھر جب وہ تک وہ اچھی طرح سے ہوش میں نہیں آئیں مجھے ان سے نہیں ملنے دیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔
اور پھر ٹیسٹ پے ٹیسٹ اور جانے کیا کیا ۔ ۔ ۔ اگر ایک قدم گھر میں تھا تو دوسرا قدم ہسپتال میں ۔ ۔ ۔ میں سلام کرتا ہوں ان ڈاکٹرز کو جنہوں نے یہ آپریشن کیا ۔ ۔ ۔ خاص کر ڈاکٹر شوکت جو شہریار ہسپتال کے جنرل سرجن ہیں ، اور دوسرے ڈاکٹر حنیف جو مین سرجن ہیں اور پھر فزیشن ڈاکٹر ابرار ۔ ۔ ۔ جنکے مخصوص انداز نے میری بیگم کو بہت حوصلہ دیا ۔ ۔ ۔ ان سب کے علاوہ ڈیوٹی ڈاکٹرز ، ڈاکٹر قاسم اور سسٹر انیتا نے بھی ہمیں ہماری پریشانی کو شئیر کیا ۔ ۔ ۔ میری سسٹر کے ہسپتال کے ایم ڈی ، ڈاکٹر حسنین ، جنہوں نے بھائیوں کی طرح میرا ساتھ دیا ۔ ۔ ۔ اللہ انہیں اسکی جزا دے
پھر ٨ نومبر کو میں نے اپنے ابو کی قبر پر حاضری دی ، اگلے دن انکی برسی تھی ، میں ذاتی طور پر مشکور ہوں صاحبزادہ ساجد الرحمَن صاحب جو بیہار شریف کے گدی نشین ہیں اور پاکستان کے بہت بڑے اسلامی ریسرچ اسکالر بھی ہیں ، انکی ابو کی برسی پر خصوصی شرکت کی اور ہمارے لئے دعائے خیر کی ۔ ۔ ۔ (میری بیگم ان سے بعیت بھی ہیں )
اور پھر اگلے دن یعنی ١٠ نومبر کو بیگم کو ڈسچارج کر دیا گیا اور اسی رات میری دبئی کے لئے فلیٹ بھی تھی ، آفس میں میری بہت کمی ہو رہی تھی بہت سارے کام رک گئے تھے ۔ ۔ ۔ سو میں واپس آ گیا ۔ ۔ کیونکہ مجھے خرچے کا بھی انتظام کرنا تھا ۔ ۔ ۔
مجھے پتہ تھا کہ آپریشن تو آغاز تھا اب مزید مشکل مرحلہ آنے والا تھا جسکے لئے ڈاکٹرز نے بیگم کو تیار کرنا تھا اور مزید ٹیسٹ لینے تھے اور پھر انہیں ٹیسٹ کے درمیان ایک اور چیز کا پتہ چلا کہ بیگم کے پتے میں پتھری ہے ۔ ۔ ۔ اور اسکا علاج صرف از صرف پتے کا آپریشن ہے ۔ ۔ یا خدایا ایک اور آپریشن ۔ ۔ ۔ بیگم نے دل ہی چھوڑ دیا ۔ ۔ ۔ گھر میں ایک بار پھر فضا بدل گئی میری بھی زندگی میں تناؤ بڑھ گیا ۔ ۔ ۔ کام میں کیا دل لگاتا ۔ ۔ صبح شام بس تسلیاں دے رہا تھا خود کو اور گھر والوں کو بھی ۔ ۔ ۔ اور بیگم ایک بار پھر ہسپتال میں داخل ہو گئیں پتے کے آپریشن کے لئے ، ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ کیمیوتھراپی اور ریڈی ایشن سے پہلے آپریشن کرنا ضروری ہے کیونکہ کیمیو تھراپی سے انسان میں کمزوری ہو جاتی ہے اور پھر بہت مشکل ہو جائے گا آپریشن کرنا ، بہت سارے ٹیسٹ کے بعد گذشتہ جمعے کا دن آپریشن کا طے پا گیا (٢١ نومبر) ۔ ۔ ۔
اور پھر اللہ نے ہم پر اپنا کرم کرنا شروع کیا ، جمعرات کو میری ممانی نے ایک شخص کا پتا بتایا اور وہ شخص آیا اور اسنے آکر بیگم کو دم کیا اور پانی دیا ۔ ۔ ۔ اور جمعے والے دن ہی انہوں نے پانی پیا اور انکا الٹرا ساؤنڈ بدل گیا ۔ ۔ جی ہاں وہ پتھر ۔ ۔ ریزہ ریزہ ہو گیا اور ڈاکٹرز حیران رہ گئے اور ۔ ۔ ہر طریقے سے چیک کیا گیا ۔ ۔ ۔ مگر دنیا کی سائنس کے پاس کوئی جواب نہ تھا اس اللہ کے کلام کی شفا کا ۔ ۔ ۔ ۔ اور ڈاکٹرز کو کہنا پڑا کہ اب آپریشن کی ضرورت نہیں
بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوئی ، اگلے دن یعنی آج (٢٢ نومبر) کی صبح کو بیگم کا بون اسکین کیا گیا ، جس میں کینسر کا ایک بھی سیل نہیں تھا ۔ ۔ ۔ یعنی بیگم کو اب شاید کیمیو تھراپی کی بھی ضرورت نہیں ۔۔ ۔ ۔ یہ سب دو دن میں ہوا ۔ ۔ ۔ دو دن پہلے کی رپورٹز اور دو دن کے بعد کی رپورٹز میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ہم سب سجدے میں چلے گئے اس رب کی جو ہر چیز پر قادر ہے ۔ ۔ ۔ ڈاکٹرز نے اپنے یقین کے لئے بار بار ٹیسٹ کئے مگر اللہ کی سائنس کے آگے اس دنیا کی سائنس کچھ بھی نہیں تھی ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی جواب نہیں تھا ۔ ۔ ۔ اور اللہ نے یہ شفا ایک عام سے آدمی کے ہاتھ میں رکھی تھی ، جسکے چہرے پر نہ تو داڑھی تھی نہ ہی وہ کوئی بہت اونچا نظر آتا تھا ۔ ۔ ۔ وہ عام لگتا ہے ۔ ۔ ۔ اور وہ شخص ہے جب ہم نے اسے کچھ دینے کی کوشش کی تو اسکی آنکھوں میں آنسو تھے وہ کہنے لگا کہ اگر میں انہیں ہاتھ بھی لگاؤں گا تو شاید اللہ مجھ سے یہ قدرت چھین لے ۔ ۔ اسنے ہمیں شکرانے کے نفل پڑھنے کا کہا اور صدقے کا کہا ۔ ۔ میں آج جب ان سے بات کر رہا تھا تو میرے منہ سے آواز نہیں نکل پا رہی تھی ۔ ۔ ۔ وہ شخص جو ہمارے لئے مسیحا بن کہ آیا ۔ ۔ ۔ اور وہ خود بھی رو رہے تھے اور کہ رہے تھے کہ یہ سب اللہ کا کرم ہے جس نے انہیں یہ توفیق دی ۔ ۔ ۔ اور پھر میں نے ان سے اجازت لی کہ میں انکے نام کو دوسروں تک پہنچاؤں تا کہ دنیا بھر کے لوگ انکی دعاؤں سے مستفیض ہو سکیں ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے کہا ضرور ۔ ۔
تو دوستو اس اللہ کے دوست کا نام ہے عابد کیانی ، اور انکا فون نمبر ہے -5127632 -0092333 مجھے یقین ہے ضرورت مند انہیں فون کر کہ ضرور مستفیض ہونگے ، اور میں یہ بھی یقین رکھتا ہوں کہ دوست ان کے لئے دعا کریں گے اور مجھے بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا ۔ ۔ ۔ ۔ 2008/10/6 شکر ہے خدایا تیرااے خدا تیرا جتنا شکر کیا جائے کم ہے ،کہ میرے پاکستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس سے متاثر صرف عام لوگ ہو رہے ہیں
اللہ تیرا کرم ہے کہ ہمارے خواص جن میں ہمارے صدر سے لیکر عام وزیر مشیر تک ہیں، محفوظ ہیں
اللہ تیرا کتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ میرے امراء کو کسی چیز کی کمی نہیں ، وہ اسی پاکستان میں جہاں لوگ آٹے اور روٹی کے لئے بھٹکتے پھر رہے ہیں ، میکڈونالڈ اور کے ایف سی جیسے بین الاقوامی ذائقوں سے مستفیض ہو رہے ہیں
اے اللہ تو واقعٰی ہی رحیم و کریم ہے ، کہ میرے ملک کے افسران ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں رہتے ہیں ، انہیں زمانے کی کسی گرم سرد کا کوئی اثر نہیں ۔ ۔ ۔
اے اللہ تیرا کتنا کرم ہے ہماری افواج پر کہ وہ خود بھی شہید ہو رہے ہیں اور دوسروں کو بھی شہادت کے مرتبے پر فائض کرا رہے ہیں ، یقیناً اب جنت کی آبادی میں پاکستانیوں کی خاطر خواہ تعداد ہو گئی ہو گی اور ہو سکتا ہے وہاں پر بھی ایک پاکستان بن جائے جنتی پاکستان
اے میرے رب تو کتنا ہمارا خیال رکھ رہا ہے کہ مشرق سے مغرب تک ہمارے چرچے ہیں ، ہر لب پر ہماری ہی باتیں ہیں ۔۔ ۔ کل تک جس پاکستان کو کوئی جانتا نہیں تھا امریکہ میں آج اسی پاکستان کی لاشوں پر امریکی الیکشن لڑنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔
اے اللہ ۔۔ ۔ تو نے ہم پاکستانیوں کو کتنا اتحاد دیا ہے ، کہ ہم کم سے کم ایک چیز پر تو متفق ہیں کہ ہمیں اپنی اپنی زندگی گذارنی ہے کسی کا ساتھ نہیں دینا اور کبھی ضرورت پڑے تو اپنے آپ کو بھی نہیں پہچاننا ۔ ۔ ۔
اے میرے عظیم رب ۔ ۔ ۔ تیرا کتنا کرم ہے ہم پر ۔ ۔ ۔ کہ ہمیں اس کی کوئئ پروہ نہیں کہ ہمارا کل کیسا ہو گا ۔۔ ۔ تو نے ہمیں کل کی فکر سے آزاد کر دیا ہے ۔ ۔ ۔
اے میرے پروردگار ۔ ۔ ۔ شکر ہے تیرا کہ تو نے ہمیں اتنا بہادر بنا دیا ہے کہ اب ہمیں کسی کے مرنے پر کوئی دکھ نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی حادثہ ہمارے دلوں پر زیادہ دیر اثر رکھتا ہے ۔ ۔ ۔
اے اللہ ۔ ۔ ۔ تیرا لاکھ لاکھ شکر کہ تونے ہمیں اسلام کے قلعے میں پیدا کیا ۔ ۔ ۔ ایک ایسا قلعہ جس کی دیواریں نہیں ۔۔ ۔ جس کی حفاظت بس تو ہی کرتا ہے ۔ ۔ ۔
کس کس کا شکر ادا کروں اے میرے رب ۔ ۔ ۔ ۔ مگر کیا کروں کبھی کبھی ۔ ۔ ۔ یہ بزدل لوگ ۔۔ ۔ ۔ یہ ناسمجھ غریب ۔ ۔ ۔ یہ جاہل پڑھے لکھے ۔ ۔ ۔ تیری ان نوازشوں کو ہمارے عظیم رہنماؤں کی غلطیاں بتاتے ہیں ۔ ۔ ۔
کیا ایک سید ۔ ۔ یوسف رضا گیلانی ۔ ۔ برا آدمی ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ جو اس ملک کا وزیر اعظم ہے
کیا ایک مظلوم شوہر ۔ ۔ ۔ جسکی بیوی کو بھرے پرے ہجوم کے سامنے دن دھاڑے قتل کیا گیا ہو ۔۔ ۔ وہ دکھوں کو نہیں سمجھ سکتا ۔ ۔ ۔ وہ اس ملک کا صدر ہے ۔ ۔ ۔
کیا ۔ ۔ ۔ وہ شخص ۔ ۔ ۔ جو دن رات ۔ ۔ ۔ ملک کی عظیم قیادت کو بچانے میں لگا ہو ۔ ۔ ۔ جھوٹا ہو سکتا ہے ؟ ۔۔۔ ۔ جو اس ملک کا وزیر داخلہ ہے ۔ ۔ ۔
کیا ۔ ۔ ۔ وہ شخص ۔ ۔ ۔ جسنے برسوں “غیر ملک“ میں جلا وطنی کی زندگی گذاری ۔ ۔ ۔ ہم وطنوں کے دکھ سے ناآشنا ہو گا ۔ ۔ جو اس ملک کی دوسری بڑی پارٹی کا رہنما ہے ۔ ۔ ۔
کس کس کی بات کروں کس کس کا نام لوں ۔ ۔۔ ۔ انکے کارناموں کو کیسے بیان کروں ۔ ۔ ۔
اے میرے اللہ تیرا کتنا کرم ہے ہم پر کہ ایسے نایاب گوہر ہمارے رہنما ہیں ۔ ۔ ۔
میرا سر تو سجدے سے اٹھتا ہی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2008/9/28 اجتماعی توبہماہ رمضاں آیا اور گیا ۔۔ ۔ مسلمانوں نے عبادتیں کیں دعائیں مانگیں اپنے اچھے مستقبل کی اپنی اولاد اور اپنی صحت کی ہر طرح کی ۔ ۔ ۔ ہاں ساتھ ساتھ مجاہدین کی کامیابی کی بھی دعائیں مانگیں گئیں ۔ ۔۔ پتہ نہیں یہ مجاہدین کون ہیں کہاں ہیں ۔ ۔۔ ۔ اب رمضان جب ختم ہو رہا ہے تو عید کی خوشیاں لا رہا ہے ۔ ۔ ۔ میں سوچ رہا ہوں کہ کیا واقعٰی ہی اس عید پر ہمیں خوشیاں منانی چاہیں ؟
کل پاکستان میں ستائیسویں شب تھی ، تمام چینلز نے اجتماعی دعا کروائی ۔ ۔ ۔ لوگ روتے ہوئے دیکھے گئے ۔ ۔ ۔ کچھ لوگوں نے اجتماعی توبہ بھی کی ۔۔ ۔ مگر کیا واقعٰی ہی ایسا ہی کیا ہے ہم نے ۔ ۔ ۔ ؟؟؟ کہا جاتا ہے کہ ہمیں نیت پر شک کرنے کا کوئی حق نہیں ، بات تو ٹھیک ہے مگر ۔ ۔ کیا کریں ۔۔ میں برسوں سے ایسی ہی دعائیں سنتا دیکھتا اور مانگتا آ رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مگر کوئی دعا بھی اثر نہیں کرتی ۔ ۔ نہ قبول ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ ہر رمضان کے بعد ہم پھر وہ ہی شب و روز میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ رمضان ۔ ۔ ۔ ہمارے لئے بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی بچے کو چھٹی کا دن اور خاصکر جب آدھی چھٹی پوری ہو جاتی ہے ۔ ۔۔ ۔ ۔ اس دفعہ جو لفظ بار بار سننے میں آیا وہ تھا اجتماعی توبہ ۔ ۔ ۔ میں نے مسجدوں میں دیکھا لوگوں نے کی توبہ ۔ ۔ ۔ مگر صرف ان کمزوروں نے ان معذوروں نے جن کے پاس شاید گناہ کرنے کا وقت ہی نہیں ہے اور نہ ہی طاقت ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو گناہ وہ کر رہے ہیں انہیں وہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مجھے معلوم ہے بہت سارے میری اس بات سے متفق نہیں ہونگے مگر جس تن لاگے وہ ہی جانے ۔ ۔ ۔ مجھے سب سے زیادہ اعتراض شاید عامر لیاقت پر ہوتا مگر کیا کروں وہ تو میڈیا کا بندہ ہے ، اسے شو آف کرنا ہی پڑتا ہے ، مگر اس ائیر کنڈیشنڈ ہال میں بیٹھے سیکڑوں لوگ جو رو رہے تھے ۔۔ ۔ کاش ان میں سے ایک بھی ۔۔ ۔ وہ سب کچھ کر پائے جو وہ مانگ رہا تھا ۔ ۔ ۔ کاش رمضان کو صرف عبادتوں کا مہینہ نہ سمجھا جائے بلکہ آنے والے سال کے لئے زندگی گذارنے کی پریکٹیس ہے ۔ ۔ ۔ مگر کیا کریں ۔ ۔ ہم تو ایسے ہی ہیں ۔ ۔ ۔ ہمیں ایک دم سے سب کچھ چاہیں ۔ ۔۔ اپنی غلطیوں کا مداوا بھی اور زندگی کی آسائیش بھی ۔ ۔ ۔ ہمارے ذھنوں میں بٹھا دیا گیا ہے ۔۔ ۔ کہ ہم نے اس مہینے کی عبادت سے اگلے سالوں کی عبادتوں کا اسٹاک کر لیا ہے ۔ ۔ اس مہینے رو دھو کر آنے والے دنوں میں صرف ہنسے کی گارنٹی لے لی ہے ۔ ۔ ۔ اس مہینے میں جو پڑھ پڑھا لیا ہے جو دے دلا دیا اس نے ہمیں آنے والے گیارہ مہینوں کی گارنٹی دے دی ہے ۔ ۔ ۔ ابھی جو توبہ کی ہے ۔ ۔ وہ اب آئیندہ نہیں تو کم سے کم اگلے رمضان تک ویلیڈ ہے ۔ ۔ ۔ یہ ہماری سیف شیلڈ ہے جس نے ہمیں وہ سب کرنے کی اجازت دے دی ہے جو ہم رمضان میں کرنے سے توبہ کرتے رہے ۔ ۔ ۔
ذرا ایک بار بس ایک بار اپنے آپ کے سامنے بیٹھ کر اپنی اسکروٹنی تو کریں ۔ ۔ ۔ کیا ہمیں بھوکے کی بھوک کا اندازہ ہوا ۔ ۔۔ کیا پیاسوں کی پیاس کا اندازہ ہوا ۔ ۔ ۔ کیا نیند کی لذت کو قربان کر کہ ہم نے ان جاگتی آنکھوں کو جانا ہے جن کی نیند اور سکھ چین لوٹ لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ کیا اعتکاف کی صورت میں بیٹھ کر ہمیں اندازہ ہوا ہے کہ صرف اور صرف اللہ کے سہارے لوگ کیسے رہ رہے ہیں ؟؟ اور کیا ہم نے اپنے مال کو ایسے مصرف میں دیا ہے کہ جس سے دنیاوی منفعت کی توقعٰی نہیں ؟؟ کیا ہم نے کسی انجان شخص کو گلے لگایا ہے اسکے آنسو پونچھے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
اگر ایسا کچھ نہیں کیا ۔ ۔ اور اگر کیا بھی ہے تو صرف رمضان کے احترام کی وجہ سے مجبوراً تو پھر ہم نے کچھ نہیں کیا ۔ ۔۔ جیسے ایک نماز سے دوسری نماز کے درمیان اللہ کی اصل عبادت اور اسکی اطاعت کا امتحان ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ اسی طرح ایک رمضان سے دوسرے رمضان کے درمیان بھی اس سے زیادہ کٹھن امتحان ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
آج ہماری پوری قوم اجتماعی توبہ تو کر رہی ہے ، مگر کیا واقعٰی ہی یہ توبہ آنے والے دنوں میں قائیم رہے گی ۔ ۔ ۔ کیا اس توبہ کو کرنے کی زیادہ ضرورت ہمارے امراء ، وزراء اور افسران کو عام لوگوں سے زیادہ نہیں ؟ میں نے کسی بھی دعا میں امراء اور وزراء کو اجتماعی توبہ کرتے کیا دعا مانگتے نہیں دیکھا ۔۔ ۔ شاید انہیں اسکی ضرورت ہی نہیں ۔ ۔۔ ۔!!!!!
میں نہیں کہتا کہ آپ کوئی عہد کریں اپنے آپ سے ۔ ۔ ۔ ہر انسان اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے ، مگر اب ہمیں انفرادیت سے ہٹنا پڑے گا ۔ ۔ ۔ میرا انفرادی عمل کتنے ہی اجتماعی عملوں کو متاثر کرتا ہے یہ میں بھی جانتا ہوں آپ بھی ۔ ۔ ۔
یقین کریں جس دن ہم نے اجتماعیت کو سمجھ لیا ہم دنیا کی بہترین قوم ہونگے ، آئیے ہم اللہ سے یہ وعدہ کریں کہ ، عبادات ہماری صرف ہمارے لئے ہونگی اور اعمال دوسروں کے لئے ۔ ۔ ۔ کیونکہ ہمارے اعمال سے ہی دوسرے متاثر ہوتے ہیں اچھے بھی برے بھی ۔ ۔ ۔ یاد رکھیے اللہ شاید ہماری عبادات کی کوتاہی کو معاف کر دے مگر ہمارے عملوں کو جنکی وجہ سے دوسرے متاثر ہوتے ہیں کبھی معاف نہ کرے ۔ ۔ ۔ ۔ چاہے ہم کتنی ہی توبہ کیوں نہ کر لیں ۔ ۔ ۔ اس رمضان کو ہمیں اپنا ٹریننگ پیریڈ سمجھنا چاہیے اور اس ٹریننگ کو آنے والے ہر پل میں یاد رکھنا چاہیے ۔ ۔ ۔ تا کہ اگلے رمضان میں ہم اللہ کے آگے عبادات کا “انبار“ لگائیں ۔ ۔ ۔ تو اسکے ساتھ یہ سکون بھی ہو کہ ہم نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ ہمارے ذاتی یا اجتماعی عمل سے کسی کو دکھ نہ ہو نہ نقصان ہو ۔۔ ۔ ۔ یقین کریں پھر توبہ ضرور قبول ہو گی ۔ ۔ ۔ ۔ اور حالات بھی بدلیں گے ۔ ۔ اور عید کی خوشیاں بھی سچی ہو جائیں گیں ۔ ۔ ۔
اللہ مجھے ، آپکو اور ہم سب کو معاف کرے ، اور ہمیں توفیق دے کہ ہم ایسے مسلمان بنیں کہ جیسا اللہ ہمیں بنانا چاہتا ہے ۔۔ ۔ (آمین) 2008/9/14 ہمارا اپنا رنگزیادہ عرصہ نہیں ہوا ہماری فلموں میں بدمعاشوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ، جو جتنا بڑا بدمعاش ہے اتنا ہی بڑا ہیرو ہے ، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ٹرینیڈ شاید سلطان راہی کی مولا جٹ نے شروع کیا تھا مگر بہت سارے لوگ ہماری خاموش فلموں کے مظہر شاہ کو بھول جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ہمارے یہاں کی پہلی فلم (یعنی ہندوستان کی ) راجہ ہریش چندر تھی ، جو خاموش فلم تھی ، یہ ایک ہندو راجے کی کہانی تھی ۔ ۔ ۔ مگر ہماری پہلی بولتی فلم عالم آرا تھی یہ ایک اسلامی مذہبی فلم تھی ۔ ۔ ۔۔ جسکی قوالیاں آج بھی مقبول عام ہیں ۔۔ ۔ پھر تو جیسے برصغیر میں کہانیوں کا طوفان آ گیا ۔۔ ۔۔ کبھی یہ مذہبی تھیں کبھی اخلاقی کبھی صرف ناچ گانا ۔ ۔ ۔ مگر سیاست کو اس میڈیا میں اتنا ڈسکس نہیں کیا گیا ، حتہ کہ آزادی کی تحریک بھی فلموں کی کہانیوں کو ایسے متاثر نہ کر سکی جیسے دوسری جنگ عظیم کے دوران ہالی وڈ نے پراپگنڈا فلموں کا انبار لگا دیا ۔ ۔ ۔ مگر ہمارے ہاں کے لوگ ۔ ۔ ۔ جوار بھاٹا ، انمول گھڑی ، جگنو یا بغداد کے چور اور مغلیہ سلطنت کے کارناموں پر ہی ڈبے کے ڈبے خرچتے چلے گئے ۔ ۔ ۔
برصغیر میں آزادی کے بعد جب ہندوستان اور پاکستان میں جذبات عروج پر تھے ، بیداری اور گنگا کی دھرتی جیسی فلموں کا آغاز ہوا ۔ ۔ ۔ ہندوستان میں مدر انڈیا اور پاکستان میں جاگتے رہو جیسی فلمیں بھی بنی ۔ ۔ ۔ مگر سیاست کا صرف ایک ٹچ دیا جاتا تھا ، مگر پھر برصغیر میں سیاست کا عروج ہوا اور بھارت میں لیڈر اور پاکستان میں سیاست جیسی فلمیں بھی بنیں ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان میں اسلام کے بارے میں فلموں کا دور آیا اور بھارت میں سیکولر ازم کا پرچار ہونے لگا ۔ ۔ ۔
فلموں میں پیغام دیا جانے لگا ۔ ۔ ۔ ۔ مگر ہماری قوم نے اس پیغام کو تفریح کی شگر کوٹڈ گولی سمجھ کر نگل لیا اور سب بھول گئے ۔ ۔ ۔ جب ٹی وی آیا ۔ ۔ ۔ تو فلم کی روایت کو اپنایا اور تھیٹر کا انداز بنایا ۔ ۔ ۔ ۔ قوم کو پہلے تفریح کے لئے باہر نکلنا پڑتا تھا اب گھر میں ہی سب کچھ آ گیا ۔ ۔۔ ۔ فلم کا اثر دو تین گھنٹے کا ہوتا تھا ، مگر ٹی وی کی سیریلز نے اسے ہفتوں پر محیط کر دیا ۔ پاکستان ٹی وی نے اردو بولنے اور سمجھنے والوں کے دل موہ لئیے ۔۔ ۔ ۔ سعادت حسن منٹو ہو یا خواجہ ناظم الدین جیسے کہنہ مشق فنکار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مرزا غالب بندر روڈ پر اور تعلیم بالغاں جیسے طنز ہوں یا پھر خدا کی بستی اور انکل عرفی جیسی سماجھی کہانیاں ۔ ۔ پاکستان کے ٹی وی نے معاشرے کا عکس منعکس کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر فلم اور ٹی وی میں واضح فرق آ گیا ۔ ۔۔ ۔ کہاں زرقا ، شہید جیسی فلموں کا زمانہ تھا اور کہاں ۔ ۔ ۔ فلم کو مکمل طور پر رومانس کے دور میں لے آیا گیا ۔ ۔ ۔ بے شک ارمان ، کنیز اور سات لاکھ اور آئنیہ جیسی فلمیں ٹی وی کے دور کی ہیں مگر یہ ٹی وی کے سحر کو کم نہ کر سکیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور ٹی وی ہمارے معاشرے کے دکھ سکھ کا ساتھی بن گیا ۔ ۔ ۔
مگر یہ کیا ۔ ۔ ۔ ہوا ۔ ۔ ادھر وی سی آر آیا ادھر ہماری قوم سینما سے دور ہونے لگی ۔ ۔ ۔ ۔ اور بڑی سکرین کا مزہ چھوٹی سکرین میں سما گیا ۔ ۔ ۔ ۔ پھر جیسے ہمارے ٹیلنٹ کو زنگ لگنا شروع ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ رہی سہی کسر ڈش نے پوری کر دی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم غیروں کو اپنوں پر ترجیع دینے لگے ۔ ۔ ۔ ہمارے لکھاری ۔۔ ۔ ہمارے موسیقار ، ہمارے شاعر ۔ ۔۔ ۔ ۔ اپنی مٹی کی خوشبو کو اپنی تخلیقات سے الگ کر کے لے گئے ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ٹی وی چوبیس گھنٹے کا ہو گیا ۔۔ ۔ چینلز کی بھرمار ہو گئی ۔ ۔ ۔ ہر ایک اپنے اپنے رنگ میں سب کو رنگنا چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہماری قوم ۔ ۔ ۔ جو رنگ برنگے پھولوں کا گلدستہ تھی ۔ ۔۔ ۔ ایک بے ترتیب سی جھاڑی میں بدل گئی ۔ ۔ ۔ ۔
اب ہمارے لکھاری قوم کے لئے نہیں لکھتے ، بلکہ قوم سے لکھواتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور قوم ہے کہ ہر دن نیا ڈرامہ لکھے جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ہم وہ کوے ہیں جو ہنس کی چال چلنا چاہتے ہیں اور اپنی بھول چکے ہیں ۔ ۔ ۔ اب کوئی جالب نہیں ہے ہم اب کوئی فیض نہیں ہے ۔ ۔ ۔ اب ہم اپنا منہ کھولنے کے سکے لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ عہدے لیتے ہیں اور پھر منہ بند کر لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
ہمارے کھیل تماشے کمرشل ہیں ۔ ۔ ہماری میڈیا ہماری قوم کا ترجمان نہیں ہے ، وہ صرف اس ایک فیصد سے بھی کم طبقے کے اوپر ڈرامے بناتا ہے جسے ملک کی نوے فیصد آبادی جانتی ہی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اسی لئیے ہمارے ساتھ وہ کچھ ہوتا ہے جو ہم سوچ بھی نہیں سکتے
ہونے کو تو ہماری قوم کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے ، اسکے افراد کو غیر اقوام کے ہاتھ بیچا جا سکتا ہے ، اسے کبھی انتہائی مذہبی اور کبھی انتہائی سیکولر بھی بنایا جا سکتا ہے ، اس قوم کے ملک پر اندر سے بھی مارا جا سکتا ہے باہر سے بھی ، کوئی بھی لچا لفنگا جسکے پاس حرام کا پیسہ ہو اس ملک کا حکمران بھی بن سکتا ہے ۔ ۔ ۔ اور اپنی دولت میں اضافہ کر سکتا ہے ۔۔۔ ۔
مگر کیا اب بھی ہم اس دور میں واپس جا سکتے ہیں ، جہاں ہماری تفریح کے موضوعات چاہے کتنے ہی تنازع کے حامل کیوں نہ ہوں ، ہم انہیں سنتے تھے ، ہمارا ٹی وی منٹو کا مقدمہ چلاتا تھا ۔ ۔۔ ہماری فلموں میں رنگینی تھی ، گیت تھے ۔ ۔ ہم ریڈیو پر آپ کی فرمائش سنتے تھے ۔۔۔ ۔۔ احمد رشدی ، مالا ، اخلاق احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسی آوازیں تھیں ، روبن گھوش ، بابا چشتی جیسے موسیقار تھے ، مسرور انور اور قتیل شفائی جیسے نغمہ نگار تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وحید مراد ، زیبا جیسی جوڑی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کیا اس شور کے زمانے میں وہ سکون کا زمانہ واپس نہیں لایا جا سکتا ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شاید اب بھی وقت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دلوں پر اثر کرنے والی تحریر لکھی جانی چاہیے ، گنگنائے جانے والے گیت بنانے چاہییں ۔ ۔ ۔ ۔ سڑکوں کو سنسان کرنے والے کھیل بھی ہونے چاہیے ۔ ۔ ۔ مگر یہ تب ہی ممکن ہے جب ۔۔ ہم سب ایک ہی رنگ میں رنگے ہیں ۔ ۔ ۔ جو ہمارا اپنا رنگ ہے ۔ ۔ ۔ اس دیس کی مٹی کا رنگ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جو ایک ہی رنگ ہے اور وہ رنگ ہے ۔ ۔ ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ہمیں خود کو پاکستانیت کے رنگ میں رنگنا پڑے گا ۔ ۔ ۔ ورنہ ہم ایک اجڑے چمن کے باسی بن کہ رہ جائیں گے ۔۔۔ اور “میرے مطابق“ موجودہ خلفشار کا ایک حل بھی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق دے (آمین) 2008/2/24 میں چُپ رہوں گامیں ایک مسلمان ہوں ۔ ۔ ایک مسلمان کی تعریف کیا ہو گی ، جو اللہ کو ایک مانے ، اور محمد (ص) کو آخری نبی مانے ، قرآن پر ایمان رکھے اور اسپر عمل کرے ۔۔ ایک حدیث کے مطابق مسلمان اور کافر کے درمیان فرق صرف نماز کا ہے ، ہم میں سے اکثر “نمازی“ ہیں ۔ ۔ اور ایک اور حدیث کے مطابق تمارا ایمان اس وقت تک پورا نہیں ہوتا جب تک میں (یعنی محمد(ص) ) تمیں تمام انسانوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جائیں ۔ ۔ ۔ پھر مسلمان کی یہ بھی تعریف کی گئی کہ اسکے ہاتھ و زباں سے دوسرے محفوظ رہیں ۔ ۔ ۔ ہم سب یہ کر رہے ہیں مگر کیا ہم مسلمان ہیں ؟؟
ہماری امت کا فتنہ مال ہے ، اور آج ہم مال کی محبت میں سب کچھ گنوا چکے ہیں ، ہماری نمازیں دکھاوا ہیں ، ہماری زکوتہ ہمارے لئے جگا ٹیکس جیسی ہے رسول خدا (ص) سے محبت ہم نے نعتوں اور گانوں تک محدور رکھی ہے ، اور قرآن کو ہم نے ایک چھوئی موئی قسم کی کتاب بنا دیا ہے ۔ ۔ ۔ کچھ شک نہیں کہ کچھ عرصے بعد ہم کسی مسجد میں یہ منظر بھی دیکھیں کہ قرآن پڑھنے والا ایک ہے اسکے اردگرد چند محافظ مورچھل لے کر قرآن سے مکھیاں اڑا رہے ہیں ۔ ۔
کہاں کے مسلمان ہیں ہم ، کہاں کی محبت ہے ہمیں رسول سے کہاں ہم قرآن و حدیث کے داعی بنے پھرتے ہیں ۔ ۔ وہ نبی جسنے ہمیں جینے کا طریقہ دیا وہ نبی جسنے ہمیں سچ کی راہ دکھائی وہ نبی جسکا سب سے بڑا معجزہ اسکا انسان ہونا تھا ، مجھ سے کتنے ہی لوگوں نے پوچھا کہ دی میسج فلم میں نبی اکرم کا کوئی معجزہ کیوں نہیں دکھایا گیا ؟؟ تو میرا ہمیشہ ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ ہمارے نبی نے ہمیں انسان بن کر رہنا سکھایا ۔ ۔۔ ہمارے نبی نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو ایک عام انسان نہ کر سکے ۔ ۔ ۔ اور جن لوگوں نے اس رمز کو سمجھا وہ اس دنیا کے رہبر بنے اور جب ہم نے اس پیغام کو چھوڑا ہم زمانے میں رسواء ہو گئے ۔ ۔ ۔
کیا رسول سے محبت کا دعویٰ صرف جذباتیت تک ہے ، میں تو اب جب کلمہ پڑھتا ہوں تو اپنے آپ کو سب سے بڑا منافق سمجھتا ہوں ، کیونکہ یہ شاید دل کی آواز نہیں ہوتی ، رٹا رٹایا جملہ ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ نماز میرے لئے اٹھک بیٹھک ہے ۔ ۔ ۔ اور قرآن صرف چند مشہور “آیات“ کا گنگنانا ہے ۔ ۔ ۔
آج جب ایک بار پھر میرے نبی کی شان میں گستاخی کی گئی ہے اور اس گستاخی کا جواب دینے والوں کی بے بسی دیکھی تو چُپ نہیں رہا گیا ۔ ۔ کیونکہ انکے سامنے مثالیں میرے جیسے مسلمانوں کی دی جاتیں ہیں جو بے عمل ہیں نہیں بلکے کسی بھی کافر سے زیادہ بُرے ہیں ۔۔ ہم میں انسانیت شاید ختم ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ دولت کی خاطر ہم اپنی ماں کو بیچنے کے لئے تیار کھڑے ہیں ۔ ۔ ہمارے لئے آخرت کچھ نہیں ۔ ۔ صرف دنیا کی زندگی ہی سب کچھ ہے ۔ ۔
آج اس انٹرنیٹ پر مسلمانوں کا ایک جم غفیر ہے ، جو احتجاج کر سکتا ہے ، مگر ہم نے ایک ڈیجیٹل پٹیشن سائین کر کہ اپنا فرض پورا کر دیا ہے مگر اس سے ہوا کیا ۔ ۔ کیا بگڑا کسی کا ۔ ۔ زیادہ سے زیادہ ہم جوش میں آ کر اپنا ہی گھر جلا لیتے ہیں ۔ ۔ مگر کبھی ساتھ مل نہیں بیٹھیں گے ۔ ۔ ۔
میری نظر میں ہم مسلمانوں کی بنیادی غلطیاں یہ ہیں
١- اسلام کو ہم نے ایک مذہب بنا دیا ہے ، جو چند رسومات اور حرکات کا نام ہے
٢- ایمان کو ہم نے ایک فلسفہ بنا دیا ہے ، جسکی گھتھیاں سلجھانے کے لئے بہت بڑا “مدبر“ ہونا پڑتا ہے ٣- دولت دنیا کو ضرورت کی جگہ ہم نے خواہش بنا لیا ہے ، جو کبھی بھی ختم نہیں ہوتی ، اور ہم ڈر کے مارے اس سے چپکے بیٹھے ہیں ٤- اسلام نے جو فرق ختم کئے تھے ہم نے انہیں افراق کو اسلام کا نام دیا ہے ، ایک خدا ایک رسول اور ایک کتاب پر ہم سب متفق ہیں مگر عمل کے مقام پر ہم سے زیادہ انتشار کسی میں بھی نہیں ٥۔ اسلام نے انسانی نفس کو سمجھ کر بہت کچھ آسان کیا مگر ہم مشکل میں خود کو پھنسانا پسند کرتے ہیں ، عورت کا حصول ہم نے عورت کو ایک “اَن ریچ ایبل“ چیز بنا کہ رکھ دیا ہے ، انسان کو ہم فرشتہ بنانے پر تُل گئے ہیں اور فرشتے کا معیار عورت سے دوری پر ہے ٦- ایک مسلمان عورت نے خود کو آزادی کی چکی میں ایسا پیسا ہے ، کہ اب وہ اپنی کسی ہیت میں اسلام کی نمائیدگی نہیں کر پا رہی ، اسلام نے عورت کو اتنی آزادی دی مگر ہماری مسلمان عورت کے لئے آزادی کا معیار مغربی لباس اور رہن سہن ہی رہا ٧۔ تعلیم کو ہم نے صرف جاننے کا عمل سمجھا ، اعلٰی سے اعلی تعلیم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکی ، ہم نے اپنی سوچ کو بدلنا اپنی بے عزتی سمجھی ، ایک آزاد معاشرے میں مسلمان ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے جبکہ ایک پابند معاشرے میں وہ باؤلا ہو جاتا ہے ۔ ۔ سعودی عرب کی مثال سامنے ہے ۔ ۔ جہاں معاشرہ ایک ذہنی انتشار کا شکار ہے ۔ ۔ ۔ اور یہ انتشار انہیں کسی اچھی سمت نہیں لے جا رہا ۔ ۔ ہم نے غور کرنا چھوڑ دیا ہے ، علم کو عمل سے الگ کر دیا ہے ۔ ۔ ٨- مسلمانوں کی کاروباری بددیاتنی اب ایک مثال بن چکی ہے ، یہاں یو اے ای میں اب جب کسی کام کے لئے “انشااللہ“ کہا جاتا ہے تو اسکا مطلب ہوتا ہے کہ یہ کام نہیں ہو گا یا بدیر ہو گا ۔ ۔ ٩- حکمرانوں کا بدعنوان ہونا اور امراء کا عیاش ہونا سمجھ آتا ہے ، ہم مسلمانوں کا غریب سے غریب آدمی بھی جو یہ جانتا ہے کہ سب اچھائیاں یا برائیاں اللہ کی طرف سے آتییں ہیں اور ہم پر ہر حالت میں شکر و صبر واجب ہے ۔ ۔ مگر ہم اپنا “اسٹیٹس“ چینج کرنے کے چکر میں صبر و شکر دونوں سے اجتناب کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ١٠۔ اللہ ہمیں بار بار مواقعے دیتا ہے سنبھلنے کے سدھرنے کے مگر ہم نے قسم کھائی ہے کہ ہم نہیں سدھریں گے ، بڑی بڑی مباحث کریں گے ، تصویر کے جائز ناجائز ہونے پر ، مکھی کو چائے میں ڈبونے سے لیکر ہم باتھ روم کے کموڈ کے حلال یا حرام ہونے پر سوالات کر لیں گے بحث کر لیں گے ۔ ۔ مگر کبھی بھی اپنے آپ کو بدلنے پر غور نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔ آج بہت رونے کو دل چاہتا ہے ، دعا کرنا چاہتا ہوں ، لب نہیں ہلتے ، ہاتھ نہیں اٹھتے ۔ ۔ کیا کروں ۔ ۔ میں بھی تو آپ میں سے ہوں ۔ ۔ مجھے بھی دولت و دنیا چاہیے ۔ ۔ مجھے اس سے کیا کہ میرے نبی کی شان میں گستاخی ہوتی ہے یا نہیں ، مجھے اس سے کیا کہ میرے مسلمان بھائی مرتے ہیں یا غربت کی چکی میں پستے ہیں ۔ ۔ مجھے صرف اپنا سوچنا ہے کہ میں کس طرح سے اپنی زندگی کی آسائشیں بڑھاؤں ۔ ۔ ۔ کس طرح سے ۔۔ ۔ خود کو ۔ ۔ ایک اسٹیٹس سمبل بناؤں ۔ ۔ ۔ آخرت کس نے دیکھی ہے ۔ ۔ ۔
بابر عیش کوش ، کہ عالم دوبارہ نیست (بابر عیش کر لو کہ یہ دنیا دوبارہ نہیں ملنے کی )
میں سب دیکھوں گا سہوں گا ۔ ۔ مگر میں چُپ رہوں گا ۔ ۔ میں چُپ رہوں گا
2008/1/9 پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور اسکا مستقبلمیرا خاندان کہوٹہ میں مقیم ہے ، کلر سیداں سے لیکر پلندری (آزاد کشمیر) تک ہماری برادری کے لوگ پھیلے ہیں ، بہت سارے لوگ فوج میں ہیں ، زیادہ تر کی زندگی کا دار و مدار کھیتی باڑی پر ہے ، میرے دادا جنکا نام “سید عالم“ تھا پنڈی کچہری میں ایک اعلٰی عہدے دار تھے ، نانا سروے آپ پاکستان سے رئٹائیر ہوئے جبکہ وہ قیام پاکستان سے پہلے کی فوج میں رہے ، جاپان کی قید میں بھی تھے ، اور پھر میرے اپنے سسر ١٩٧١ کی جنگ کے قیدی تھے ، والد اور تایا پاکستان ورک ڈیپارٹمنٹ میں اچھے عہدوں پر رہے ۔ ۔ یہ سب لوگ کہوٹہ کے رہنے والے تھے ، کہوٹہ جب دنیا میں مہشور نہیں ہوا تھا ۔ ۔ یعنی ابھی یہ جگہ ایٹمی حوالے سے مشہور نہیں تھی تو اس وقت بھی اسکا ایک حوالہ موجود تھا ، تحریک پاکستان کے زمانے میں پنڈی میں چھاونی تھی اور ایک اہم ائیرپورٹ بھی تھا جسے انگریزوں نے دوسری جنگ عظیم کے وقت استعمال کیا ۔ ۔ اب ہم اسے دھمیال کیمپ کے نام سے جانتے ہیں ۔ ۔ ۔ راولپنڈی کا یہ علاقے اپنی زرخیز مٹی کی وجہ سے سونے جیسا ہے ، ہزاروں سال پرانی تہذیب ، نے یہاں جنم لیا ، دریائے سواں کے کنارے سے قدیم ترین پتھر کے زمانے کے اوزار ملے ہیں ، اسکے علاوہ ، قلعہ روات اور شیر شاہ سوری روڈ جیسے آئی کون نے راولپنڈی کو ہمیشہ سے ایک اہم مقام دیا ہے ۔ ۔۔ اور اسی لئے جب دارلحکومت بدلا گیا تو نیا شہر اسی شہر کی زمین پر بنایا گیا ۔ ۔ ۔ مرگلہ کی پہاڑیوں کی یہ وادی نہ صرف قدرتی حسن سے مالا مال ہے بلکہ ایک قدرتی حفاظتی حصار بھی ہے ۔ ۔ جسکے ایک طرف وادی کشمیر ہے اور دوسری طرف پنجاب کا وسیع ترین میدان ۔۔ ۔ کہوٹہ اسی وادی کے مرکز میں واقعی ہے ۔ ۔ ۔ بچپن میں ہم لوگ جب اپنے گاؤں جاتے تھے تو بس ہمیں ہمارے گاؤں سے تقریباً دس میل دور اتارتی تھی ۔ ۔ ۔ پنڈی سے تقریباً تیس میل دور راستے بھر میں ہرے بھرے کھیت ، اور انکی خوشبو آج بھی جب یاد آتی ہے ۔ ۔ تو دل میں عجیب بے چینی ہوتی ہے کہ یا رب میرے شہر کو کیا ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔۔ کتنا بدل گیا ہے ۔ ۔ ۔ آج سے تقریباً نو (٩) سال پہلے جب میں جب میں تقریباً اٹھارہ سال بعد پنڈی گیا تھا تو واقعٰی ہی وہ شہر وہ نہیں رہا تھا جو تھا ۔ ۔ ۔ اور آخری باریعنی تقریباً سوا سال پہلے کا پنڈی تو مجھے بہت بڑا لگا تھا ۔ ۔ جسکے فاصلے ختم ہی نہیں ہو رہے تھے ۔ ۔ ۔ مجھے کہوٹہ سے متعلق پہلی یاد جو ہے وہ شاید ١٩٧٤ کی ہے جب ہمارے گاؤں میں سڑک بنانے والی مشینری آئی اور اسکی وجہ یہ بتائی گئی کہ کہوٹہ میں کہیں سے تیل نکلا ہے ۔ ۔ ۔ ہمارے لوگ سمجھے کہ اب تو کہوٹہ ۔ ۔ بہت بڑی جگہ بن جائے گا ۔ ۔ مگر ایک سال بعد ہی وہ سڑک ادھوری رہ گئی ۔ ۔ ۔ تیل نکالنے والی تمام مشینیں چلی گئیں ۔ ۔ ۔ اور سڑک ایک دوسرے راستے پر بننے لگی ، جہاں سے ایک راستہ کہوٹہ شہر کو جاتا تھا اور دوسرا ۔ ۔۔ ۔ ایک پہاڑی علاقے کی طرف ۔ ۔ ۔ جہاں پاکستان فوج نے اپنی چوکیاں بنا لیں تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر ایک دن کسی مغربی اخبار نے ایک گنبد نما عمارت کی خبر چھاپی جس میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ذکر تھا ۔ ۔ دنیا میں اسے اتنا سیریس نہیں لیا مگر کسی کو کیا معلوم تھا کہ پاکستان دشمن طاقتیں اسے کچلنے کے لئے کیا کیا پروگرام بنا بیٹھیں تھیں ۔۔ ۔ وہ تو بھلا ہو روس کا جسنے ١٩٧٧ میں گرم پانی تک پہنچنے کے لئے ۔ ۔ ۔ پاکستان براستہ افغانستان کا خواب دیکھا اور ۔ ۔ ۔ پے در پے ۔ ۔ افغان حکومتوں میں ادل بدل ہونے لگا ۔ ۔ ۔ غدار بکنے لگے اور وفادار ملت مرنے لگے ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان کے لئے سوویت یونین کا افغانستان پر حملہ سود مند ثابت ہوا اور ١٩٨٠ میں یعنی صرف پانچ سال کی مختصر مدت میں ہم نے وہ ہدف حاصل کر لیا جسکے لئے خواب دیکھا گیا تھا یعنی یورینیم کی افزردگی ۔ ۔ ۔ مگر اسکا اعلان پاکستان نے نہیں کیا ۔۔ ۔ سلام ہے ان پاکستان کے سپوتوں پر جنہوں نے اپنے دن رات ایک کر دئیے صرف اس وطن کی حفاظت کے لئے اور بنا کسی لالچ اور طمع کے ۔ ۔ ۔ بنا کسی نام کے ۔ ۔ وہ پاکستان کے وہ گمنام سپاہی ہیں جنہیں شاید کوئی بھی یاد نہیں کرتا ۔ ۔ ۔ میں صرف اتنا عرض کرتا چلوں کہ ان لوگوں نے اپنے خاندانوں کو چھوڑا ، اپنی زندگی کی خوشیاں چھوڑیں غم چھوڑے ، صرف اس وطن کے لئے ۔ ۔ ۔میرے کچھ عزیز جو اس نیک کام میں شامل تھے ۔۔ ان کو جب کوئی بہت ہی اندوہناک خبر ملتی جس میں انکا باہر آنا ضروری ہوتا تو وہ ایسے آتے کہ انکی حفاظت کے لئے فوج کے کمانڈو کا دستہ ہوتا ۔ ۔ ۔ حتہ کہ انکے پاس کچھ بڑا کام نہ تھا مگر ۔ ۔ ۔ ہمارے دشمن ایسے ہی ہنٹ کی تلاش میں تھے ۔ ۔ ۔ یہ شاید ١٩٧٩ کا واقعہ ہے ، واقعہ بیان کرنے سے پہلے یہ بتا دوں کہ کہ ١٩٧٤ کے بعد سے کہوٹہ کو فوج کی ایک خاص کمان کے حوالے کیا گیا ، جس میں سپاہی سے لیکر افسر تک اس علاقے کے جاننے والے تھے ۔ ۔ اسلئے ایک وقت ایسا بھی تھا ۔ ۔ (اور شاید اب بھی ہے ) کہ کہوٹہ بازار میں آنے جانے والے لوگوں میں آدھے سے زیادہ لوگ فوج کے اس کمان کے تھے ۔ ۔ یعنی دکاندار سے لیکر گاہک تک ۔ ۔ ۔ اسکے علاوہ گاؤں کے لوگ بھی فوج کا ساتھ دیے رہے تھے انہیں یہ معلوم تھا کہ یہ جگہ کسی خاص مقصد کے لئے چنی گئی ہے ۔ ۔ جو پاکستان کی حفاظت کے لئے ضروری ہے ۔ ۔ ۔ تو ہوا کچھ یوں کہ ہماری دشمن طاقتوں نے اپنے جاسوس پھیلا دئیے تھے اس علاقے میں ۔ ۔ ۔اسکے علاوہ بہت سارے دوسرے ذرائع بھی استعمال کیے گے تھے ۔ ۔ کچھ دنوں سے ایک فقیر بابا کہوٹہ شہر میں شام ہوتے ہی نظر آتا ۔۔ وہ کسی سے کچھ نہیں لیتا تھا نہ بولتا تھا اگر کوئی کچھ دیتا تو لے لیتا ۔ ۔ کسی ہوٹل کے سامنے کھڑا ہوتا تو اسے کھانا بنا مانگے مل جاتا ۔ ۔ سردیوں کے دن تھے ۔ ۔ وہ ایک بڑے سے کپڑے کو تن پر لپیٹے رہتا ۔ ۔ اور ایک دن اسنے ایک فروٹ بیچنے والے سے پوچھا ۔ ۔ ۔ کہ پلندری کیسے جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ پلندری آزاد کشمیر میں واقعٰی ہے ۔ ۔ ۔ دکاندار نے پوچھا ۔ ۔ چاچا جی پلندری کیوں جا رہے ہو ۔ ۔ ۔ ؟ بس ضروری جانا ہے ۔ ۔ ابھی ہی جانا ہے ۔ ۔ وہ بار بار اپنے پاؤں کو دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ دکاندار جو فوج کا اعلٰی افسر تھا اور اس بھیس میں نگرانی کرتا تھا فوراً کچھ بھانپ گیا کہ اسکے ایک جوتے کا تلا (نیچے کا حصہ) صاف ہے ۔ ۔ اسنے اپنے مخصوص اشارے سے جوانوں کو بلا لیا اور وہ ایک جاسوس گرفتار ہوا ۔ ۔ اس کے پاؤں میں ایک ٹرانسمیٹر تھا جو اسکی پوزیشن کو بتا رہا تھا ۔ ۔ وہ سٹیلائیٹ سے لنک تھا ۔ ۔اسنے بتایا کہ پچھلے دو سال کے اندر اسنے کتنے ہی نقشے بھجھوا چکا ہے ۔ ۔ ۔ اور اسی ٹرانسمیٹر کی مدد سے ایسے آلات کا پتہ چلایا گیا جو کہ پتھروں کی شکل میں کہوٹہ کی مختلف حساس پوزیشن پر موجود تھے اور وہاں سے گذرنے والی ٹریفک کی پل پل کی تفصیل ارسال کر رہے تھے ۔ ۔ ایسے ہی ایک واقعے کا ذکر جنرل اختر عبدالراحمٰن پر لکھی گئی کتاب میں بھی ہے اور مزید واقعیات بھی ہیں ۔ ۔ ۔ ١٩٨٠ میں ہم نے یورینیم کو افزردہ کرنا شروع کیا (تجرباتی پیمانے کے بعد) ، ١٩٨٤ میں ہم نے کولڈ ایکپلوسیو کا تجربہ کیا ۔ ۔ ۔اور اسی وقت ہمیں اندازہ ہوا کہ اب ہمیں مزید افرادی قوت تیار کرنی پڑے گی ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر اے کیو خان لیبارٹری اور کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کے قیام نے ان کمیوں کو پورا کیا ۔ ۔۔ نئے لوگ اس قافلے میں شامل ہوئے تو بہت ساری نئی جہتیں سامنے آئیں ۔ ۔۔ سولڈ فیول کو تیار کر کے راکٹ میں استعمال کیا گیا ۔ ۔ اور ہمارا مزائل پروگرام شروع ہوا ۔ ۔ ۔ یہ سب کچھ اسلام کی اس ہدایت کے مطابق ہوا جس میں اپنے گھوڑے تیار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ۔۔ اور پھر جب ایٹمی دھماکے پر پاکستان کو مجبور کیا گیا ۔ ۔ اس وقت تک ہم اپنی ٹیکنالوجی کو انہانس کر چکے تھے ۔ ۔۔ دشمنوں کی صفوں میں کھلبلی مچ چکی تھی ۔ ۔ ۔ انہیں اسلام کی نشاہ ثانیہ کا آغاز لگ رہا تھا یہ سب کچھ ۔ ۔ ۔ پاکستان کی اس قوت کو اسلامی بم کا نام دیا گیا ، اور اسلام سے ڈرنے والے اس ملک کے پیچھے لگ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ سازشوں کے جال بنے گئے ۔ ۔ غدار خریدے گئے ۔ ۔ ۔قوم کو نشے کے عذاب میں ڈال دیا گیا ۔ ۔ اور ہم اپنے مقصد سے دور ہوتے چلے گئے ۔ ۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام جسکی مدد سے ہم اپنے بجلی کے بحران کو ختم کر سکتے تھے ۔ ۔ ہم اپنے زرعی ملک میں انقلاب لا سکتے تھے ۔ ۔ ۔اسے ختم کرنے کا پروگرام بنایا گیا ۔ ۔ ۔ اور اس کام کے لئے اپنوں کو ہی استعمال کرنے کا پروگرام تشکیل دیا گیا ۔ ۔ ۔ شاید بہت کم لوگ جانتے ہو گے ، کہ سرحد کے صوبے کو افغانیہ صوبہ بھی کہا جاتا رہا ہے ۔ ۔ پختونستان اور پشتون خواہ کی باتیں بہت بعد کی ہیں ۔ ۔ ۔ اس علاقے کے لوگ بہت جری بے باک اور نڈر ہیں ۔ ۔ آج بھی لوگ خوشحال خان خٹک کی رجز پڑھ کر خون کو گرماتے ہیں اور رحمان بابا کی شاعری سے دل کو موم بھی کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ اسلام سے انکا رشتہ ایسا ہی ہے جیسا جسم کا جاں سے ۔ ۔ ہمارے دشمنوں نے ایک پنتھ دو کاج کا کام کیا ۔ ۔ ۔ سورش ابھاری گئی ۔ ۔ ۔ وہ افغانی جنہیں طالبان نے ایک لڑی میں پرو دیا تھا اور جنگ زدہ ملک میں امن بحال کیا تھا ۔ ۔ ۔ انہیں میں ایسا لوگوں کو شامل کرا دیا گیا جو اسلام دشمن کاروائیوں پر مجبور کرتے تھے ۔ ۔ طالبان کی تحریک جو دعوت کی تحریک کی طرح تھی ۔ ۔ ایک سخت گیر تحریک میں بدل گئی ۔ ۔ ۔۔ کابل میں اگر ایک مسجد سے ایک شخص نماز پڑھ کہ نکلا تو دوسری مسجد پر کھڑے ملا نے اس سے زبردستی دوبارہ سے نماز ادا کروائی ۔ ۔ ۔ اور پھر انہیں طالبان کو یقین دلا دیا گیا کہ تم بہت طاقت ور ہو ۔ ۔ تم نے سرخ ریچھ کو شکست دی ہے تو یہ سفید ہاتھی بھی مار لو گے ۔ ۔ ۔ انہیں ایک پکے پکائے حلوے یعنی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر قبضے کا کہا گیا ۔ ۔ اور یہ بھی سمجھایا گیا کہ اسلام کو طاقت چاہیے اور یہ طاقت پاکستان سے مل سکتی ہے ۔ ۔ ۔ اور پاکستان تک پہنچنے کا بہترین راستہ ہے امریکہ ۔ ۔ ۔ ۔ اور طالبان اور انکے اشارے پر ناچنے لگے اور پاکستان دشمن بن گئے ۔ ۔ ۔ اس سازش کا انکشاف سعودیہ میں ہوا مگر اس دوران تک نائین الیون ہو چکا تھا ۔ ۔ ۔ سعودیہ کے اور امارات کے شیوخ کو پتہ چلا کہ اسلام کے نام پر کیا کیا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ تو وہ امریکہ سے معافیاں مانگنے لگے ۔ ۔ ۔ مگر امریکہ کو راستہ مل چکا تھا ۔ ۔ ۔ طالبان کٹھ پتلیاں چلانے والے ہاتھوں نے اپنے ہی ہاتھوں ان کھٹپتلیوں کا کاٹ دیا ۔ ۔ ۔اسکی وجہ جو میری سمجھ میں آئی ہے افغانستان سے کہوٹہ بہت دور ہے ۔ ۔ ۔ جبکہ گلگت اور سوات سے بہت قریب ۔ ۔ ۔ آج پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ وہ اسی ایٹمی پروگرام کا کمال ہے ۔ ۔ ۔ اس کے آغاز نے ملک توڑا ۔ ۔۔ اسکے پہلے فیز میں ملک میں فساد پھیلا اسکے اعلان نے ہمیں معاشی نقصان پہنچایا اور جب یہ بن چکا ہے تو ہم اتنے کمزور ہیں کہ کسی سے بھی آنکھ اٹھا کر بات نہیں کر سکتے ہیں ۔ ۔ بلکے یہ سوچنے میں لگے ہیں کہ ہماری عمر کتنی باقی ہے ۔ ۔ ۔ تو کیا ہم یہ طاقت چھوڑ دیں ، کچھ لوگ شاید یہ سب دیکھ کر سوچیں ہاں یہ ہی بہتر ہے مگر ہماری حالت اب تک جو بچی جا رہی ہے وہ شاید اسی طاقت کی وجہ سے ہے ، ورنہ ہم نے اور ہمارے دشمنوں نے پوری کوشش کر لی کہ پاکستان کو تباہ کر دیا جائے ۔ ۔ اور ابھی تک ہم اور ہمارے دشمن دونوں لگے ہیں یہ نیک کام کرنے کے لئے ۔ ۔ ۔۔ کہوٹہ کے لوگ اب بھی ویسے ہی ہیں جیسے ایٹمی پلانٹ سے پہلے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں کچھ گھروں کو پکا کر لیا گیا ہے ۔ ۔ انکی زندگی میں بڑے بڑے غبارے اور مصنوعی درخت اور پودے اب حصہ بن چکے ہیں ۔ ۔ ۔ انکی سڑکوں پر اب کچھ کوٹھیاں تو بنی ہیں مگر مارگلہ کی پہاڑیوں کے اندر مزید سرنگیں بن چکیں ہیں ۔ ۔ ۔ ہمارے دشمن آج بھی حیران و پریشان ہیں کہ جس زلزلے نے ایک عالم تباہ کیا اس نے اس پروگرام پر خراش تک نہیں ڈالی ۔۔ ۔ ۔ مگر شاید یہ پروگرام کی نیت بہت ہی نیک ہے ۔۔ ۔ ۔ کیونکہ یہ دیس اللہ کے نام کی بلندی کے لئے حاصل کیا گیا تھا ۔ ۔ وہ نیت تھی اللہ نے ہمیں بہت کچھ دیا ۔ ۔ ہم بے قدرے ہیں ، اللہ کی اس نعمت کی قدر نہ کر سکے اور نہ ہی یہ سمجھ سکے کہ یہ طاقت ہمیں کیوں دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ اتنے سارے دوسرے اسلامی ممالک ہیں انہیں کیوں نہیں دی ؟ اور ویسے بھی اسکی حفاظت جیسے اللہ نے آج تک کی ہے ویسے ہی آئندہ بھی کرے گا ۔ ۔ اگر ہم میں سے ایک شخص کی نیت بھی ٹھیک رہی ۔ ۔ ۔تو ۔ ۔ رہی بات پاکستان کی تو ۔۔ ۔ اللہ نے جب یہ بنوایا ہے ۔ ۔ اپنے دین کے نام پر تووہ ہی رکھوالا ہے ۔ ۔ ۔ ہم تو عبدالمطلب کی طرح صرف صحرا سے اپنے اونٹ واپس لینے کے لئے ہر دور کے ابراہہ کے پاس جاتے رہیں گے ۔ ۔ ۔ 2008/1/7 عجیب دیس ہے میراعجیب دیس ہے میرا ، قائد اعظم نے پاکستان کے قیام کے بعد کہا تھا کہ ، ہمارے دشمن چاہتے ہیں کہ ہم بنتے ہی فنا ہو جائیں ، اور ہمارے دشمن آج تک یہ ہی چاہ رہے ہیں ، پاکستان کا لفظ ایک تیر کی طرح دشمنوں کے دلوں میں پیوست ہوتا ہے ، اور وہ اور زیادہ طاقت اور عیاری سے ہمیں فنا کرنے کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں ، مگر ہمارے دشمن ایسا کیوں چاہتے ہیں ؟
میرے بہت سارے دوست اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ پاکستان کے قیام کا تعلق کسی اسلامی تحریک سے تھا ، ہندوستان کے مسلمانوں کو معلوم تھا کہ الگ وطن کا قیام کوئی معنی نہیں رکھتا ، مسلمانوں کے اس وقت اور بھی ملک موجود تھے ، جہاں پر ہندوستانی مسلمان ہجرت کر سکتے تھے اور وہ بھی بنا کسی خون خرابے کے ، مگر پھر بھی زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کیا گیا ، میں کہتا ہوں کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے خون سے اس دھرتی کی قیمت دی ہے ، پاکستان زمیں کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے ، مگر کیا کریں ہم مسلمان قوم ہی ایسی ہیں ، کبھی تو سوچتا ہوں کاش ہمارے نبی (ص) نے اس قوم کے لئے ایک دم سے فنا نہ ہونے کی دعا نہ مانگی ہوتی ، تو مجھے پکا یقین ہے ہم بنی اسرائیل سے بھی بڑھ کر عذابوں کا شکار ہوتے ، آج ہمارے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بہت بڑا عذاب ہے ، وجہ اسکی صرف ایک ہی نظر آتی ہے ، کہ ہم نے یہ وطن اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا (کوئی مانے یا نہ مانے ) اور ہم نے اسلام کے بنیادی اصولوں سے ہی منہ پھیر لیا ۔ ۔ ۔۔ آج ہم اپنی تمام کوتاہیوں کا ذمہ دار حکمرانوں کو کہتے ہیں مگر اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے ، آئیے ذرا سوچیں کہ ١٩٤٧ کے بعد سے ہم نے لگاتار عذاب کیوں سہے ؟
١٩٤٧ میں جب دیس آزاد ہوا تو بہت جذبہ تھا ، مہاجرین بھارت کے ساتھ انصار پاکستان نے وہ ہی اخوت دکھائی جو مدینے والوں نے دکھائی تھی ، سندھیوں نے لٹی ہوئی ٹرینوں سے بچے ہوئے زندہ مہاجرین کو اپنی زمیں دی ، دل دیا ۔ ۔ ۔ پنجاب نے جائے پناہ دی ، سرحد نے بھی اپنا حصہ ڈالا ، بلوچستان کی ریاستوں نے پاکستان کو تعمیر کرنے میں مدد دی ، بنگال نے اپنا آپ دیا ۔ ۔ ۔ بہت جذبہ تھا ۔۔ ۔ عوام نے بہت محبت دی اور محبت بانٹی اور لی ۔ ۔ ۔ مگر دوسری طرف ہمارے حکمران تھے ۔ ۔ ۔ قائد اعظم کی وہ ٹیم جو پاکستان بنانے والی تھی ، صرف تین چار سالوں میں ہی پس پردہ چلی گئی (یا بھیج دی گئی ) عوام کے جذبوں کو خواص نے اپنی خواہشات کا ایندھن بنا دیا ۔ ۔ ہمارے اوپر شرابی کبانی حاکم بنتے چلے گئے ۔ ۔ ۔ فوج کو پاکستان کے قیام کے پانچ سال بعد ہی اقتدار کا خون لگ گیا ۔ ۔ ۔ جو آج تک اسکی پیاس نہیں بجھا سکا ۔ ۔ ۔
مگر اس میں سارا قصور حکمرانوں کا نہیں ہے ، عوام کا بھی ہے ، وہ جعلی کلیم سے شروع ہوتا ہے اور جعلی پاسپورٹ و شناختی کارڈ سے ہوتا ہوا جعلی ووٹ تک جاتا ہے ۔ ۔ ۔ جہاں کوئی مخلص انسان سامنے آیا ، ہم میں سے ہی بہت ساروں نے مل کر اسے ذلیل کر دیا ۔ ۔ ہم جو ایک قوم تھے ، کئی فرقوں میں بٹ گئے ۔ ۔ ۔ آزادی سے پہلے ہم مسلمان تھے آزادی کے بعد ہم سندھی ، پنجابی ، پٹھان اور بلوچی ، بنگالی اور مہاجر بن گئے ۔ ۔ ۔ بنگال ۔ ۔۔ اسکی اس وطن سے محبت کے آنسو بوڑھے “نورالامین“ کی آنکھوں میں منوں مٹی میں دبے قائد نے بھی دیکھے ہونگے اور آسماں بھی کانپا ہو گا مگر ہم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم تو ٹس سے مس نہیں ہوئے ۔ ۔ ۔ پھر ہمیں بار بار روندا جانے لگا ۔ ۔ کیا ہمیں بنگالیوں نے بد دعا تو نہیں دی ؟ کہ جس تکلیف سے ہم نے انہیں کاٹا اور خود کو ان سے افضل سمجھا ۔ ۔ ۔ آج کہیں انکی بے بسی تو ہمیں نہیں مار رہی ، کہیں اس بوڑھے نورالامین کی روح تو ہم سے کچھ نہیں کہ رہی؟
مگر نہیں ہمیں کچھ نظر نہیں آتا ۔ ۔ ہم اندھے اور بہرے ہیں ۔ ۔۔ اللہ نے ہم پر کتنا انعام کیا ؟ ہمیں کیا نہیں دیا ، دین زمین ، صحرا ، سمندر ، کوہستان ، کس چیز کی کمی ہے ہمارے پاس ، عظیم شیر دریا (دریائے سندہ) ، عظیم پہاڑ ، عظیم میدان ، ہمارے پاس دنیا کی ہر چیز موجود ہے ، نہیں موجود تو بس وہ جذبہ ایمانی جس نے ہم سے پاکستان بنوایا تھا ۔ ۔ ۔
ہم آنے والی نسلوں کے لئے کیا دے کر جائیں گے ، اسلام کا پاکستانی ورژن ؟ یا پھر پاکستان کا اسلام ورژن ؟ مگر شاید وہ نظریہ نہ دے سکیں جو پاکستان کی بنیاد تھا ۔ ۔ ۔ پاکستان مدینہ ثانی بن سکتا تھا ، بلکے میں تو اب بھی کہتا ہوں کہ بن سکتا ہے ، مگر اسکے لئے اقبال کی فکر ، جناح سی جستجو اور مہاجرین جیسی امید چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔
آج ہمارے ہاتھ ہماری تقدیر ہے ، پاکستان سے محبت کا دعویٰ نہیں کرنا بلکے عمل بھی کر کہ دیکھانا ہے ، پاکستان سے محبت کرنے والے ایک شخص جسکا نام تھا ماؤزے تنگ ، اسکی قوم نے اسکی محبت کا حق ادا کیا ، کیا ہم اپنے قائد سے ویسی محبت کر سکتے ہیں ؟
ماؤزے تنگ نے اپنے بستر مرگ پر اپنی قوم کو کہا تھا ، کہ میرے مرنے کے بعد ، میرا سوگ منانے کا بہترین طریقہ یہ ہو گا کہ تم دو گھنٹے مزید کام کرو ۔ ۔ ۔ چینی قوم آج جس ترقی کی نہج پر ہے اسکی وجہ ساری قوم کا وہ عمل ہے جو اسنے اپنایا ۔۔ ۔ چینی آج بھی ماؤزے تنگ کی برسی پر دو گھنٹے مزید کام کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور اسکی کوئی تنخواہ بھی نہیں لیتے ۔ ۔ ۔ آج بھی چین میں ماؤزے کے دیوانے بنا کسی کے کہے پبلک ورک کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ جسکی کوئی تنخواہ نہین لیتے ۔ ۔۔ ۔
کیا ہم پاکستان سے محبت کرنے والے اس شخص جیسی سوچ بھی نہیں اپنا سکتے ؟ کہ جو پاکستانی بھی نہیں تھا ۔۔ ۔ 2007/4/15 دبئی میں ڈاکا ۔ ۔ ۔عام طور پر امارات کو پُر امن ملک سمجھا جاتا ہے ، کیونکہ یہاں جرائم کی شرح دوسرے ممالک کی بنسبت کم ہے ، مگر پچھلے کچھ سالوں سے یہاں جرائم تیزی سے پنپ رہے ہیں ، اور اس سال تو یہ شرح بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ، چوری ، عصمت دری، ٹھگنا اور قتل روز کا معمول ہو گئے ہیں ، مگر ابھی بھی حکومت کا اتنا کنٹرول ہے کہ میڈیا پر یہ خبریں نہیں آنے دیں جاتیں ، مگر کل رات کو یہاں کے ایک پرتعیش شاپنگ مال وافی سنٹر میں جو ڈاکا پڑا اسنے سب کو سہما دیا ہے ، اصل میں یہ سب بڑھنے کی کچھ وجوہات ہیں
١۔ پہلے یہاں تنخواہ اور معمولات زندگی میں توازن تھا ، اب مہنگائی تو بڑھ رہی ہے مگر تنخواہیں اتنی ہی ہیں ، اور چونکہ یہاں احتجاج کا جواب صرف ایک ہے اور وہ ہے ڈی پورٹ کرنا ، جو اب بہت ہو رہا ہے
٢- عربوں میں پہلے کچھ روایات ہوتیں تھیں ، اب وہ ختم ہو رہیں ہیں ، عربوں میں زمانہ جاہلیت والی باتیں آ رہیں ہیں ، وہ اپنے آپ کو برتر اور دوسروں کو کمتر سمجھ رہے ہیں ٣- ہر کونے میں مسجد تو موجود ہے مگر ، یہاں بھی لوکل (یعنی عربی) کوشش کرتا ہے کہ اسکے ملازمین میں مسلمان کم سے کم ہوں کیونکہ مسلمان پھر مسلمان ہوتا ہے ، اور غیر مسلم جتنا کھلا ڈھلا ہوتا ہے وہ ایک مسلمان نہیں ہو سکتا ٤- جب سے امارات اپنی زمین بیچ رہا ہے ، تو اسے خریدنے والے کون ہیں اسکی کسی کو پرواہ نہیں ، ایک کمرے کا فلیٹ بھی ملین ڈالرز کا ملتا ہے ، اور ظاہر ہے ایسی پراپرٹی میں جو لوگ سرمایہ کاری کر رہے ہیں وہ اپنے کالے دھن کو سفید کر رہے ہیں اور اس وقت دبئی دنیا کے بڑے بڑے گنگسٹر کا حب بن چکا ہے ، جہاں سے بیٹھ کر دنیا کا نظام کنٹرول کیا جاتا ہے ، ایک چھوٹی سی مثال بھارتی بھائی لوگ اور ہمارے سیاستدان ہیں ٥- آزادی ، مادر پدر آزادی ، دبئی اور ابوظہبی میں جس طرح کی آزادی ہے ایسی دنیا کے کسی بھی مسلمان ملک میں نہیں ، اور اسلام اور ایسی آزادی کا تضاد ہی جرائم کو جنم دے رہا ہے ۔ ۔ ۔ میرے محلے کی ایک عرب خاتون کہتی ہیں ، کہ ہم پر بہت جلد اللہ کا عذاب آنے والا ہے کیونکہ ہم اب برائیوں کی دلدل میں ایسے دھنس چکے ہیں کہ ہمیں اب عذاب کے سوا کچھ اور نہیں ملنے والا
اللہ ہم پر رحم کرے (آمین) 2007/4/8 جب ، ہم بھی پاکستانی تھے ۔ ۔اسلام پاکستان میں اس وقت تھا جب ، پاکستان کا مطلب ،لاالہ الااللہ تھا جب ، شاہنامہ اسلام لکھا گیا جب ، شکوہ ، جواب شکوہ لکھا گیا جب ، غازی علم دین تھا جب ، بی اماں تھیں جب ، اقبال تھا ، جناح تھا جب ، محرم کے جلوسوں میں سب لوگ سبیلیں لگاتے تھے جب ، عید میلاد نبی(ص) سب مل کہ مناتے تھے جب، مسلمان جھوٹ نہیں بولتا تھا جب ، مسلماں کم نہیں تولتا تھا جب ، فلسطین پر ہم بے قرار رہتے تھے جب ، کشمیر کے لئے ہم تیار رہتے تھے جب ، ہمیں خدا کے سوا کسی کا ڈر نہ تھا جب ، ہمارا نعرا صرف اللہ اکبر تھا جب ، توحید کا پرچم لہرایا ، جیسے ترانے فلموں میں تھے جب ، شاہ مدینہ (ص) جیسی نعتیں ، دلوں میں محبت جگاتیں تھیں جب ، زمیں یہ بھی مقدس تھی جب ، آسماں بھی بھر پور تھا ۔ ۔۔ جب ، ہمیں آزادی کی قدر تھی جب ، ہم بھی پاکستانی تھے ۔ ۔ 2007/4/6 وفا کا کعبہ
اس وقت میں اسکا ایک باب ہی اسکین کر پایا ہوں ، امید ہے آج کے حالات کے مطابق آپ اسے ضرور دیکھ پائیں گے ۔ ۔ ۔ کوشش کروں گا کہ مستقبل میں اسکی اور تفصیل دے سکوں 2007/3/9 جسٹس چوہدریغالباً اسی کی دہائی میں انڈیا میں ایک فلم بنی تھی “جسٹس چوہدری“ جس میں جسٹس چوہدری کا کردار اس وقت کے معروف اداکار جتندر نے کیا تھا ، اس فلم کی کہانی ایک ایماندار اور کڑک قسم کے جج اور اسکے بیٹے کے درمیان ہونے والے واقعیات پر مشتمل تھی ، آج اپنے پاکستان نے “جسٹس چوہدری“ کی ریفرنس والی بات سن کر جانے کیوں وہ فلم یاد آ گئی ، اور ذھن کے پردے پر اسکے گانے چلنے لگے جس میں جتندر کی جگہ افتخار صاحب تھے اور ولن (شکتی کپور) کی جگہ مشرف صاحب اور ہیروین سری دیوی کی جگہ عدلیہ خود ہی بن گئی ۔۔ اب دیکھا تو پتہ چلا کہ ولن نے ہیروین کو اغوا کر لیا ہے ، اور ہیرو صاحب نظر بند ۔ ۔ ۔ اب سب کی اپنی اپنی فلم چل رہی ہے ، اس فلم کے کچھ گیت تو بہت مشہور تھے ۔۔ جیسے
زندگی کی سب سے بڑی دولت ہے کیا ، اقتدار تیرا
ایماں کی کتابوں سے بڑھ کر ہے کیا ، آئین یار میرا مسیحا سے بھی اچھا ہو گا نہ کون ، بیمار تیرا وردی انمول ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ اور جب ہیرو اور ہیروئن کی ملاقات ہوتی ہے تو وہ گاتے ہیں ۔
۔
مجھے کیا ہوا ، کیا پتہ
میں نے تجھے چھواء تو ۔ ۔ وہ ہوا آگ جو لگی ہے وہ کیسے بھجھے گی جتنی بجھاؤ گے اور لگے گی ۔ ۔ ۔ اور دوسرا گیت بھی بہت مشہور تھا
ماما میا ۔ ۔ پوم پوم ۔ ۔ ۔
صدر کی گاڑی ، تیز بھگاؤ ایکسیلٹر اور دباؤ سفر بڑا ہی پیارا ہم دم لاکھوں ارماں وقت بہت کم اسٹاپ ۔ ۔ ۔۔ اور پھر جب جج صاحب کو برطرف کر دیا جاتا ھے (فلم میں ) تو وہ یہ گیت گاتے ہیں
انصاف کی کرسی پہ خود کو بٹھاؤ
میں نے غلط کیا کیا ہے مجھے یہ بتاؤ (ہاں جی ذرا دسو تے سہی) اور ولن صاحب فرماتے ہیں ۔ ۔ ۔
یہ میرا نہیں انصاف کافیصلہ ہے
انصاف کا فیصلہ ۔ ۔ ۔
صدر صاب کا فیصلہ !!!!!! اور پھر فلم چلتی رہتی ہے ۔ ۔ ۔ جیسے اب بھی چلتی رہے گی ۔ ۔ ۔ اور سب لوگ ملکر گاتے رہیں گے
اپنا یہ وعدہ ہے ۔ ۔
نیک ارادہ ہے ۔ ۔ ۔ دیکھیں گے دکھائیں گے اور چُپ ہو جائیں گے ہم لوگوں نے کرنا ہے اور کیا ۔ ۔کیا کیا کیا (یہ ایکو ہے ) ترا پا رم پم ترا پررم پم ۔ ۔ ۔۔ ایک بات اور مزے کی بتاؤں کہ اس میں ہیرو (جتندر) خود ہی اپنے باپ بھی تھے اور بیٹے بھی ۔ ۔ ۔ (یعنی ڈبل پارٹ تھا ) اب یہ
سمجھ نہیں آتا کہ یہ ڈبل پارٹ ہیرو کر رہا ہے یا ولن !!!!!!
2007/3/6 میری پسند اور ناپسندبڑا مشکل سوال ہے ، باقی دوستوں نے یعنی قدیر ، بدتمیز اور اجمل انکل نے بڑے مزے سے لسٹ بنا کر ڈال دی ، اور اب مجھ سے بھی پوچھا جا رہا ہے کہ ناپسندیدہ کی لسٹ بناؤں ، اور چونکہ یہ آرڈر اجمل انکل کی طرف سے ہے اسلئے انکار کی جراءت نہیں ۔ ۔ ۔ ویسے تو پسند ناپسند بدلتی ہی رہتی ہے مگر ، ہر انسان کی اپنی ایک نیچر ہے جو اس کی پسند ناپسند کو ظاہر کرتی ہے ۔ ۔ ۔ لیجیے یہ رہی میر ناپسندیدہ فہرست oopps میرا مطلب ہے کہ جو کچھ مجھے ناپسند ہے
١ ۔ اپنا موٹاپا
٢ - اپنی حساسیت ٣ - اپنا بے عمل مسلمان ہونا ٤ - فضول خرچی ٥ - وقت کی کمی ، جس کی وجہ سے میں اپنی فیملی کو وقت نہیں دے سکتا ٦ - لکھنے اور پڑھنے کے معاملے میں سستی اور کاہلی ٧ - جب کوئی دوست مجھے بھول جاتا ہے ٨ - امیر اور غریب کے درمیان فرق ، اور امیروں اور غریبوں کا رویہ ٩ - جب میں کسی ضرورت مند کی مدد نہیں کر سکتا ١٠ - بے مقصد زندگی گذارنا اب اجمل انکل اور باقی سب دوستوں سے گذارش ہے کہ وہ اپنی پسندیدہ چیزیں بھی لکھیں ۔ ۔ ۔ جیسے مجھے پسند ہیں
١۔ اردو کی کتابیں
٢ - وہ فلمیں جو مجھے سوچنے پر مجبور کریں اور میں بار بار دیکھوں جیسے کنٹیکٹ جو مجھے بہت پسند ہے ٣ - جب میں اپنی سوچ کو عمل میں بدل دیتا ہوں ٤ - جب کوئی مجھے اپنے دکھ میں شامل کرتا ہے ٥ - جب کوئی مجھے بہت غلط سمجھتا ہے ، اور مجھے اسکی وجہ بھی بتاتا ہے ٦ - جب مجھے موت کا ڈر محسوس ہوتا ہے ٧ - جب میں دوستوں کے ساتھ بہت سارا وقت گذارتا ہوں ٨ - جب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے مجھے اوپر والا ہاتھ بنایا ہے ٩ - جب میں اپنے حال کو ماضی سے بہتر پاتا ہوں ١٠ - میری فیملی ، جو مجھے سمجھ سکتی ہے ۔ ۔ 2007/1/24 میرا بچپن
میں اپنے آپ کو کبھی بھی ایک اچھی تحریر لکھنے والا نہیں سمجھتا ، کوشش ضرور کرتا ہوں کہ لکھوں زیادہ لکھوں تا کہ کچھ تو ہاتھ “صاف“ ہو اور اسی لئے یہ بلاگ بھی شروع کیا تھا کہ یہ مشق مسلسل کروں گا ، بچپن سے یعنی تیسری جماعت سے ڈائیری لکھنے کی عادت پڑی تھی ، میں نے اردو پڑھنا دوسری جماعت سے ہی شروع کر دیا تھا ، میرے پاس صوفی غلام مصطفٰی تبسم کی “جھولنے“ ایک ایک نظموں کی کتاب تھی جسے آج تک نہیں بھولا ، اور پھر آٹھ آنے والی چھوٹی چھوٹی کہانیاں ، جیب خرچ کے لئے جو ایک روپیہ ملتا تھا اس میں سے اکثر کوئی نئی کتاب ہی آتی تھی ، میں تیسری جماعت سے ہی نونہال پڑھ رہا تھا ، اسکے علاوہ بچوں کا رسالہ اور “نورستان“ جیسے رسالے ہمارے گھر میں موجود تھے ، جنہوں نے میری اردو بہت اچھی کر دی ، اور پھر جنگ اخبار کا بچوں کا صفحہ بھی بہت معاون ہوا، اسکول کے کام کی ڈائیری لکھتے لکھتے روز مرہ کی باتیں بھی لکھنے لگا ۔ ۔۔ پھر کوئی لطیفہ معلومات اچھی لگتیں تو انہیں بھی لکھ لیتا ، پھر ایسا ہوا کہ میری کاپیاں ایسی ہی چیزوں سے بھر جاتیں اور مجھے ایک نئی کاپی کی ضرورت پڑتی جو بڑی ڈانٹ کے بعد ملتی ، اور اگر نہیں ملتی تو اپنی بڑی بہن کی کاپیوں سے بہت احتیاط کے ساتھ درمیانی صفحے استعمال میں آتے ، اسی زمانے کی اس “پڑھائی “ نے مجھے چشمہ لگوا دیا ۔ ۔ ۔ میں کچھ زیادہ ہی پڑھاکو لگنے لگا ، نصاب کی ساری کتابیں پہلے پڑھ لیتا ، اور جب کلاس میں سبق پڑھایا جاتا تو میں پہلے سے سوال لے کر بیٹھا ہوا ہوتا ۔ ۔ یا پھر نئی نئی شرارتیں سوچتا ۔ ۔ ۔ اور جیسے کہ اصول ہے کہ جماعت کے شریر بچے کو مانیٹر بنا دیا جاتا ہے ، وہ ہی ہوا میرے ساتھ ، پھر کیا ہونا تھا سب میرے دوست ۔ ۔ ۔ میں اکثر گھر کا کام اسکول میں ہی کر لیتا اور گھر جا کہ صرف “غیر نصابی“ کتب پڑھتا ، جس سے میری والدہ کو بہت غصہ آتا ، مجھے یاد ہے کہ ایک دن وہ خود میرے اسکول گئیں اور ہماری پرنسپل سے شکایت کی کہ اظہر گھر میں بالکل نہیں پڑھتا آپ اسکا کام چیک نہیں کرتے ، مس فری (ہماری پرنسپل) نے ٹیچر کو بلوایا اور پوچھا تو انہوں نے کہا نہیں اظہر تو کلاس کے اچھے اسٹوڈنٹ میں ہے بس شرارتی ہے ۔ ۔ ۔ اور کام بھی ریگولر کرتا ہے ۔ ۔ بس اس دن کے بعد سے اماں نے ہمیں اجازت دے دی باقاعدگی کے ساتھ ہم “غیر نصابی“ کتب پڑھنے لگے ، میں اسی زمانے میں ، امیر حمزہ ، عمرہ عیار ، ٹارزن اور امبر ناگ ماریا سے واقف ہوا ، چوتھی جماعت میں ایک دوست نے مجھے اشتیاق احمد کی ایک کتاب دی اور پھر کیا تھا ، محلے کی لائیبریری ( جی ہاں اس زمانے میں ہر محلے میں ایک لائبریری ضرور ہوتی تھی ) سے “ریڈیو سے چاند تک“ (اشتیاق احمد کا پہلا ناول ) سے لیکر ماہانہ آنے والے دو ناولوں سمیت سب کچھ پڑھ ڈالا ، شروع میں انسپیکٹر جمشید سیریز تھی پھر انسپیکٹر کامران سیریز آئی پھر شوکی برادر سیریز ۔ ۔ ۔ نے اپنے سحر میں لے لیا ، مہینے کے چار ناول پہلے لائبریری سے پڑھتا ، پھر بازار سے خرید لیتا ، جیب خرچ بچانا شروع کیا تو صرف اشتیاق احمد کی کتابوں کے لئے ، اماں نے کچھ عرصہ تو اس کو برداشت کیا اور ایک دن جب میں اسکول میں تھا میری پچھلے سال کی ساری خریدی ہوئی کتابیں ردی والے کو دان کر دی گئیں ، اور اسی دن میں اسکول سے آتے ہوئے جو نئے ناول لایا انکو “شہید“ کر دیا گیا ، مجھے یاد ہے میں کافی دیر تک روتا رہا ۔ ۔ اور کھانا بھی نہیں کھایا ۔ ۔ جس پر میری اچھی خاصی “ٹھکائی“ بھی ہوئی ۔ ۔۔ مگر یہ سب کچھ مجھے پڑھنے سے نہ روک سکا ۔ ۔ ۔ اسی زمانے میں میں نے شعر لکھنا شروع کیا ، کسی شہزادے کی دل میں سمائی کہ وہ کر ڈالے کسی کی پٹائی ۔ ۔ ۔ یا پھر ایک اور نظم جو بچوں کے رسالےمیں چھپی تو سارے محلے کو دکھاتا پھرا بوبی کا کتا پھر چھٹی جماعت میں جب آیا تو مجھے ابن صفی سے تعارف حاصل ہوا ، عمران سیریز نے سری ادب کے نئی جہتیں متعارف کروائیں اشتیاق احمد کا بھوت پھر بھی قائیم رہا ۔ ۔ ۔ اسی دوران ہم پنڈی سے کراچی شفٹ ہو گئے ۔ ۔ ۔ جہاں کا ایک بالکل مختلف ماحول تھا ، اسکول کا انداز جدا تھا ۔ ۔ ۔نئے دوست نئی باتیں ۔ ۔۔ سب کچھ نیا ۔۔ مگر میں نے لکھنا وہاں بھی نہیں چھوڑا اور نہ ہی پڑھنا ، اور اسکے نتیجے میں نونہال کے فنکشن میں بھی گیا ، حکیم سعید سے ملا ، انکے ہاتھ کا آٹو گراف آج بھی میرے لئے سرمایہ ہے “جاگو جگاؤ“ ۔۔۔ پھر مسعود احمد برکاتی سے ملاقات ہوئی ۔ ۔ ۔ اسی زمانے میں ریڈیو پاکستان کراچی بھی گیا ، منی باجی سے ملا ، بچوں کے پروگرام میں حصہ لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر میں اب بڑا ہو گیا تھا ۔ ۔ ۔ کلاس میں دوست ملکر گاتے تھے ، شعر پڑھتے تھے ۔ ۔ ۔ اور اپنی نصابی سرگرمیوں میں بھی آگے تھے ۔ ۔ ۔ اسکول کے سالانہ فنکشن کے لئے لکھنا ایک مزے دار تجربہ تھا ، حاکے لکھے ، اساتذہ اور دوستوں کے لئے شعر لکھے ، مجھے یاد ہے ہماری مس نسرین نے ہمارے گروپ کو لکھنے کے بعد گھر پر مدعو کیا اور ہمیں بہت شاباش دی ، پیلے اسکول نے مجھے بہت کچھ دیا ، اچھے دوست ، اچھے استاد اچھی تعلیم ، وہ زمانہ کراچی میں امن کا تھا ، میرے والد سعودیہ چلے گئے ، اور جب میں آٹھویں جماعت میں تھا تو میری زندگی کا ایک ایسا ہولناک موڑ آیا کہ جس نے مجھے بدل ڈالا ، وہ اظہر جسے دوڑنے اور سائیکل ریسنگ میں کمال تھا ، وہ اظہر جو کرکٹ اور ہاکی کھیلتا تھا ، وہ اظہر جو اساتذہ کا لاڈلا تھا ، ایک دم جیسے رک گیا ۔ ۔ ۔ میں صرف بستر کا ہو کر رہ گیا ، دو سال تک میں بیڈ پر ہی رہا ، اسی دوران میں نے آٹھویں کا امتحان بول کر دیا ، (میں لکھ نہیں سکتا تھا ) اور پھر نویں جماعت تک آتے آتے میرے ہاتھوں نے کام کرنا شروع کیا ، اور پھر ۔ ۔ ۔ میں نے لکھنا شروع کیا ۔ ۔ وہ دن آج کا دن میں نے لکھنا نہیں چھوڑا ۔ ۔ ۔ کیونکہ اب میں سائکل نہیں چلا سکتا ، میں بھاگ نہیں سکتا ۔ ۔ ۔ مگر میں رکنا نہیں چاہتا تھا ، میں نے چلنا شروع کیا ، بے شک میں بہت سست رفتار ہوں ، مگر میں رکنا نہیں چاہتا ۔۔ ۔ میں لکھنا چاہتا ہوں ۔ ۔ اور لکھتا رہوں گا انشااللہ ، میں نے زمانے کی تلخیوں سے لکھنا سیکھا ہے ، اس لئے میرے جذبوں میں شدت ہے ، میں بے بسی کو جانتا ہوں اس لئے ، عام روش سے ہٹ کہ لکھتا ہوں ، جسے کچھ دوست شاعری سمجھتے ہیں ، مگر وہ صرف بات کہنے کا طریقہ ہے ، ورنہ مجھے شاعری نہیں آتی ، نہ ہی میں افسانے کہانی اور مضمون نگاری کی جانکاری رکھتا ہوں ۔ ۔ بس بات کہنی ہوتی ہے کہ دیتا ہوں چاہے وہ شعر میں ہو یا نثر میں ۔۔ ۔ جو گزارا ہے وقت میں نے یہاں 2007/1/15 نئی نسلنئی نسل پر ہر طرف سے الزامات کی بارش ہے ، اور آگے سے نئی نسل پرانی نسل کو منہ توڑ قسم کے جوابات دے رہی ہوتی ہے ، میں اپنے آپ کو نئی نسل سے نہیں سمجھتا ، کیوں ؟ کیوں کہ مجھ میں نئی نسل جیسے کوئی خصوصیت نہیں پائی جاتی ، مثلاً میں پاپ میوزک کی جگہ پرانے گیت پسند کرتا ہوں ، میں فلمیں بھی پرانی پسند کرتا ہو گو ہر لحاظ سے ماضی میں رہتا ہوں ، مگر نئی نسل مستقبل میں رہتی ہے ، وہ مستقبل جس سے اسے بہت توقعات وابستہ ہیں ، میں نئی نسل کی سوچ کو پسند کرتا ہوں مگر انکی مجبوریاں بھی سمجھتا ہوں ، نوجوانی کی عمر جذبوں کی عمر ہوتی ہے ، اس میں انسان جو سوچ اپناتا ہے ساری زندگی اسی خواب کو حاصل کرنے یا سجانے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے ، آج کی نئی نسل بہت تیز چلنا چاہتی ہے ، اسے فوری نتیجہ چاہیے ، اپنے ہر عمل کا ، مگر یہ دنیا بہت مشکل جگہ ہے جہاں سے بعض دفعہ نتیجہ عمل سے پہلے نکل چکا ہوتا ہے اور کبھی کبھی ، کبھی نہیں نکلتا ۔ ۔ ۔ نئی نسل کا ایک اور مسلہ یہ بھی ہے کہ اسے صحیح گائیڈ نہیں کیا جا رہا ، وجہ اسکی کسی حد تک نئی نسل خود بھی ہے ، آج میڈیا کی چکا چوند میں ہم اپنی اقدار کو بھول چکے ہیں ، ہم سے پہلے والی نسل نے زندگی کا جو رخ اپنایا آج اسے نئی نسل کاٹ رہی ہے ، ہم سے پہلی والی نسل نے پیسے کو معیار زندگی بنایا ، رشتے ثانوی ہوتے چلے گئے ، کبھی جو محبتیں ایک گھر میں مختلف رشتوں کی شکل میں رہا کرتیں تھی نئی نسل آج ان سے بابلد ہوتی جا رہی ہے ، گھر کا تصور اب مکانوں کی کوٹھریوں میں قید ہو چکا ہے ، ہم جس ارتکاز سے گذرے ہیں وہ بہت ہی تلخ ہے ، پوری ملاقات سے آدھی ملاقات یعنی خط کو بھول کر اب ہم نے رابطے کے ذریعے تو بہت بنا لئے ہیں مگر رابطے کے لئے وقت ہی نہیں ، آج کی نئی نسل جس کشمکش کا شکار ہے اسکے ذمہ دار ہم سب ہیں ، میری نسل بھی اور مجھ سے پہلے والی نسل بھی ۔ ۔ ۔ آج ترقی کی شاہراہ پر ہماری نئی نسل جس میراتھن کا حصہ بن چکی ہے ، وہ شاہراہ کسی بھی منزل کی طرف نہیں جا رہی ۔ ۔ ۔ مگر ہم نے معاشرے کو ایسا بنا دیا ہے کہ بس ہمیں بھاگنا ہے اور کسی بھی سمت میں ، ہماری نئی نسل کسی منزل کی طرف نہیں بھاگ رہی بلکے صرف بھاگ رہی ہے ، ہم سے پہلی نسل والوں نے منزل کی طرف جانے والے راستے کو چھوڑ کر “شارٹ کٹ“ اپنایا اور ہماری نسل نے بنا سوچے اسی شارٹ کٹ پر چلنا شروع کیا اور پھر اب یہ نئی نسل اسی راستے پر ایسی بھٹکی ہے کہ اسے یہ بھی نہیں پتہ کہ آگے کا راستہ کیا ہے اور پیچھے کی سمت کون سی ہے ، اسی لئے اس نئی نسل میں ہمیں پیچھے چلنے والے بھی نظر آتے ہیں اور آگے چلنے والے بھی ، منزل کھو جانے کا غم کرنے والے بھی اور منزل کی جستجو کرنے والے بھی ، بھاگنے والے بھی چلنے والے بھی اور تھکے ماندے مایوس جو راستے کے پڑاؤ کو ہی منزل بنا کہ بیٹھ چکے ہیں ۔ ۔۔
مجھے یقین ہے کہ میری نسل جو نہیں کر پائی وہ نئی نسل ضرور کرے گی ، کیونکہ “ہم صرف عنواں تھے ، اصل داستاں تم ہو“ کے مصداق یہ نسل بہت کچھ کرنا چاہتی ہے ، ہماری نسل کو کتنا کہا گیا کہ “گماں تم کو کہ سفر کٹ رہا ہے ، یقیں مجھے کہ منزل کھو رہے ہو “ مگر ہم نے نہیں سنا ، اور چلتے چلے گئے بن منزل کے راستوں پر ، ہمیں تو کھوج کی تمنا بھی نہ تھی ، منزل نے تو پکارا کئی بار ، اب نئی نسل کے اندر کم سے کم منزل کی کھوج تو ہے ۔۔۔۔۔۔
راستہ مل ہی جائے گا منزل کا ، قدم اٹھاؤ تو سہی ، دوستو
دہل جائے گا عرش بھی صدا سے، آواز ملاؤ تو سہی دوستو چھٹ جائے گی گرد ماضی کی چہروں سے بھی ہمارے
روح کو جذبے سے ،جسم عمل سے ، دھلاؤ تو سہی دوستو 2007/1/14 میں ایسا کیوں ہوں؟کیا لکھوں ؟ ، اپنی بے بسی ، بے حسی یا پھر بے کلی ، کوئی بھی بات کرو ہر بات کا جواب ایسا منہ توڑ ملتا ہے کہ کتنا ہی وقت منہ کو سیدھا کرنے میں لگانا پڑتا ہے ، کسی سے سیاست کی بات کرو وہ آپ کو ایسا الجھا دے گا کہ آپ کو یا تو سب نیک پاک باز لگیں گے ، یا پھر سب کے سب “کنجر“ ۔ ۔ ہاں میں جانتا ہوں یہ سخت لفظ ہے مگر کیا کروں ایسا ہی ہے ، کسی سے مذہب کی بات کرو تو وہ آگے سے ہو کہ ملتا ہے کہ مذہب میرا ذاتی مسلہ ہے ، یہ بات آج دن تک مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مذہب کیسے ذاتی مسلہ ہو گیا ، وہ عمل جس پر آپ کی زندگی کی بنیاد ہوتی ہے وہ ذاتی کیسے ہو سکتا ہے ؟ اور پھر وہ عمل جس سے دوسرے آپ کو پہچانیں اور آپ کے کردار و اطوار کا فیصلہ کریں وہ ذاتی کیسے ہو سکتا ہے ، میری نظر میں مذہب وہ ذاتی عمل ہے ، جسکی وجہ سے معاشرہ متاثر ہوتا ہے ، مگر یہاں جس سے بات کریں وہ یا تو خود کو ایسا نیک پاک باز ظاہر کرے گا کہ ایسا پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں اگر کوئی فرشتہ سیرت انسان ہے تو یہ ہی ہے ، اور دوسرے نمبر پر وہ لوگ ہیں جو خود پر کوئی الزام نہیں سہتے بلکہ اپنے کسی بھی عمل کی وجہ دوسروں کو قرار دیتے ہیں ، میں اکثر اوقات کانپ کہ رہ جاتا ہوں جب ہم کسی حدیث کا سر عام مذاق بناتے ہیں ، جیسے ایک عام سی بات ہے یہاں (عرب امارات میں ) کہ “ہر عربی کو ہر عجمی پر فضیلت حاصل ہے “ اور واقعٰی ایسا ہی ہے مگر الفاظ حدیث کے ہیں ۔ ۔ ۔ مگر کسے پرواہ ۔ ۔ ۔ اور اگر کوئی یہ مان بھی لیتا ہے کہ وہ غلط ہے تو بجائے نادم ہونے کے اس پر فخر کرتا ہے ، کس میں کتنا قانون شکنی کا حوصلہ ہے ، کون کتنا بنک بیلنس رکھتا ہے ، کون کتنا زیادہ اپنی بات کو منوا سکتا ہے ، کون کتنا “کھلا“ بول سکتا ہے ،کون کتنا مفاد پرست ہے ، اور موقعے سے فائدہ اٹھانے والا ہے ، وہ ہی اس دنیا میں کامیاب و کامران ہے ، ایک اور آسان سی بات ہے جو اکثر میرے دوست بھی مجھ پر بھی عائد کرتے ہیں اور میں بھی انپر عائد کرتا ہوں کہ بھائی تم کہتے تو سب کچھ ہو کرتے کیا ہو ۔ ۔ ۔ مثلاً میں کہتا ہوں پاکستان مجھے بہت عزیز ہے تو پاکستان سے باہر کیوں بیٹھے ہو ؟ میں کہتا ہوں کہ مجھے دولت کی طلب نہیں ، تو پھر درھم دینار کے چکر میں کیوں ہو؟ ، میں کہتا ہوں کہ جہاد ہم پر واجب ہو چکا ہے ، تو پھر خود کیوں نہیں لڑنے جاتے ، میں کہتا ہوں ، اسلام ہی مسلئے کا حل ہے ، تو بھائی پہلے خود تو اسلام پر عمل کر کہ بتاؤ ، میں کہتا ہوں کہ سود سے بچو ، تو پھر یہ کریڈٹ کارڈ اور لیز پر گاڑی کیوں ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں لاکھ کہوں کہ میری فلاں مجبوری مجھے ان باتوں پر مجبور کرتی رہی ہے تو پھر انکا جواب بھی بڑی ڈھٹائی سے ہوتا ہے کہ ایسی ہی مجبوریاں ہماری بھی ہو سکتی ہیں ۔ ۔ ۔ ہر ایک کو اپنا غم بڑا لگتا ہے ، آج مجھے پتہ نہیں ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ ہم سب مل کر ایک غلط راستے پر غلط منزل کی طرف غلط وقت میں غلط طریقے سے جا رہے ہیں ، میرے ایک دوست نے کہا کہ تم خود کو تنقید کا حصہ بنا کہ دوسروں پر الزام دھرتے ہو ۔ ۔ ۔ مگر یہ تو چور کی داڑھی میں تنکے والی بات ہوئی ، اور اسکا مطلب یہ ہوا یا تو میں غلط ہوں تو پھر میری بات کو مسترد کر دینا چاہیے ، اور اگر میں صحیح ہوں تو کم سے کم اتنا ظرف تو ہونا چاہیے کہ مان لیا جائے ۔ ۔ ۔
میں نے اپنی ذات کے بارے میں بہت کم لکھا ہے ، مگر لگتا ہے اب لکھنا پڑے گا ، تا کہ میرے پڑھنے والوں کو پتہ چلے کہ میں “ایسا کیوں ہوں“ ، زندگی کا صرف ایک حصہ اپنے دوستوں سے شئیر کرنا چاہوں گا ، جس نے میری زندگی کو بدل دیا ۔ ۔ ۔ میں آٹھویں جماعت میں تھا ، جب مجھے فالج کا اٹیک ہوا ، میرا سارا جسم سن ہو گیا ، میں بول سکتا تھا مگر اپنی انگلی تک نہیں ہلا سکتا تھا ، مجھے یاد ہے کہ میرے وہ تین سال جو بیڈ پر گذرے وہ کیا تھے ، ایک ایک پل ایک ایک بات یاد ہے مجھے ، میں نے میٹرک تک تعلیم بیڈ پر کی ، بورڈ کے ایگزام ہونے کی وجہ سے میرے دوست اور بھائی مجھے اٹھا کر اسکول لے جاتے ، اور پھر میں کالج تک آتے آتے میں نے بچوں کی طرح گھٹنوں کے بل چلنا سیکھا اور پھر کھڑا ہونا اور سہارے سے چلنا ، مجھے یاد ہے میرے بے ڈھنگے چلن کی وجہ سے کتنے ہی لوگ مجھ پر آوازے کستے میں کبھی کبھی چلتے چلتے گر جاتا میرے کپڑے خراب ہو جاتے بعض دفعہ گٹر کے پانی میں نہا کہ گھر آتا ۔ ۔ ۔سب تھا مگر مجھے لوگوں نے یا تو “ترس“ کھایا یا پھر “مذاق“ اڑایا ، مگر ساتھ سوائے میری فیملی اور چند بہت قریبی دوستوں نے ہی دیا ۔ ۔ ۔ جو نہ صرف بے غرض بے لوث دوستی رکھتے تھے بلکہ میرا ساتھ بھی دیتے ، میرے سارے دوستوں کے الگ الگ نظریے تھے ، میرے پانچ دوست ان دنوں میرے بہت قریب رہے ، حمید جو اب پولیس میں اچھی پوزیشن پر ہے ، اردو سپیکنگ سے تعلق رکھتا تھا ، ایم کیوایم کا اچھا کارکن تھا ، میں پنجابی تھا مگر کبھی بھی ہم نے ایک دوسرے سے اس وجہ سے تلخ کلامی نہیں ہوئی ، بلکہ میں اسکی جماعت ایم کیوایم (جو اس وقت مہاجر قومی مومنٹ تھی ) اور وہ میری جماعت (پی پی آئی پنجابی پختون اتحاد ) کو خوب زد و کوب کرتے ، مگر ہم میں جو دوستی کا رشتہ تھا وہ اتنا گہرا تھا کہ یہ جماعتیں اور وہ نظریات کچھ نہ بگاڑ سکیں ، پھر ایک دوسرا دوست تھا عطا الرحمٰن ، وہ کٹر قسم کا جماعتی تھا ، بعد میں وہ جہاد پر بھی چلا گیا اور اسکے بعد نہیں معلوم کہاں ہے وہ ، مگر ان دونوں دوستوں نے میری بیماری میں جو میرا ساتھ دیا اسکا احسان میں شاید کبھی بھی نہ چکا سکوں ، جو حوصلہ جو ہمت ان دونوں نے بندھائی وہ آج تک مجھے زندہ رکھے ہے ۔ ۔ ۔ پھر کالج میں یہ لوگ بچھڑ گئے ، کیونکہ حمید والد کی وفات کے بعد کام کرنے لگا ، عطا الرحمٰن بھی جہادی ہو گیا (یہ کشمیر کے لئے جہادیوں کا زمانہ تھا ) اور کالج میں مجھے معظم اور عمران جیسے دوست مل گئے ، اور یہ دونوں بھی اپنے نظریات میں کٹر تھے اور ایسے کہ ایک اگر شمال میں تو دوسرا جنوب میں ، اور میں مشرق میں ، اور مغربی سمت کو پورا ریاض نے کیا ، ریاض کشمیری تھا جو باغ سے تعلق رکھتا تھا ، ہاں وہ ہی باغ جو پچھلے سال اجڑ گیا ، اسکی اپنی ہی منطق تھی ، وہ عجیب طبیعت کا آدمی تھا ، پل میں توشہ پل میں ماشہ ، کبھی میرے ساتھ کبھی معظم کے ساتھ اور کبھی کسی کے ساتھ بھی نہیں اسی کے توسط سے ہم عثمان سے ملے عثمان گلگت کا رہنے والا تھا ، گورا چٹا بہت خوبصورت جوان تھا وہ ، یہ سب دوست مجھے سنبھالتے ۔ ۔ ۔ میں گرتا تو مجھے اٹھاتے ، کبھی کسی نے بھی مجھے کمی محسوس نہیں ہونے دی کہ میں کسی طور بھی جسمانی کمی کا شکار ہوں ۔۔ ۔ ہم عام دوستوں کی طرح لڑتے جھگڑتے روٹھتے منتے اور جب کوئی میرا مذاق اڑاتا تو اسے جواب دینے والے میرے دوست ہوتے ۔ ۔ ۔ مجھ کمزور کے وہ مضبوط ہاتھ تھے ، میں چل نہیں پاتا تھا وہ میرے پہیے تھے ، مجھے آج بھی یاد ہے ہمارے محلے میں ایک پان کا کھوکا تھا جس پر ایک بزرگ بیٹھتے تھے ، ہم جب شام کو اکھٹے بیٹھ کر پٹریوں کے کنارے بحث کرتے لڑتے تو وہ بزرگ سنتے اور ہماری باتوں میں حصہ لیتے اردو سپیکنگ تھے اور بہاری تھے ، اور پاکستان کی محبت اس شخص میں جیسے کوٹ کوٹ کر بھری تھی ، انہوں نے ہمیں پاکستانی گروپ کا نام دیا تھا کیونکہ اس گروپ میں سندھی (منیر ) پنجابی (میں اور معظم ) گلگتی یا سرحدی )عثمان) اور ریاض کشمیری سب تھے ۔ ۔ وہ ہمیں اکھٹا دیکھ کر بہت خوش ہوتے کئی دفعہ ہمیں انھوں نے پان مفت بھی کھلایا ، ریاض اور عثمان سگریٹ پیتے تھے ، سو اس کھوکے سے ان کی یہ غذا بھی ملتی تھی ۔ ۔ ۔اور منیر کا پتی تمباکو ۔۔ ۔ ان سب کا ذکر اسلئے کیا کہ یہ اسی دنیا کے لوگ تھے بلکہ ہیں ۔ ۔ ۔ وقت نے ہمیں تلاش معاش میں کہیں کا کہیں پہنچا دیا ۔ ۔ مگر ہم ایک دوسرے کو نہیں بھولے ، منیر اندرون سندھ میں ایک کالج لیکچرار ہے اب ، ریاض اور معظم ایم ایس سی کیمسٹری کر کہ اچھی پوسٹوں پر سروس کر رہے ہیں ، عثمان ایک دواؤں کی کمپنی چلا رہا ہے ، عمران یہاں امارات میں منیجر ہے ، حمید پولیس میں ہے ، عطا الرحمٰن کا پتہ نہیں ۔ ۔ ۔ ہم سب ایک دوسرے سے الگ الگ تھے ایک دوسرے سے مختلف نظریات رکھتے تھے بلکہ ایک دفعہ تو ایسے ہی برتھ ڈیٹ نکالیں تو پتہ چلا کہ ہمارے گروپ میں ہوا پانی آگ اور مٹی سب موجود ہے ۔ ۔ ۔ یہ ہی زندگی کی نشانی ہے ، ایسے ہی زندگی گذاری جاتی ہے ، سب الگ الگ ہوتے ہوئے بھی ایک ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مگر بات ہے اس ظرف کی اس جذبے کی ۔ ۔ ۔ جو شاید آج کل بہت ہی کم ہوتا جا رہا ہے ۔ ۔
اللہ ہم پر اپنا رحم کرے (آمین) 2006/11/28 زندگی چلتی ھی رھے گیکچھ بھی تو نھیں بدلھ
وہ ھی رنگ وہ ھی سنگ
کچھ بھی تو نھیں رکا
سب کچھ ویسا ھی تو ھے
مگر ۔ ۔ ۔ ۔
کیا واقعی ھی؟
اتنا کچھ بدل گیا ھے کھ
اب کچھ بھی پرانا نھیں لگتا
رنگ وہ ھی ھیں مگر ماند
سنگ وہ ھی ھیں مگر اداس
کچھ بھی ویسا نھیں
مگر ھے کچھ کم ۔ ۔ ۔
اسی کمی کا بس احساس ھے
اور تو سب کچھ وہ ھی ھیں ۔ ۔ ۔ ۔
یادوں کی شمع اب جلتی رھے گی
زندگی تو زندگی ھے نا
زندگی چلتی ھی رھے گی ۔ ۔۔ ۔ 2006/11/19 زندگی کا لمبا ترین سفر٩ نومبر ٢٠٠٦ کو میں نے اپنی زندگی کا لمبا ترین سفر کیا ،دبئی سے راوالپنڈی تک کا۔ رات کے تقریباَ تین مجھے پاکستان سے بھائی کی کال ملی ، کہ میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے ، اچانک جیسے وقت تھم گیا ، مجھے نہیں سمجھ آیا کیا ہوا ، میں فوراَ دبئی ائیرپورٹ پہنچا پہلی سیٹ پی آئی اے کی صبح ساڑھے دس بجے والی ملی ، میں نے گھر واپس آ کر اپنی وائف کے ساتھ مل کر ضروری پیکنگ کی ، اس دوران صبح کے چھ بج چکے تھے میں نے اپنے ارباب کو فون کیا وہ سورھا تھا مگر اللہ بھلا کرے اس نے فوراَ ہی آفس میں میرے پاسپورٹ اور سیلری کا کہ دیا ، اور میں نو بجے ائیر پورٹ پر پہنچ گیا ، اس دوران گھر (پاکستان) میں بتا دیا کہ میں دوپہر تک پہنچ جاؤں گا انہوں نے جنازہ عصر کے بعد کا رکھ دیا ۔ ۔ ۔ مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ساڑھے دس بجے والی فلائیٹ بارہ بجے تک نہ اڑ سکی ۔ ۔ ۔ اور میں ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ بھی نہ کر سکا ۔ ۔ کیونکہ اسلام آباد کی اگلی فلائیٹ شام ساڑھے چھے بجے کی تھی ، پھر میں ساڑھے تین گھنٹے کی پرواز کے بعد جب اسلام آباد ائیر پورٹ پر اترا تو شام کے پانچ بج چکے تھے ، اور مجھے بھائی نے موبائیل پر بتایا کہ جنازہ ہو چکا ہے اب تدفین کے لئے تمہارا انتظار ہے ۔ ۔ ۔ میرا چھوٹا بھائی علی کراچی میں تھا اسکی فلائٹ بھی ایک گھنٹہ لیٹ تھی اور وہ ساڑھے پانچ بجے پہنچی ۔۔ ۔۔ میں نے ائیرپورٹ کے عملے سے گزارش کی کہ میری امیگریشن جلدی کر دیں اور اللہ بھلا کرے انکا کہ فوراَ میں باہر آ گیا ، اب بھائی کی فلایٹ بھی لیٹ تھی ۔ ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے آج ہی سب کچھ لیٹ ہونا ہے ، وقت گذرتا جا رہا تھا بھائی مجھ سے فون پر کہ رہا تھا کہ جلدی پہنچو میت کو جنازے کے بعد انتظار نہیں کرواتے ۔ ۔۔ مگر میں کیا کرتا ۔ ۔ ۔ مجھے اسلام آباد سے اپنے گاؤں جانا تھا جو پنڈی سے تیس میل کے فاصلے پر ہے ، پھر بھائی بھی آ گیا ، میرے کزن نے پہلے سے ہی گاؤں کے ایک لڑکے کو گاڑی کا کہا تھا ، اسے پتہ تھا کہ میں کون ہوں ۔ ۔ ۔ اسنے واقعٰی ہی تیز گاڑی بھگائی ، مگر ہر سگنل بند ۔ ۔ اور تو اور مندرہ کا ریلوے پھاٹک بند ۔ ۔ ۔ ٹریفک بری طرح سے جام تھا ۔ ۔ ۔ اسنے کچے میں گاڑی اتاری اور پتھروں اور کیچڑ سے ہوتا ہوا پھاٹک تک پہنچا اور پھر بھی پھاٹک بند ۔ ۔اور ریل بھی مال گاڑی ایسی سست کہ لگتا تھا کہ سلو موشن میں چل رہی ہو ۔ ۔ ۔ میری بے بسی کی انتہا تھی وہ ۔ ۔ ۔ بھائی سے مسلسل رابطہ تھا ۔ ۔ گاؤں کے لوگ اور برادری کے جنہیں کافی دور جانا تھا اور آخری بس بھی نکل جانے والی تھی ۔ ۔ سب میرا انتظار کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مگر میرا فاصلہ تھا کہ تیس میل جیسے تین سو میل ہو چکے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گاڑی کی سپیڈ سو سے اوپر تھی مگر لگتا تھا رینگ رہی ہے ۔ ۔ ۔ وقت کا پہیہ ۔ ۔ ۔ شاید گھومنا بھول گیا تھا ۔ ۔۔ بھائی کہ رہا تھا کہ ابو کو قبر میں اتار رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ میں تھا کہ ۔ ۔ کنگ ہو کر رہ گیا تھا ۔۔۔ اور جب میں گاؤں میں داخل ہوا تو شام کے چھ بج رہے تھے ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے ماموں تایا اور بھائی اور کزنز سب کھڑے تھے میں جیسے گاڑی سے بھاگا مگر گندم کی بوائی ہوئی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ کھیت میں نرم مٹی تھی ۔ ۔ میں جو شہر کے سخت فرش کا عادی تھا مجھے چلنا کہاں آتا تھا ایسے کھیتوں میں میرے ماموں بھائی اور کزنز نے مجھے پکڑا قبر تک لائے ۔۔۔ میرے ابو قبر میں تھے ، انکا چہرہ میرے سامنے تھا ۔ ۔۔ میں چلایا رویا ابو مجھے سے بولیے مگر ۔ ۔ ۔ اب شاید لفظ ختم ہو چکے تھے ۔ ۔ ۔ میرا سفر ختم ہو چکا تھا ۔ ۔ ۔ وقت کی گھڑیاں پھر چلنے لگی جیسے انہیں پر لگ گئے ہوں ۔۔ تھوڑی دیر بعد وہاں مٹی کا ایک ڈھیر نظر آیا گلاب کی پتیوں سے ڈھکا ہوا چمچماتی ہوئی پھولوں کی چادر سے ڈھکا ہوا ۔ ۔ ۔ میرا سفر ۔ ۔ بہت لمبا تھا ۔ ۔ ۔میرے والد کا سفر بھی بہت مشکل تھا اور اب وہ ایک ابدی سفر پر روانہ ہو چکے تھے ہمیں اکیلا چھوڑ کر ۔ ۔ ۔ میرے سامنے میرا بچپن تھا ۔ ۔ ۔ جب میں ویسپا پر ابو کے ساتھ بازار جاتا تھا ، پھر مجھے یاد آیا کہ جب پہلی بار ابو سعودیہ گئے تو میں کتنا رویا تھا کہ میں ساتھ جاؤں گا ۔ ۔ ۔ اور پھر کتنی بار انہیں سعودیہ کے لئے رخصت کیا مگر اب کہ بار یہ رخصتی ۔ ۔ ہمیشہ کے لئے تھی ۔ ۔ ۔ میں جب بیمار ہوا تو میرا پورا جسم مفلوج ہو گیا تھا ۔ ۔ ۔ میرے ابو مجھے اٹھا کر باتھ روم لے جاتے اپنے ہاتھ سے میری گندگی صاف کرتے ۔ ۔ اور اسی طرح سے مجھے ایک دفعہ اٹھاتے ہوئے انہیں زور لگنے کی وجہ سے گردوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی ۔ ۔ ۔ اور میرے والد کتنے ہی سال اس بیماری سے لڑتے رہے ۔ ۔ ۔پھر جب آج سے پندرہ برس پہلے میں نے کہا ابو اب میں گھر کو سنبھال سکتا ہوں آپ سعودیہ سے آ جائیں اور مجھے خدمت کا موقع دیں ۔ ۔ ۔ مگر انہوں نے آنے میں ہی بہت ٹائیم لگایا میں یو اے ای میں آ گیا ۔ ۔ ۔ سال میں دس پندرہ دن کی چھٹی جاتا ۔ ۔ ۔اور آ جاتا ۔ ۔ ۔ میں انکی خدمت کہاں کر سکا ۔ ۔ ۔ ابو ۔ ۔ میں شرمندہ ہوں کہ میں شاید آپ کا وہ ساتھ نہیں دے سکا جو مجھے دینا چاہیے تھا ۔ ۔ ۔ آج میں جس پوزیشن پر ہوں اپنے والدین کی وجہ سے ہوں ۔ ۔ ۔ میرے ابو ہمیشہ مجھے آگے بڑھنے کے لئے مدد گار رہے ، ١٩٨٨ میں جب میں کمپیوٹر کو اپنا پروفیشن بنایا تو ابو نے ہی مجھے آگے کیا وہ خود سعودیہ میں کمپوٹر پڑھاتے بھی تھے ۔ ۔ ۔ رائیل نیوی میں اچھی پوسٹ تھی انکی اور ہمیشہ انہوں نے مجھے اس وقت جب پاکستان میں خال خال لوگ اس پروفیشن میں تھے اور اس کی اہمیت سمجھتے تھے ۔ ۔ انہوں نے مجھے سپورٹ کیا ۔ ۔ ۔ کیا کیا کہوں لفظ کم ہیں اور باتیں ہزار ۔ ۔ ۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ والد سخت ہوتے ہیں اور والدہ نرم ۔ ۔ ۔ مگر میں سب سے زیادہ مار اپنی امی سے کھائی اور سب سے زیادہ شفقت اپنے ابو سے ۔۔ ۔ ۔ مجھے یاد ہے شاید ١٩٧٤ ٧٥ کی بات ہے میرے محلے میں ایک ہی ٹی وی تھا ۔ ۔ اور میں نے ابو سے ٹی وی کی فرمائیش کی ۔ ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ٹی وی ایک عیاشی تھی ۔ ۔ ۔ میرے والد اس وقت آئی سی پی میں اسٹینوگرافر تھے اور سئیر بھی تھے ۔ ۔ ۔ انہوں نے میری یہ فرمائیش کیسے پوری کی یہ بات مجھے ایک دہائی گذرنے کے بعد پتہ چلی اور اب جب میں خود ایک باپ ہوں مجھے پتہ چلا کہ اولاد کے لئے والدین کیا کیا کچھ کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ میرے والد نے بھی وہ سب کچھ کیا اور مجھے رونے نہیں دیا مگر آج میں رو رہا ہوں اور کوئی چپ نہیں کروا رہا ۔ ۔ ۔ میرے ابو سب کے ساتھ ایک سے تھے ابھی جب گلی کا ایک فقیر بھی ابو کی یاد میں رویا ۔ ۔ تو پتہ چلا کہ انہوں نے اتنے بڑے شہر میں کتنا نام کیا تھا اور کیسے سب کے ساتھ متوازن رہے ۔ ۔ ۔۔ میں سوچتا ہی رہا کہ میں شاید کبھی بھی اس طرح کا سلوک سب کے ساتھ نہ کر سکوں کہ فقیر تا بادشاہ سب کے لئے ۔ ۔ ۔ایک خلوص رکھوں ۔ ۔ ۔ اور اتنی بڑی برادری کو ساتھ لے کر چلوں ۔ ۔ ۔ ایک لمبا سفر میرے سامنے ہے ۔ ۔ ۔بہت لمبا سفر مگر اس سفر میں میرے رہبر میرے والد ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انکا ساتھ میرے ساتھ رہے گا انشااللہ ہمیشہ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے ، انکے درجات بلند کرے اور انکے لئے وہ جہاں بہتر کرے ۔ ۔ ۔ (آمین) اور مجھے اور میرے اہل خانہ کو صبر دے اور طاقت دے کہ ہم ابو کے لئے مغفرت کی دعا کرتے رہے ۔ ۔ ۔ (آمین) --------------------------------------------------------------------------- ایک گذارش ؛ جو بھی اس تحریر کو پڑھے ، میرے والد کے لئے دعائے مغفرت کرے ۔ ۔ ۔ 2006/11/7 جی ہاں “بات تو کرنی پڑے گی“کہنے کو تو بہت کچھ ہے اس سیریز اور اس موضوع پر ، مگر ابھی سیریز پوری نہیں ہوئی سو ہو سکتا ہے کہ ابھی تک کا تبصرہ اتنا مفصل نہ ہو سکے ، میری نظر میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ، جی ہاں “بات تو کرنی پڑے گی“ کیونکہ اب جنس کا بازار بہت “گرم“ ہو چکا ہے ، مغرب جس “ٹرانزیشن“ کے دور سے تقریبا ستر اسی برس پہلے گذرا تھا ، ہم اس ٹرانزیشن کے دور میں اب داخل ہو چکے ہیں ۔ مذہب خاصکر اسلام جنس کے بارے میں بہت کچھ کہتا ہے ، مگر ہم سننا نہیں چاہتے یا ہمیں سنائی نہی دیتا یا کوئی بتاتا ہی نہیں ، مثال کے طور پر قرآن کی آیت ہے کہ “مرد و عورت ایک دوسرے کے لئے پہناوا ہیں “ اس میں کتنی خوبصورتی سے مرد و عورت کے رشتے کی بات کی گئی ہے ، اور پھر دوسری بات اسلام میں بہت وضاحت سے رشتوں کو بتایا گیا ہے اور انکا احترام سکھایا گیا ہے ، مگر اسلام کی اصل روح نہ جاننے کی وجہ سے لوگ اس “دلدل“ میں پھنس رہے ہیں ، ہمارے یہاں جنس ایک “ڈھکی ہوئی حقیقت“ ہے ، سب اسکو جانتے ہیں مگر بات نہیں کرنا چاہتے ، حتہ کہ مذہبی لوگ ہی اس چیز کے زیادہ شکار ہوتے ہیں ، خاصکر ہم جنس پرستی کے ، میرے خیال میں اس جنسی بدحالی کی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں ،
ایک ۔ مرد کے لئے عورت اور عورت کے لئے مرد ۔۔ ۔ ایک اینٹ کتے والی چیز سمجھی جاتی ہے ، عزت کو صرف جسمانی تصور کیا جاتا ہے ذہنی عزت کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہی ہے دوسرا ۔ وقت گذاری ، غریب ہے تو بے روزگار ہے اور یہ ہی اسکا روزگار بنتا ہے ، اور اسی میں وقت گذارتا ہے اگر امیر ہے تو اسکے لئے وقت گذاری کا اس سے بہتر مصرف نہیں تیسرا - مذہبی تھانیدار مذہب کی روح کو سامنے نہیں لاتے ، کیونکہ اس صورت میں انکی اجارہ داری ختم ہو جاتی ہے ، وہ “حلال اور حرام“ کو ایسے بیان کرتے ہیں جیسے ایک ڈاکٹر کسی مریض کو پرھیز بتاتا ہے ، اور مریض جسکی دوا صرف غذا ہوتی ہے وہ چاہے جسمانی ہو یا روحانی دونوں صورتوں میں صحتیاب نہیں ہو سکتا ۔۔ ۔ ہمارے معاشرے میں جنس کا لفظ ہی ایک برائی کی علامت ہے چاہے وہ مادی جنس ہو یا جسمانی یا روحانی ۔ ۔ جوں ایلیا نے معاشرے کی اسی بے بسی اور بے چارگی کو یوں بیان کیا ہے (میری یاداشت اچھی نہیں مگر پھر بھی نظم لکھ رہا ہوں اگر آپ تصیح کر سکیں تو مہربانی ہو گی ) اے ۔۔ اے جی ۔ ۔ سنیں جی ۔ ۔ اے سنو تو ۔ ۔ ارے ۔ ۔ تم میرا نام کیوں نہیں لیتیں؟
--------------------------------------------------------------------------------------------- بی بی سی کی سیریز “بات تو کرنی پڑے گی“ پر لکھا گیا مضمون |
|
|