| Azhar Ul Haq 的个人资料اظہرالحق کی دنیا - Azhar...日志列表 | 帮助 |
|
|
2009/9/19 میرا سلامایک دوست نے مدینے میں روضہ رسول (ص) پر میرا سلام دیا
قبول کر لیں سلام میرا، ایک عاصی یہ کہتا ہے
عاجزی کا بیغام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے نہیں مقدر میرا تو ، مدینے جانے والوں سا
مجبوری ہے نام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے آؤں طیبہ کی ہوا میں ، پیاس بجھ جائے برسوں کی
بھر جائے یہ جام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے موت آ جائے نہ میری ، مدینے جانے سے پہلے
زیست کا ہے اختتام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے اظہر اس بات پر نازاں ، کہ سلام ان تک پہنچا
شاید اتنا ہی دام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے 2009/9/15 نعتہر درد کی دوا، نام آپ کا ہر اک کا آسرا ، نام آپ کا آپ ہی تو ہو وجہ دوجہاں
ابتداء اور انتہا ، نام آپ کا گناہ کا مرض لگ جائے اگر
اس کے لئے شفاء، نام آپ کا سب سے ارفع سب سے اعلٰی
رب نے ہے کہا، نام آپ کا آدم کو کر دیا خدا نے معاف یوں
جب واسطہ بنا ، نام آپ کا میں کہاں، کہاں آپکی ثناء
بس لکھتا رہا ، نام آپ کا اظہر مجھے سکوں ہی ملا
جب بھی لے لیا ، نام آپ کا مناجاتاے میرے خدا اے میرے خدا
ہم پر رحمت کا مینہ برسا تنگ ہوئی ہم پہ یہ زمیں
روٹھا ہوا ہے عرش بریں کس کو سنائیں حال اپنا
تیرے سوا تو کوئی نہیں بس تو ہی تو ہے آسرا ۔ ۔ ۔ ۔
اے میرے خدا اے میرے خدا ہم عاصی ہیں ہم نافرماں
ہم بھولے ہیں تیرا قرآں ہم دنیا داری میں کھوئے خسارے میں ہیں ہم ناداں معافی کی ہم مانگیں دعا
اے میرے خدا اے میرے خدا
تجھے واسطہ شاہ یثرب کا
تجھے واسطہ فاتح خیبر کا تجھے واسطہ شہید کربل کا تجھے واسطہ تیری رحمت کا میں گر چکا ہوں مجھ کو اٹھا
اے میرے خدا اے میرے خدا میرے دیس کو خوشحالی دے
میرے شہر کو رُت متوالی دے میری گلیوں کو روشن کر دے میرے گھر کو حُسن جمالی دے ہمیں اپنی رحمت میں لے چھُپا اے میرے خدا اے میرے خدا 2009/4/22 میرا دیس تو ایسا نہیں تھابہت دنوں کے بعد جب لکھنے بیٹھا تو ظاہر ہے اپنے حالات سامنے تھے ، دل خوں کے آنسو روتا ہے اور اسی دل کی یہ صدا ہے ، شاید ہم سب بھی یہ ہی کہنا چاہتے ہیں کہ “میرا دیس تو ایسا نہیں تھا“
یہ لڑنے جھگڑنے والوں کی بستی یہ نفرت کی سیاست چالوں کی بستی یہ آگ اور انگاروں کی دنیا یہ بندوقوں بموں بھالوں کی بستی جیسا ہے یہ تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا بنایا تھا اسکو خوں دے کہ اپنا
سجایا تھا ہم نے مل کہ یہ سپنا مل کہ ہم نے کیا تھا حاصل اک ساتھ تھا سب کے دل کا دھڑکنا اک تھا ،ٹکروں کے جیسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
آندھی بھی آئی ، طوفاں بھی آئے
بادل بھی گرجے ، سیلاب بھی آئے
روکا سب نے دیوار بن کہ دشمن کے گولے سینے پے کھائے جینا اور مرنا تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا کوئی بھوک سے بلکتا نہیں تھا
دکھوں سے کوئی سسکتا نہیں تھا چوری تو تھی پر ڈاکا نہیں تھا زردار تھے مگر کوئی اندھا نہیں تھا مقصد جیون کا پیسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا میرا خدا ہم کو اتحاد دے دے
اجڑے ہوؤں کو آباد دے دے دے دے ہمیں تو رحمتیں اپنی ٹوٹے دلوں کو تو شاد دے دے خدا سے یوں جدا سا نہیں تھا میرا دیس تو ایسا نہیں تھا 2009/2/4 اک حُسن پا بہ زنجیر ہےاک حُسن پا بہ زنجیر ہے
ہر عشق جسکے لئے دلگیر ہے آزادی جسکا خواب ہے آزادی ہی تعبیر ہے وہاں جو جواں و پیر ہے
ظلم کے ہاتھوں اسیر ہے جہاں آزادی کا رانجھا ہے جہاں شہادت کی ہیر ہے اک حُسن پابہ زنجیر ہے
ہر عشق جسکے لئے دلگیر ہے
ہر ایک ہاتھ میں شمشیر ہے
جذبے کی کماں وفا کا تیر ہے وہ میرا کشمیر ہے 2009/1/5 العین میں پاک و ہند گرانڈ مشاعرہان حالات میں جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر ھے ، انڈو پاک گرانڈ مشاعرہ کرانے کی ہمت ہمارے بہت ہی محترم دوست جناب سکھدیو صاحب نے کی ، امریک غافل بھائی نے انکا ساتھ نبھایا اور العین کے حسین شہر میں ایک بہت ہی کامیاب مشاعرہ منعقد ہوا ۔ ۔۔ جسکی صدارت جناب سرفراز علی حسین (پاکستان) نے کی اور مہمان خصوصی تھے بھارت سے آئے ہوئے انور جمال انور نے ، نظامت کے فرائض رفیق صاحب نےانجام دئیے ۔ ۔ ۔
اس مشاعرے میں العین جیسے چھوٹے شہر کے بہت ہی اچھے سامعین شامل ہوئے ، جن میں زیادہ تعداد بھارتی دوستوں کی تھی ، اور سچی بات تو یہ ہے کہ میں جب سٹیج پر بلایا گیا ، تو سامنے دیکھ کر ٹانگیں کانپ کر رہ گئیں ۔ ۔ ۔ اسکی وجہ شاید چند بڑے ناموں کے بیچ میرے جیسے عام بندے کی تھی ۔ ۔ ۔ اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اسنے مجھے بہت عزت دی ۔ ۔ ۔ اور مجھے میرے کلام پر جو کہ کچھ مختلف تھا دوسرے لوگوں کی بنسبت سراہا گیا ۔ ۔ ۔
اصل میں میں نے سوچا تھا کہ میں اسکی تفصیل لکھوں گا مگر ذاتی مصروفیات کی بنا پر ایسا نہ کر سکا ، مگر اس مشاعرے کے چند اشعار ضرور جو ذھن میں رہ گئے پیش کر رہا ہوں اور پھر جو میں نے پڑھا اور اس مشاعرے کی کچھ تصاویر بھی ۔ ۔ ۔
ایک بھارت کے شاعر ہیں جناب عابد صاحب (میں نام بھول رہا ہوں شاید) انکے اس شعر کو بار بار پڑھایا گیا
رشتہ دل سے رشتہ ہے جان کا
مان ہے یہ تو سارے ہندوستان کا اور بھی ہیں ہمیں انکی بھی قدر ہے رتبہ بہت بلند ہے اردو زبان کا ------------------------------------
ایک اور شاعر کے اس شعر پر بھی بہت تالیاں بجیں (انڈین اور پاکستانی مشاعروں کے درمیان داد دینے کا یہ سب سے بڑا فرق ہے ) نہ بچوں کا خیال نہ اہل و اعیال کا
کھو گئے ہو تم تو شاعروں کے بیچ میں -------------------------------------
سرفراز صاحب نے اپنی مشہور غزل “دین و دنیا حاضر ہوں“ سنائی جسکے چند منتخب اشعار یہ ہیں
ہم مزدور کی بات تو سن لیں گے
لیکن پہلے خون پسینہ حاضر ہوں قاضی صاحب باہر آئے ہیں
اچھا اچھا اچھا حاضر ہوں ---------------------------------------------------
اب وہ جو میں نے وہاں پڑھا پھول کبھی آگ میں اگتے نہیں
ہرے پتے تو یوں ہی جلتے نہیں نفرتوں کی زندگی ہے چار دن کی محبتوں میں لوگ کبھی مرتے نہیں -------------------------
پیغام (ایک نظم) بارود کی فصل بونے والو
تم نے پھول اگائے ہوتے بندوقوں کے شعلوں سے تم نے نفرت کے گیت نہ گائے ہوتے سیاست چمکانے کی خاطر
انساں ، انساں نہ لڑائے ہوتے محلوں میں رہنے والو تم نے غریبوں کے بھی سر چپھائے ہوتے سرحدوں سے پہچان ہے اپنی
سرحد پے دل یہ ملائے ہوتے جیسے ہم تم ہیں مل کہ بیٹھے ایسے ہی دل بھی ملائے ہوتے پڑوسی کبھی بھی بدلتے نہیں ہیں
بڑوں کے قول نبھائے ہوتے اپنی اپنی پہچان نہ ہم کھوتے جو اپنے کے ہم نہ ستائے ہوتے -------------------------
میں بھی انساں تو بھی انساں فاصلے اتنے کیوں درمیاں کیا ہوا جو نام الگ ہیں
تیرا ایشور میرا رحماں پیغام محبت کا سب دیتے ہیں
تیری گیتا میرا قرآں خوشبو کا کوئی وطن نہیں
گل کا دیس بس گلستاں اظہر سرحدیں کیوں مٹائیں
یہ تیری میری ہیں پہچاں 2008/10/10 ایک مشاعرہحاضرین و سامعین و ناظرین ، آج کے مشاعرے میں آپکو خوش آمدید کہتا ہوں ، آج اس مشاعرے میں ساری دنیا سے بلکہ میں یوں کہوں گا کہ ساتوں براعظموں سے اردو کے عظیم ترین شعراء موجود ہیں ، میں خصوصی طور پر اقبال ، غالب اور میر تقی میر کی اروح کو خوش آمدید کہتا ہوں اور مزید شکریہ ادا کرتا ہوں ، ورڈزورتھ اور ملٹن کی ارواح کا کہ جنہوں نے خصوصی اجازت کے ساتھ اس مشاعرے میں شرکت کی ہے ۔ ۔ ۔
سب سے پہلے حسب روایت میں یعنی اچھو اچھوی اپنی ایک باسی نظم پیش کرتا ہوں ، نظم کا نام ہے “کہیں دھماکہ نہ
ہو جائے “
آنکھیں کھول کہ چل بھیا
خطرہ ہے اب ہرپل بھیا گھر ، دوکان یا ہو آفس ڈر کی ہر اک محفل بھیا پڑوسن سے اب نہ ملنا
بریکنگ نیوز بن جائے گی شوق بہت ہے فیشن کا اسکو ہارڈ سے لوز بن جائے گی اسکا نزلہ گرے گا تجھ پر
پڑے گا پیٹ میں بل بھیا آنکھیں کھول کہ چل بھیا خطرہ ہے اب ہر پل بھیا ہوٹل کھانا کھانے نہ جا
دفتر سے سیدھا گھر آ تجھکو نہیں چلے گا پتا کب کہاں ہو جائے دھماکہ اگر تو نے سیر کا سوچا
لوگ کہیں گے پاگل بھیا خطرہ ہے اب ہر پل بھیا آنکھیں کھول کہ چل بھیا شکریہ شکریہ ۔ ۔ ۔ وقت کی تنگی کی وجہ سے میں اب مزید کچھ نہیں سناؤں گا ۔ ۔ ورنہ پڑوسن ۔ ۔ مارے گی ۔ ۔ میرا مطلب کہ ۔ ۔ اب میں دعوت کلام دیتا ہوں ۔ ۔ جناب شوہرگھرداری کو ۔ ۔ جو اپنا صدرانہ کلام پیش کریں گے
جئے بھٹو ۔ ۔ ۔ جئے بھٹو
زندہ ہے بی بی ۔ ۔ زندہ ہے بی بی ۔ ۔ حاضرین ؛ واہ واہ ۔ ۔
مگر یہ شعر نہیں ہے ۔ ۔ میں اب اپنا کلام پیش کروں گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ عنوان ہے ۔ ۔ “بی بی تیرا شکریہ “
کھا رہا ہوں اس ملک کو میں ، آپ کی اجازت ہے
آج ہوں میں جو کچھ بھی وہ آپ کی عنایت ہے تو نہیں ہے لیکن تیری ، تصویر ساتھ رہتی ہے
تو چالاک ہے کتنا ، بار بار یہ کہتی ہے مرکہ بھی نہ ہی مری ، بس یہ ہی شکایت ہے
آج ہوں میں جو کچھ بھی وہ ۔ ۔ آپ کی عنایت ہے ساری پالن مل جائے تو ، بچوں کی ماں بناؤں گا
نہ ملے گی وہ تو کسی اور کو میں پٹاؤں گا مجھے ساری اسمبلی کہ ، اب تو حمایت ہے
آج ہوں میں جو کچھ بھی وہ آپکی عنایت ہے اگر اجازت ہو تو ایک قطعہ صرف بی بی کے لئے ۔ ۔ ۔
قربان کر کہ خود کو ، مرا مقدر بنا دیا
کتنے ہی جیالوں کا ، گاڈ فادر بنا دیا دس فی صد سے گذارا کہاں ہوتا ہے یہاں ڈال کہ نوے اور ۔ ۔ صد - در بنا دیا واہ واہ ۔ ۔ ۔ ۔
اب میں چاہوں گا کہ ہمارے بہت محترم جناب “ارمان ملک“ صاحب اپنے زور فکر کے نتیجے سے مستفیض فرمائیں
ٹھیک ہے میں بہت کچھ آپ کو ابھی نہیں بتا سکتا جب ہمیں پتہ چلے گا تو بتا دیں گے ۔ ۔ ۔ ہاں تو میری رپورٹ کا عنوان ہے ۔ ۔ “ایک دھماکہ اور سہی “
بیانات کا یہ زور سہی
ایک دھماکہ اور سہی ہر دھشت گرد مخبر ہے اپنا
نیٹ ورک زرا کمزور سہی میڈیا کی باتیں ایسی ہی ہیں
بچہ ہے نا منہ زور سہی شیریں فرہاد کی کیسے ہو گی
مجنوں اسکا ہے ہور سہی اب تشریف لاتے ہیں ، جناب “زیرِ اعظم“ ۔ ۔ ۔ انکا کہنا ہے کہ وہ عظیم تر اعظم کے زیر اثر ہیں ۔ ۔ ۔ جی گھرداری صاب اجازت ہے ۔ ۔
جی میں ایک غزلا پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا ۔ ۔ ۔ (گھر داری کی طرف اشارہ کر کہ )
انکی باتیں سچی ہیں انکا وعدہ سچا ہے انکا ارادہ سچا ہے
سچا ہے انکا آنا جانا سچا ہے بس سچا ہے انکا دعویٰ سچا ہے مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو !!!! (سب نے تحسین کا شور مچا دیا )
نوازش ۔ ۔۔ جی شکریہ
وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو !!!
وہ باتیں ہی کیا جو باتیں نہ ہوں وہ ارادہ ہی کیا جو پورا ہو ہو دعویٰ ہی کیا جو ادھورا ہو !!!!! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک چھوٹی سی نظم ہے “ہم تماشا دیکھیں گے “ تم گھوڑے لاؤ ہاتھی لاؤ
تلوار چلاؤ یا تفنگ چلاؤ ہم تمہارا ڈھول و تاشا دیکھیں گے تم کرو تو سہی ہم تماشا دیکھیں گے بندے ہمارے ہونگے ، حملے تمہارے ہونگے
الفاظ تمہیں بھیجو گے ، جملے ہمارے ہونگے بارود کی سیاہی کی ہم بھی بھاشا دیکھیں گے تم کرو تو سہی ہم تماشا دیکھیں گے میں سید ، میرا شہر ولیوں کا
تم کافر ، یہ ملک ہے بل یوں کا قربان ہونے والوں کا اک دن لاشا دیکھیں گے تم کرو تو سہی ہم تماشا دیکھیں گے --------------
واہ واہ ۔ ۔ ۔ کیا بات ہے پی ایم صاب کی ۔ ۔ اب میں اپنے صدر مشاعرہ جناب بُش ٹیکساسوی سے انکے مدبرانہ کلام کا خواستگار ہوں ( سب شعراء کھڑے ہو کر انکے لئے تعظیم دے رہے ہیں )
ویل ہم ٹمارے پوٹری سے بہت ہیپی ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ اس لئے ہم نے ٹمارے واستے یہ پوئیم لکھے ہیں ۔ ۔ ۔
ٹوئنکل ٹوئنکل بُش سرکار
باقی سب کچھ ہے بے کار اپ اینڈ اپ ، ورلڈ سے ہائی
اپنی دھرتی ہے اپنا سکائی ایک ڈوسرا پوئم ہے جو ٹمارے کلین شیو مولانا اقبال نے لکھا ہے ہم کو بہت پسند ہے
ایک ہیں مُسلم ، بُش کی مہربانی کے لئے
عراق سے لے کر تابخاک باجوڑ و قندھر ہر ٹائم پے مسلم کی نئی آن نئی شان
ٹیرررسٹ ہیں سب کے سب یہ مسلمان ایران و افغان ۔ عراق اور پاکستان
یہ چار ممالک میں رہتے ہیں مسلمان یہ راز سبھی کو ہے معلوم کہ بُش بھی
امریکی نظر آتا ہے حقیقت میں ہے طالبان (سب نے بہت اصرار کر رہے کہ بُش مزید کلام سنائیں )
میں کل چلا جاؤں گا تو تو کیا کرے گا
میں یاد بہت آؤں گا تو تو کیا کرے گا میرے جیسا کون ہے ، یہ تمہیں نہیں پتا
مے کین نام ہے ، اوبامہ نہی ہے ایسا وہ صدر بن جائے تو تو کیا کرے گا
میں یاد بہت آوں گا تو تو کیا کرے گا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک لاسٹ پوئم سناٹا ہے ٹم کو جو گالب کے کلر میں ہے
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی ، پیس کے رات دن
بیٹھے رہیں فلمیں نئی دیکھتے ہوئے جنوری میں عراق کو زیر کریں
فروری میں ہم افغانیوں سے لڑیں مارچ کی گرمیوں میں ایران سے الجھیں اپریل میں ہم کوریا سے کہیں موسموں کی طرح بیاں بدلتے رہیں
دل ڈھونڈھتا ہے پھر وہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مئی میں ، طالبان کی ، دھمکیاں سنیں
جون میں پاکستان کو ، دھمکیاں دیں جولائی میں انڈیا سے معاہدے کریں اگست میں چائنا سے جا بھڑیں پبلک کو بریکنگ نیوز دیتے ہی رہیں
دل ڈھونڈھتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ستمبر میں نائین الیون کو منائیں
اکتوبر میں تیل کو بہا ئییں نومبر کی دوپہر میں عربوں سے ملیں دسمبر میں اسرائیل سے چلیں دنیا میں امن کو مٹا تے ہی رہیں
کون کہتا ہے یہ ہمیں فرصت ہے ہمیں مونگ سارے جہاں کے سینے پر دلیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
واہ واہ ۔ ۔ ۔ ۔
دوستو آپ کی سماعتوں کا بہت شکریہ ۔ ۔ ۔ ۔۔ اور اب یہ مشاعرہ اپنے اختتام پر پہنچتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2008/9/8 ملت کا “پاسباں“ ہے ، آصف علی زرداریمیاں بشیر اور قائد اعظم کی روح سے معذرت کے ساتھ
ملت کا “پاسباں“ ہے ، آصف علی زرداری ملت ہے جسم “جاں“ ہے ، آصف علی زرداری صد شکر پھر سے “گرم سفر“ اپنا کارواں
اور “میر کارواں“ ہے ، آصف علی زرداری لگتا ہے جا کہ ٹھیک نشانے پہ اسکا “تیر“
ایسی کڑی کماں ہے ، آصف علی زرداری ملت ہوئی ہے زندہ پھر اسکے نام سے
عظمتوں کا نشاں ہے ، آصف علی زرداری ہوتا نہیں ہے وعدہ کوئی قرآن اور حدیث
ایسا ہی اک بیان ہے ، آصف علی زرداری اسلام کے قلعے میں ہے اب جشن کا سماں
اسکا نگہباں ہے ، آصف علی زرداری اب چین کی نیند سوئیں گے ملک کے جانثار
سرحد پے برجمان ہے ، آصف علی زرداری ہو جائیں گیں آرزووئیں پوری ہر “ایک“ کی
اب تو قدر دان ہے ، آصف علی زرداری بکھری ہوئی ہے ملت ، ہزاروں ہی رنگ میں
اتحاد ، نظم ، ایمان ہے ، آصف علی زرداری پہلے تو فقط دس ہی فی صد کی بات تھی
پورا پاکستان ہے ، آصف علی زرداری ملت کا پاسباں ہے ، آصف علی زرداری ملت ہے جسم جاں ہے ، آصف علی زرداری 2008/5/29 شنید
دھرتی شعلے اگلے گی کب تک آخر یہ دنیا اک شخص کے گناہوں کی 2008/5/17 اے بیمار وطناے، بیمار وطن ، تیری کیا دوا کروں
زخم زخم اے دھرتی ماں،تیری کیا دوا کروں تیرے بیٹے ، تیرے قاتل
خوں سے بھرے ہیں تیرے ساحل ولیوں کی بستی ہے یہ جس میں بھرے ہیں سب جاہل عشق ہی نہیں سچا ، خود کو کیا فنا کروں
تیرے سپنے بھی میں بھولا، کیسے اب وفا کروں تو دیس ہے دل والوں کا تو دھرتی ہے متوالوں کی ہر دل میں تو ہی دھڑکتا ہے تجھ پر حکومت جیالوں کی خود کو جلاکہ اب میں کیا ضیاء کروں
بیچ کہ اپنی دھرتی ماں ، کیسے اب حیا کروں بتا مجھے میں کیا کروں
ذلت میں کب تک جیتا رہوں اپنا مجرم ، منصف خود ہی ہوں کس سے جا کہ پھر گلہ کروں ظلمتوں کے دور میں اب تو میں ڈرا کروں
بزدل ہوں ، پھر بھی خود سے لڑا کروں اے بیمار وطن تو ہی بتا ۔ ۔ میں کیا کروں میں کیا کروں!!!!
تو آباد رہے شاد رہے آزاد رہے اے میرے وطن دل کے چمن تیرے لئے بس یہ ہی میں دعا کروں!!!! زندہ کو لاش بنا دیتے ہیںزندہ کو لاش بنا دیتے ہیں
یقیں کو کاش بنا دیتے ہیں میرے دیس کے حاکم ہیں ایسے
دیس کو تاش بنا دیتے ہیں جسکو اخلاق کہتی ہے دنیا
ہم تو معاش بنا دیتے ہیں کچھ نہی بدلا ما سوائے پہناوا
یہ بود و باش بنا دیتے ہیں زردار ہیں حاکم شریفوں پر
غرباء کو قلاش بنا دیتے ہیں پیٹ کا دوزخ بھرے کا کب تک
توانا کو فراش بنا دیتے ہیں بچھڑ جائے جسکا کوئی اپنا زندگی اسکی تلاش بنا دیتے ہیں لوح سے خوں ٹپکتا ہے اظہر
قلم سے خراش بنا دیتے ہیں
2008/2/19 مشرف آخر جائے گاکچھڑی نئی پکائے گا
آگ نئی لگائے گا کرسی سے چپکائے گا مشرف یوں نہ جائے گا الیکشن ہوں یا سلیکشن ہو
ایکشن ہو یا ری ایکشن ہو پبلک چیخے یا چُپ ہو جائے ٹوٹا چاہے ہر اک کنکشن ہو یہ جہاں ہے وہیں رہ جائے گا
مشرف یوں نہ جائے گا بُش کا تو ساتھی ہے یہ
پاجیوں سے بڑا پاجی ہے یہ شرم و احساس سے عاری سفید چٹا ہاتھی ہے یہ عوام سے جوتے کھائے گا
مشرف یوں نہ جائے گا اسکو ہٹاؤ دیس بچاؤ
کچھ بھی کرو پر اسکو بھگاؤ مل کر سب اب آگے آؤ ساتھیو قدم آگے بڑھاؤ کیسے یہ جان چھڑائے گا
آج نہیں تو کل یہ جائے گا
2008/1/5 قطعہملک کے حالات پر یہ قطعہ دن پہلے لکھا تھا ، آج پوسٹ کر رہا ہوں
ان چاہتوں نے ہی تو اجاڑی ہے ہر بستی یہاں اک شخص کے جانے سے ، شہر ، ویرانے نہیں ہوتے نچڑتا ہے لہو ، ہاتھوں سے انکے ، دیکھو تو ذرا میرے دور میں قاتل کے، ہاتھ ، دستانے نہیں ہوتے 2007/11/10 ایمر جنسی میں بھی جیوغلامی کا زہر ہے ، پھونک پھونک کہ پیو عزت تو کب کی گئی ، اب بے غیرت بنو زندگی ہے کیا ، کھانا پینا اور پڑ کہ سونا جینا ہی ہے تو ایمر جنسی میں بھی جیو 2007/6/25 کبھی بجلی یہ گرتی ہے ، کبھی پانی برستا ہےکبھی بجلی یہ گرتی ہے ، کبھی پانی برستا ہے
میرے شہر کا ہر باسی ، جلتا ہے تڑپتا ہے کوئی مارا جاتا ہے ، کوئی آفت سے مرتا ہے
ہر دن کا سورج نئے دکھ دے کہ ڈھلتا ہے آنسو آنکھوں سے نہیں عرش سے برستے ہیں
زمیں خوں سے رنگتی ہے ، جو لمحہ بدلتا ہے پکے گھروں والے ، گھی کے دیپ جلاتے ہیں
کچی اینٹوں کا مکیں ، اینٹوں میں ہی دبتا ہے آباد اب ہیں قبریں ، برباد ہوا ہے شہر مرا
زندہ رہ جانے والا زندگی سے اب ڈرتا ہے میں مجرم ، تم مجرم ، مجرم ہیں سارے ہم
گناہ اپنے بڑھتے ہیں جو معصوم کوئی مرتا ہے اظہر کاش کوئی سمجھے ، کوئی جانے ، کوئی مانے
مٹ جاتا ہے ظلم سارا ، جب حد سے گذرتا ہے 2007/5/25 دعااس دنیا کے خداؤں کو بہت زعم ہے خود پر
اے خدا تیرے ماننے والے کدھر جائیں ۔ ۔ نہ تو آتا ہے زمیں پر نہ یہ لوگ اترتے ہیں آسماں سے انکی ہی حکومت ہے جدھر سوچیں جدھر جائیں ۔ ۔ اس قحط کے موسم میں بارش کی امید
سچ تو یہ ہے کہ اب امید بھی نہ رہی حلق خشک ہیں ، اور بدن لاغر شب کو کیسے گزاریں کیسے ہم سحر لائیں ۔ ۔ ۔ قانون زمیں پہ آسمانوں کا چلتا ہے
انسان پہ زور تو انسانوں کا چلتا ہے ظلم تو اک چھوٹا سا لفظ ہے جو خود رو سا بڑھتا ہے ماتم کدے ہیں ، گھر اب سارے جس راہ سے ہم گذر جائیں ۔ ۔ ۔ اے رب ۔ ۔ رحمت کا اپنی نزول کر آج اس شب کو سحر کا حصول کر جو مرجھانے لگی ہے کلی اسے پھول کر ظلم کا یہ دور اب بھول کر تو ہی سہارا ہے دکھتے دلوں کا تو ہی مداوا ہے ٹوٹے حوصلوں کا آ ۔ ۔ ۔ اب گرتوں کو سنبھال زمیں پہ اتر کر ۔ ۔ ۔ سرخ آندھیوں سے کہیں دعائیں نہ ہی بکھر جائیں ۔ ۔ ۔ دنیا کے خداؤں کے ہاتھوں ۔ ۔ ۔ اے خدا تیرے ماننے والے ۔ ۔ کہیں مر نہ جائیں ۔ ۔ ۔ 2007/5/13 آج میں اپنے آپ میں خود مر گیا ۔ ۔ ۔آج پھر شہر میں آگ لگی
آج پھر شہر میں قتل ہوئے آج پھر سیاست جیت گئی
آج پھر انسانیت رسوا ہوئی آج جب انساں مر رہے تھے یہاں
تو دور کہیں ڈھول کی تھاپ پر شیطاں رقصاں تھے ، ظالم ہنستے تھے اک ہجوم انساں تھا، جو زندہ نہ تھا آج پھر شور جیت گیا ، خاموشی سے
آج پھر طرب جیت گیا ، حزن سے آج میں نے جانا کہ زندگی کچھ اور ہے
آج میں نے جانا کہ سیاست بھی کچھ اور ہے آج میں نے طاقت کو سچ بناتے دیکھا آج میں نے جھوٹ کو سجاتے دیکھا آج میں نے جو دیکھا وہ اندھوں نے بھی دیکھا
نہ دیکھا تو طاقت والوں نے نہ دیکھا آج میرے شہر میں کوئی نہیں مرا آج میں اپنے آپ میں خود مر گیا ۔ ۔ ۔ 2007/4/7 انقلاب میرے یار یوں آیا نہیں کرتے!!!تنہا پرندے سفر پہ جایا نہیں کرتے
سیر شکم درندے تو ستایا نہیں کرتے حاکموں کا قصیدہ کوئی تو پڑھے گا
جُھک جائے جو سر وہ ، کٹایا نہیں کرتے خود سر ہو رہبر اور بے راہ ہو کارواں
ہر اک لگا رہا ہو بس اپنی ہی دوکاں بکھرے ہوئے تنکوں سا جب ہو آشیاں ایسے میں گیت طرب کے گایا نہیں کرتے ایماں میں حرارت نہیں ، عقائد میں ہے جنوں
دل درد سے خالی ہے اور آنکھوں میں ہے خوں اپنے ہی دشمن ہیں ، غیروں سے کیا کہوں گرد اپنے ہی سروں میں یوں اڑایا نہیں کرتے میں تیری نہیں مانوں ، تو میری نہیں مانے
میں تجھے نہیں جانوں ، نہ تو مجھے جانے پھر بھی ہم اک دوسرے پے تلوار ہیں تانے انقلاب میرے یار یوں آیا نہیں کرتے!!! 2007/3/27 نعتمیں ایک گناہ گار سیاہ کار بدکار انسان ہوں ، نعت لکھنا بہت ادب کا مقام ہے ، اسکے لئے نبی اکرم(ص) کی محبت سے دل لبریز ہی نہیں بلکے عمل بھی چاہیے ، میں بہت ڈرتا ہوں جب آپ (ص) کا نام لیتا ہوں کہ مجھے آپ (ص) سے محبت ہے ، کیونکہ انسان جس سے محبت کرتا ہے اسے راضی بھی رکھتا ہے ، اور جب مصطفٰی (ص) راضی ہو گئے تو رب راضی ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ کاش میں اپنے عمل سے نبی اکرم (ص) سے اپنی محبت کا ثبوت دے سکوں ۔ ۔ ۔ اللہ مجھے ہدایت دے (آمین) ۔ ۔ یہ نعت بہت عرصے بعد لکھی ہے ۔۔ میں جانتا ہوں کہ میں نعت گوئی کا حق ادا نہیں کر سکتا ۔ ۔ مگر ایک ادنٰی سی کوشش پیش خدمت ہے
آج کی ہے صدا ، مصطفٰی مصطفٰی
جگ کا ہے آسرا، مصطفٰی مصطفٰی غم کے بادل چھٹے ، دل جھوم سا گیا
جب لبوں نے کہا ، مصطفٰی مصطفٰی کوئی مشکل پڑے ، کوئی بھی کام ہو
وسیلہ ہے آپ کا ، مصطفٰی مصطفٰی دولت جہاں کی ملے ، گرد پاگر ملے
گدا بنے شہنشاہ ۔ مصطفٰی مصطفٰی سکوں کی تلاش میں ہے یہ سب جہاں
سکوں ملا جب کہا، مصطفٰی مصطفٰی سب کچھ انہیں سے ، انہیں کا ہے سب کچھ
ابتداء اور انتہا ، مصطفٰی مصطفٰی پہچان ہے یہ ہی ، اک مسلمان کی
یقیں بعد از خدا ، مصطفٰی مصطفٰی سمجھ جائے گا وہ راز دو جہان کے
جو بھی سمجھ گیا، مصطفٰی مصطفٰی عرش تا فرش آج درود ہے سلام ہے
مصطفٰی مصطفٰی ، مصطفٰی مصطفٰی فردوس کی خواہش نہیں ہے ، اب مجھے تو اظہر مجھے ملے اے خدا ، مصطفٰی مصطفٰی 2007/3/24 ترازو انصاف کا ڈولنے سے روکے کوئییہ دنیا ہے یہاں کرے کوئی بھرے کوئی
آگ جلائے ہے نہ جانے کون ، جلے کوئی اندر کا میرے سناٹا بہت بڑھ گیا ہے
ویرانیوں سے مجھے آزاد کرے کوئی اب حاکم وقت نے عدل پر ہاتھ ڈالا ہے
ترازو انصاف کا ڈولنے سے روکے کوئی میرے شہرکے مالک وہ تقریر و تدبیر کر
نہ ہاتھوں سے نہ باتوں سے تجھے ٹوکے کوئی فصیل تیرے محل کی اونچی تو بہت ہے
پرواز کر کہ کہیں تجھ تک نہ پہنچے کوئی آج جواں مار دے ، ضعیف کو لاچار کر
اے دروغہ تیرے مقتل سے کیا بچے کوئی نہ دیں کا چھوڑا نہ دنیا کو اپنا اظہر
کیا اس دیار میں اب جئے یا مرے کوئی |
|
|