| Azhar Ul Haq 的个人资料اظہرالحق کی دنیا - Azhar...日志列表 | 帮助 |
|
|
2009/9/1 بے نقاب سازش - عمران سیریز ایکسٹرا - آخری حصہملک بھر میں امریکہ سفارت خانے کی توسیع کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے ، انور کو مزید تفصیلات عمران دے رہا تھا جو کہ مغربی اور عرب سفارت خانوں سے حاصل کی جا رہی تھیں اور انور کا چینل انہیں بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کر رہا تھا ، امریکی حکومت نے اسکو سنبھالنے کے لئے نئے سفارت خانے میں بریفنگ کا انتظام کیا تھا ، صدر ، وزیر اعظم اور آرمی چیف کے ساتھ ساتھ نئے سیکرٹ سروس کے چیف مسٹر آر کو بھی مدعو کیا گیا تھا ، اسکے علاوہ تمام ممالک کے سفیر بھی موجود تھے ، ایک فوجی افسر نے سلائیڈز کی مدد سے نئے سفارت خانے کی توسیع کا ماڈل پیش کیا ، اور صدر اور وزیر اعظم اور چیفس کو وہ جگہ دکھائی گئی جسکے بارے میں انور کی رپورٹنگ تھی اور کہا گیا کہ یہ سرنگیں نہیں بلکے تہ خانے بنائے جا رہے ہیں ، جہاں پر ، بھاری اسلحہ رکھا جائے گا ، مگر جب آرمی چیف نے کہا کہ یہ تو بہت خطرناک ہو گا تو کہا گیا کہ اسکے لئے خصوصی انتظامات کئے جا رہے ہیں ، مگر مسٹر آر نے کہا کہ یہ مشینری اور وہ مشینری جو انور کی فوٹیج میں ہے بہت مختلف ہے ، اور یہ مشینری تہ خانے بنانے کے لئے استعمال نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ علاقہ کچے پتھروں کا ہے ۔ ۔ ۔
ہمیں یقین تھا کہ آپ میں سے کوئی بھی اس بات کو سمجھ جائے گا ۔ ۔ ۔ اس لئے ہم نے پلان بی تیار کیا ہے ، امریکی سفیر نے زہر خند لہجے میں کہا پلان بی ۔ ۔ ۔ صدر کے منہ سے نکلا چینی سفیر کی بات پر آپ کو یقین ہو گا نا کیونکہ وہ آپکا قریبی دوست ہے اور آپکو اسپر اعتماد بھی ہے ہم نے ایسا ہی سفارت خانہ بیجنگ میں بنایا ہے ۔ ۔ اتنے میں چینی سفیر وہاں پر آ گئے ، انکے ساتھ ایک بالکل دبلا پتلا مگر لمبا چینی تھا ۔ ۔ ۔ آپ کیا کہتے ہیں سفیر صاحب مسٹر پریزیڈنٹ ، مجھے آپ سے اکیلے میں بات کرنی ہے ، چینی سفیر نے بے باک انداز میں کہا ہز ایکسلینسی ، یہ ہماری زمین ہے آپ کو ہمارے سامنے بات کرنی ہو گی ۔ ۔ اوکے پھر میں جاتا ہوں ۔ ۔ ۔ چینی سفیر مڑے ہی تھے کہ انکے سامنے انکا ہی آدمی انہیں روک کہ کھڑا ہوا گیا انہوں نے چینی میں اسے کچھ کہا ، تو اس نے بھی چینی میں کچھ کہا ۔ ۔ ۔ مسٹر چانگ ، یہ ہمارا ہی آدمی ہے ۔ ۔ ۔ سنگ ہی ۔ ۔ ۔ ۔ امریکی سفیر نے کہا ادھر ٹائگر اور چیف سچوائشن سمجھ چکے تھے ٹائگر ایکشن کے لئے ریڈی تھا مگر مسلہ صدر اور وزیر اعظم کا تھا ، اتنے میں چھے امریکی فوجی گنوں کو تانے ہوئے نمودار ہوئے یہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ وزیر اعظم کی آوز حیرت سے بیٹھ گئی تھی دوستو ۔ ۔ ۔ اس جانب ۔ ۔ ۔ یہ کیا بدتمیزی ہے ۔ ۔ ۔ صدر صاحب نے شاید پہلی بار گڑ بڑ محسوس کی آپ نے ایک معاہدے پر دستخط کرنے ہیں مسٹر پریزیڈنٹ کونسا معاہدہ ۔ ۔ ۔ وہ گنوں کی چھاؤں میں ایک کانفرنس روم میں پہنچ چکے تھے ، امریکی سفیر نے کہا تشریف رکھیے ۔ ۔ ۔ اور سامنے رکھے انٹر کام پر کہا ، ڈاکومنٹ لے آؤ ۔ ۔ ایک دروازہ کھلا اور ٹائگر اور چیف کو اپنی حیرت اور خوشی چھپانے کے لئے بہت ہی کنٹرول کرنا پڑا دروزاے سے اندر ایک مرد اور دو عورتیں آئیں تھیں ، اور مرد کوئی اور نہیں عمران تھا ، انکے ہاتھ میں فائیلیں تھیں جنہیں صدر ، امریکی سفیر اور چینی سفیر کے سامنے رکھ دیا گیا صدر نے فائل کھولی اس میں ایک ہی صفحہ تھا ۔ ۔ ۔ صدر اسے پڑھتے گئے اور انکا چہرہ غصے سے لال ہوتا چلا گیا ۔ ۔ ۔ انہوں نے فائل وزیر اعظم کی طرف بڑھائی ۔ ۔ ۔ ادھر چینی سفیر کا بھی وہی رد عمل تھا جو صدر کا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کیا بکواس ہے ۔ ۔ ۔ ہم اپنے ایٹمی پروگرام اور چینی دوست کے ساتھ تعاون کو کبھی ختم نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ وزیر اعظم کی آوز جیسے گرج تھی تم بھول رہے ہو مسٹر کہ چین اب ایک سپر پاور ہے ۔ ۔ ۔ چینی سفیر نے بھی تیز آواز میں کہا ٹائگر اور چیف اب سارا کھیل سمجھ چکے تھے اور عمران سنگ ہی کے پاس پہنچ چکا تھا ۔ ۔ ۔ جو اسے دیکھ کر دانت پیس رہا تھا تمہیں یہ سائن کرنے پڑیں گے ۔ ۔ ۔ امریکی سفیر نے چلا کہ کہا اور ساتھ ہی فون کے لاؤڈر سے امریکی صدر کی آواز آئی گڈ آفٹرنون دوستو ۔ ۔ ۔ مسٹر پریزیڈنٹ یہ سب کیا ہے ۔ ۔ ۔ صدر صاحب نے نرم لہجے میں پوچھا یہ ضروری ہے ، اگر آپ اسے نہیں کریں گے تو ۔ ۔ ۔ آپکی امداد ختم کر دی جائے گی اور آپکو قرض دینے والی کمپیوں کے انڈر کر دیا جائے گا ، اور پھر آپ یہ جو تھوڑی سی پالیسی بنا سکتے ہیں وہ بھی نہیں کر پائیں گے ، یہ مت بھولو کہ تمہارا ملک ہمارے پاس گروی رکھا ہے ۔ ۔ ۔ ہم مر جائیں گے مگر اس پر سائین نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔ صدر صاحب نے اس دفعہ بہت ہی سخت ہلجے میں کہا اتنے میں چین کے سفیر نے جیب سے ایک چھوٹا سا فون نکال لیا تھا اور وہ اپنے پریزیڈنٹ کو چینی میں سچوئشن بتا رہے تھے تو پھر اپنے ملک کی بربادی کے لئے تیار ہو جائیں ۔ ۔ ۔ ۔ مسٹر پریزیڈنٹ ۔ ۔ ۔ چین کے سفیر نے تیز لہجے میں کہا ، اگر آپ نے انہیں مجبور کیا ، تو چائنا اپنا سارا سرمایہ امریکی مارکیٹ سے نکال لے گا ، اور آپ جانتے ہیں کہ اسکا کیا مطلب ہے ۔ ۔ ۔ ہز ایکسیلنسی آپ کو ہم مغربی بندر گاہ پوری دے دیں گے ۔۔ ۔ امریکی صدر نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا وہ پہلے ہی ہمارے پاس ہے ، ہم اپنے دوستوں کو تنہا نہیں چھوڑتے ۔ ۔ ۔ ٹھیک ہے اگر آپ سائن نہیں کریں گے ، تو پھر آپ کے جسموں میں ایسا انجیکشن لگایا جائے گا کہ آپ کل ہی ختم ہو جاؤ گے ۔ ۔۔ ہم مرنے کے لئے تیار ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ مگر ملک سے غداری نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔ میں اپنے ملک کو تمہاری کرتوت بتا رہا ہوں چینی سفیر نے موبائل اپنے کان سے لگایا ہی تھا کہ سنگ ہی نے اسے جھپٹ لیا ، عمران نے سنگ ہی کو پکڑ لیا تھا مگر وہ بام مچھلی تھا پھسل گیا ۔ ۔ ۔ امریکی سفیر نے فوجیوں کو اشارہ کیا ، وہ سب اپنی گنیں اٹھا کہ صدر اور وزیر اعظم پر تان دیں مگر انہیں فوجیوں میں سے دو ان فوجیوں کی کنپٹیوں پر گنیں لگا دیں ۔ ۔ ۔ روشی اور جولیا نے امریکی سفیر کو کور کر لیا تھا عمران سنگ ہی کے پیچھے کھڑا تھا ۔ ۔ ۔ ٹائگر اور چیف نے اپنی خفیہ جیبوں کے ہتھیار نکال لئے تھے اور انہوں نے بقیہ چار فوجیوں سے گنیں چھین لیں تھیں ۔ ۔ جو اب جولیا اور روشی کے ہاتھ میں تھیں ۔ ۔ ۔ امریکی سفیر اس سیکنڈوں کی کاروائی میں سُن ہو چکا تھا ، عمران نے سنگ ہی کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
مسٹر امریکن پریزیڈنٹ ، آپ کا سفیر اور سارا سفارت خانہ ہماری سیکرٹ سروس کے قبضے میں ہے ، آپکو اب ہماری بات ماننا ہو گی
رابرٹ یہ کیا کہ رہا ہے ۔ ۔ ۔
سر یہ ٹھیک کہ رہا ہے یہاں سچویشن بدل چکی ہے ۔ ۔ ۔ ہم سب انکے قبضے میں ہیں ، ہمارے فوجی بھی انہیں کے آدمی نکلے ہیں
اوہ ۔ ۔ ۔ ٹھیک معاہدے پر دستخط نہ کرو ۔ ۔ ۔ رابرٹ انہیں جانے دو ۔ ۔ مسٹر پریزیڈنٹ میں تکلیف کی معافی چاہتا ہوں
نہیں مسٹر پریزیڈنٹ ، تمہیں اب میری قوم سے معافی مانگنا ہو گی ۔ ۔ ۔ عمران نے چیختے ہوئے کہا
واٹ ، تم کون ہو ، تمہں پتہ ہے کہ میں سپر پاور کا صدر ہوں ۔ ۔ ۔ امریکی صدر کی آواز میں غرور تھا
تمہیں معافی مانگنا ہو گی سپر پاور ۔ ۔ ۔ ورنہ اس سفارت خانے کے تہ خانوں میں موجود ان تمام لوگوں کو قتل کر دیا جائے گا جو تمہاری فوج کے بڑے دماغ ہیں
اوہ ۔ ۔ ۔ رابرٹ انہیں کیسے پتہ کہ ۔ ۔ ۔ ۔ اوہ ۔ ۔ نو
سر یہ لوگ جانے کب سے ہمارے سفارت خانے کے اندر ہیں ۔ ۔ ۔
اوہ یہ بہت بڑا سیکیورٹی بریج ہے ۔ ۔ ۔ مسٹر میں اپنے مشیروں سے بات کرتا ہوں
نہیں کوئی ٹائم نہیں ۔ ۔ ۔ آپ کے پاس دس منٹ ہیں وہ بھی کسی چینل کو بلانے کے
میں اپنے چینل کو بلا رہا ہوں ، عمران نے جیب سے اپنا موبائل نکال لیا ۔ ۔ انور آ جاؤ ۔ ۔
اور انور جیسے پاس ہی کھڑا تھا اپنے کیمرا مین کے ساتھ وارد ہو گیا ۔ ۔ ۔ کیمرا مین نے اسے کیو دیا ۔ ۔
ناظرین ہم اس وقت امریکی سفارت خانے میں موجود ہیں جہاں کچھ دیر پہلے ملک کے صدر اور وزیر اعظم کو یرغمال بنا کر زبردستی ایک معاہدے پر دستخط کے لئے مجبور کیا گیا اور اسکے ساتھ ہمارے دوست ملک چین کو بھی ۔ ۔ ۔ انور ابھی اتنا ہی کہ پایا تھا کہ سنگ ہی اس پر پل پڑا ، عمران نے اسے اسکے بالوں سے پکڑلیا تھا ، انور سنبھل چکا تھا اسنے مائک ہاتھ میں لیکر پھر شروع ہو گیا ، یہ ناظرین ایک بین الاقوامی مجرم ہے ۔ ۔ ۔ سنگ ہی ۔ ۔
سنگ ہی کے منہ سے گالیوں کا طوفان آیا ہوا تھا وہ انگریزی چینی اردو میں اکھٹی گالیاں دے رہا تھا عمران اسے رگید رہا تھا ، کہ اچانک ایک فوجی نے اسکے سر پر اپنی مشین گن کا دستہ دے مارا ، یہ فوجی کوئی اور نہیں جوزف تھا ، ارے ارے چچا ہے میرا ۔ ۔ ۔ ۔ کالیے ۔ ۔ ۔
باس ایسے ہی ٹائم ضائع کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اے مسٹر ٹم بولو ۔ ۔ کیا بولٹا ٹم ۔ ۔ وہ انور کی طرف مڑا جو دم بخود کھڑا تھا ۔ ۔
رابرٹ یہ لائیو کیسے جا رہا ہے ، شاید پریزیڈنٹ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا وہ کیا کہے ۔ ۔ ۔
سر سارا حفاظتی سسٹم ڈاؤن ہے ۔ ۔ ۔ اس تقریب کی وجہ سے ۔ ۔ ۔
اوہ ۔ ۔ ۔ تو مسٹر پریزیڈنٹ تم معافی مانگو گے کہ نہیں ۔ ۔ ۔
اوکے اوکے ۔ ۔ ۔
میں امریکی پریزیڈنٹ ، اپنی طرف سے اور اپنی قوم کی طرف سے آپکی قوم سے اور اسکے لیڈروں سے انکے ساتھ ناروا سلوک پر معافی مانگتا ہوں ، اور ساتھ ہی چینی دوستوں سے بھی اپنے سفارت خانے کے عملے کے غلط رویے کی معافی مانگتا ہوں ، امید ہے اس واقعے سے ہمارے تعلقات متاثر نہیں ہونگے ،اور نہ ہی ہمارے کو آپریشن میں فرق آئے گا ۔ ۔
زندہ باد ۔ ۔ ۔ زندہ باد زندہ باد ۔ ۔ ۔ ٹائیگر اور چیف نے نعرہ لگایا
ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ ۔ ۔ ۔ عمران کے فون کی فائیرنگ رنگ پھر بج اٹھی سب چونک گئے ، عمران نے چور نظروں سے سب کو دیکھا اور فون کو کان سے لگا لیا ۔ ۔ ۔ دوسری جانب سر رحمان تھے ۔ ۔ ۔ ڈڈ ڈیڈی ۔ ۔ ۔ سلام علیکم ۔ ۔ ۔ مجھے تم پر فخر ہے بیٹے ۔ ۔ ۔ جج جج شکریہ ۔ ۔ مجھے بھی آپ پر وہ ہی ہے ۔ ۔ ۔ تمہاری ماں تمہیں گھر بلا رہی ہیں فارغ ہو کر فورا آؤ ۔ ۔ ۔
جج جی ۔ ۔ ۔ میں آتا ہوں ۔ ۔ ۔ صدر نے ۔ ۔ ۔ اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھا ۔ ۔ ۔ ہم سب کو تم پر فخر ہے ۔ ۔ ۔ ویل ڈن بوائے ۔ ۔ ۔ ویل ڈن ۔ ۔
وزیر اعظم نے بھی اسکے گالوں پر تھپکی دی ۔ ۔ ۔ اور کہا شکریہ ۔۔ ۔ میں آپ کا نام تو نہیں جانتا مگر مجھے بھی قوم کے اس سپاہی پر فخر ہے ۔ ۔ شکریہ ۔ ۔
جج جی میں تو بس ایسا ہی ہوں سلمان کی مونگ کی دال کھانے والا ۔ ۔ ۔
مونگ کی دال ۔ ۔ ۔ سب ہنس پڑے ۔ ۔۔ اور ہال کی جانب چل پڑے
صدر اور وزیر اعظم واپس اسی جگہ پر آئے جہاں پر سب مہمان تھے اور بڑی اسکرین پر یہ سب کچھ دیکھ چکے تھے ، فضا ایک بار پھر نعروں سے گونج اٹھی تھی ۔ ۔ ۔ امریکی سفیر کا سر جھکا ہوا تھا ۔ ۔ ۔
صدر صاحب نے وزیر اعظم کی طرف دیکھا اور ڈائس پر جا کھڑے ہوئے ۔ ۔ دوستو آج جو کچھ ہوا ، اس میں جس کا بھی قصور تھا ، وہ سب کو معلوم ہو چکا ہے ، ہم سمجھتے ہیں اتقام سے معاف کر دینا زیادہ اچھا ہے ۔ ۔ ۔ ہم اس کیس کے سب لوگوں کو معاف کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ایک بار پھر تالیاں گونجی اور صدر صاحب اور وزیر اعظم باہر کی جانب بڑھ گئے جہاں انکی کار موجود تھی ۔۔ امریکی سفیر نے انہیں رخصت کرنے کے لئے ہاتھ ملانا چاہا ، مگر وزیر اعظم نے چینی سفیر کو بلایا اور ساتھ میں گاڑی میں بٹھا دیا ۔ ۔ ۔اور امریکی سفیر سے ہاتھ ملائے بنا ہی رخصت ہو گئے ا، یہ سارا سین وہاں موجود میڈیا نے اپنے کیمروں کے توسط سے گھر گھر میں پہنچا دیا تھا ۔ ۔ ۔۔
------------------------------------------------------------------------------------
عمران دانش منزل میں بلیک زیرو کے ساتھ تھا ، رانا پیلس کو کچھ دنوں کے لئے لاک کر دیا گیا تھا ، مسٹر آر رانا پیلس میں ہی تھا ، صدر صاحب نے خصوصی طور پر اسے پارلیمنٹ کے سامنے سب کچھ بتانے کا کہا تھا ، اب عمران بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کیا کیا جائے کس کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے ۔ ۔ ۔ ظاہر ہے سیکرٹ سروس کے لوگ سامنے نہیں آ سکتے تھے کسی بھی صورت اور ٹائگر پہلے ہی سیکرٹ سروس کا چیف بن چکا تھا
سازش کے سیاست دانوں میں کچھ کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور کچھ پر مقدمات قائم ہو چکے تھے ، کچھ نے خود ہی پبلک کے سامنے اقرار کر لیا تھا ، امریکی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر نکالا جا چکا تھا ، عوام میں اس سیکرٹ سروس کے لوگوں سے ملنے کا شوق بڑھ رہا تھا ، مگر ظاہر ہے وہ نامعلوم ہیرو ہی رہنا چاہتے تھے ، صدر اور وزیر اعظم نے سر سلطان سے کہ کر خصوصی طور پر پارلیمنٹ میں ایکسٹو کے نمائیدے کو خطاب کی دعوت دی تھی ۔ ۔ ۔ ۔
آپ خود کیوں نہیں جاتے ، آپ کا سیکرٹ سروس سے تعلق نہیں ہے
نہیں کالے صفر ، مجھے لوگ پہلے ہی لائیو ایکشن میں دیکھ چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ارے ہاں ۔ ۔۔ اسنے فون اٹھایا اور نمبر ڈائیل کر کہ بولا تم نے کل پارلیمنٹ سے خطاب کرنا ہے ۔ ۔ ۔۔
بس کہ دیا نا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
------------------------------------------------------------------------------
پارلیمنٹ ہاؤس آج فل تھا ، گیلیریز بھی بھر چکی تھیں ، آج سیکرٹ سروس کے نمائندے نے تمام حالات سے آگاہ کرنا تھا ، پچھلے دو دن سے ساری دنیا کے میڈیا میں چرچا تھا کہ کس طرح امریکی سازش اسی پر الٹ گئی تھی اور ساری دنیا کے سامنے امریکی قوم کو شرمندہ ہونا پڑا تھا ، جگہ جگہ امریکہ کے بارے میں تبصرے ہو رہے تھے اور چھوٹے ملکوں کے بارے میں اسکی سازشوں سے دنیا کو آگاہ کیا جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ سلیمان نے مکمل قومی لباس پہنا تھا ، تلاوت اور نعت کے بعد کاروائی شروع ہوئی ، سیکرٹ سروس کو خراج تحسین پیش کیا گیا ، اسپیکر نے کہا کہ سیکرٹ سروس کا نمائیندہ اس بارے میں تفصیل بتائے گا ۔ ۔ ۔ اور یہ بھی بتایا گیا کہ سوال و جواب نہیں کیا جائے گا ۔ ۔ ۔
سلمان نے ۔ ۔ ۔ ڈائس پر کھڑے ہو کر ہال پر نظر ڈالی ۔۔ ۔ ۔
مجھے سیکرٹ سروس نے آپ کو سب بتانے کے لئے سیلکٹ کیا ہے ، تفصیلات یہ ہے کہ ۔ ۔ ۔ اسکے بعد سلمان نے سامنے رکھے ہوئے صفحے پڑھنے شروع کئیے ، وہ درمیان میں دو بار پانی بھی پی چکا تھا ۔ ۔ سب لوگ حیرت سے سن رہے تھے اور جب اسنے بتایا کہ کس طرح صدر اور وزیر اعظم کو یرغمال بنایا گیا تھا ، ہال سے شیم شیم کی آوازیں آئیں ۔ ۔ ۔ اور پھر اسنے آخری حصے پر کہا باقی تو آپ کو پتہ ہے جو لائیو دکھایا گیا ۔ ۔۔ ۔
ہال تالیوں سے اور نعروں سے گونج رہا تھا ، سلمان نے اپنا پسینہ صاف کیا ۔ ۔ ۔ ایک بات ۔ ۔ ۔ ایک بات میں اپنی طرف سے کہنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ میں اس ملک کا عام سا شہری ہوں ، ایک چھوٹے سے فلیٹ میں اپنے مالک کے ساتھ رہتا ہوں ، میں ایک باورچی ہوں ۔ ۔ ۔ میری سلطنت باورچی خانہ ہے ، میں اس کے لئے بجٹ بناتا ہوں ، مجھے پتہ ہے کہ میرے صاحب کو بھوک لگتی ہے ، انہیں کھانا کیا دینا ہے ، میں اپنے باورچی خانے میں سب ضروری چیزیں رکھتا ہوں ۔۔ ۔ پہلے میں صاحب کو کھلاتا ہوں پھر خود کھاتا ہوں ۔ ۔ ۔ کیا آپ لوگ اس ملک کو ایک باورچی کی طرح نہیں چلا سکتے ۔ ۔ ۔ بھوک ہم سب کو لگتی ہے ۔۔ ۔ مگر ہر کوئی باورچی نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ آپ اپنے ملک کے باورچی ہو ۔ ۔ ۔ ملک کو کھلانا آپ کی پہلی ذمہ داری ہے ، پہلے بھوکوں کو کھلائیے پھر خود کھائیے ۔۔ ۔ ۔ نہ آپ بھوکے رہیں گے نہ عوام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شکریہ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک بار پھر ہال تالیوں سے گونج اٹھا ، سلمان نے صدر اور وزیر اعظم اور اسپیکر اور اپوازیشن لیڈر سے ہاتھ ملایا اور انکے کان میں کچھ کہا اور پروقار انداز میں قدم اٹھاتا ہال سے باہر نکل گیا ۔۔ ۔
اپوازیشن لیڈر نے مائک کو آن کیا اور کہنا شروع کیا ، جیسا کہ ہمیں پتہ ہے کہ ہماری سیکرٹ سروس کے پرانے چیف نے یہ سازش بے نقاب کی تھی ، مگر ہمارے حکمرانوں نے اسے ٹکنے نہیں دیا اور مستفعی ہونے پر مجبور کیا ۔ ۔۔ اور ایسے ہی سر سلطان اور سررحمان جیسے لوگوں کو جنہوں نے اس ملک کے لئے بہت کچھ کیا ، میں انکی واپسی کا مطالبہ کرتا ہوں ۔ ۔ ۔
صدر صاحب کھڑے ہوئے ، میں آپ کو یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ مسٹر ایکسٹو اپنے عہدے پر ہی موجود ہیں ، یہ ٹمپریری سیٹ اپ تھا جو انتظامی مجبوریوں کی وجہ سے بنایا گیا تھا ، سر سلطان اور سر رحمان ۔۔ ۔ اپنے عھدوں پر ہی قائم ہیں ۔ ۔ ۔ سر رحمان کا استعفٰی منظور نہیں کیا گیا ہے ۔ ۔
ہال ایک بار پھر تالیوں سے گونج اٹھا ۔ ۔ ۔
------------------------------------------------------------------------------------------------- ایک بار پھر دانش منزل کے کانفرنس روم میں سب جمع تھے ، ماسوائے روشی کے ، جسے عمران نے کچھ دنوں کے لئے انڈر گراؤنڈ کروا دیا تھا ، عمران اور ٹائیگر بھی موجود تھے عمران منہ ہلا رہا تھا ، مگر اسکے منہ میں چیونگم نہیں تھی ۔ ۔ ۔ وہ خیالی ببل بنا کہ پھوڑ رہا تھا جولیا منہ بنا رہی تھی اسپیکر سے سیٹی کی آواز آئی ۔ ۔ ۔ سب ایکٹیو ہو گئے ، سوائے عمران کے اسکے چہرے پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا ۔ ۔
آپ سب کو حالات کا علم ہے ، مجھے یقین ہے کہ اس کیس سے آپ کو نیا جذبہ ملا ہو گا ، میں خصوصی طور پر رضوان یعنی ٹائیگر کا شکر گذار ہوں کہ اسنے ان مشکل حالات میں بہت اچھے طریقے سے اپنے کردار کو نبھایا ۔ ۔ ۔
تو کیا ٹائیگر اب ٹیم کا حصہ ہے ۔ ۔ ۔
نہیں وہ اسی جگہ پر رہے گا جہاں اسکی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔
اوکے ۔ ۔ ۔ اینڈ آل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
چلو بھائی اب مجھے کھانا کون کھلا رہا ہےا ۔ ۔ ۔
تمہارا باورچی ، کہاں گیا ۔ ۔ ۔
ارے نہ پوچھو وہ اب لیڈر بن گیا ہے ، سارا دن لوگ اس سے ملنے آتے ہیں ۔ ۔ ۔ انہیں وہ نت نئے کھانے کھلاتا ہے اور جب میں جاتا ہوں تو میرے سامنے وہ ہی مونگ کی دال رکھ دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عمران نے منہ بنا کہ کہا ۔ ۔ ۔ ۔
اور سب ہنس پڑے ۔ ۔ ۔ ۔۔ تو پھر اب آپ کیا کریں گے ۔ ۔ ۔ صفدر نے ہنستے ہوئے پوچھا ۔ ۔ ۔۔
وہ ہی جو پہلے کر رہا تھا ۔۔ ۔ ۔ ۔ اب میں ایک فلم بناؤں گا ۔ ۔ ۔ پجابی فلم ۔ ۔ ۔
باورچی گُجر ۔ ۔ ۔ ۔
نہیں باورچی گُجر نہیں ، گُجر دا باورچی ۔ ۔ ۔ یا باورچی دا گُجر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نئیں گُجر باورچی ۔ ۔ ۔ نئیں ۔ ۔ ۔ عمران نے اپنے چہرے پر الجھن پیدا کر لی تھی ۔ ۔ ۔
سب کے چہروں پر مسکرہٹیں تیرنے لگیں ۔ ۔ ۔ ۔ بے نقاب سازش - عمران سیریز ایکسٹرا - حصہ اولعمران کو اس دفعہ نئی ہی سوجھی تھی ، وہ پنجابی فلموں میں کام کے لئے اسٹوڈیو کے چکر لگا رہا تھا ، ان دنوں وہاں فلم “ووٹ گجر دا “ کی شوٹنگ چل رہی تھی جس میں مشہور اداکار “ذیشان“ گنڈاسہ لے کر گھر گھر سے ووٹ مانگنے کی ایکٹنگ کر رہا تھا ، اس کے ساتھ مشہور ہیروین تھی “پروین“ جسے انڈسٹری میں نیک پروین کے نام سے پکارا جاتا تھا ، پتہ نہیں کیوں ، حتہ کہ اس کی ساری فلمیں انتہائی “غیر فیملی“ تھی ۔ ۔ ۔ عمران اس وقت سیٹ پر موجود تھا ، اور ڈئریکٹر کے ساتھ سائے کی طرح لگا ہوا تھا ، جو اسے پچھلے دو دن سے سگرٹوں کی ڈبیاں نہیں ڈبے منگوا رہا تھا ، اس وقت بھی وہ ہیرو کو سین سمجھا رہا تھا
دیکھ پتر ، تو پینو کے گھر ووٹ مانگنے کے لئے جاتا ہے ، پینو کا پیو اور بھرا (بھائی) باہر آتے ہیں ، تو انہیں ووٹ کے لئے کہتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ووٹ ماجھے بدمعاش کو دیں گے ، تو انہیں پیسے کا لالچ دیتا ہے ، وہ دونوں آپس میں مشورہ کر کہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے وہ ووٹ تمہیں ہی دیں گے مگر حقیقت میں وہ ماجھے سے اور تم سے صرف دولت سمیٹنا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ سمجھا کاکے ۔۔ ۔ یہ ڈائریکٹر کا تکیہ کلام تھا
سانڈ (وہ ساؤنڈ کو سانڈ ہی کہتے تھے ) ، کیمرا ۔ ۔ ۔ ایکشن
اوئے چاچے ، تو ووٹ مینو ای دینا اے
پر اسی ووٹ ماجھے بدمعاش نوں دواں گے ، چاچے کے پتر نے سینہ تان کہ کیمرے کو آنکھیں دیکھائیں
اوئے میرے علاقے اچ رہ کہ ووٹ بدمعاشاں نوں
تو کہیڑا شریف ایں ، سانوں اک ووٹ دے پنج ہزار مل رے نیں ، تے زنانیاں دے اٹھ ہزار ۔ ۔ ۔
اوئے میں تینوں دس دس ہزار دیاں گا ، پر یاد رکھ ، کہ نوٹ گجر دا تے فئیر ووٹ وی گجر دا ۔ ۔ ۔ ہا ۔ ۔
ذیشان نے “ہا“ اتنے زور سے کیا کہ اسے کھانسی آ گئی ۔ ۔ ۔ کٹ کی آواز سے سب ہیرو کی خبر گیری کو دوڑے ۔ ۔ ۔ اور اسے آرام چئیر پر بیٹھایا ، دوسرا سین ریڈی تھا ، پروین کا ، جو دروازے میں کھڑی اپنے گجر کو دیکھ رہی تھی ۔ ۔
سب خاموش ۔ ۔ تھے پن ڈراپ سائیلنس ۔ ۔ ۔ ۔
کیمرا رول شروع ہوا ۔ ۔ ۔ آہستہ آہستہ جو ہیروین کی طرف بڑھ رہا تھا اور پروین ماتھے پر ہاتھ رکھ کہ ڈائلاگ بول رہی تھی
وے گجرا ، میرا ووٹ تیرا ای اے ، میرے دل دی آواز سن تینوں آواز آئے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ
اور ہیروین صاحبہ اچھل پڑیں بلکہ سارا یونٹ ہی اچھل پڑا ۔ ۔ ۔ یہ آواز تھی عمران کے موبائیل کی ۔ ۔ ۔ اسنے آجکل یہ ہی رنگ ٹون سیلکٹ کی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ اسنے فون ہاتھ میں لے کر کہا ۔ ۔ ۔ ہا ہا ہلیو ۔ ۔ ۔ مگر اسکے ساتھ ہی اسے ۔ ۔ اوے اینوں باہر سٹو ۔ ۔ ۔ ساتھ ہی دو پہلوان عمران کو دھکے دینے لگے ۔ ۔ ۔ ۔ دوسری طرف بلیک زیرو تھا ۔ ۔ ۔ ۔
تم نے میری ساری شوٹنگ خراب کروا دی ۔ ۔ ۔ اوے آرام سے میں ٹوٹ جاؤں گا ۔ ۔ ۔ مگر شاید پہلوان اسے سی آف کرنے کے موڈ میں تھے ۔ ۔ ۔ اسٹوڈیو کے گیٹ کے باہر انہوں نے اسے ایسے پھینکا کہ جیسے کوئی شریر بچہ پانی میں پتھر پھینکتا ہے ۔ ۔ ۔
میں کال فئیر آؤں گا ۔ ۔ ۔ ۔ عمران انہیں مکہ دیکھاتے ہوئے بولا ۔ ۔ ۔
عمران صاحب ، جتنی جلدی ممکن ہو رانا پیلس پہنچیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عمران نے اوکے کہ کہ فون بند کیا اور گاڑی کی طرف چل پڑا جو اسنے کافی دور کھڑی کی تھی کیونکہ وہ یہاں اپنے آپ کو ایک عام شوقین ظاہر کرتا تھا جو فلموں میں کام کے لئے اسٹوڈیو کے چکر لگاتا ہو ۔ ۔ ۔
اسٹوڈیو سے رانا پیلس تک پہنچتے اسے چار گھنٹے لگ گئے تھے کیونکہ اسٹوڈیو دوسرے شہر میں تھا دارلحکومت میں فلم انڈسٹری نہیں تھی ۔ ۔ ۔
رانا پیلیس پہنچ کر وہ سیدھا کنٹرول روم پہنچا جہاں بلیک زیرو نے اسکے اٹھ کر استقبال کیا ۔ ۔ ۔ ۔
کیا ہوا، تم اتنے زیادہ ٹنس کیوں ہو ۔ ۔ ۔
بات ہی ایسی ہے عمران صاحب
کیا بات ہے ۔ ۔ ۔ ۔ یہ دیکھیں ۔ ۔ ۔ ۔ بلیک زیرو نے سامنے رکھے ہوئے ٹی وی کو ریموٹ سے آن کیا اور اس پر ایک نیوز چینل کا پروگرام چلنے لگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس میں ایک خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کا انٹرویو چل رہا تھا ، وہ کہ رہا تھا کہ ہماری سیکرٹ سروس صرف اپنے ملک کے خلاف ہی کام کرتی ہے ، اسکا ایک ایک شخص بکا ہوا ہے ، ہر ایک ممبر کسی نہ کسی پارٹی کو سپورٹ کرتا ہے اور کیونکہ وہ لوگ سامنے نہیں آتے اسلئے وہ سیاست دانوں کے ساتھ ملکر غیر ملکی سازشوں کا حصہ بنتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ایکسٹو اسلئے سامنے نہیں آتا کہ وہ ایک پرانا مجرم ہے اگر وہ سامنے آ جائے تو اسے قانون سے کوئی بچا نہیں سکتا ۔ ۔ ۔
عمران کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا ، وہ اس افسر کو اچھی طرح جانتا تھا ، وہ ایک رشوت خور اور بد کردار آدمی تھا ، مگر خوشامدی ہونے کی وجہ سے اور سیاست دانوں سے میل جول کی وجہ سے وہ بہت زیادہ مشہور تھا ۔ ۔ ۔ مگر آج اسکی باتیں سن کر عمران کی کھوپڑی گھوم چکی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اسنے فون اٹھایا ، اور سر سلطان کے نمبر ملائے
پی اے ٹو فارن سیکٹری ۔ ۔ ۔ آواز آئی
ایکسٹو ۔ ۔ ۔ ۔ سر سلطان پلیز
جج جج ۔ ۔ ۔ پی اے کی جیسے جان نکل گئی
سلطان ہیر ۔ ۔ ۔
سر سلطان ، ابھی اسی وقت میں صدر اور وزیر اعظم اور فوج اور ایجنسیوں کے سربراہوں کے ساتھ ملنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔
مگر کیوں ۔ ۔ ۔
سر سلطان ۔۔ ۔ کوئی سوال نہیں ، آپ سب کو آگاہ کریں ۔ ۔
مگر صدر صاحب باہر ہیں ۔ ۔ ۔ اور وزیر اعظم شہر میں نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
انہیں ہم ہاٹ لائین سے ۔ ۔ ۔ لنک کر لیں گے ۔ ۔ ۔
آج تو نہیں کل ہو سکے گی یہ میٹنگ ۔ ۔ ۔
ٹھیک ہے ، کل صبح دس بجے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عمران نے ریسور رکھ دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اسکا چہرہ غصے سے اکڑ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ بلیک زیرو ایک ٹھنڈے پانی کی بوتل اور گلاس لے کر آیا ۔ ۔ ۔ عمران نے بوتل ہی لیکر منہ سے لگا لی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
------------------------------------------------------------------
ایوان صدر میں ہلچل مچی ہوئی تھی ، ملک کی سیاسی اور فوج قیادت سب کی سب میٹنگ میں آ رہی تھی ، تھوڑی تھوڑی دیر بعد پروٹوکول کے ساتھ کوئی نہ کوئی حکمران یا افسر آتا اور اتنی تیزی سے اتر کہ اندر جاتا جیسے کوئی انکے پیچھے لگا ہوا ہو ۔ ۔ ۔ یہ سب لوگ ایک بڑے ہال میں جمع ہو رہے تھے ہر ایک کرسی پر اس شخصیت کا اسٹیکر چسپاں تھا جسے ایک رہبر اس تک رہمنائی اور اسٹیکر کو اپنی جیب میں رکھ کر پر تکلف طریقے سے افسروں اور حکمران شخصیات کو بٹھا رہا تھا ۔ ۔ ۔
سب لوگوں آمد مکمل ہو چکی تھی مگر سب لوگ خاموش تھے حتہ کہ آپس میں بات بھی نہیں کر رہے تھے ، سر سلطان سب سے آخر میں آئے اور وزیر خارجہ کے ساتھ آ کر بیٹھ گئے ۔ ۔
ابھی تک ایک کرسی خالی تھی جس پر ایکسٹو نے آنا تھا ، صدر اور وزیر اعظم کی کرسیاں بڑی تھی اور مرصع بھی تھیں ، ہال کے سارے دروازے بند ہو چکے تھے ، سب کی نظریں صدر اور وزیر اعظم کی کرسیوں کے پیچھے والے دروازے پر تھیں ، صدر اور وزیر اعظم آج ہی اپنے دورے مختصر کر کہ دارلحکومت پینچے تھے ، دروازہ کھلنے کی آواز آئی ، سب کھڑے ہونے کے لئے ریڈی ہوئے ، مگر وہاں سے دو خادم صدر اور وزیر اعظم جیسی مرصع کرسی لے کر برآمد ہوئے ، اور اسے ان دو کرسیوں کے ساتھ رکھ دیا گیا ، سب کی نظروں میں الجھن نظر آنے لگی یہ تیسری کرسی کس کی ہے ؟ دونوں خادم واپس جا چکے تھے ، دروازہ ایک بار پھر کھلا اور ایکسٹؤ اپنی روایتی شان سے چلتا ہوا اپنی کرسی کی طرف بڑھا ، سب نے کھڑے ہو کر اسے تعظیم دی ، اور ایکسٹو اپنی کرسی پر براجمان ہو گیا ، ابھی لوگ صحیح سے بیٹھے نہیں تھے کہ دربان نے دروازہ پھر کھولا اور وزیر اعظم پروقار طریقے سے اپنی کرسی کی طرف بڑھے ، خادم نے کرسی کھسکا کر وزیر اعظم کو بیٹھایا ، سب لوگ کھڑے ہوئے تھے مگر ایکسٹو بیٹھا رہا ، مگر اسنے وزیر اعظم کو سر کے اشارے سے سلام کیا تھا ، وزیر اعظم کے چہرے پر سنجیدگی تھی ، سب لوگ بیٹھ چکے تھے ، اب صدر صاحب کا انتظار تھا ، سب کو حیرانی تھی کہ وزیر اعظم صدر کے ساتھ کیوں نہیں آئے ایسی میٹنگ میں دونوں اکھٹھے ہی آتے تھے ، وزیر اعظم بار بار چور نظروں سے ایکسٹو کو دیکھ رہے تھے ، کہ دروزہ پھر کھلا اور صدر صاحب ایک سفید فام غیر ملکی کے ساتھ نظر آئے سب کھڑے ہو چکے تھے ،ایکسٹو بیٹھا رہا مگر اسکی آنکھوں میں پہلے حیرانی آئی اور پھر آنکھیں شعلے اگلنے لگیں ۔ ۔ ۔ صدر صاحب اپنی کرسی کے آگے کھڑے ہو چکے تھے ، انکے ساتھ آنے والا امریکی سفیر تھا جو صدر اور وزیر اعظم کے درمیان کھڑا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ صدر صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو بیٹھنے کو کہا ، ابھی سب بیٹھ ہی رہے تھے ، کہ ایکسٹو کی گوجیلی آواز سنی تھی ، ٹھہریے مسٹر پریزڈنٹ ، یہ میٹنگ میں نے بلائی ہے اور اس میں امریکی سفیر کی موجودگی نہیں چاہیے ، صدر صاحب نے گھور کر ایکسٹو کو دیکھا اور پرغرور لہچے میں کہا ، مسٹر ایکسٹو ، بےشک میٹنگ آپ نے کال کی ہے ، مگر سفیر صاحب نے خصوصی ریکوسٹ کی تھی ، اس میٹنگ میں شرکت کے لئے ۔ ۔ ۔
کیوں ؟ یہ ہماری خودمختاری میں مداخلت ہے ۔ ۔ ۔ ایکسٹو نے بات کاٹتے ہوئے کہا
ٹمہارا خوڈ مخٹاری اب ہمارے ہینڈ میں ہے ، مسٹر ایکسٹو ۔ ۔۔ صدر صاحب کے جواب دینے سے پہلے ہی سفیر نے اردو میں بولا
مسٹر ایکسٹو آپ جانتے ہیں کہ ہماری تمام حکمت عملیاں اب امریکہ کی مرہون منت ہیں ۔ ۔ ۔ یہ ہمارے دوست ہیں ۔ ۔ ۔ وزیر اعظم نے کہنا چاہا ۔ ۔ ۔ مگر ایکسٹو نے پھر بات کاٹ دی
جناب وزیر اعظم صاحب میرا ملک آزاد ہے ، ہم انکے نہیں یہ ہمارے مرہون منت ہیں ، اور آجکی میٹنگ میں نے اندرونی خلفشار کے لئے بلائی ہے ، جسکی بڑی وجہ امریکہ ہے ۔ ۔
وہ ہی تو ہم جاننا چاہتے ہیں مسٹر ایکسٹو ، ہم اس انارکی کے کیسے ذمے دار ہیں ۔ ۔ ۔ سفیر نے اس دفعہ انگریزی میں کہا شاید اسے اردو میں مناسب الفاظ نہیں مل پائے ۔ ۔ ۔
آپ جانتے ہیں مسٹر ۔ ۔ ۔ اب میں آپکو برداشت نہیں کروں گا مہربانی فرما کر تشریف لے جائیں ۔۔
یہ میری بے عزتی ہے ۔ ۔ ۔ مسٹر پریزیڈنٹ ۔ ۔ ۔
مسٹر ایکسٹو ، سفیر صاحب میٹنگ میں شریک ہونگے ، یہ میرا حکم ہے ۔ ۔ ۔
مسٹر پریزیڈنٹ ، ریڈ فائیل ۔ ۔ ۔ ۔
ریڈ فائیل کی ایسی کی تیسی ۔ ۔۔ صدر صاحب اس دفعہ غصے میں آ گئے تھے ۔ ۔ ۔
سر سر ۔ ۔ وزیر اعظم نے جلدی سے صدر صاحب کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ، مسٹر ایکسٹو آپ پہلے سفیر صاحب کے ساتھ میٹنگ کر لیں اور پھر ہم کر لیں گے ۔ ۔ ۔ ۔
میں اس میٹنگ کا حصہ نہیں ہونگا ۔ ۔ صدر صاحب نے فوراَ لقمہ دیا ۔ ۔ ۔
ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ ایکسٹو جو عمران تھا ۔ ۔ ۔ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔ ۔
پھر میٹنگ شروع کی جائے ۔ ۔ وزیر اعظم نے التجایہ نظروں سے ایکسٹو کی طرف دیکھا ، عمران سمجھ چکا تھا کہ سفیر نے صدر صاحب کو رام کر لیا ہے جبکہ وزیر اعظم کو مجبور کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔
ضرور ۔ ۔ ۔ ایکسٹو نے ہاتھ اٹھا کہ کہا ۔ ۔ ۔
جی مسٹر ایکسٹو ، آپ نے یہ ہائی پروفائیل میٹنگ کیوں کال کی ، صدر صاحب نے ایکسٹو سے پوچھا ۔ ۔
پہلے میٹنگ تو شروع کریں ۔ ۔ ۔ ایکسٹو نے کہا
میٹنگ شروع ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ صدر صاحب نے کہا ۔ ۔
نہیں ۔ ۔ ابھی شروع نہیں ہوئی با قاعدہ شروع کی جائے ۔ ۔ ۔
مم مم میں سمجھ گیا ۔ ۔ ۔ وزیر اعظم نے کہا اور کہا زعفرانی صاحب آپ تلاوت کریں ۔ ۔ ۔ انکا اشارہ وزیر خارجہ کی طرف تھا جو اکثر میٹنگ میں تلاوت کیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔
صدر اور سفیر کے منہ سے صرف اوہ نکل سکا ۔ ۔ ۔
دوسری طرف سر سلطان کے ہونٹوں پر عجیب سہ مسکراہٹ رینگ گئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔
تلاوت کے بعد ایکسٹو نے کہنا شروع کیا ۔ ۔ ۔
پچھلے ایک سال سے جب سے نئی حکومت بنی ہے ، اور فوج کا عمل دخل کم ہوا ہے حکومت میں ، کچھ عناصر میڈیا اور دوسرے ذرائع سے ہماری فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے خلاف عوام میں پروپگنڈا کر رہے ہیں ، اور فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی کالی بھیڑوں نے جنہیں ملک دشمن قوتوں نے خریدا ہوا ہے ، یہ کہتے ہوئے ایکسٹو نے نقاب سے سفیر کو آگ برساتی نظروں سے دیکھا ، سفیر صرف کرسی پر کسمسا کر رہ گیا ، ایکسٹو نے بات جاری رکھی ، ہماری خفیہ ایجنسیاں ملک کی حفاظت اور وقار کے لئے اپنی جان پر کھیل رہی ہیں اور ہم ان پر الزام لگا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
صدر صاحب نے ٹوکا ، مسٹر ایکسٹو ، الزام لگانے والے بھی ایجنسیوں کے ہی لوگ ہیں
وہ خریدے ہوئے ہیں ، ایکسٹو نے جواب دیا
جو بک سکتے ہیں وہ ہی خریدے جاتے ہیں مسٹر ایکسٹو اس بار وزیر داخلہ نے جواب دیا
میں انہیں لوگوں کو سزا دینا چاہتا ہوں جو بکتے ہیں اور خریدتے ہیں ۔ ۔ ۔
اسکلئے ہمارے ملک میں قانون موجود ہے ، وزیر داخلہ نے بحث شروع کر دی
منسٹر صاحب ، آپ ایکسٹو کو انکا موقف پیش کرنے دیں ، وزیر اعظم نے ماحول کو دیکھتے ہوئے بات کاٹی
میں جانتا ہوں کہ قانون ان لوگوں کی گرفت کر سکتا ہے ، مگر نہیں کر رہا ، یہ لوگ ہماری ایجنسیوں کو بدنام کر رہے ہیں
وہ صرف ایجنسیوں کو نہیں بلکہ ہم سیاست دانوں کو بھی بدنام کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ وزیر اعظم نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا
میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ میں اگر گرفت کروں گا تو چاہے کوئی بھی ہو اسکی پکڑ ہو گی
ٹھییک ہے آپ کے پاس کیا لاحہ عمل ہے مسٹر ایکسٹو
مجھے ان لوگوں سے پوچھ گوچھ کی اجازت دی جائے ، ایکسٹو نے ایک لسٹ وزیر اعظم کو دی
یہ ۔ ۔ ۔ یہ یہ تو بہت اہم لوگ ہیں ، آپ جانتے ہیں مسٹر ایکسٹو کہ ہم کسی بھی فارن مشن کو ایسے انٹروگیٹ نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔
مجھے پتہ چلا ہے کہ یہ لوگ ملوث ہیں
مگر ثبوت ۔ ۔ ۔ صدر صاحب نے پوچھا
ثبوت موجود ہیں ، مگر عدالت یا حکومت اسے قبول نہیں کرے گی ، آپ کو معلوم ہے تصاویر اور وڈیو کے قانون میں ترمیم کی وجہ سے یہ ثبوت قابل قبول نہیں رہے
اوہ ۔ ۔ تو یہ بات ہے ، یہ ۔ ۔ ۔یہ کیا ۔ ۔ اس میں آپ نے مولانا صاحب کا نام بھی لکھ دیا ہے ، آپکو پتہ ہے کہ اس سے کتنا بڑا پرابلم ہو سکتا ہے ۔۔
پرابلم ہی تو ختم کرنا چاہتے ہیں ہم ۔ ۔ ۔ دیکھیے مسٹر ایکسٹو ، ہم مفاہمتی حکومت چلا رہے ہیں ہم کسی کے ساتھ اپنے ریلیشن خراب نہیں کریں گے ۔ ۔ دیٹس آل ۔ ۔ صدر صاحب نے دو ٹوک لہجے میں کہا
ٹھیک ہے ، آپ کے لئے اگر مشکل ہے تو میرے لئے مشکل نہیں ۔ ۔ ۔ ایکسٹو نے کہا
مگر آپ کسی فارن مشن کو تنگ نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔ صدر صاحب نے تنبیہ کی
فارن مشن کا ایک ہی مشن ہے وہ ہے ہمارے وطن کی تباہی ۔ ۔ ۔ ۔ اور میں اپنے وطن کا محافظ ہوں
ہم سب محافظ ہیں ۔ ۔ ۔ وزیر اعظم نے کہا
محافظ غیروں کو اپنا ملک نہیں دیتے ایکسٹو نے امریکی سفیر کی دیکھ کر کہا
ہمیں عالمی برادری میں عزت سے رہنا ہے اور ہمارے دوست ملک ہماری مدد کر رہے ہیں ، صدر صاحب نے کہا
یہ مدد ہے ، ہمارے محافظوں کو خریدا جا رہا ہے ، ملک میں انارکی پھیلائی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ ایکسٹو نے کہا
اس کے لئے ہم خود بھی ذمے دارہیں وزیر خارجہ نے تیز لہجے میں کہا ۔ ۔ ۔
جی نہیں صرف لیڈران ذمہ دار ہیں ، عوام نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ایکسٹو نے بھی تیز لہجے میں کہا
عوام کو صرف ریلیف چاہیے ، صرف ریلیف کہاں سے ملتا ہے اسے ان سے کوئی مطلب نہیں ۔ ۔ ۔ صدر صاحب نے کہا ۔ ۔
نہیں عوام عزت سے جینا چاہتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
مسٹر ایکسٹو ۔ ۔ ۔ یہ بحث کا وقت نہیں ، آپ کو اجازت نہیں دی جاسکتی ، دس میٹنگ از اڈجرن ۔ ۔ ۔ صدر صاحب نے اٹھتے ہوئے کہا
سب اٹھ کھڑے ہوئے ، مگر ایکسٹو بیٹھا رہا ، مسٹر پریزیڈنٹ میں ریڈ فائل کے سیکنڈ رول کے مطابق اپنے اختیارات استعمال کروں گا
ریڈ فائل ریڈ فائل ریڈ فائل ۔ ۔ ۔ ۔ مسٹر ایکسٹو یہ عوامی حکومت ہے ، سب محب وطن ہیں ، آپ کو من مانی کی اجازت نہیں دی جا سکتی ، اور آپ جس کے بل بوتے پر اچھل رہے ہیں ، کل ہی وہ ریڈ فائل کو ڈسمس کر دیا جائے گا پارلیمنٹ کے تھرو ۔ ۔ ۔
سر ۔ ۔ ۔ سر سلطان نے پہلی بار زبان کھولی ، ریڈ فائل کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جا سکتا ، آپ کو معلوم ہے ۔ ۔ ۔
مسٹر سلطان ، آئی ڈونٹ کئیر ، میں ملک کا صدر ہوں ۔ ۔ ۔ اور ہماری پارٹی کی حکومت ہے ، ہم جو چاہیں گے کریں گے ۔ ۔ ۔ انڈر سٹینڈ یو ۔ ۔
وزیر خارجہ نے جو صدر صاحب کے قریب آ چکے تھے ، انکے کان میں کچھ کہا ۔ ۔ ۔
اوہ ۔ ۔ مسٹر سلطان ، آپ سے سیکرٹ سروس کا چارج واپس لیا جا رہا ہے ، آپ کو آرڈر مل جائے گا
سر سیکرٹ سروس کو ملٹری انٹیلی جنس میں مدغم کر دیں ، وزیر خارجہ نے چاپلوسی سے کہا ۔ ۔
ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔
ٹھیک نہیں ہے مسٹر پریزیڈنٹ ، چیف آف آرمی اسٹاف نے تیز لہجے میں کہا ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کو معلوم نہیں کہ ہماری سیکرٹ سروس کے کارنامے ساری دنیا میں مشہور ہیں ، یہ ٹیم بہت مختلف ہے ۔ ۔ ۔ میں ایکسٹو کی بات کی حمایت کروں گا ۔ ۔ ۔ سب لوگ ایک بار پھر کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے ۔ ۔ ۔ صدر صاحب کے بیٹھتے ہی
مسٹر چیف ، آپکا سیکرٹ سروس ہمیں بھی بہت دسٹرائے کر چکا ہے ، سفیر نے بولا
آپکی کرتوتوں کی وجہ سے ۔ ۔ ۔ ایکسٹو نے بھنائے ہوئے لہجے میں کہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مسٹر پریزیڈنٹ ، اگر آپکی سیکرٹ سروس نے ہمارے کسی بھی پلان کو نقصان پہنچایا تو ، ہم آپ پر پابندیاں لگا دیں گے ۔ ۔ ۔ اس بار وہ انگریزی میں بولا تھا
مسٹر سفیر آپ کو ایسی بات کہنا اچھا نہیں لگتا ، سر سلطان نے اس بار سخت لہجے میں کہا ۔ ۔ ۔
مسٹر سلطان ، یہ ایک سپر پاور کے سفیر ہیں ، آپ کو انکے رتبے کا خیال رکھنا چاہیے ۔ ۔
اس سپر پاور کو ہماری ضرورت ہے سر ، سر سلطان نے سمجھانے والے انداز میں کہا ۔ ۔ ۔ ۔
یہ میٹنگ ختم ہو چکی ہے ، جو میں نے کہ دیا وہ ہی ٹھیک ہے ، اور مسٹر سلطان ، آپکو کل سے رئٹائرمنٹ لیو دی جا رہی ہے
ٹھیک ہے ، میں بھی اپنا استعفٰی پیش کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ ایکسٹو نے ایک پیپر صدر صاحب کی طرف بڑھایا ۔ ۔ ۔ ۔ اور اٹھ کر تیز قدموں سے باہر نکل گیا ، سر سلطان اور آرمی چیف اسکے پیچھے بھاگے مگر وہ نکل چکا تھا ، سر سلطان دل کے مریض تھے اس لئے ہانپنے لگے ، آرمی چیف نے انہیں سہارا دیا ۔ ۔ ۔
صدر اور سفیر بھی باہر چلے گئے ، وزیر اعظم کو سب نے گھیر لیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وزیر اعظم کے چہرے پر بے بسی جیسے چپک گئی تھی ۔ ۔ ۔
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
رانا ہاؤس میں سیکرٹ سروس کے سب ممبر موجود تھے ، سب کی نظریں سامنے کے اسپیکر پر لگی ہوئیں تھیں ، عمران موجود نہیں تھا ۔ ۔
اتنی ایمرجنسی میٹنگ رات کے دو بج رہے ہیں ، تنویر کو غصہ آ رہا تھا کہ انہیں سوتے میں کیوں اٹھایا گیا
کچھ تو ایسا ہے ورنہ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا ، جولیا نے پریشان کن لہجے میں کہا
مجھے تو کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے ، کیپٹن شکیل نے صفدر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
جواب میں صفدر نے سر ہلا دیا ۔ ۔ ۔
اتنے میں اسپیکر سے سیٹی کی آواز نکلی اور ساتھ ہی سامنے کی دیوار میں ایک دروازہ پیدا ہوا اور ایکسٹو برآمد ہوا ۔ ۔ ۔ اور ایک خالی کرسی پر بیٹھ گیا
سب ممبر کی آنکھیں حیرت سے پر تھیں ایکسٹو کبھی بھی ایسے میٹنگ نہیں کرتا تھا ، اسکا مطلب تھا کہ کوئی خاص ہی بات ہے صفدر نے سوچا
ایکسٹو نے سب کی طرف دیکھا اور کہا ۔ ۔ ۔
میں نے سیکرٹ سروس سے استعفٰی دے دیا ہے
استعفٰی ۔!!!!!!
سر سلطان کو جبری رئٹائیر کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ جج ۔ ۔ جج جی ۔ ۔ ۔ سب کی زبانیں جیسے کنگ ہو گئیں تھیں
سیکرٹ سروس کو محکمہ خارجہ سے ملٹری انٹیلی جنس کے انڈر کیا جا رہا ہے
اوہ ۔ ۔ ۔
آپ ممبران کی سروسز ملٹری سیکرٹ سروس کو دی جا رہی ہیں
کیا ۔ ۔ ۔ سب کے منہ سے ایک ساتھ نکلا ۔ ۔۔ ۔ ۔
آپکے پاس اختیار ہے کہ آپ مستفعی ہو جائیں یا ملٹری سیکرٹ سروس جوائن کر لیں
میں ریزائن کر دونگی ۔ ۔ ۔ جولیا نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا
ہم بھی ۔ ۔ ۔ ۔ سب نے ایک ساتھ کہا نہیں سوچ سمجھ کہ فیصلہ کرو ۔۔ اوکے ۔ ۔ ۔ گڈ بائے ۔ ۔ ۔ اور گڈ لک ۔ ۔ ۔ میں دو دن تک اپنے نمبر پر موجود ہوں ۔۔ ایکسٹو اٹھا اور اسی خفیہ دروزاے سے واپس چلا گیا
----------------------------------------------------------
سب کے چہرے سُتے ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ ۔۔یہ یہ یہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ کیا ہوا ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔
ملک کے حالات خراب ہیں اور ہم لوگ اپنے کام کو چھوڑ دیں ۔ ۔ ۔ نا ممکن ۔ ۔ ۔ میں تو ملٹری سروس کو جوائن نہیں کروں گا ۔ ۔ ۔ صدیقی نے تیز لہجے میں کہا ۔ ۔
مگر ایسا ہوا کیوں ۔ ۔ ۔ صفدر نے سوچتے ہوئے کہا ۔۔ ۔
اس کیوں کا جواب صرف عمران دے سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
اوہ عمران میٹنگ میں بھی نہیں آیا ، تنویر نے چونکتے ہوئے کہا ۔ ۔
یہ سرکاری میٹنگ تھی عمران سیکرٹ سروس کا ممبر نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔
چلو اسی کے پاس چلتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر پہلے اپنے استعفے تو لکھ دو ۔ ۔
ابھی دو دن ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ چلو ۔ ۔ ۔ صفدر نے کہا ۔ ۔ ۔ ۔
اور سب جولیا کی فور وہیلر میں لد کر عمران کے فلیٹ پر پہنچے ۔ ۔ ۔ عمران جو رانا ہاؤس کے کنٹرول روم میں یہ سب دیکھ رہا تھا انے روانہ ہونے کے بعد اپنی سپورٹ کار کو جولیا کی گاڑی کے پیچھے لگا دیا ۔ ۔ ۔ ایسے کہ انہیں احساس ہی نہیں ہوا اور عمران ان سے پہلے فلیٹ کے نیچے کھڑا ہو چکا تھا ۔ ۔
جب سب اسکے فلیٹ کے دروازے پر پہنچے عمران نے پیچھے سے آواز لگائی ۔ ۔ ۔ ارے ارے ۔ ۔ یہ میرے گھر پر حملہ کیوں کر رہے ہو ۔ ۔ ۔۔
عمران ۔ ۔ ۔ تم کدھر تھے ۔ ۔ ۔ میں ۔ ۔ میں تو ادھر ہی تھا ۔ ۔ ۔
اچھا تھوڑی دیر میں سب اسکی ڈراینگ روم میں نظر آئے ، سلمان نے چائے کی ٹرالی لا کر سایڈ پر کھڑی کی تھی اور سب کو چائے بنا کہ دے رہا تھا ۔ ۔ ۔
ہوں ۔ ۔ ۔ تو تم نے بھی سیکرٹ سروس چھوڑ دی ۔ ۔ ۔ یہ تو بہت ہی اچھا ہوا ۔ ۔ اب تم بھی میری طرح سلمان کی مونگ کی دال کھاؤ گے ۔ ۔ ۔
عمران ہم تمہارے پاس وجہ جاننے آئے ہیں ، تمہاری بکواس سننے نہیں ۔ ۔ ۔ تنویر نے بھنائے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔
اوہ اچھا ۔ ۔ میں تو سمجھا تھا کہ تم لوگ باراتی ہو ، میں تو ابھی چھوارے منگوانے والا تھا ، صفدر کو خطبہ یاد ہو گیا ہے ، کل ہی میں نے سنا تھا ۔ ۔
عمران وجہ بتاؤ ۔ ۔ اس بار جولیا نے پوچھا
لو جی ، وجہ خود کہ رہی ہے وجہ بتاؤ ۔ ۔ ۔ ۔
بھاڑ میں جاؤ ۔ ۔ ۔ میں خود کُش لوں گی ۔ ۔ ۔ ۔
کیسے کرو گی ۔۔ ۔ عمران نے منہ میں چیونگم ڈالا اور چائے کی پیالی کو منہ سے لگا لیا ۔ ۔ ۔ اور پھر چیونگم کا منہ سے غبارہ بنایا ۔ ۔ جس میں چائے بھی نظر آ رہی تھی ۔ ۔ ۔
یہ کیا بے ہودگی ہے ، جولیا نے منہ پھیر کر کہا ۔ ۔ ۔ تو عمران نے اتنی تیزی سے غبارہ منہ کے اندر لیا اور ایسے لگا کہ جیسے اسنے اسے نگل لیا ہو ۔ ۔
عمران صاحب یہ سنجیدگی کا وقت ہے ، کیپٹن شکیل نے اس دفعہ بے بسی سے کہا
اچھا عمران نے بیٹھ کر کہا ۔ ۔ ۔ اور ایسے منہ بنا لیا کہ سب کو بے اختیار ہنسی آ گئی ۔ ۔ ۔
ہاں اب بتاؤ کیا مسلہ ہے ۔ ۔ ارے اس چوہے نے تم لوگوں کی جان چھوڑ دی اس سے اچھی بات کیا ہے ۔ ۔ ۔
عمران ہم وجہ جاننا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
کیا تم نے آج کے اخبار نہیں پڑھے ۔ ۔ ۔ عمران نے ایک اخبار سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کر سامنے رکھ دیا
اخبار میں سر سلطان کی رئٹائرمنٹ کی خبر تھی اور لکھا تھا کہ کل کی میٹنگ میں کچھ خفیہ ایجنسیوں کی کاروائی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے صدر کی طرف سے ۔ ۔
اس میٹنگ میں سپر پاور کا سفیر بھی موجود تھا ۔ ۔ ۔ جسکا ذکر نہیں ہے ۔ ۔
اوہ ۔ ۔ ۔ ۔ تو کیا یہ ملک کے شمال میں جو کچھ ہوا ہے اور آج کل جو فوج کے خلاف ہو رہا ہے وہ وجہ ہے
ہاں ۔ ۔ عمران نے سنجیدہ لہجے میں کہا ۔ ۔ ۔ ابھی وہ کچھ کہنے والا ہی تھا کہ سلمان نے دروازے پر آ کر آنکھوں سے اشارہ کیا ۔ ۔۔ ۔
عمران فوراَ اٹھا ۔ ۔ ۔ سلمان نے آنکھوں سے اسکے پرائیویٹ روم کی طرف اشارہ کیا ۔ ۔ ۔ جسکا چھوٹا سا ریڈ بلب جل رہا تھا
اوہ ۔ ۔ ۔ عمران تیزی سے کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ بند کر کے سامنے پڑے ہوئے سرخ فون کو اٹھا لیا ، ہاں طاہر کیا بات ہے ۔ ۔
عمران صاحب ، چیف آف آرمی اسٹاف آپ سے فوراَ ملنا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
مجھ سے یا ایکسٹو سے ۔ ۔ ۔
عمران صاحب آپ سے ۔ ۔ ایکسٹو تو اب نہیں رہا ۔ ۔ ۔ آپ نے ہی تو ایکسٹو کا نمبر ریکارڈنگ پر لگا دیا ہے ، اسی میں پیغام ملا ہے
اوہ ۔ ۔ اوکے ۔ ۔ ۔ ۔ ریسور رکھ کر اسنے دوبارہ اٹھا کر نمبر ڈائل کئے
جی ایچ کیو ڈسک ،
چیف سے بات کروائیں ، دس از عمران ۔ ۔ ۔
اوہ سر ۔ ۔ وہ آپکے فون کا ویٹ کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔
ہیلو ۔ ۔ ۔ چیف کی آواز آئی
عمران ہیر ، عمران اس چیف کی دل سے عزت کرتا تھا اسلئے اسنے اپنی عمرانیات سے ہٹ کہ بات کی
عمران مجھ سے ملو ، جتنی جلدی ممکن ہو ۔ ۔
اوکے ۔۔ ۔ عمران نے ریسور رکھ دیا ۔ ۔ ۔اور روم سے باہر آ گیا ۔ ۔ ۔
چوہے کے شیرو ، مجھے ابھی جانا ہے پھر بات ہو گی ۔ ۔ ۔ ۔
شیر ابھی کچھ کہنا چاہ رہے تھے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ عمران ٹاٹا کہ کہ باہر نکل گیا ۔ ۔ ۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------
عمران کو آرمی چیف سے پتہ چلا تھا کہ امریکی حکومت اس دفعہ سیاسی طور پر کمزور حکومت کو سہارا دینے کا لالچ دے کر اپنے قدم جمانا چاہ رہی ہے ، اور اسکا ہدف ملک کی ایٹمی تنصیبات ہیں ، اور صدر صاحب کو پہلے سے ہی رام کیا جا چکا تھا کہ ایکسٹو کی ٹیم کو ختم کیا جائے ، مگر وزیر اعظم اس کے مخالف تھے ، چونکہ صدر کے پاس وزیر اعظم کو ہٹانے کے اختیارات تھے اسلئے وزیر اعظم نے مزید سیاسی طوفان سے بچنے کے لئے چُپ ہی میں عافیت جانی تھی ، ویسے بھی وہ کابینہ کے کرپٹ وزیروں کے دباؤ میں تھے جو ایوان صدر کے ہر وقت طواف کرتے تھے ، آرمی چیف نے ملٹری انٹیلی جنس کی رپورٹ کے مطابق بتایا تھا کہ امریکہ اپنے سفارت خانے کی توسیع کر کہ اس میں بہت ہی اعلٰی درجے کی مشینری نصب کر رہا تھا جسکی مدد سے وہ ایٹمی پلانٹ کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھ رہا تھا ، حکومت نے سفارت خانے کی توسیع کے احکامات دے دئیے تھے ، اور مشینری بحری جہازوں پر نئی مغربی بندرگاہ پر پہنچایا جا رہا تھا ، یہ اطلاعات چیف کو چین کے توسط سے بھی کنفرم ہوئیں تھیں ، جہاں پر امریکہ کا سب سے بڑا سفارت خانہ موجود تھا ، چینی حکومت نے حال ہی میں کتنی ہی سازشیں پکڑی تھیں جن میں سفارت خانے کے ملوث ہونے کے ثبوت تھے ، مگر چین اس وقت اپنی اقتصادی قوت کی وجہ سے ان سازشوں کو اچھال نہیں رہا تھا ۔ ۔ ۔ عمران کو نہ صرف اس مشینری کو دارلحکومت تک پہنچنے سے روکنا تھا بلکہ اسکی تنصیب کے بارے میں بھی ثبوت دینے تھے ، یہ سب مشینری سفارتی پیکچ کے طور پر آ رہی تھی اسلئے نہ تو اسکی کوئی چیکنگ تھی نہ ہی کوئی پوچھ گوچھ ۔ ۔ ۔ پھر ملک کے حالات اور مشرقی اور مغربی سرحدوں کی وجہ سے بھی کافی زیادہ مشکلات تھیں ۔ ۔۔ عمران نے آرمی چیف سے کچھ معلملات طے کئے ۔ ۔ ۔ جنہیں ایکسٹو نے کنفرم کیا تھا ۔ ۔ ۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
دوسرے دن عمران دارلحکومت کے مرکزی چوک پر کھڑا میگا فون سے امریکی حکومت کو گالیاں دے رہا تھا ۔ ۔ ۔ میرے ہموطنوں ، تمہارے اوپر قرضہ ڈال دیا ہے ، اے بھائی اسنے ایک مریل سے مزدور کو پکڑا ، تمہیں پتہ ہے تہمارے اوپر کتنا قرضہ ہے
ہاں جی ، طیفے کے دو سو اور مامے کے پچاس روپے ۔ ۔ ۔ نہیں تمہارے اوپر تیس ہزار روپے کا قرض ہے ۔ ۔ نہ نہ جی ۔ ۔ میں نے اپنی ساری زندگی میں تیس ہزار روپے نہیں کمائے تو قرض کدھر سے امریکہ سے امریکہ تو گیا ہی نیں تم نہیں سمجھو گے ۔ ۔ تم سب پر تیس ہزار کا قرض ہے ۔ ۔ ۔ سب ہنسنے لگے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک نوجوان آگے بڑھا ، تو قرض کون چکائے گا ۔ ۔ ۔ یہ مزدور ۔ ۔ یہ جو خود فاقے کر رہا ہے قرض چکائے گا ۔ ۔ ۔ ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ پولیس کی گاڑی کا سائرن سنائی دیا ۔ ۔ سب لوگ تتر بتر ہو گئے ۔ ۔ عمران اکیلا کھڑا رہا ۔ ۔ ۔ مگر جیسے ہی پولیس کی وین اس کے پاس آ کر کھڑی ہوئی وہ بھاگ کھڑا ہوا ۔ ۔ ۔ اور ایک گلی میں مڑ گیا جہاں پر کرائم رپورٹر انور اپنے اسکوٹر پر ریڈی تھا ۔ ۔ ۔ اور وہ گلیوں کے اندر سے ہوتے ہوئے رانا ہاؤس جا پہنچے ۔ ۔ ۔
-------------------------------------------------------------------------------------------- روشی کو امریکی سفارت خانے میں آج ایک ہفتہ ہو چکا تھا ، عمران نے اسے سفارت خانے کی نوکری کرنے کو کہا تھا ، سفارت خانے کی طرف سے توسیع کی وجہ سے نئی اسامیوں پر بھرتی ہو رہی تھی ، روشی کو اسکے گورے اور ماڈرن لُک کی وجہ سے فوراَ جاب مل گئی اور ویسے بھی اسکے پیچھے عمران کے ایک امریکی دوست کی سفارش بھی تھی ۔ ۔ روشی کو ثقافتی اتاشی کی سیکریٹری کی جاب ملی تھی ، روشی نے تھوڑے ہی دنوں میں اتاشی کو شیشے میں اتار لیا تھا ، ثقفاتی اتاشی جو ایک پرانی منجھی ہوئی سیکرٹ ایجنٹ تھی ، اسے خصوصی طور پر ہدایات دی گئیں تھیں کہ وہ عوام میں ملے جلے ، اور عوام کی سوچ کو امریکی حکومت تک پہنچاتی رہے ۔ ۔ ۔ روشی نے خود کو عمران کی ہدایات کے مطابق کافی سے زیادہ بولڈ اور مغربی تہذیب کا دلدادہ ظاہر کیا تھا ، اور وہ اپنے اسٹائل سے لگتی بھی تھی ۔ ۔ ۔ روشی ایک اپنی مخصوص گھڑی کی مدد سے عمران تک اسکی ضروری معلومات نہایت صفائی سے پہنچا رہی تھی ۔ ۔ ۔ اور ساتھ ساتھ ۔ ۔ گوروں کو پٹا بھی رہی تھی ۔ ۔ ۔ اسے معلوم تھا کہ عورت اور شراب اس قوم کی کمزوری ہیں ۔ ۔ ۔ اور وہ اس کمزوری سے فائدہ اٹھا رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ اسی دوران ملٹری اتاشی کی سیکریٹری بیمار ہو کر امریکہ چلی گئی اور عمران نے اسکی جگہ جولیا کو بڑی آسانی سے فٹ کروا دیا تھا ۔ ۔ ۔۔ ------------------------------------------------- عمران اور انور ہر جگہ پر ایسے ہی تقریر کر کہ بھاگ جاتے ، اور انور ہی اپنے اخبار اور چینل میں اسے رپورٹ کرتا ، یہ خبر ظاہر ہے سر رحمان تک پہنچی اور انہیں اوپر سے بھی پوچھ پرتیت ہوئی ، فیاض کو اسے گرفتار کرنے کا کہا گیا مگر جب وہ نہ کر سکا تو سر رحمان نے اسے دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم دیا ۔ ۔ ۔ آج بھی کیپٹن فیاض عمران کو گولی مارنے کے اردے سے نکلا تھا ، اسکے مخبر نے اسے بتایا تھا کہ عمران اس وقت بڑی مارکیٹ میں اپنا جلسہ کر رہا ہےا ۔ ۔ وہ آندھی کی طرح مارکیٹ کی طرف اڑا جا رہا تھا ۔ ۔ عمران اپنے میگا فون پر کہ رہا تھا
میرے ہم وطنوں ، ہمارے پاس فوج ہے ، پولیس ہے ، حکومت ہے ، ہم ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو پھر ہمیں کسی کی فوجی مدد کی کوئی ضرورت نہیں ، امریکہ جب چاہتا ہے منہ اٹھا کہ ہمارے ہم وطنوں کو مار دیتا ہے ۔ ۔ ۔ جب اسکا دل کرتا ہے ہماری فوج کو بدنام کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
ہالٹ ، فیاض نے چیختے ہوئے ہوائی فائر کیا ۔ ۔ ۔ سب لوگ بھاگ کھڑے ہوئے ، انور کا اسکوٹر بھی تیار تھا ، مگر اس دفعہ اسکے پیچھے فیاض کی جیپ تھی ۔ ۔ ۔ امریکی سفارت خانے کی طرف چلو ۔ ۔ ۔ عمران نے انور کو کہا ۔ ۔ ۔ مگر وہاں تو بہت زیادہ حفاظتی اقدامات ہیں ۔۔ ۔ تم چلو تو سہی ۔ ۔ ۔ اس سائیڈ پر جہاں نئی عمارتیں بن رہیں ہیں ۔ ۔ ۔ تمہارا کیمرا ریڈی ہے نا ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے دو ۔ ۔ ۔ عمران نے کیمرا لے کر ریکارڈنگ کے لئے تیار کیا ۔ ۔ ۔ تمہیں پتہ ہے ہمیں کیا کرنا ہے ۔ ۔۔ ہاں ۔ ۔ ۔ سفارت خانے سے آدھے میل کے فاصلے پر ہی چیک پوسٹ تھی ۔ ۔ ۔ انور اسے توڑتا ہوا بجلی کی طرح نکلا تھا ۔ ۔ مشین گن کا برسٹ ان سے چند فٹ کے فاصلے پر لگا تھا ۔ ۔ ۔ اور پھر دوسرا برسٹ کیپٹن فیاض کی جیپ پر مارا گیا جیپ رکاوٹ سے ٹکرا کر رک گئی تھی ۔ ۔ ۔ عمران نے پیچھے دیکھا ۔۔ کیپٹن فیاض ہاتھ اٹھائے باہر آ رہا تھا ۔ ۔ ۔
یہ ہی جگہ ہے ۔ ۔ ۔ عمران نے نے ایک طرف مڑنے کو کہا ۔ ۔ ۔ اور کیمرا آن کر دیا ۔ ۔ ۔ یہ ایک سرنگ نما رستہ تھا ۔ ۔ ۔ عمران نے کہا آگے کا رستہ تمہیں یاد ہے نا ۔ ۔ ۔ہاں جی ۔ ۔ ۔ انور نے موٹر سائکل کی رفتار تیز کر دی تھی ۔ ۔ ۔ عمران نے ہیلمنٹ پہن لیا تھا ۔ ۔ ۔ اب وہ دونوں پوری طرح سے بلٹ پروف لباس میں تھے ۔ ۔ ۔ کیمرا چل رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اب ایک بڑے سے ہال میں داخل ہو چکے تھے ہال ایک ڈھلوان کی طرح نیچے کی طرف جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ اب وہ ہال کے آخر تک پہنچ چکے تھے جہاں بڑی بڑی مشینیں لگی ہوئیں تھیں جو کہ زمین کو کھود رہیں تھیں ، یہ سرنگ بنانے والی جدید ترین مشینیں تھیں ۔ ۔ ۔ عمران انکو کیپچر کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ ایک دم انکے سامنے ایک بکتر بند گاڑی آ گئی ۔ ۔ ۔ اور اسکی مشین گن نے انپر گولیوں کی بارش کر دی ، انور ۔ ۔ ۔ ایگزٹ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ اوہ یہ تیزاب کا کنواں ہے ۔ ۔ ۔ ادھر نہیں ۔ ۔ ۔ عمران صاحب کیمرا پھینک دیں اسمیں ۔ ۔ ۔ کیا کہ رہے ہو ۔ ۔ مگر ہماری فوٹیج ۔ ۔ وہ ضائع نہیں ہو گی ۔ ۔ ۔ ۔ اتنے میں عمران کو لگا کہ وہ چاروں طرف سے گر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ گولیاں اب اسے ڈائرکٹ بھی لگ رہیں تھیں ۔ ۔ کہ ایک برسٹ اسکے کیمرے پر لگا اور کیمرا تیزاب کے ایک ڈرم میں جا گرا ۔ ۔ ۔ انور نے ایک لمحے کو موٹر سائکل روکی ادھر ادھر دیکھا اور ایک طرف تیزی سے بڑھتا چلا گیا ۔ ۔ عمران صاحب مزائل فائیر کر رہا ہوں ۔ ۔ اوکے ۔ موٹر سائکل کے سامنے کی جانب سے ایک مزائل نکلا اور بکتر بند سے ٹکرایا دھماکہ اور اور بکتر بند الٹ گئی ۔ ۔ انور تیزی سے نکلتا چلا گیا ۔ ۔ ۔ اب وہ ایک بڑے پائپ میں تھے جو نکاسی کے لئے بنایا گیا تھا ۔ ۔ ۔ عمران کو پتہ تھا کہ یہ ایک بڑے نالے میں جا گرتا ہے ۔ ۔ ۔ اور وہ اسی نالے میں جا گرے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ تب انہیں پتہ چلا کہ باہر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی ۔ ۔ ۔ اور وہ نالے میں تیرتے ہوئے ۔ ۔ ۔ باہر آئے ۔۔ ۔ ساری محنت غارت ہوئی ۔ ۔ ۔ کیمرا وہیں ختم ہو گیا ۔ ۔ ۔ نہیں عمران صاحب ، اسکی ریکارڈنگ ادھر ہو رہی تھی ۔ ۔ ۔ میرے سینے میں رکھی ہارڈ ڈسک میں ۔ ۔ ۔ وہ تو صرف کیمرا تھا ۔ ۔ ۔ ۔
بہت خوب ۔ ۔ انور زندہ باد ۔ ۔ ۔ عمران نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارا ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
--------------------------------------------------------------------------------------------------------
دوسرا دن بہت ہی سنسنی خیز خبروں والا تھا ، کیپٹن فیاض شدید زخمی ہو چکا تھا ، اور سر رحمان نے عمران کی حرکتوں کی وجہ سے استعفٰی دے دیا تھا ، اور انور کا چینل اس فوٹیج کو بار بار چلا رہا تھا جس میں سرنگ کھودنے کی مشینیں سفارت خانے کی نئی عمارت میں نظر آ رہی تھیں اور بتایا جا رہا تھا کہ یہ کھدائی ایٹمی پلانٹ کی جانب کی جا رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ امریکی حکومت اس کی تردید کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہرحال دونوں حکومتیں مشکل میں پڑ چکی تھیں ۔ ۔۔ سیکرٹ سروس کے ارکان عمران کو ڈھونڈتے پھر رہے تھے اور عمران تھا کہ گدھے کے سر کے سینگ کی طرح غائب تھا ، ایکسٹو ۔ ۔ ۔ کا نمبر بھی اب صرف میسج لینے پر لگا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اسی اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر اور بھی تھی ، سیکرٹ سروس کے چیف ایکسٹو کے استعیفٰی کے بعد نئے سربراہ نے چارج لے لیا تھا نئے سربراہ کا نام تھا مسٹر آر یعنی رضوان، اور یہ رضوان کوئی اور نہیں عمران کا شاگرد ٹائیگر تھا ۔ ۔ ۔ ۔ جس نے فرداَ فرداَ ایک بار پھر ساری ٹیم کو فون کر کہ رانا ہاؤس میں بلا لیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔
---------------------------------------------------------------------------------------------
مجھے پتہ ہے یہ سب عمران کی ریڈی میڈ کھوپڑی کا کمال ہے ، ورنہ کہاں ٹائگر کہاں سیکرٹ سروس کا چیف ، تنویر نے کہا ، وہ اس وقت رانا باؤس کے میٹنگ روم میں موجود تھے نہیں مجھے اور صدیقی کو عرب سفارت خانے میں ایکسٹو نے جگہ دلوائی ہے ۔ ۔ ۔ صفدر نے کہا اتنے میں دروزے سے ٹائگر اندر آیا وہ ایک سیاہ چُست لبادے میں ملبوس تھا ، اسکے پیچھے جوزف اور جوانا فوجی یونیفارم میں باڈی گارڈ کے روپ میں موجود تھے ۔ ۔ ۔ صفدر نے کھڑے ہونے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ ٹائگر نے انہیں اشارے سے منہ کیا ۔ ۔ ۔
آپ کو پتہ ہے کہ مجھے جن حالات میں یہ پوزیشن دی گئی ہے ، میرے دل میں آپ سب کی بہت قدر ہے بلکہ آپ میرے سب میرے ہیرو ہو ۔ ۔ ۔ مجھے ایکسٹو کے حکم پر یہ جگہ دی گئی ہے
آپ مجھے مسٹر آر کے نام سے جانیں گے ، میں ایکسٹو کے نمبر پر ملوں گا ۔ ۔ ۔ اس وقت خاور اور نعمانی صاحب کو فرانس اور روس کے سفارت خانے میں بھیجھا جا رہا ہے آپ کو وہاں سے یہ تفصیلات اکھٹھی کرنی ہیں ۔ ۔ ۔ ٹائیگر نے دو لفافے دونوں کی طرف بڑھائے
تنویر صاحب آپ کو چین کے سفارت خانے میں رہنا ہے ، وہاں ایک لمبا اور دبلا چینی ہے جو ثقافتی اتاشی کے طور پر کام کر رہا ہے اس کی نگرانی کرنی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور ایکسٹو کا خیال ہے کہ وہ کوئی اور نہیں سنگ ہی ہے ۔ ۔ ۔ اسلئے احتیاط بہت ضروری ہے ، اسکی تمام تفصیلات آپ کو ایکسٹو کے نمبر پر دینی ہونگی ، آپکا میک اپ عمران صاحب کریں گے
اور ہاں ایکسٹو کا پیغام ہے کہ وہ آپ سے دور نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔
گڈ لک ۔ ۔ ۔ ۔ ٹائیگر اٹھا اور جوزف اور جوانا کے ساتھ باہر نکل گیا ۔ ۔ ۔ ۔
2009/6/8 سفید کمرے کی کالی دیوار - آخری قسطامریکی اور اسرائیلی کمانڈو انکے پیچھے لگ چکے تھے ، اسلئے اب انہیں اپنا مشن جلدی پورا کرنا تھا ، وہ اس وقت لیفکے شہر کے نواحی علاقے میں موجود تھے یہ ایک جھنگل نما جگہ تھی ، لیباٹری بھی اسی علاقے میں تھی ، کیونکہ اسکے سگنل بہت اسٹرنگ تھے اس جگہ ۔ ۔ ۔ ۔ ناصر کے سامنے اس وقت سرکٹوں کا ڈھیر پڑا ہوا تھا ، یہ سرکٹ اسنے بہت ساری الیکٹرانکس دیوائیسز سے نکالے تھے ۔ ۔ ۔ وہ انہیں جوڑ رہا تھا ، دوسری طرف صابر اور اسحاق ، بنگلے کے باغیچے میں تاریں بچھا رہے تھے ، جو کہ چھت پر ایک ڈش کے ساتھ لنک تھیں ۔ ۔ ۔ انکے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ٹی وی تھا ، جسپر سگنل آ جا رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔انہوں نے وائرز کو ٹی وی تک لے جا کر چھوڑ دیا ۔ ۔ ۔ تھا ۔ ۔۔ ناصر نے انکی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا ۔ ۔ ۔ یار کچھ کھا بھی لو ۔ ۔۔
ٹائم کہاں ہے کھانے کا ۔ ۔ ۔ پتہ ہے کوناگی میں لانچ رات آٹھ بجے تک پہنچ جائے گی ۔ ۔ ۔ ہاں کام ہو گیا ہے ، بس فٹنگ کرنی ہے ۔ ۔ ۔ مگر بتاؤ بھی کہ کیا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ بتاتا ہوں پہلے کچھ کھلا تو دو تم بے شک نہیں کھانا ارے میں سینڈوچ بنا لاتا ہوں ۔ ۔ ۔ صابر نے کہا بلیک کافی کے ساتھ لانا ۔ ۔۔ مجھے بھی ۔ ۔ اسحاق نے کہا ۔ ۔ ۔ اوکے باس ۔ ۔ ۔ صابر کچن کی طرف چلا گیا ۔ ۔ ۔ ناصر نے ٹی وی کے اندر ایک سرکٹ فٹ کیا ۔ ۔ ۔ اور دوسرا سرکٹ لے کر باغیچے میں گیا اور تاروں کے ساتھ منسلک کر دیا جو اسحاق اور صابر نے بچھائیں تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ اسے مٹی میں دبا دینا چاہئے ۔ ۔ ۔ اسحاق نے کہا ۔ ۔ ۔ ہاں یہ تو کرنا پڑے گا پہلے ٹیسٹ ہو جائے ۔ ۔ ۔ وہ واپس اسی کمرے میں آئے ٹی وی آن کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ناصر نے ریموٹ اٹھایا اور چینل سرچ کرنے لگا ۔ ۔ ۔ ایک فریکیونسی پر آ کہ اس نے روک دیا ، ٹی پر آڑی ترچھی لائنز آ رہی تھیں ۔ ۔ ۔ ہیڈ آفس ملاؤ ۔ ۔ ۔ اسحاق نے سٹئلائٹ فون سے ایک کی دبائی ۔ ۔ ۔ ۔ پروگرام آ رہا ہے کیا ۔ ۔ ۔ ناصر نے فون لے کر پوچھا ۔ ۔ ۔ دوسری طرف سے اثبات میں جواب ملنے پر ناصر نے کہا کہ کنٹرول چیک کرو ۔ ۔ آبجیکٹ کنٹرول میں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اسی لمحے میں صابر کھانے کی ٹرے کے ساتھ اندر آیا ۔ ۔ ۔ شکر ہے کام ہو گیا ۔ ۔ ۔ ناصر نے فون بند کرتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔ اب ہم جا سکتے ہیں مگر تم نے کیا کیا ہے یہ تو بتاؤ ۔ کیونکہ لیب تو ادھر ہی ہے اور ۔ ۔ ۔ میں بتاتا ہوں ۔ ۔ ۔ ناصر نے ایک سینڈوچ کا نوالہ لیتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔ میری کوشش تھی کہ ہم قبرص سے باہر اس لیباٹری کو تباہ کریں ، اور میں اس میں کامیاب رہا ہوں ، ہم لیباٹری کے اندر نہیں جا سکتے اور نہ ہی کوئی ادھر سے باہر آئے گا ، مگر اس وقت لیباٹری میں تیس عدد وہ لوگ موجود ہیں جنکے برین میں چپ فکس کی جا چکی ہے ، میں نے انہیں کو کنٹرول کیا ہے ، اور ہیڈ آفس کے کنٹرول روم سے انہیں کنٹرول کر کہ چیک کیا جا چکا ہے ۔ ۔ ۔ یعنی ہم انہیں لیب تباہ کرنے کے لئے استعمال کریں گے ۔ ۔ بالکل ۔ ۔ ۔ اور یہ سرکٹ ، یہ ہمارے لئے لنک کا کام کرے گا سٹیلائٹ لنک کا ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس طرح کرے گا کہ کوئی اسے ڈی ٹیکٹ نہیں کر سکے گا اور کرے گا بھی تو اسے یہ سگنل اپنا ہی لگے گا ۔ ۔ یاد ہے وہ وائرلیس جس سے میں نے چپ نکالی تھی ۔ ۔ ۔ یہ وہ ہی چپ ہے ۔ ۔ ۔ ہم نے چھے مہینے کا کرایہ دے چکے ہیں لہذا کوئی ادھر آئے گا نہیں ، چلو پھر ریڈی ۔ ۔ ۔ ہم بیس منٹ میں ساحل پر ہونگے ۔ ۔ ۔ انشااللہ ۔ ۔ ۔ اور تھوڑی دیر میں وہ کوناگی کے ساحل کی طرف جا رہے تھے جہاں پر ایک لانچ انکی منتظر تھی ----------------------------------------------------- لیب کے اندر بہت خاموشی تھی ، پچھلے ایک ہفتے سے کوئی بھی شخص چپ کی فٹنگ کے لیئے نہیں لایا گیا تھا ، ڈاکٹر گور ایک میز پر بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر مختلف کمروں کے منظر دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اسکے چہرے پر بے زاری نمایاں تھی ، اسنے میز پڑے لال فون کو اٹھا اور ایک ہی نمبر دبایا ۔ ۔ ۔ تھوڑی دیر تک اسے انتظار کریں کا پیغام ملتا رہا ۔ ۔۔ پھر ایک بھاری آواز گونجی ۔ ۔ ۔ یہ کرنل ڈیوڈ تھا لیب کی سیکورٹی کا انچارج ، کرنل ہم کب تک یوں ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں گے ، ڈاکٹر گور نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا جب تک خطرہ پوری طرح ٹل نہیں جاتا ۔ ۔ ۔ ۔ کب تک ٹلے گا خطرہ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر نے پوچھا کچھ کہا نہیں جا سکتا ۔ ۔ ۔ اسی لمحے کمپیوٹر کی اسکرین پر ایک ونڈو کھلی جس پر لکھا تھا ارجنٹ میسج ۔ ۔ ۔ میں تمہیں فون کرتا ہوں پھر ڈاکٹر نے کہا اور میسج کھول ، جس میں لکھا تھا کہ ، کچھ جوان جنکو چیپ لگائی تھی وہ اپنی زبان میں کوئی گیت گا رہے ہیں مل کر ۔ ۔ ۔ اور ایک دوسرے پر سرکس کے انداز میں حرکتیں کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر نے جلدی سے کچھ کیز دبائیں ۔ ۔ ۔ لیب ٹاپ کی اسکرین کالی دیوار والا ایک کمرہ تھا ، جس کے وسط میں جوان بیٹھے گیت گا رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ہونٹ انابی آنکھیں شرابی
چاند سا چہرہ ، مکھڑا گلابی اس پے تیرا مسکرانا ، مر جاؤں گا او جان جاناں مر جاؤں گا ڈاکٹر مسکرا دیا ۔ ۔ ۔ ارے یہ تو ایک فوک گیت ہے ، وہاں کے لوگ گاتے ہیں ایسے ۔ ۔ ۔ اسنے دیکھا جوان ایک دوسرے کے کاندھے پر چڑھے ہوئے تھے اور ایک جوان کالی دیوار کو ہاتھوں سے ناپ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ہا ہا ہا شاید یہ کمرے کی چھت سے باہر نکلنا چاہتے ہیں بے وقوف ۔ ۔۔ ۔
------------------------------- ہیڈ آفس کے کنٹرول روم میں ناصر بہت ساری اسکرینوں کے سامنے بیٹھا تھا ، اس ہال میں بہت سارے ایسے ہی ڈیسک تھے ۔۔ ۔ ۔ سامنے ایک بڑی اسکرین تھی جس پر کالی دیوار والے کمرے کا منظر تھا ۔ ۔ ۔ ۔ جس میں ایک جوان کالی دیوار ناپ رہا تھا ۔ ۔ ۔ سر مجھے اسکا سنٹر پوائینٹ مل گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ایک طرف سے آواز آئی ، یہ عامر تھا ، میٹھمیٹکس ایکسپرٹ ۔ ۔ ۔
گڈ ۔ ۔ ۔ سر میں نے سب جوانوں کے قد سے بھی اندازاہ کر لیا ہے کہ کون یہ کام کرے گا ویری گڈ ۔ ۔ ناصر نے کہا ۔ ۔ او کے ۔ ۔ ۔ ناؤ ایکشن ۔ ۔ ۔۔ سر پروگرام فیڈ کیا جا چکا ہے ، ہمارے اندازے کے مطابق یہ کام دو منٹ میں پورا ہو گا اور کیونکہ ہمارا سٹالایٹ ڈیلے دو منٹ کا ہی ہے اسلئے ہمیں چار منٹ بعد نظر آئے گا ۔۔ ۔ مگر یہ جو دو منٹ کا بلیک آؤٹ ہے اسکا کیا ہو گا یار اسی لئے کہا تھا کہ یہ کام وہیں کرنا چاہیے تھا قبرص میں صابر کی آواز گونجی نہیں سر یہ بلیک آؤٹ نہیں ہو گا ۔ ۔ ۔ ہم پوری سٹڈی کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ او کے پھر گو آہیڈ ۔ ۔ بسم اللہ ۔۔۔ ۔ ناصر نے کہا اور ایک بٹن دبا دیا ۔۔۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں جوانوں میں جیسے پارہ بھر گیا تھا ۔ ۔ انہوں نے ایک جوان کو اٹھایا جو تیر کی طرح اکڑ چکا تھا اور اٹھا کر کالی دیوار کی طرف دوڑ لگا دی ۔۔۔ اسی طرح ایک دوسرے جوان کو بھی کچھ جوانوں نے اٹھایا اور کالی دیوار کی طرف دوڑ لگا دی اور جیسے ہی انکے سر دیوار سے ٹکرائے ۔ ۔ ۔ ایک چھناکے کی آواز آئی ۔ ۔۔ اور کالی دیوار ریزہ ریزہ ہو گئی ۔ ۔ ۔ اللہ اکبر ۔ ۔ ۔ اللہ اکبر ۔ ۔ ۔ سارا ہال گونچ اٹھا -------------------- یہ یہ کیا کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر گور نے ۔ ۔ اپنی اسسٹنٹ کودیکھا ۔ ۔ ۔ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ انہیں ایک جگہ مت رکھیں ۔ ۔ ۔ کالی دیوار ٹوٹ چکی تھی ۔۔۔ جوان ادھر ادھر بکھر گئے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ جوان کنٹرول مشین پر بیٹھ چکے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں میں یہ نہیں ہونے دوں گا ۔۔ ۔ ڈاکٹر گور نے چلاتے ہوئے کہا ۔۔ ۔ ۔ مگر اسی وقت کنٹرول روم میں گن مین داخل ہوئے اور انہوں نے جوانوں پر گولیاں برسانی شروع کر دیں ۔ ۔ ارے بے وقوفو یہ کیا کر رہے ہو ساری مشینری تباہ ہو جائے گی ۔۔ ۔ کچھ جوانوں نے گن مینوں سے مشین گنیں چھین لیں تھیں ۔ ۔ ۔ اور وہ لیب میں پھیل چکے تھے ۔ ۔ ۔ اور بے دھڑک فائیرنگ کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر گور فون پر چلا رہا تھا ۔ ۔ ایک جوان کو اسنے کمیونیکیشن روم میں جاتے دیکھا ۔ ۔ یہ یہ کیا کر رہا ھے ۔ ۔ یہ ان پڑھ جاہل اس مشین کی فریکوینسی بدل رہا ھے ۔ ۔ ۔ ۔ اوہ اوہ ۔ ۔ اسنے اپنی اسکرین پر دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ ۔ نہیں یہ خواب ہے ایسا نہیں ہو سکتا ۔ ۔ ۔ سب ہو سکتا ہے ڈاکٹر گور ۔ ۔ ۔ اسکے لیب ٹاپ میں آواز ابھری ۔ ۔ ۔ ۔ یہ لیب تباہ کی جا رہی ہے ۔ ۔۔ ۔ مگر کیوں ۔ ۔ ۔ اگر تھوڑی دیر اور ہم نے اس کمیونیکیشن کو جاری رکھا تو ہمارے بہت سارے راز کھل جائیں گے ۔۔ ۔ ۔ گڈ بائے ڈاکٹر ۔ ۔ ۔ نہیں ۔ ۔ ۔ نہیں سنو ۔۔ ۔ سنو ۔ ۔ ۔ ۔ تم مجھے مار دو مگر یہ فارمولہ لے لو ۔ ۔ ۔ یہ فارمولہ یہاں کے سوا کہیں نہیں ہے ۔ ۔ ۔ کنٹرول تو بہت جگہ ہیں ڈاکٹر ۔ ۔ ۔۔ ۔ مگر فارمولہ ادھر ہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ اور اگر یہ مین کمپیوٹر تباہ ہوا تو باقی سب کنکشن ختم ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ اسنے لال فون کا ایک بٹن دبایا ۔۔ ۔ پریزیڈنٹ پلیز ۔ ۔۔ ۔ ۔ ہلیو ۔ ۔ ۔ ۔ ایک آواز ابھری ۔ ۔ سر ۔ ۔ ۔ چپ سیون ایٹ سیکس ۔ ۔ ۔ ڈسٹرائے ہو جائے گی اگر لیب تباہ ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ سوری ڈاکٹر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب کا مشترکہ فیصلہ ہے مگر گریٹ اسرئیل ۔ ۔ ۔ ۔ اسرئیل از اگری ۔ ۔ ۔ ناٹ پاسیبل ۔ ۔ ۔ نو نو نو ۔ ۔ ۔ نہیں ہو سکتا اسرائیل کبھی بھی نہیں ۔ ۔ ۔ تم گریٹ اسرائیل کو ۔ ۔ ۔ نہیں روک سکتے ۔ ۔ ۔ نان سنس ۔ ۔ ۔ یو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر نے پریزیڈنٹ کو ایک بھر پور گالی دی ۔ ۔ ۔ ۔ شٹ اپ ۔ ۔ ۔ اور فون ڈسکنکٹ ہو گیا ۔۔ ۔ ۔ ۔ اور ساتھ ہی کان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا ۔ ۔۔ ۔ اور لیب کے پرخچے اڑ گئے ۔ ۔ ۔ آبادی سے میلوں دور لوگ اسے صرف ایک دھم کی آواز ہی محسوس کر سکے کیونکہ ساری لیب زیر زمین تھی ۔ ۔ ۔ ۔ اور چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں تھیں لیب کے اوپر جو اس دھماکے کی آواز کو دبا گئیں ۔ ۔ ۔۔ ------------------------------------------------- ناصر یہ تہمارا کارنامہ ہے ۔۔ ۔ ۔ ۔ نہیں ۔ ۔ ۔ یہ میرا نہیں یہ اس جوان کا کارنامہ ہے جس نے اس راز کو بے نقاب کیا ہے لال خان اور اقبال دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو رہے تھے پروفیسر شکیل اور وکٹر بھی وہیں تھے ۔ ۔۔ ۔ اور انہیں دلاسا دے رہے تھے ویسے کیا خیال ہے کمانڈر اب ایسا کوئی اور اسٹیشن نہیں ہو گا ۔۔ ۔ ہو گا تو سہی ۔ ۔ ۔ مگر جیسے ہم نے دیکھا کہ ڈاکٹر گور کا کہنا تھا کہ وہ فارمولا وہیں تھا ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں فارمولا تو ڈی کوڈ ہو گیا تھا ۔ ۔ ۔ ہاں چپ کا پلانٹ وہیں تھا ۔ ۔ ۔ پھر بھی انہیں یہ کام کرنے میں اب کافی دیر لگے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے چپ ڈیٹیکٹر بنا لیا ہے اور ایک ایک کر کہ ہم ان جوانوں تک پہنچیں گے ۔ ۔ ۔ جو اس کا شکار ہوئے ہیں اور ہمیں انکی مدد سے بہت سارے دھشت گردوں کا بھی پتہ چلے گا ۔ ۔ ۔ ویسے ایک بات ضرور کہوں گا ، شکیل صاحب بولے جی وہ کیا کہ اب مجھے بھی یقین آ گیا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی میں کسی سے کم نہیں ہیں ہاں ۔۔ ۔ اور اسکی وجہ ہے ۔ ۔ ۔ وہ کیا ۔۔ ۔ ہمارے برینز میں پیدائیشی طور پر ایک چپ ہوتی ہے یعنی سارے ہموطنوں میں ۔۔ جی اور وہ چپ ہے ۔۔ ۔ محبت کی ۔ ۔ ۔ دوستی کی اور وطن پرستی کی ۔ ۔ ہاں یہ تو ہے ۔ ۔ ۔ مگر یہ بھی تو ہے کہ اس چپ کو بھی کوئی نہ کوئی کنٹرول ضرور کر لیتا ہے ۔ ۔۔ ۔ ہاں یہ بھی ہے ۔ ۔ ۔ جیسے ہمارے لیڈران اور دانش ور ۔ ۔ ۔ وغیرہ انکو کنٹرول کیا جا سکتا ہے مگر عام آدمی ۔۔ ۔ ۔ کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے ۔ ۔ ۔ ہاں یہ تو ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی لمحے کمانڈر اسحاق کے فون کی بیل بجی ۔ ۔ ۔ اسنے فون سنا ۔ ۔ او کے سر ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے افسوس ہے ، آپ چاروں کے لئے ایک بری خبر ہے وہ کیا ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ آپ بھی نام بھی گمشدہ لوگوں کی فہرست میں رکھا گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر ۔ ۔ ۔ سوری ۔ ۔ ۔ گڈ بائے ۔ ۔۔ ۔ ۔ کمانڈر اسحاق ۔ ۔ ۔ نے اپنی ٹوپی صحیح کی ۔ ۔ ۔اور ناصر اور صابر کے ساتھ باہر نکل گیا چند فوجی آئے اور انہیں بندوقوں سے ہانکتے ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ ایک بند وین میں ڈال دیا ۔ ۔ اور پھر وہ کسی نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہو گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ----------------------------------------------- اسے ایسا لگا کہ جیسے آنکھوں پر پڑا پردہ ہٹ گیا ہو ۔۔ ۔ ۔ اس نے اپنے جسم پر لپٹا بارود دیکھا اور ہاتھ میں اسکا ٹریگر تھا ۔ ۔ ۔ وہ چیخنے لگا ۔ ۔۔ ۔ اور بھاگنے لگا ۔ ۔ ۔ پولیس نے نشانے پر رکھا تھا ۔ ۔ ۔ اور کچھ گرم سلاخیں اسکی پیٹھ میں گستی چلی گئیں ۔ ۔ ۔ ۔ اسنے ویران ہوتی آنکھوں سے دیکھا کہ پولیس والے اس پر گولیاں برسا رہے تھے ۔ ۔ ۔ اور اسکے ذہن میں صرف ایک ہی سوچ ابھر رہی تھی کہ کب کہاں اور کیسے ۔ ۔۔ ۔ اسنے یہ بارود اپنے جسم پر باندھا ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر اسکے ذھن کے پردے پر ایک کالی دیوار ابھری ۔ ۔ ۔ ۔ اور ۔۔ ۔ وہ دیوار اندھیرے میں بدل گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ساتھ ہی ایک دھماکہ ہوا اور اسکے جسم کے پرخچے اڑ گئے ۔ ۔ ۔ اسکے ذھن نے ہاتھ کو ٹرئیگر دبانے کا سگنل دے دیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 2009/6/6 سفید کمرے کی کالی دیوار - دوسری قسطہے بھگوان ، میرے ساتھ ایسا کیا ہوا ہے ، کل پاپا بھی کہ رہے تھے کہ تم اب شلوار قمیض نہ پہنا کرو ، بلکہ پینٹ شرٹ میں رہا کرو ، لگتا ہے کسی نے مجھے مسلمان سمجھ کر اغواء کیا تھا ، مگر ایسا کیوں ، وہ جتنا سوچ رہا تھا اتنا ہی الجھ رہا تھا ۔۔۔ اگلے دن وہ جب یونیورسٹی پہنچا تو ، سب دوستوں نے گھیر لیا ، کیا ہوا کہاں تھے ، ہزار سوال مگر جواب کا تو اسے خود نہیں معلوم تھا ، مگر اسے بار بار اسے اس سفید کمرے کی کالی دیوار یاد آ رہی تھی ، اس نے اپنے سب سے قریبی دوست ، اقبال سے اسکا ذکر کیا ، اقبال اسکا واحد ایسا دوست تھا جو اس کی دلچسپیوں میں حصہ لیا کرتا تھا ۔ تم کیا سمجھتے ہو تمہارے ساتھ انہوں نے کیا کیا اور پھر تمہیں چھوڑ دیا
یار یہ ہی تو میں نہیں سمجھ پا رہا ، لال خان نے الجھے لہجے میں کہا تم نے اپنے اندر کیا چینج فیل کیا ہے ؟ اقبال نے پوچھا یار سوائے گنجا ہونے کے اور کوئی تبدیلی نہیں تھی مجھ میں کیا سر کے کسی خاص حصے میں درد محسوس ہوتا ہے ؟ نہیں یار ۔ ۔ ۔ ۔ لال خان مزید الجھ چکا تھا اچھا یہ بتاؤ کہ تہماری روز مرہ کی زندگی میں کیا فرق آیا ہے کچھ نہیں ، سوائے اسکے کہ اب میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھے کچھ کرنا چاہیے ، ہاں کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے کوئی میرے اندر بول رہا ہو ۔ ۔ ۔۔ مگر شاید یہ وہم ہی ہو ہم ۔ ۔ ۔ اقبال نے بھی گہری سانس لی وہ دونوں ایک ہوٹل میں داخل ہوئے ، اور چائے کا آرڈر دیا ۔ ۔ ۔ اچھا ایک کام کرتے ہیں ۔ ۔ اقبال نے کچھ سوچتے ہوئے کہا کیا ۔ ۔۔ تمہیں یاد ہے ہم لوگوں نے ڈائناٹیکس کے بارے میں کچھ کلاسز لیں تھیں ارے ہاں ، وہ اپنے وکٹر پنگا ۔ ۔ نے ۔ ۔ پنگا نہیں بھائی ، پے نی گا ۔ ۔۔ ارے وہی پنگا ہی ہوا نا ۔ ۔ تو کیا تم چاہتے ہو کہ وہ میرا سیشن کرے ہاں ، آزمانے میں کیا حرج ہے ۔ ۔ ۔ چلو ابھی چلتے ہیں ، لال نے اٹھتے ہوئے کہا ہاں ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ دونوں نے چائے ختم کی اور وکٹر پےنگا کی طرف اپنی موٹر سائکلوں پر نکل پڑے ---------------------------------- وکٹر پے نگا ، لال کی یونیورسٹی میں کلرک تھا ، مگر اسکی سب کے ساتھ بنتی تھی ، ہنس مکھ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ سب کا ساتھ بھی دیتا تھا اسلئے اسٹوڈنس اور استاد سب کا دوست تھا ، اسے ماروئی علوم سیکھنے کا خبط تھا ، مگر سائنس کی بکس بھی پڑھتا تھا اسلئے الجھا ہوا رہتا تھا ، اسکی فیملی کسی دوسرے شہر میں رہتی تھی ، اسلئے ایک کمرے کے گھر میں اکیلا ہی رہتا تھا ، جس میں اسکی کتابیں بکھری رہتی تھیں ۔ ۔ ۔ اقبال نے اسکے گھر کے دروازے پر لگی بیل پر ہاتھ رکھ دیا ۔ ۔۔ دروازہ ایسے کھلا جیسے وکٹر انہیں کے انتظار میں تھا ۔۔ ۔ ارے لال بابو ، وہ اسے اسی نام سے بلاتا تھا جس سے لال کو چڑ تھی ، اور اسنے بھی جواب دیا جی پنگا بھائی ۔ ۔ ۔ ہم ہیں پھر پنگا اے کتنی دفعہ کہا ہے کہ پے نی گا ، اور میں نے کتنی بار کہا ہے کہ لال خان ۔ ۔ ۔ ارے ارے تم تو ادھر ہی شروع ہو گئے ، اقبال نے درمیان میں ٹوکا ، وکٹر بھائی اندر نہیں آنے دو گے کیا ۔ ۔ ارے ارے کیوں نہیں ، تو دروازہ پورا کھولو ، ورنہ یہ پھٹپھٹیاں کوئی اٹھا لے جائے گا ۔ ۔ او کے اوکے ۔ ۔ ۔ وہ موٹر سائکلیں صحن میں کھڑی کر کے اندر آ گئے ، کیا پیو گے ۔ ۔ صرف سادہ پانی ۔۔ دونوں ایک ساتھ بولے اور پھر ہنس پڑے وکٹر نے فریج سے پانی کی بوتل نکالی اور گلاس میں پانی ڈال کہ لال خان کو دیا اور دوسرے گلاس میں پانی انڈیلتے ہوئے پوچھا ۔ ۔ لال بابو کیا ہوا تمہارے ساتھ ، کچھ سراغ ملا ؟ سراغ کے لئے تہمارے پاس آئے ہیں ، لال کی جگہ اقبال بولا میرے پاس وہ اسے گلاس پکڑاتے ہوئے حیرت سے بولا تم نے ایک دفعہ کہا تھا نا کہ تم ڈائنایٹیکس کی مدد سے پتہ کر سکتے ہو کہ ہم چاہے بے ہوش ہوں تو ہمارے اردگرد کیا ہوا؟ ہاں ، آڈیٹنگ سے پتہ چل سکتا ہے ، مگر میں ایکسپرٹ نہیں ہو اس علم کا ، مجے بتاؤ کیا ہوا یار لال کو اغواء والی جگہ پر ایک بار ہوش آیا تھا ، اور اسے صرف ایک کمرہ یاد ہے جسکی دیواریں سفید تھیں اور ایک کالی دیوار تھی ۔۔ ۔ اوہ ۔÷ ÷ ÷ یہ تو اچھی بات ہے ، یعنی تمہارا لاشعور واقعٰی ہی کام کر رہا تھا تو پھر کیا تم میری مدد کر سکتے ہو ۔ ۔ کوشش کر سکتا ہوں ۔ ۔۔ اگر چاہو تو میرے استاد کے پاس چلتے ہیں جس سے میں نے یہ علم جانا ہے ۔ ۔ ہاں یہ ٹھیک ہے ۔ ۔ ویسے وہ کون ہے ۔ ۔ ۔ تم جانتے ہو انہیں ہیں ۔ ۔ ۔ اقبال نے حیرت سے پوچھا ۔ ۔ ہم جانتے ہیں پروفیسر شکیل صدیقی ۔ ۔ ۔ سر شکیل ۔ ۔ دونوں کے منہ سے نکلا ۔ ۔ ۔ نہیں یار ۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔۔ ۔ وکٹر کے لہجے میں اعتماد تھا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تھوڑی دیر میں وہ شکیل صدیقی کے گھر میں تھے ۔ ۔ ۔ جو لال کی آڈیٹنگ کے لئے تیار ہو چکے تھے ۔ ۔ ۔ انہوں نے لال کو ایک ایزی چئیر پر بٹھایا ۔۔ ۔ اور کہا آنکھیں بند کرو ۔۔۔ بتاؤ تم کہاں تھے جب تمہیں اغواء کیا گیا میں گھر جا رہا تھا ، جب ایک آدمی میرے پاس آیا ۔۔ ۔ اور کہا کہ اسکی کار کا ٹائیر پنکچر ہو گیا ہے ۔ تو میںنے اسکی کار کی طرف گیا تو پچھلی سیٹ کا دروازہ کھلا اور اس آدمی نے مجھے دھکا دیا اور میں گاڑی کےاندر تھا ۔۔۔ جیسے میں اندر گرا کسی نے میرے منہ پر گیلا کپڑا رکھ دیا ۔ ۔ ۔ پھر مجھے کچھ ہوش نہیں کیا ہوا ۔ ۔ ۔ شکیل صاحب نے اسے واقعہ پھر دھرانے کو کہا ۔ ۔ ۔ میں گھر جا رہا تھا ۔ ۔ کہ ایک آدمی میرے پاس آیا آدمی کیسا تھا ۔ ۔ ۔ اسنے کیا پہنا تھا ۔ ۔۔ شکیل صاحب سوال کرتے گئے اور پھر لال خان بتاتا گیا ۔۔ ۔ شکیل صاحب ایک ہی واقعے کو بار بار سنتے اور ہر بار مزید تفصیل میں جاتے حتہ کہ جب لال خان نے بتایا کہ وہ کسی ایسی جگہ پر ہے جہاں فارسی بولی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ تو وہ اور اقبال حیران رہ گئے ۔ ۔۔ ۔ اور جب قبرص کی لیباٹری کی بات ہوئی تو پروفیسر شکیل کے بھی پسینے چھوٹ چکے تھے ۔ ۔ ۔ وہ آڈٹ سیشن کو کمپلیٹ کر چکے تھے ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ لال خان اب تھر تھر کانپ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ شکیل صاحب نے ٹھنڈے پانی کی بوتیلں لے کر آئے اور تینوں نے پانی پیا ۔ ۔ ۔ ایک عجیب سی خاموشی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ یہ ÷ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت ہی خطرناک چیز ہے ۔۔ ۔ مجھے گورمنٹ کو بتانا ہو گا ۔ ۔ ۔ ہاں ۔۔۔ یہ بہت ضروری ہے ۔ ۔ ۔ لال تم کوشش کرو کہ زیادہ وقت اقبال کے ساتھ گذاروہ ۔ ۔ ۔ ۔ اقبال ۔ ۔ ۔تم بھی اسکی ہیلپ کرنا بلکے ٹہرو میں ابھی اپنے ایک دوست کو فون کرتا ہوں ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر شکیل صاحب کے لنکس سے لال خان ، فوج کی ایک لیب میں پہنچ چکا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اسکے والدین کو بھی بتا دیا گیا تھا ، اقبال اسکے ساتھ تھا ، پروفیسر شکیل کو بھی فوج نے اپنی حفاظت میں لے لیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب کچھ چند گھنٹوں میں ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ایم آر آئی ، کے بعد اسکے برین میں چھپی چپ کا پتہ چل چکا تھا ۔۔۔۔۔ جس سے ایک خاص قسم کی ریز نکل رہیں تھیں ۔ ۔ ۔ جنہیں ڈی کوڈ کیا جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ قبرص میں فوج کے ایجنٹ کو انفارمیشن دی جا چکی تھیں ۔۔ ۔ تقریباً تین دن لگ گئے تھے ان سب باتوں میں اس درمیان لال خان نے اپنے ذہن میں آوازیں سنیں تھیں ۔ ۔ اور اسنے اقبال پر حملہ بھی کیا تھا ۔ ۔ ۔ اسلئے اسے احتیاط کے طور پر ایک کمرے میں بند کر دیا گیا تھا ۔ ۔۔ جو بالکل خالی تھا ، اسے کھانا بھی چھت سے دیا جاتا تھا ۔۔ ۔ لال پوری طرح سے سمجھتا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے ، اسلئے وہ تعاون بھی کر رہا تھا قبرص سے انٹیلی جنس رپورٹس آ چکی تھیں ، اور ایک کمانڈو مشن ترتیب دیا جا چکا تھا ، لال کی ویوز کا منبع پتہ کیا جا چکا تھا اور وہ ایک امریکی سیارے کے چینلز استعمال کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ جو کہ جی پی ایس (گلوبل پوزیشنینگ سیسٹم ) کو استعمال کرتا تھا ۔۔ ۔ یہ ایک عام سیارہ تھا جو کہ ہر طرح کی جی پی ایس ڈیوائس کے ساتھ لنک ہو جاتا تھا ۔۔۔ لیکن جب لال جسے مسلسل مانیٹر کیا جا رہا تھا ، نے چلانا شروع کیا کہ مجھے ادھر کیوں بند کیا ہے باہر نکالو ۔ ۔ ۔ تو پتہ چلا کہ لال کو ایک روبوٹ کی طرح کنٹرول کیا جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ اسلئے اسے اب ایک میگنیٹک فیلڈ میں بھیج دیا گیا تھا ، اور اس کمرے کی دیواروں کو پلاسٹک سے بنایا گیا تھا تا کہ لال کو خودکشی پر مجبور نہ کیا جا سکے ۔ ۔ ۔ ۔ دوسری طرف کمانڈر اسحاق کی ٹیم قبرص پہنچ چکی تھی ۔ ۔ ۔ اور لیب کا پتہ بھی چلا لیا گیا تھا ، یہ سب کچھ انتہائی خفیہ تھا مگر پھر بھی کالی بھیڑوں کی وجہ سے اسرئیل اور امریکہ کے خفیہ ادارے بھی سرگرم ہو چکے تھے ، لیباٹری پر حفاظتی انڈیکیٹر انتہائی سطح پر کر دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ کمانڈر اسحاق اس وقت ایک شاپنگ پلازہ کے پلے لینڈ میں گیم کھیل رہا تھا ، وہ اس وقت ایک لاابالی جوان لگ رہا تھا ، جو قبرص میں پیسے اڑانے آیا ہو ۔ ۔ ۔ اسکے ساتھ کیپٹن ناصر جمیل تھا جو کمیونیکیشن انجنئیر تھا اور اس وقت ہوٹل میں ڈانس فلور پر ایسے ناچ رہا تھا جیسے اسے ناچنے کے سوا کوئی کام ہی نا ہو ، یہ الگ بات کہ اس کی آنکھیں اس سیکیورٹی گارڈ پر لگی ہوں جسکے پاس ایک الگ طرح کا وائیرلیس نظر آ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی ڈانس فلور کے بار کے پاس میجر صابر تھا جو اس وقت بئیر کا مگ لئے چسکیاں لے رہا تھا ، میجر صابر بلانوش تھا مگر نشہ اس پر ہوتا ہی نہیں تھا ۔ ۔ ۔ ۔ پیسے بنانے کا ماہر تھا ۔ ۔ ۔ ۔ کسی بھی جگہ کسی کی جیب کی صفائی ہو یا پھر بینک ڈکیتی یا پھر اے ٹی ایم مشین ۔ ۔ ۔ ۔ سب اسکے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا اور دوسری خصوصیت تھی کہ وہ روپ ایسے بدلتا تھا کہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا ۔ ۔ ۔ اسی لئے اپنے بے تکلف دوستوں میں وہ بھانڈ کہلاتا تھا ۔ ۔ ۔ مجھے وہ وائرلیس چائیے ناصر نے صابر کے پاس آ کر سیکورٹی والے کی طرف اشارہ کیا ۔ ۔ ۔ مل جائے گا ۔ ۔ ۔ میں کمرے میں جا رہا ہوں ۔ ۔ ۔۔ تھوڑی دیر میں وہ تینوں ایک کمرے میں موجود تھے ۔ ۔ ۔۔ ناصر نے اس وائرلیس کو جو صابر نے اسے لا کر دیا تھا کھولا ہوا تھا ، مجھے یقین ہے یہ اسرائیلی کوڈ ہے ۔۔ ۔ اسنے ایک چپ کو سرکٹ سے الگ کیا اور ایک دوسرے سرکٹ میں لگا دیا جو اسنے بنایا تھا اس میں سے آوازیں آنے لگیں ۔ ۔ ۔ ۔ لیب کو لاک کر دیا گیا ہے ، اب اس میں کوئی آ جا نہیں سکتا ۔ ۔ ۔ ۔ اسی لمحے کمانڈر کے موبائیل کی بیل بجی ۔ ۔ ۔ ۔ اور خطرہ ہے ۔۔ ۔ ۔ بھاگو ۔ ۔ ۔ ناصر نے اپنا سرکٹ اٹھایا اور تنیوں ایک ساتھ کمرے سے باہر تھے ۔ ۔ ۔ کاریڈور میں کوئی نہیں تھا ۔ ۔ ۔ صابر نے آرام سے چلتے ہوئے ایک کمرے کے لاک پر ایک کارڈ لگایا ۔ ۔ ۔ آٹومیٹک ڈور کھل گیا ۔ ۔ ۔ اور تینوں کمرے کے اندر تھے ۔ ۔ ۔ کمرے کے اندر پہنچتے ہی لاگ جیسے وہ کسی کاٹھ کباڑ کے کمرے میں آ گئے ہوں ، کمرے میں شاید مرمت کا کام چل رہا تھا ۔ ۔ ۔اسی لمحے میں کان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا ۔ ۔ ۔ تینوں تو تیار ہی تھے جیسے ۔ ۔ ۔ پھر جیسے کاریڈور میں طوفان آ گیا ہو ، لوگ اپنے اپنے کمروں سے نکل رہے تھے ۔۔ ۔ ۔ ۔ انہیں بھی دروازے سے دھواں اندر آتا دکھائی دیا اور ساتھ ہی فائر الارم بج اٹھا ۔ ۔ ۔ ۔ تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور گیلے رومال منہ پر رکھ کر باہر نکل آئے کاریڈور میں بھگدڑ مچی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اسی بھگدڑ میں شامل ہو کر ہوٹل سے نکل آئے تھے ۔ ۔ ۔ تھوڑی دیر میں ہوٹل خالی ہو چکا تھا ۔ ۔ ۔ ۔
(جاری ہے ) کوشش کروں گا کہ تیسری اور آخری قسط جلد پیش کروں 2009/4/25 سفید کمرے کی کالی دیوار - پہلی قسطچپ ٧٨٦ ، ایک ایسی مائیکرو چپ ہے جو برین کے ایک مخصوص حصے میں فکس کی جاتی ہے ، اور پھر وہ شخص ایک سنٹرل سسٹم سے منسلک ہو جاتا ہے ، جسے اپنی مرضی سے استعمال کیا جاتا ہے ،
اسے ایک یہودی سائنسدان نے اٹلی میں بنایا تھا ، جو کہ معذور افراد کو دوبارہ فعال کرنے والے دماغی سسٹم پر کام کر رہا تھا ، مگر نائن الیون کے واقعٰی کے بعد اس نے اسے اسرائیل کو دے دیا اور پھر امریکہ کی ایک انتہائی جدید لیب میں اسے مزید اضافوں کے ساتھ خود کُش بمبار بنانے کے لئے استعمال کیا جانے لگا
ایسے لوگوں کے لئے ، عرب ممالک اور وسطی ایشیائی ممالک کے علاوہ ، برصغیر پاک و ہند سے بھی لوگوں کو اغوا کیا جانے لگا ، کوشش کی جاتی کہ مذہی طور پر جذباتی نوجوانوں کو اس کام میں استعمال کیا جائے ، کیونکہ چپ کی وجہ سے وہ آسانی سے اپنے آپ کو ختم کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ۔ ۔ ۔۔ ۔
مگر ایک غلطی نے اس چپ کو دنیا سے ہی مٹا دیا ، شاہد خان ، جو ایک سی آئی اے کی طرف سے بندے اٹھانے پر معمور تھا ، پشاور میں ایک لڑکے کو جب اٹھایا تو وہ بھول گیا کہ وہ لڑکا مسلمان نہیں تھا ، پشاور کے چند گنے چنے ہندو تاجروں میں سے ایک کا بیٹا تھا ، نام تھا اسکا لال خان ، دوسری غلطی یہ ہوئی کہ یہ لڑکا پڑھا لکھا تھا ، اور وہ بھی سائنس کا اسٹوڈنٹ ، جو اپنا فارغ وقت طرح طرح کے تجربات میں گذارتا تھا، مگر وہ بہت بحث کیا کرتا تھا ، کہ مسلمان اگر بہت اچھے ہیں تو پھر انکے ساتھ اتنا برا کیوں ہے ، اسی بحث مباحثے کی وجہ سے وہ شاہد خان کی نظروں میں آ گیا تھا ۔ ۔ ۔
شاہد نے اسے اغوا کر کے کابل پہنچایا اور وہاں سے ایران اور پھر ترکی کے راستے یونانی قبرص ، جہاں چپ لگانے کی لیب تھی ، لال کو بے ہوش کیا گیا ، بلڈ چیک کر کے ڈاکٹروں نے آپریشن ٹیبل پر اسے ڈال دیا ، لال کا سر پہلے ہی مونڈ دیا گیا تھا ، اسے ٹیبل پر الٹا لٹایا گیا تھا ، ایک ڈاکٹر نے اسکا سر ایک شکنجے میں جکڑ دیا تھا ، اور اسکے اوپر ایک روبوٹیک آرم کو لایا گیا تھا ، یہ ایک بہت ہی سنسیٹیو روبوٹیک آرم تھی ، جسنے سارا آپریشن خودکار طریقے سے کرنا تھا ، اور پھر ایک مارکر سے ایک ڈاکٹر نے ایک ریپورٹ کو دیکھتے ہوئے گول دائرہ سا بنایا ، اور دوسرے ڈاکٹر نے اپنے سامنے کے پینل سے ایک بٹن کو دبا دیا ، روبوٹیک آرم سے ایک نیلے رنگ کی روشنی نکلی اور پھر اسی نشان پر آ کر رک گئی ، ایک چھوٹی سی آری چلنے لگی اور ساتھ ہی سرخ رنگی کی لیزر بھی چل رہی تھی ، جو زخم سے خون کے اخراج کو روک رہی تھی ، پھر ایک انچ کا گول دائرہ سا بن گیا ائر پھر ایک روبوٹیک آرم نے اسے اٹھایا ، اور اندر سے دماغ نظر آنے لگا ، روبوٹ نے چپ اٹھائی جسکے ساتھ ریشم کی طرح تار لپٹے ہوئے تھے ، پھر روبوٹ نے وہ تار دماغ کے ساتھ منسلک کرنے شروع کر دئیے ، اسکرین پر اسکا کافی بڑا عکس نظر آ رہا تھا ، ساتھ ہی آواز آنا شروع ہو گئی ، ویلڈنگ اسٹارٹ ، ویلڈنگ کمپلیٹ ، لیفٹ آرم ٹیسٹنگ ، لال خان کا بایاں بازو اوپر نیچے ہلنے لگا ، لیٍفٹ ہینڈ ٹیسٹنگ ، لال خان اپنے بائیں ہاتھ کو موڑنے لگا ، پھر آواز ابھری ، لیفٹ تھمب ٹیسٹنگ ، انڈیکس فنگر ٹیسٹنگ ، اور اسی طرح باری باری ہر اعضاء کا ٹیسٹ ہونے لگا ، ٹیسٹنگ کمپلیٹ کی آواز آتے ہی ، روبوٹ نے ، فکسنگ چپ کمپلیٹ کا میسج دیا اور ، پھر سر کے کاٹے ہوئے حصے کو دوبارہ اسی جگہ لگا دیا گیا ، اسیمبلنگ کمپلیٹ ، اور پھر روبوٹ نے ایک اسپرے کیا ، تو جلد ایسے برابر ہو گئی جیسے وہاں کبھی کچھ ہوا ہی نا تھا ۔ ۔ ۔ پلاسٹک سرجری کمپلیٹ کی آواز آتے ہی روبوٹ آرمز ہٹ گئیں اور ایک ڈاکٹر نے اسکی آکسیجن اور دوسرے آلات کو لال خان کے جسم سے الگ کیا ، اور اسٹریچر کو دھکیلتے ہوئے ایک کمرے میں لے آئے ، جہاں اسے ایک بیڈ پر منتقل کیا گیا ۔ ۔ ۔ اور وہ کمرے کا دروازہ بند کر کے چلے گئے ، لال خان ابھی تک بے ہوش تھا ، تھوڑی دیر میں وہ ہلنے لگا اور اسنے آنکھیں کھول دیں ، اسکی آنکھوں میں ویرانی سی تھی ، وہ دیوار کی طرف دیکھنے لگا جس کا رنگ کالا تھا ، اصل میں دوسری طرف سے اسے دیکھا جا رہا تھا ، دوسری طرف ایک کنٹرول روم تھا ، جس میں مختلف لوگ اپنی اپنی اسکرینوں پر جھکے ہوئے تھے ، ایک وہیل چئیر پر ایک بوڑھا گھومتا پھر رہا تھا ، یہ ڈاکٹر گور تھا ، اس تمام پروجیکٹ کا نگران، کنٹرول روم بہت سارے ایسے کمروں سے منسلک تھا جس میں آبجیکٹ کو رکھا جاتا تھا ، ایک طرف سے دروازہ کھلا اور ایک باوردی لمبا آدمی داخل ہوا اسکے ہاتھ میں ایک فائل تھی ، اس نے ڈاکٹر گور کو وہ فائل دی اور بولا ، سر پی کے ون ون نائین ، فائنل رپورٹ ، اور فوجی انداز میں سلوٹ کر کہ چلا گیا ، ڈاکٹر نے لال خان کی طرف دیکھا جو ابھی تک صرف حیرت سے آنکھیں جھپکا رہا تھا ، ہونہ ، ماریا ، وہ اپنی وئیل چئیر کو ایک لڑکی کی ڈیسک کے سامنے لا کہ بولا ، ٹیسٹ ہم ، اوکے ڈاکٹر ، ماریا نے اپنے کی بورڈ پر انگلیاں چلانا شروع کیں ، بیٹھو ، اور لال خان اٹھ بیٹھا ، اسکی آنکھوں میں ویرانی اور بڑھ چکی تھی ، قرآن سناؤ ، وہ چپ رہا ، قرآن سناؤ ، وہ پھر چپ رہا ، ڈاکٹر ماریا نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا ، اوکے کوئی اور کمانڈ دو ، ابھی وہ پوری طرح ہوش میں نہیں ہے
ہاتھ اوپر ، نیچے ، دیوار پر ہاتھ مارو ۔ ۔ ۔ ایسے ہی ماریا اسے ٹیسٹ کرتی رہی ، اوکے ڈاکٹر یہ بالکل کنٹرول میں ہے ، ٹھیک ہے ، اسے کیمپ میں بھجھوا دہ ، لال خان کے کمرے میں ایک نرس داخل ہوئی اور اسنے لال خان کو انجیکشن لگایا ، اور پھر دو آدمی اسے ایک اسٹرئچر پر ڈال کہ باہر لے گئے ۔ ۔۔ ادھر کنٹرول روم میں ڈاکٹر کے پاس ایک اور فائل آ چکی تھی ۔ ۔ ۔
لال خان کو جب ہوش آیا تو اسنے اپنے آپ کو اپنی گلی کے نکڑ پر ٹیک لگا پایا ، پہلے تو وہ خالی آنکھوں سے سوچتا رہا پھر وہ یک دم چونک کہ اٹھا ، اسنے سر پر ہاتھ پھیرا تو پتہ چلا کہ اسکے بال نہیں ہیں ، اسنے اپنی جیبیں ٹٹولییں سب کچھ موجود تھا ۔ ۔ ۔ رات کا وقت تھا اسنے اپنے گھر کا دروازہ کھٹکٹایا ، اوہ ۔ ۔ ۔ اسکے باپ نے دروازہ کھولا تھا اور پھر وہ اس سے لپٹ گیا ، خداوند کا کرم ہے تو صحیح سے آ گیا ، وہ اس سے سوال پوچھ رہے تھے مگر لال خان کے پاس کچھ جواب نہیں تھا ، وہ کہتا رہا کہ اسے کچھ پتہ نہیں ہے ، اور جب اسنے سنا کہ وہ ایک ہفتہ غائیب رہا ہے تو ذہن پر زور ڈالنے کے باوجود اسے کچھ یاد نہ سکا ، ہاں بار بار اسے سفید کمرے کی کالی دیوار ضرور یاد آ رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔
(جاری ہے ) 2008/9/20 جنت کی آگمیں ایک جنتی ہوں ۔ ۔ ۔ کچھ ہی دیر پہلے میں نے جنت میں قدم رکھا ہے ، میرا استقبال میرے سے پہلے آنے والوں نے کیا ہے ، انکے چہرے روشنی ہے ۔ ۔ ۔ مجھے یقین آ گیا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ بہت ہی نیک کام تھا ۔۔ ۔ اسی لئے تو مجھے اتنی پزیرائی مل رہی ہے ۔ ۔ ۔ مگر میں نے تو اور بھی بہت کچھ سُن رکھا تھا کہ میرا استقبال جلیل القدر ہستیاں کریں گیں ، وہ ہستیاں جنکے دیدار کے لئے دنیا کی زندگی میں میں نے کیا کیا عبادتیں نہ کیں ۔ ۔ ۔ ۔ میری عبادتوں کا صلہ ضرور ملے گا ۔ ۔۔ اور میں نے اپنی جان تک ایک عبادت کے لئے دی ۔ ۔ ۔ میری زندگی جہاد کرتے گذری ۔ ۔ ۔ اور موت بھی شہادت کی پائی ۔ ۔ ۔۔ مجھے اپنی دنیاوی زندگی یاد آنے لگی
میں نے جب گریجیویشن کیا تو سب کی طرح مجھے بھی نوکری نہیں ملی ، مجھ سے کہا گیا کہ میں وظیفہ کروں تو مجھے ضرور نوکری ملے گی ۔ ۔ ۔۔ میں نے ہر طرح کے وظائف پڑھے مگر کچھ نہ ہوا اور ایک دن مجھے مسجد میں ایک بہت ہی نورانی صورت والے جوان نے کہا کہ زندگی کا مقصد نوکری نہیں ہونا چاہیے ، نوکری تو دنیاوی فائدے کے لئے کی جاتی ہے ، اس نے مجھے بتایا کہ ہم پڑھے لکھے جوانوں کے ساتھ کتنا ظلم ہو رہا ہے اور ساری دنیا کی برائی ہی یہ دنیا کی لذت ہے ۔ ۔۔ اسنے مجھے ایک بامقصد زندگی کی آفر کی اور پھر میں ایک جہادی تنظیم کا رکن بن گیا ۔ ۔ ۔ میرے والدین نے بہت مخالفت کی ۔۔ ۔ مگر مجھے حق کی راہ مل چکی تھی ۔۔ ۔ ۔ پھر میں نے سوچا کہ اگر نوکری صرف زندہ رہنے کے لئے کرنی ہے تو بہتر ہے جہاد کیا جائے روٹی تو اللہ دے ہی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
میرے رہبروں نے مجھے کھانے پینے کی فکر سے آزاد کر دیا ، مجھے تین وقت کا کھانا ملتا تھا ساتھ میں دھلے دھلائے کپٹرے بھی ۔۔ ۔ ۔ میری زندگی کا پل پل عبادت میں گذرنے لگا ۔ ۔۔ ۔ پھر مجھے اسلحے کا استعمال سکھایا گیا ۔۔ ۔ ۔ دنیا کے جدید ترین اسلحے کی سمجھ دی گئی ۔۔ ۔۔ میں نے کتنے ہی معرکوں میں حصہ لیا ۔ ۔ ۔ پہلے میں نے سوچا کہ شاید میں اپنوں کے خلاف لڑنے جا رہا ہوں مگر پتہ چلا کہ میرے اپنے صرف وہ ہیں جو میرے نظریہ زندگی کو مانتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور باقی لوگ تو ویسے بھی بے حس ہیں ، اگر وہ مارے بھی جائیں تو کیا فرق پڑے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مگر ایک دن میرے رہبر کے قلعے پر ہوائی حملہ ہوا اور میرے بہت سارے ساتھی شہید ہو گئے ۔ ۔ ۔ ۔ تب ہمیں رہنمائی کرنے والوں نے کہا کہ دشمن بہت طاقتور ہے اور ہمارے پاس فضائی طاقت نہیں اسلئے ۔ ۔ ۔ ہم خود کو ہتھیار بنا لیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور دشمن کو تہ و بالا کر دیں ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ایک ایک کر کہ ہم نے شہروں میں خود کو اڑا لیا ۔ ۔ ۔ ۔ جنت اتنی سستی ہو گی میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا ۔ ۔۔ ۔اور پھر آج جب میں نے خود کو ایک بھرے بازار میں بارود سے اڑا لیا ۔ ۔ ۔ تو میں جنت میں آ گیا ۔۔ ۔ ۔ جہاں میرے سارے ساتھی موجود تھے ۔ ۔ ۔ ۔ انکے چہرے چمک رہے تھے ۔ ۔ ۔ میں انکی طرف بے تابی سے بڑھا تا کہ انہیں اپنے گلے سے لگا سکوں ۔ ۔ ۔ مگر یہ کیا ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب تو مٹی کے پتلے تھے ۔ ۔۔ اور مٹی بھی جلتی ہوئی مٹی ۔ ۔۔ ۔ انگارہ جسم تھے انکے اور پھر میں بھی جلنے لگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جانے کہاں سے ایک آواز آ رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر میں نے تو جہاد کیا تھا ۔ ۔ ۔ جہاد نہیں فساد کیا تھا تم نے ۔ ۔۔ ۔۔ تم فسادی ہو ۔ ۔ ۔۔ تم نے اللہ کی زمین پر فساد پیدا کیا ۔ ۔ ۔ تم نے بے گناہوں کو قتل کیا ۔ ۔ ۔۔ تم نے اپنے ہی بھائیوں کو چیر پھاڑ کہ رکھ دیا ۔ ۔ ۔ ۔ مگر میں تو نمازی تھا ۔ ۔ ۔ ۔ روزہ دار تھا ۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری نمازیں تمہارے منہ پر دے ماری جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ تمہارے روزے فاقے تھے ۔ ۔۔ ۔ ۔ مگر میں تو دین کی تبلیغ کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں تم دین کی تبلیغ نہیں کرتے تھے تم انتشار پھیلاتے تھے ۔ ۔ ۔ فساد پیدا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ اللہ نے تمہیں نرم خوئی کو کہا تھا تم شعلہ بیان بنے ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ نے تمہیں درد دل رکھنے کو کہا تھا تم درد دینے والے بن گئے ۔ ۔ ۔ ماؤں سے بیٹے ، بیویوں سے شوہر اور بہنوں سے بھائی چھین لئے ۔۔ ۔ ۔ تم درویش کے بھیس میں شیطان ہو ۔ ۔ ۔ اور تم جیسوں کے لئے جلتی آگ ہی جو تمہیں قیامت تک جلائے گی ۔ ۔۔ ۔ زمیں پر فساد برپا کرنے والوں کا انجام یہ ہی ہے ۔ ۔ ۔
ان آوازوں کے ساتھ ہی میرا جسم آگ کا شعلہ بن گیا ۔ ۔ ۔ اور مجے جلتے تیل میں گرا دیا گیا ۔ ۔۔ ۔ مجھے ہر اس اذیت کو سہنا ہے قیامت تک جو میری نادنیوں کی وجہ سے بے گناہوں پر بیتی ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے معافی کا سوچا ۔ ۔ ۔ مگر وقت گذر چکا ہے ۔ ۔ ۔ مگر اے کاش میں اپنے ان ساتھیوں کو بتا سکتا کہ انکے پاس ابھی معافی کا وقت موجود ہے ابھی بھی وہ اللہ کے راستے پر چل سکتے ہیں ۔۔ ۔ ۔ میں چلاتا ہوں ۔ ۔ ۔ مگر کوئی نہیں سنتا ۔ ۔ ۔ اور ہر روز میں اپنے ہی کسی بھائی کو اسی آگ کے دریا میں جلتے دیکھ رہا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ صدا لگاتار آتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ایک بے گناہ انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2008/3/12 نعرہ تکبیر !!!!! دو کہانیاںکل کی کہانی
انکا چہرہ جذبے کی شدت سے تمتما رہا تھا ، وہ کہ رہے تھے ۔۔ ۔ ہم نے جب اسے پکڑا تو پتہ چلا کہ وہ بیچارہ صرف سپاہی رنک کا تھا ۔ ۔ پہلے تو ہم نے اسے جی بھر کہ ٹھڈے مارے ۔۔ ۔ مگر پھر ہمارے صاحب آ گئے کہنے لگے ایک فوجی قیدی کو ایسے نہیں مارا جاتا جب وہ قید ہو جائے تو اسکی عذت ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ پھر انہوں نے اسے کھانا کھلوایا اور چائے بھی دی ۔ ۔ کچھ درد کی گولیاں بھی دیں ۔ ۔۔ آہستہ آہستہ اسکا ڈر ہم سے دور ہو گیا اور وہ ہم سے گھل مل کر باتیں کرنے لگا ۔ ۔ ۔ اس وقت تک جنگ بندی ہو چکی تھی ۔ ۔ ہمیں آرڈر ملا تھا کہ اسے اگلے مورچوں پر ہی رکھنا ہے کیونکہ اسکے بدلے میں ہمیں اپنے قیدی چھڑوانے ہیں ۔ ۔ ۔ لالہ جی ، آخر آپ ہم سے پنگا لیتے ہی کیوں ہو ۔ ۔ ۔
پنگا ہم نہیں تم لوگ لیتے ہو مگر اس دفعہ تو پہل تم نے کی تھی ۔ ۔ نہیں تم نے کی تھی ۔ ۔ ۔ تمہاری طرف سے ایک بندہ ادھر جانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ تو ہم نے اسے وارننگ فائیر دیا تھا ۔۔ ۔ مگر تم نے اسے خود پر حملہ سمجھ لیا ۔ ۔ ۔ تو فئیر آپ نے کمانڈر کو اطلاع کیوں نہیں کی ۔ ۔ بس جی ہمارے بڑے افسر نے کہا تھا کہ ہم تمہیں تھوڑا سبق سکھا دیں گے ۔ ۔ مگر ہوا کیا ۔ ۔۔ تم نے خود سبق سیکھ لیا ۔ ۔ نہیں جی ۔ ۔ اصل میں ۔ ۔ ۔ تم لوگوں کی طرف سے جب وہ نعرہ لگا تھا نا ۔ ۔ اسنے گڑبڑ کر دی ۔ ۔ نعرہ ؟؟؟؟ ہاں وہ تم کہتے ہو اللہ اکبر ۔ ۔ ۔ ہاں وہ نعرہ تکبیر ۔ ۔۔ ہاں ہاں وہ ہی ، اسی نے ہمیں دہلا دیا تھا ۔ ۔ پتہ نہیں کیسی آواز تھی جب تم سب نے ملکر اللہ اکبر کہا ۔ ۔ تو ہمارے پسینے چھوٹ گئے تھے ۔ ۔ ۔ اور اوسان خطا ہو گئے تھے ۔ ۔ ۔ ہمارے مورچے میں صرف دس جوان تھے مگر تمہاری طرف سے آواز سے ایسا لگا کہ جیسے سیکڑوں لوگ ہوں ۔ ۔ ۔ تم ۔ ۔ چُپ کیوں ہو گئے ہو ۔ ۔ ۔؟ جوان ۔ ۔ کیپٹن نے ہمیں آرڈر دیا یس سر ۔ ۔ ۔ اسے بارڈر پر چھوڑ آؤ ۔ ۔ مگر ہم نے تو اسے تبادلے کے لئے استعمال کرنا تھا ۔ ۔ ۔ نہیں ۔ ۔ ۔ اب یہ تبادلے کے لئے بیکار ہے ۔ ۔ اس کا متبادل کوئی نہیں ہو سکتا ۔ ۔ جیسے آپ کا حکم ۔ ۔ ۔ اور ہم اسے بارڈر تک لے آئے ۔ ۔ اور کہا جاؤ ۔ ۔۔ وہ بارڈر کی طرف بڑھنے لگا ۔ ۔ ۔ دوسری جانب سے اسے للکارا گیا ، اسنے اپنا نام اور یونٹ کا بتایا اور ۔ ۔ اور کمانڈر کا بھی بتایا ۔ ۔ ۔ اور آگے بڑھنے لگا ۔ ۔ پتہ نہیں ہم میں سے کس نے زور سے نعرہ لگا نعرا ئے تکبیر اور سب نے بلند آواز میں اللہ اکبر کہا ۔ ۔ اور ایسے لگا جیسے زمیں تھرا گئی ہو ۔ ۔ بارڈر کی طرف جانے والے نے دوڑ لگا دی تھی اور دوسری طرف سے اس پر اسٹین گن کا پورا برسٹ مارا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مجھے آج دن تک اسکے مرنے کا افسوس ہے ۔ ۔ ۔ مگر کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر ہم نے وہ نعرہ نہ لگایا ہوتا تو شاید وہ ایسے نہ مرتا ۔ ۔ انکی آنکھوں میں نمی آ گئی تھی ۔ ۔ ۔ ایک دشمن قیدی کی موت پر جسے اسکے اپنوں نے مار دیا تھا ۔ ۔ صرف ایک نعرے کی آواز پر ۔ ۔ ۔ --------------------------------------------------------------------------------------- آج کی کہانی
2007/7/19 میں ایک خود کش حملہ آور ہوںمیں ایک خود کش حملہ آور ہوں
جی ہاں میں ایک خود کش حملہ کرنے جا رہا ہوں ، مجھے نہیں پتہ کہ میرے ساتھ اور کتنے لوگ میرے جسم پر بندھے بارود کا نشانہ بنیں گے ، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میں شہید ہونگا یا جاں بحق یا ہلاک ۔۔ ۔ موت ۔۔ ۔ جو ایک اٹل حقیقت ہے ۔ ۔ آج میں اس حقیقت کا سامنا کروں گا ۔ ۔ ۔ ۔ میں نہیں جانتا کہ خدا مجھے جنت دے گا یا دوزخ کی آگ ۔ ۔ ۔ مگر شاید میں خدا کو بھی قائل نہ کر سکوں ۔۔ ۔ جیسا کہ میں خود کو قائل نہیں کر پایا ۔۔ ۔ ۔
مجھے آج اپنی ساری زندگی یاد آ رہی ہے ۔ ۔ ۔۔ میری ماں نے چھوٹی عمر میں ہی مجھے مدرسے میں بھیج دیا تھا ۔ ۔ ۔ ہم سات بہن بھائی تھے ۔۔ ۔ میرے والد ایک چھوٹی سی دوکان چلاتے تھے ۔ ۔ ۔مگر اس سے گھر کا گذارا بہت مشکل تھا ۔۔ ۔ سو مجھے اور بھائی کو مدرسے میں بھیج دیا گیا ۔ ۔ ۔پھر ہم نے یہاں ہم نے تعلیم کا آغاز کیا ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے بتایا گیا کہ ہمارا مذہب بہت آسان ہے ۔ ۔ ۔ یہ دنیا کا واحد مذہب ہے جسکی بنیاد انسانیت ہے ۔ ۔ ۔پھر مجھے پتہ چلا کہ ہمارے مذہب میں بہت سارے فرقے ہیں ۔ ۔ ۔۔ مگر حق پر صرف ہمارا ہی فرقہ ہے ۔ ۔ ۔ دوسرے لوگ جو ہمارے ہم مذہب ہیں وہ کافروں سے بھی بدتر ہیں ۔ ۔ ۔ اور ہمارا مشن انکا حاتمہ ہونا چاہیے ،۔ ۔ ،
میرے بڑے بھائی کو ایک دن کچھ لوگ لے گئے ۔۔ ۔ ۔ وہ کہتے تھے کہ وہ مخبر ہے ، ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں وہ کیسا مخبر تھا ۔ ۔ جسکی خبر آج تک ہمیں نہیں ملی ۔۔ ۔ ۔ میری دو بہنوں کی شادیاں ہو چکی ہیں ۔ ۔ ۔ اور وہ بھی زندگی کو کاٹ رہیں ہیں ۔ ۔ ۔۔ ایک کا شوہر شرابی اور جواری ہے دوسری کا شوہر ۔ ۔ ۔ ایک مسجد میں پیش امام ہے ، ۔ ۔ ۔ جسکی کل کائنات مسجد ہے ۔، ۔ ۔ ۔ ۔میں نے آج دن تک ان دونوں کو کبھی ہنستے نہیں دیکھا ۔ ۔ ۔ ۔۔ جانے کیوں ۔ ۔ ۔
ماں تو بچپن میں ہی چھوڑ گئی تھی ۔ ۔۔ ابا کی چھوٹی سی دوکان ہے جسمیں وہ پرچون کی چیزیں رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارا گھرانہ بہت مذہبی مانا جاتا ہے ۔ ۔۔ ۔ مگر میرے گھر میں ہر طرح کے لوگ ملتے ہیں ۔۔ ۔۔ دو بھائی ہیں ۔ ۔ ۔ ایک کا کام ہے سڑکوں کی خاک چھاننا اور دوسرے کا کام ہے ۔ ۔ ۔ٹھگنا ۔۔۔ ۔ دو بہنیں ابھی تک کنوری ہیں ۔ ۔۔ رشتے ملتے ہی نہیں ۔ ۔ ۔
آج مجھے میرے دوست بہت یاد آ رہے ہیں ۔ ، ، ، ، ایک شرف الدین ہے جو ،،، ، میرے ساتھ ہی جوان ہوا ۔ ۔۔ اب خلیجی ریاست میں رہتا ہے کبھی فون کرتا ہے کبھی خط بھی ڈال دیتا ہے جس میں باہر کے ملکوں کی قصیدہ گوئی ہی ہوتی ہے اور جب وہ وطن واپس آتا ہے تو ۔ ۔ ۔ اسے اپنی مٹی بہت بری لگتئ ہے ۔ ۔ ۔
ہاں تو آپ کہیں گے کہ میں خود کش حملہ کیوں کر رہا ہون ۔ ۔ ۔۔ رٹا ہوا جواب ہے کہ ہمارے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اسلئے کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔اور دل کی آواز ہے کہ بس بھائی سے ایک دفعہ مل لوں ۔ ۔ ۔ ۔ مگر شاید اب اسکا موقعہ نہ ملے ۔۔ ۔۔ میں نے اپنے آپ کو مرنے کے لئے تیار تو کر لیا ہے مگر میں خود نہیں جانتا کہ اس سے ہو گا کیا ؟ کیا میرے بعد زندہ رہنے والوں کو انصاف ملے گا ؟ میرے خیال میں تو کبھی نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ جیسے مجھے خود پر اعتبار نہیں کہ میری موت رائگاں جائے گی ۔ ۔ ۔ اسی طرح مجھے اپنے ساتھیوں پر یقین ہے کہ وہ کسی دن ضرور مارے جائیں گے یا مار دئیے جائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔۔
میری خواہش ہے کہ مجھے اس حملے پر معاف کر دیا جائے ۔۔ ۔ ۔ میں شاید بہت ہی مجبور تھا ۔ ۔ ۔ ۔ میرے ساتھ مرنے والے تو شاید روز جنت میں جائیں مگر ۔ ۔ ۔ میں ۔۔ ۔ ۔ مرنے والوں کو لاکھوں روپے ملیں گے ۔۔۔ ۔ عینی شاہدوں کا مار دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مگر پتہ نہیں میرے دل میں یہ خیال کیوں آتا ہے کہ اگر یہ ہی پیسہ انہیں لوگوں پر خرچ کیا جاتا تو شیاد اس تصادم کی نوبت ہی نہ آتی ۔ ۔ ۔
میں اپنا وجود ختم کر رہا ہوں ۔۔ ۔ ۔۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے دنیا کو دینے کے لئے ۔۔ ۔ سوائے موت کے ۔ ۔ سو وہ دے رہا ہوں ۔ ۔ ۔ میں نے رب کو یاد نہیں کیا اس وقت کیونکہ ۔۔ ۔ میرا رب میرے ساتھ ہی رہتا ہے ۔ ۔ ۔ اور اب میں اسی کے پاس مستقل جا رہا ہوں ۔ ۔ ۔ بے بسی مجبوری ہی اس حملے کی وجہ ہیں ، ، ، ، شاید کوئی یہ مجبوری سمجھے ۔۔ ۔۔ مگر ، ، ،، اب ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔ ۔ ۔، ،، مرنا تو ہے نا ایک دن ۔۔۔ تو آج ہی کیوں نہیں ؟؟؟ 2007/4/20 ہائے بجلی ،ہائے ہائے بجلی ۔ ۔ ۔رات ایک طویل قوالی والا خواب دیکھا ۔۔ ۔ جسکی کچھ جھلک ادھر پیش خدمت ہے
ہمارے کراچی کے بہت سارے لوگ بجلی آنے جانے پر کیا گا رہے ہیں ملاحذہ فرمائیے آئے بجلی اور جائے بجلی
پاگل سب کو بنائے بجلی روشنیوں کا شہر کراچی اندھیروں سے سجائے بجلی بولیں سارے مل جُل کے
ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی دیکھا تو اپنے مًنا پہلوان جی صرف لنگوٹ کًس کر بھنگڑا ڈال رہے تھے
او باری برسی کھٹن گیا تے
کھٹ کے لیاندا اے سی اے سی کیا چل سی جدوں بجلی نہ ہو سی میں کوئی جھوٹ بولیا ۔ ۔ (سب ملکر) کوئی ناں میں کوئی کفر تولیا (سب ملکر) کوئی نا کوئی ناں بھئی کوئ ناں ایک دم سے بجلی آ گئی جیسے سبکو چُپ لگ گئی صرف سانسوں کی اور پنکھوں کے چلنے کی آوازیں آ رہیں تھیں کہ پھر بجلی چلی گئی اور ایک شور سا اٹھا
بھوکے ننگوں کو نچائے بجلی
آئے بجلی جائے بجلی ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی اپنے واجہ بھائی کو بہت غصہ آیا
اڑے اس بجلی کمپنی کو بم سے اڑا دو ڑے ، ہماڑا تو اب دم ختم ہو گیا ہے ۔ ۔ پھر خود ہی گانا شروع کر دیا، اور سب انکے ساتھ ناچ رہے تھے
بجلی ہم کو دیو ڑے ۔ ۔۔ وشملے
بجلی سے یہ کہو ڑے ۔ ۔ ۔ وشملے گرمی سے مر گیا ، سارا شہر ڈر گیا گرمی سے مرو ڑے ۔ ۔ ۔ وشملے ۔ ۔ اب کیا تھا وشملے وشملے ۔ ۔۔ ۔ پھر ایک دم سے جیسے بجلی کو ہچکہ لگی ۔ ۔ بلب آن ہوئے ۔ ۔ پنکھوں نے کھٹ کھٹ کی اور بجلی پھر غائب ۔ ۔ ۔ ۔ مولوی صاحب جو آج گرمی کی وجہ سے اپنی جناح کیپ کے بغیر ہی تھے اٹھے اور کہنے لگے
اب اللہ سے ہی کہو برسائے بجلی
ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی ۔ ۔ ۔ سب کے چہرے پر جیسے اداسی چھا گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اپنے سائیں مہربان علی ۔ ۔ ۔ کھڑے ہوئے جو اپنی اجرک کو کندھوں پر ڈالا اور زور کا نعرہ لگا ۔ ۔ ۔ ہے جمالو ۔۔ ۔۔ اور بجلی آ گئی ۔ ۔۔ سب خوشی سے جھوم اٹھے
بجلی آگئی ہے شہر میں ۔ ۔ ہے جمالو
بجلی چھا گئی ہے شہر میں ۔ ۔ ہے جمالو ہے جمالو ۔ ۔ واہ واہ جمالو ۔ ۔جمالو بجلی آ گئی ہے شہر میں ۔ ۔ ہے جمالو ۔ ۔ اور پھر بجلی چلی گئی ۔ ۔ ۔۔ سائیں مہربان علی کو بہت غصہ آیا ۔ ۔
گھوڑا ڑے ۔ ۔ کیوں ہم کو تڑپائے بجلی
(سب لوگ سینے پر ہاتھ مار مار کر کہنے لگے) ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی ۔ ۔ ۔ ایک شور سا تھا ۔ ۔ اور پھر بجلی آ گئی ۔ ۔ ۔اور پھر خاموشی چھا گئی ایسے جیسے کسی نے کچھ بولا تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ فاروق بھائی کے گھر سے دادی اماں کی آواز آئی ۔ ۔ ۔ ارے او مُنے ۔ ۔ (وہ ابھی تک فاروق بھائی کو مُنا کہتیں ہیں ، جبکہ فاروق بھائی کے ماشااللہ سے اپنے پانچ مُنے اور مُنیاں ہو چکے ہیں ) ارے او مُنے ۔ ۔ میرا سروتا کہاں ہے ۔ ۔ ۔بجلی آئی ہے جلدی سے تلاش کر ۔ ۔ اور مسز فاروق کی آواز سنائی دی ۔ ۔ ۔
سروتا کہاں بھول آئیں ۔ ۔ ۔ مُنے کی اماں
سروتا کہاں بھول آئیں ۔ ۔ مُنے کی اماں اور پھر بجلی چلی گئ ۔ ۔ ۔ دادی اماں کی آواز سنائی دی ۔ ۔
چھالیا ہوتو ہر کوئی چبائے بجلی
ہائے بجلی ۔ ۔۔ ہائے ہائے بجلی ۔ ۔ ۔ اتنے میں گُل خان اپنی سائکل پر گلی میں داخل ہوا ۔ ۔ اوے خوچہ بچو بچو ۔ ۔ بچو بچو ۔ ۔ اوے خانہ خراب امارا بریک نہیں ہ ۔ ۔ فاروق بھائی کے مُنے نے کہا ۔۔ جسکا کل پیپر تھا اور وہ بجلی کی وجہ سے کچھ نہ پڑھ پا رہا تھا ۔ ۔ ۔ گُل چاچا ۔ ۔ آپ کا بریک نہیں تو سائیکل کا بریک لگاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر گُل خان کی سائکل نہ رکی ۔ ۔ اور حسب معمول کھمبے سے جا ٹکرائی اور بجلی آ گئی ۔ ۔ ۔ اور گُل خان سب بھول کر کھڑا ہوا اور آواز لگائی ۔ ۔
او یا قربان ۔ ۔ ۔۔ بجلی خان ۔ ۔۔امارا جانان او تو آیا تو جانا ناں ۔ ۔ وئی ۔ ۔ مگر بجلی کس کی سنتی ہے ۔ ۔ ۔ پھر چلی گئی ۔ ۔
اور اس بار سب نے ملکر یہ گایا ۔ ۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کہ تمنا میری
ایک بار آئے تو نہ جاے کبھی بجلی ہو مرا کام کے ایس سی سے شکایت کرنا
بجلی کے آنے جانے کی خرابی کی مرمت کرنا میرا اللہ ہر گدائی سے بچانا مجھکو
بجلی جاتی نہ ہو جہاں دینا وہ ٹھکانہ مجھکو پچھلے ایک گھنٹے سے بجلی موجود ہے ۔۔ ۔ مگر پھر بھی سب جاگ رہے ہیں ۔۔ کہ کب کس وقت چلی جائے ۔ ۔۔ دادی اماں بھی دعا کر رہی ہیں ۔ ۔
سوہنی بجلی ، اللہ رکھے ، قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تجھے ۔ ۔ قدم قدم آباد ۔ ۔ ۔ ۔۔ اور منا پہلوان بھی لنگوٹ کو ڈھیلا کر کہ سوچ رہا ہے ۔ ۔ ۔کہ شاعر نے سچ ہی کہا تھا
چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن ۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ چاند پر تو بجلی نہیں ہے نا ، اور پھول کو بھی بجلی کی ضرورت نہیں ہوتی
ادھر سائیں مہرباں مچھروں سے بچنے کے لئے اپنی رلی پر سونے کی کوشش کر رہا تھا اور پنے بچوں پر پڑی اجرک دیکھ رہا تھا جسکا نیلا اور سرخ رنگ جیسے ۔ ۔ مکس ہو کر کہ رہا تھا
رنگ برنگے پھولوں کا گل دستہ ۔ ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ یہ گلدستہ ۔ ۔ ۔ کتنا مرجھا جاتا ہے جب بجلی نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔
واجہ بھائی ۔۔ ۔ کو دو دن بعد نیند آئی تھی ۔ ۔ ۔ مگر خواب وہ بھی دیکھ رہے تھے ۔ ۔۔۔
آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی ۔ ۔ ۔
بجلی کی ویرانی ہے حکومت فو جستان کی ۔ ۔ بجلی آئے زندہ باد ، بجلی جائے زندہ باد ۔ ۔ ۔ گُل خان نےدروازہ کھول کر چارپائی بچھائی تھی اور سوچ رہا تھا کہ کل وہ سائیکل کا بریک ضرور ٹھیک کروائے گا ۔ ۔ کیونکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ کئی بار کھلے گٹروں سے ٹکرا چکا تھا ۔ ۔ ۔ اسے اپنا گاؤں بہت یاد آ رہا تھا جہاں وہ آنکھیں بند کر کہ بھی چل سکتا تھا ۔ ۔ مگر وہ سوچ رہا تھا
وہ بھی پاکستان ہے ، یہ بھی پاکستان ہے
وہ بھی میری جان ہے ، یہ بھی میری جان ہے مگر فرق صرف بجلی کا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟
اور دور کہیں ۔ ۔ ۔ بجلی کی تلخیوں سے آزاد اظہر یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اور دل سے دعا کر رہا تھا ، اپنے روشن روشن پاکستان کے لئے ۔ ۔
جیوے جیوے ، جیوے پاکستان
پاکستان ، پاکستان ۔ ۔ ۔ جیوے پاکستان ۔ ۔ ۔ اور میری آنکھ ۔ ۔ ۔ کُھل گئی ۔۔ ۔۔
2007/4/3 مستقبل اور سوچکیا ہم واقعٰی ہی اس گلوب میں مستقبل دیکھ سکتے ہیں ، میں نے حیران ہو کر پوچھا ، بالکل انہوں نے فخریہ انداز میں بولا، میں فکشن کو حقیقت میں بدل دیا ہے ، اب میں ساری دنیا کو اپنی مرضی سے چلا سکتا ہوں ۔ ۔۔ تو کیا آپ مستقبل بدل دیں گے ، نہیں مستقبل بدل نہیں سکتا مگر ، لوگ تجسس کی وجہ سے جان پائیں گے ۔ ۔ کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں اور انکے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔ ۔۔ وہ ایک منجھے ہوئے سائنسدان تھے ، اور میری ان سے پرانی دوستی تھی ، اچھا یہ بتاؤ کہ تم کیا دیکھنا چاہتے ہو ، میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ میرا دوست میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں ، اور اب وہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ، اور پھر انہوں نے اس گولے میں سب کچھ دیکھا دیا ، اگلے دو برس تک میں آنے والے دنوں سے وقف ہو جاتا تھا ، انکے گولے کی ایک بڑی خامی یہ تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ چھے مہینے تک کا مستقبل دیکھا سکتا تھا ۔ ۔۔ مگر ابھی تک انہوں نے اپنی یہ انقلابی ایجاد میرے سوا کسی سے شئیر نہیں کی تھی ، وجہ مجھے مزید دو سال بعد پتہ چلی ، جب انہوں نے ایک دن مجھے بلایا اور کہا کہ آج اس مشین کا آخری دن ہے ، جو تمہیں جاننا ہے جان لو میں اسے تباہ کرنے جا رہا ہوں ، مگر کیوں ؟ یہ وجہ بعد میں بتاؤں گا ۔ ۔ ۔ ۔ اچھا چلیں میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ مشین کے بعد کیسے ہونگے ۔ ۔ وہ ہنس دئیے اور اس شیشے کے گولے کے نیچے ، لگے کی پیڈ پر کچھ بٹن دبائیے اور مجھے وہ گولے میں نظر آئے ۔ ۔ جس میں ہم دونوں ساحل پر بیٹھے تھے اور سمندر کی لہروں سے کھیل رہے تھے ، ایسا لگتا تھا کہ جیسے ہمیں کوئی پرواہ ہی نہیں کسی چیز کی ۔ ۔ ۔یہ پہلے دیکھ چکا ہوں ۔ ۔ ۔ تم نے کیا سیکھا اس مشین سے ، انہوں نے جیسے بم مارا ہو ، مم مم میں نے کچھ نہیں سیکھا ، مگر میں نے سیکھا ہے ، کیا ۔ ۔ ۔ دیکھو تم نے اپنے ایک دوست کو ایک گٹر میں گرتے دیکھا تو اسے آنے والے دن میں احتیاط برتتے کا کہا مگر وہ پھر بھی گر گیا ، وجہ پتہ ہے کیا تھی ؟ ، کیا تھی ۔ ۔ وہ بہت دنوں سے اسی راستے سے گذر رہا تھا اور اسنے کبھی بھی وہاں کے گٹر کو نہیں دیکھا تھا ، اسی لئے اسے اس میں گرنا پڑا ۔ ۔ ۔ مگر میں بھی تو اس بس پر چڑھنے سے رک گیا تھا جو ایکسیڈنٹ کا شکار ہونے والی تھی ، ہاں مگر تم نے کیا کیا ، تم نے اس خالی بس والے روٹ کی جگہ مصروف روٹ لیا جسکی وجہ سے تمہیں اب اکثر رش کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ۔ ۔میں نے اس مشین سے بھی یہ ہی سیکھا ہے ۔ ۔ ۔ کہ مستقبل بدلا جا سکتا ہے ، مگر اسکے لئے سوچ بدلنی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔اور مجھے خوشی ہے کہ میں اور تم اپنی سوچ بدل سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔اور اپنی سوچ کو مزید بہتر بنا کہ اپنا مستقبل بھی بہتر کر سکتے ہیں ۔ ۔۔ ۔ ۔ تو دوستو اپنا مستقبل بہتر بنانے کے لئے اپنی سوچ ضرور بدلیں ۔ ۔ ۔ ۔۔ یہ کامیابی کا راز ہے ۔ ۔ ۔۔ یہ کہ کر انہوں نے مشیں کو کھول کر اسکی جگہ پر ایک بڑے گملے والا پودا لگا دیا ۔ ۔۔۔ ۔ 2007/2/6 اندھیری آگمیں نے اپنے چاروں طرف نظر ڈالی ، جیسے کسی کو تلاش کر رہا ہوں ، اور اپنے ٹریگر پر ہاتھ رکھ دیا ، مجھے بیلٹ کے نیچے خارش محسوس ہوئی میں نے قمیض کے اندر ہاتھ ڈال کہ خارش کی ، میں نے ایک بار پھر ٹریگر پر ہاتھ رکھ دیا ، میں چاہتا تھا کہ لوگ نماز کے لئے کھڑے ہو جائیں تو میں ٹریگر دباؤں ، امام نے صفیں سیدھی کرنے کا بولا اور اللہ اکبر کی صدا آئی ، میرے دل میں اللہ کو دیکھنے کا ارمان پھر جاگ اٹھا ، یہ میرے فرقے کے لوگ نہیں تھے اسلئے انکی نماز کا انداز بھی مختلف تھا جو میں جانتا تھا کہ کچھ ائمہ کے نزدیک وہ بھی صحیح ہے ، مگر یہ لوگ ہمارے لوگوں کے خلاف تھے اور پچھلے مہینے ہی ہمارے بہت بڑے رہنما انکے فرقے کی نفرت کا شکار ہو چکے تھے ، اللہ اکبر اور میں نے دیکھا سب لوگ رکوع میں تھے ، یہ بہت اچھا موقع تھا ، جیسے ہی لوگ رکوع سے سیدھے ہونے لگے میں نے زور سے کلمہ شہادت پڑھا اور ٹریگر دبا دیا میں جانتا تھا اگر ٹریگر فیل ہو گیا تو صادق ریموٹ دبا دے گا جو مسجد کے باہر موجود تھا اور میرا سگنل کلمہ شہادت تھا ، مجھے خوشی تھی کہ آخری وقت مجھے کلمہ نصیب ہوا اور شہید کی موت بھی ۔ ۔ ۔ ٹریگر دبتے ہی ، میرے جسم پر بندھے تقریباً پندرہ کلو کے بارود میں بجلی دوڑی اور جو دھماکہ ہوا وہ میں نے سنا مگر پھر کان بند اور اندھیرا چھا گیا ۔ ۔۔ پھر جیسے وقت رک گیا تھا ، میں نے اپنے آپ کو اڑتے ہوئے پایا ۔ ۔۔ میں دھوئیں کے اندر سے بلند ہوا ، ساری مسجد میرے سامنے تھی ، ایک ایک شخص میرے سامنے تھا میں سب کی تفصیلات دیکھ سکتا تھا ، میرا کوئی جسم نہ تھا مگر میں دیکھ رہا تھا سن رہا تھا ، اور ایک ایک تفصیل جیسے میرے سامنے تھی ، بارود کے پھٹ رہا تھا ، میرے جسم سے جیسے آگ اور بارود کی لپٹیں نکل رہیں تھیں ، جو میرے ساتھ کھڑے ایک نوجوان پر پڑیں ، اسکا نام عرفان تھا ، عرفان اپنے گھر کا اکلوتا لڑکا تھا ، اسنے والد کی پڑھائی کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑی اور ایک جگہ پر کلرک کی جاب کرنے لگا ، جس سے اسنے اپنے گھر کا خرچہ بھی اٹھایا اور بھائی کو بھی آگے پڑھا رہا تھا ، صبح وہ گھر سے چھے بجے نکلتا تھا ، پہلے ایک اسکول میں انگریزی کی دو کلاسیں لیتا پھر نو بجے تک دفتر پہنچتا اور شام چھے بجے چھٹی کر کے تین بچوں کو ٹیویشن پڑھاتا تھا اور رات کو تقریباً دس بجے گھر میں داخل ہوتا اور کھانا کھا کہ سو جاتا تھا ، زیادہ مذہبی نہیں تھا مگر جمعے کی نماز ضرور پڑھتا تھا ابھی بھی وہ یہ سوچ رہا تھا نماز پڑھتے ہوئے کہ اس مہینے وہ بھائی کو سائکل لے دے گا ، کیونکہ اسے ایک نئی ٹیویشن مل گئی تھی ، مگر میرے کئے ہوئے دھماکے نے اسکے سارے منصوبے ختم کر دئیے تھے ، اسنے مرنے سے پہلے یہ ہی سوچا کہ اسکے گھر کا کیا ہو گا ۔ ۔ مجھے اسکی موت کا بہت افسوس ہوا ، پھر میں نے دیکھا میری سامنے والی صف میں جو شخص میرے دھماکے کا شکار بنا تھا وہ شریف تھا ، نام تو اسکا شریف تھا مگر کام سارے بدمعاشوں والے کرتا تھا ، محلے میں اسنے ایک گینگ بنا رکھا تھا ، اور ہر دوکان سے بھتہ بھی لیتا تھا ، تھانے دار کو روز سلام کرنے بھی جاتا تھا ، اسکے دو بچے تھے ، جنہیں انکی دادی یعنی شریف کی ماں پال رہی تھی ، بیوی ایک عرصہ ہوا اسے چھوڑ کر پتہ نہیں کہاں چلی گئی تھی ، بچے ابھی چھوٹے تھے ، دادی بڑی مشکل سے انہیں سنبھالتی تھی ، اسکی آخری سوچ تھی کہ اسکے بچوں کا کیا ہو گا ۔ ۔ ۔ اسکی ماں اسکے بنا کیسے جئے گی ، مگر پھر اسے خیال آیا کہ اسکے مرنے کے بعد گورمینٹ اسکی ماں کو پیسے دے گی ۔ ۔ ۔ مگر جب اسکی روح نکلی اور اسے پتہ چلا کہ اسکی ماں کو کچھ بھی نہیں ملے گا بلکہ اسی کے چیلے اسکی ماں کو ایدھی سنٹر چھوڑ آئیں گے اور اسکی بیٹی کو شیدا لے جائے گا اور اقبال اسکے بیٹے کو بڑا بدمعاش بنائے گا ۔ ۔ ۔ تو اسے بہت دکھ ہوا ، دکھ تو مجھے بھی اسکے مرنے کا ہوا ۔ ۔ مگر میں نے اسے محسوس نہیں کیا ، پھر میں نے اپنے پیچھے دیکھا ، وہاں ایک مولوی تھا ، وہ ایک مذہبی جماعت کا سرگرم رکن تھا ، اور اس وقت اپنے گرو کی بیٹی کے متعلق سوچ رہا تھا کہ آج اس سے ملنے جائے گا ، اسکا اسکے ساتھ کافی پرانا چکر تھا اور وہ مولوی بھی اسی کے چکر میں بنا تھا ، وہ سوچ رہا تھا کہ اسکا دوست بابر اسکی محبوبہ پر نظر گاڑھے بیٹھا تھا ، اور اسکے مرنے کے بعد وہ ہی اس سے سیٹ ہو جائے گی ۔ ۔ ۔ مرنے کے آخری لمحوں میں وہ اپنی محبوبہ کے پوشیدہ اعضاء کو تصور کی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ، اگر کوئی اسے ایسے دیکھتا تو کہتا کہ کتنے خشوع سے نماز ادا کر رہا ہے ، مجھے اس سے نفرت محسوس ہوئی ۔ ۔ مگر پھر اس سے کچھ ہمدردی بھی پتہ نہیں کیوں ۔ ۔ میرے دھماکے کا شکار ہونے والا ایک بچہ بھی تھا ، وہ آج ماں سے کہ کر آیا تھا کہ اللہ سے وہ دعا کرے گا کہ اسکی ماں کو کبھی دکھ نہ دے ، کیونکہ اسکی ماں کو اسکا باپ بہت مارتا تھا ، بچے کو اتنا ہی پتہ تھا کی اسکا باپ ماں کی کسی نہ کسی بات کو بہانہ بنا کر مار کٹائی کرتا تھا ، اسنے نے مرتے ہوئے سوچا کہ اب وہ اللہ کے پاس جا کر اپنی ماں کی راحت کی باتیں کرے گا ۔ ۔ مجھے اسکی معصوم سوچ پر بہت دکھ ہوا ، مگر اب وقت گذر رہا تھا ، میں آہستہ آہستہ اوپر اٹھ رہا تھا میرے ساتھ مرنے والوں کی روحیں بھی تھیں ، جو مجھے بہت غصے میں لگ رہیں تھیں ، میں نے ہر ایک کو دیکھا تو ہر کسی کی بے وقت موت تھی ، کسی کی نئی شادی ہوئی تھی ، کوئی گھر کا اکلوتا کفیل تھا ، کوئی اپنی خدا ترسی کی وجہ سے بہت سارے گھر چلا رہا تھا تو کوئی صرف عادتاً نماز ادا کرنے آیا تھا ۔ ۔ ساتھ ساتھ مجھے پتہ چل رہا تھا کہ میرے اس دھماکے کو جنہوں نے کروایا تھا وہ بہت خوش تھے ، مگر میں نے دیکھا صادق اداس تھا ، وہ میرا بہت اچھا دوست تھا ، ہم نے ملکر اس تنظیم میں شمولیت حاصل کی تھی ، صادق تنظیم میں کافی طاقت ور بندہ تسلیم کیا جاتا تھا ، پتہ نہیں اسکی اور میری دوستی کیسے ہو گی ، اسنے ایک بار کہا تھا کہ وہ ایسے کمبل میں لپٹا دیا گیا ہے ، جسسے وہ شاید ہی کبھی نکل سکے ، وہ اپنے موبائیل پر تنظیم کے بڑوں کو دھماکے سے اگاہ کر رہا تھا ، پھر وہ ہوٹل کے کمرے میں پہنچ گیا ، اور دروازہ بند کر کہ دھاڑیں مار کہ رونے لگا ، پہلے تو میں سمجھا کہ وہ میری جدائی سے رو رہا ہے مگر پھر وہ وہیں سجدے میں ڈھیر ہو گیا ، اے اللہ مجھے معاف کر دے ، میں نے اس ظلم میں اپنا حصہ ڈال کہ جہنم خرید لی ہے ، ،، مجھے حیرت ہوئی کہ ہم نے تو شہادت کا درجہ پانے کے لئے یہ سب کیا تھا ۔۔ پھر مجھے پتہ چلا کہ میں جنہیں بہت بڑا مذہبی رہنما سمجھتا رہا وہ ہی دشمن تھے اس معاشرے کے ، جب صادق سے انہوں نے دھماکے کی خبر سنی وہ بہت خوش ہوئے ، اور ایک لیڈر نے فوراً ایک غیر ملکی کو فون کیا اور اسے بتایا کہ اب اسے اسکی مطلوبہ رقم مل جانی چاہیے اور ساتھ ہی اسکی فیملی کو مغرب میں مستقل رہائش ۔ ۔ ۔ اچانک مجھے لگا کہ کوئی مجھے کھینچ رہا تھا ، میں نے محسوس کیا کہ میں جل رہا ہوں ، مگر مجھے کیوں جلایا جا رہا ہے ، میں تو شہید تھا ۔۔ ۔ بےشک کچھ بے گناہ لوگ مارے گئے تھے اس واقعہ میں مگر یہ تو انکی قسمت تھی ۔ ۔ ۔ میں نے اس آگ کو بجھانے کے پاؤں رکھا اور پھر ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے چاروں طرف سے شعلوں نے گھیر لیا ۔ ۔ میں چیخیں بہت کراہت بھری تھیں ۔ ۔ ۔ مجھے جنت چاہیے میں چیخا ، میں نے جنت کے لئے جان دی ہے ۔ ۔ ۔ مجھے اپنی آواز کھوکھلی لگی ۔ ۔ اور پھر ایسے لگا کہ چاروں طرف سے ایک آواز آنے لگی ۔ ۔جنت کا حقدار سلامتی دینے والا ہے ، تباہی پھیلانے والا فسادی نہیں ۔ ۔ ۔اور آگ ایسے بھڑکی جیسے اسپر کسی نے پٹرول ڈال دیا ہو ۔ ۔ ۔ اب مجھے ہر اس انسان کی موت مرنا پڑتا ہے ، جو میرے دھماکے کی وجہ سے مرا تھا ۔ ۔ ۔ اور وہ لوگ میری باتوں پر قہتہے لگاتے ۔ ۔ ۔ ۔ میں روشنی سے اندھیرے میں داخل ہو چکا ہوں ، یہ آگ کیسی ہے جو جھلسائے دیتی ہے مگر روشن نہیں ۔ ۔ ۔ اندھیرے میں میری سزا کے لئے ہے یہ اندھیری آگ ۔ ۔ ۔۔ اور میں پکارتا ہوں سارے نام جنہوں نے مجھے اس آگ میں دھیکلا ۔ ۔ اور میرے جیسے کتنوں کو ابھی دھکیل رہے ہیں ۔ ۔ ۔ اس اندھیری آگ میں ۔ ۔ ۔ جس میں سب کچھ جلتا ہے اور ہمیں ہمیشہ اس اندھیری آگ میں جلنا ہے ۔ ۔ ۔ 2007/1/8 اردو کی درمیانی کتاب - دوسرا بابدوسرا باب - انسان کی دنیا
اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب ) - 1 - سیاست انسان جب روٹی کپڑے اور مکان کی فکر سے آزاد ہوا تو اسنے اپنے فارغ اوقات کو سیاست سے پر کر لیا ، سیاست شاید کمزور لوگوں نے طاقت ور لوگوں سے مقابلے کے لئے ایجاد کی تھی مگر اب یہ طاقتور لوگوں کا بہترین ہتھیار ہے کمزورں کو کچلنے کے لئے ۔ سیاست کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ سیاست اس عمل کا نام ہے جس میں جو کہا جاتا ہے وہ کیا نہیں جاتا اور جو کیا جاتا ہے وہ کہا نہیں جاتا، اس عمل کو کرنے والے سیاستدان کہلاتے ہیں ، سیاست ایک کھیل کی طرح کھیلی جاتی ہے ، جو گھر کے باورچی خانے سے شروع ہو کر بین الاقوامی تعلقات تک اپنا اثر رکھتی ہے ، گھروں میں ساس بہو ، بہن بھائیوں اور رشتے داروں کی سیاست زیادہ استعمال ہوتی ہے ، قومی سطح پر ، صوبائی ، لسانی اور علاقائی سیاست کی جاتی ہے ، جب کہ بین الاقوامی سطح پر ، جنگ اور امن کے علاوہ تجارتی اور حمایتی سیاست بہت اہم ہوتی ہے - سیاست کو مختلف نظاموں میں تقسیم کیا جاتا ہے
بادشاہت ! کچھ نادان لوگ اسے آمریت بھی کہتے ہیں ، مگر دنیا میں اس وقت بہت سارے (خاص کر مسلمان ممالک میں ) بادشاہت قائم ہے ، جہاں کا قانون صرف بادشاہ کے گرد گھومتا ہے ، لوگ اسی کے گن گاتے ہیں ، بعض اوقات بادشاہت کو بادشاہت نہیں کہا جاتا ، بادشاہ ، صدر یا وزیراعظم کا لقب اختیار کر لیتا ہے ۔ ایسے حکمرانوں کو پکا یقین ہوتا ہے کہ انکی حکومت ہی رعایا کی خوشحالی کا بعث ہے ، اس طرز حکومت میں نہ تو انسانوں کو تولا جاتا ہے اور نہ ہی گنا جاتا ہے اور نہ ہی چنا جاتا ہے ، ایسا انسان پیدا ہی بادشاہ یا شہزادہ ہوتا ہے ، اور اگر پیدائش کے وقت ایسا نہ ہو تو بعد میں وہ خود یہ مرتبہ حاصل کر لیتا ہے ، دنیا میں اس وقت بہت سارے ممالک اس سیاست کے نظام سے مستفید ہو رہے ہیں، بادشاہت میں سیاست کو سازش بھی کہا جاتا ہے ، جن میں مشہور اقسام ہیں ، محلاتی سازشیں اور وزارتی سازشیں وغیرہ
جمہوریت ! علامہ اقبال کے بقول جمہوریت وہ سیاست ہے یا طرز حکمرانی ہے جس میں لوگوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا ، مگر جدید جنہوری ممالک کے تجربات نے بتایا ہے کہ لوگوں کو گننے سے پہلے پہلے یا بعد میں سونے چاندی سے تولا بھی جاتا ہے ، کچھ لوگ نہ جانے اسے کیوں گھوڑوں کا کاروبار (ہارس ٹریڈنگ) بھی کہتے ہیں ، اس قسم کی سیاست میں انتخابات کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے ، جن میں ووٹ ڈالے جاتے ہیں ، ووٹ حاصل کرنے کے لئے نوٹ خرچنے پڑتے ہیں ، اور ووٹ حاصل ہو جانے کے بعد نوٹ حاصل کئے جاتے ہیں منافعے کے ساتھ ، عوام کے لئے سیاستدان وعدوں کی سیاست کرتے ہیں ، اور عوام انکو ووٹ دے کر چین کی زندگی گذارتے ہیں ، سیاست کا یہ کھیل بہت مشہور ہے ، اور تقریباَ ہر جگہ کھیلا جاتا ہے ، اور جہاں نہیں کھیلا جاتا وہاں لوگ اسے کھیلنے کے لئے انقلاب لانے کی کوشش کرتے ہیں
سیاست کا اصل محور حکمرانی ہوتا ہے ، چاہے وہ گھر کو کنٹرول کرنے کی ہو یا کسی ملک یا کمپنی کو ، اسی لئے کچھ سیاست دان ملکوں کو گھر کی طرح کنٹرول کرتے ہیں اور کچھ گھر کو کمپنی کی طرح اور کچھ کمپنیاں ملکوں کو کنٹرول کرتی ہیں ، اور یہ کنٹرول کرنے کے لئے سیاست کرتی ہیں ، سیاست میں ہر انسان پر اثر ہوتا ہے ، مگر کوئی اسے مانتا ہے کوئی نہیں مانتا
اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب ) - 2 - صحافیات کسی بھی ریاست کے چار ستون ہوتے ہیں ، یعنی عدلیہ ، صحافت ، سیاستدان اور فوج ، آخر الزکر یعنی فوج اور سیاستدان آج کل ایک ہی مانے جاتے ہیں ، فوج سیاست بھی کرتی ہے اور سیاستدان فوجی بھی ہو سکتا ہے ، عدلیہ کو ہم بعد میں بیان کریں گے ، صحافت ایک بہت اہم ستون ہے ریاست کا ، یہ کہنا مشکل ہے کہ صحافت کب شروع ہوئی ، ہو سکتا ہے جب کسی نے کسی کو کوئی بھی خبر دی ہو وہ ہی پہلا صحافی بھی ہو گا ، خیر ، صحافت ایک بہت وسیع علم ہے ، جس میں خبروں سے لیکر طعنہ زنی تک ہر طرح کی باتیں کی جا سکتیں ہیں ، صحافی وہ شخص ہوتا ہے جو وہ باتیں کرتا ہے جن سے صرف دوسروں کو غرض ہوتی ہے ، صحافی سوکھی لکڑیوں کو گیلا کرتا ہے اور پھر انہیں جلا بھی سکتا ہے یا جلتی آگ کو بڑھکاتا ہے یا پھر صرف آگ کی باتیں کرتا ہے حتہ کہ آگ نہ تو جلی ہوتی ہے اور نہ ہی اسکے جلنے کا چانس ہوتا ہے ، کچھ لوگوں نے صحافت کو بھی بانٹ دیا ہے ، اور انکی پہچان کے لئے رنگوں کا نام دیا ہے تاکہ الگ الگ انکی پہچان ہو سکے
زرد صحافت ! یہ ایسی صحافت ہوتی ہے جس میں دوسروں پر خبریں اچھالیں جاتیں ہیں ، انہیں جسمانی طور پر تو نہیں مگر ذھنی طور پر عریاں کر دیا جاتا ہے ، کچھ لوگ اسے اپنی آمدن بڑھانے کا ذریعہ بھی بنا لیتے ہیں ، اور اپنی طرف سے افواہیں بنا کر عوام میں بے چینی پیدا کرتے ہیں ۔ ۔ ۔
کالی صحافت ! اگر کوئی سچی خبر بہت زیادہ نمک مرچ لگا کر بتائی جائے تو اسے کالی صحافت بھی کہتے ہیں ، یہ اصل میں زرد صحافت کی ہی بہت زیادہ بگڑی شکل ہے
فیشن کی صحافت ! لباس رہن سہن اور اسکے بارے میں خبریں بنانا اور پھیلانا یہ فیشن کی صحافت کا حصہ ہے ، اس طرح کی صحافت سے مرد زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ حواتین اس صحافت کی وجہ سے نت نئے فیشن سے آگاہ ہوتیں ہیں اور مردوں کو وہ فیشن خریدنا پڑتا ہے اپنے لئے بھی اور حواتین کے لئے بھی
صحافت کی ایک اور بڑی چیز آزادی رائے اور آزادی اظہار ہے ، مگر کچھ لوگ اسے نہیں مانتے خاصکر حکمران ، اور طاقت ور لوگ ، اسلئے صحافی اکثر اس غلط فہمی میں اپنی زندگی تک گنوا دیتے ہیں ، آزادی رائے ضروری ہے مگر اپنے بچاؤ کے ساتھ۔
اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب ) - 3 - عدلیہ انسانی معاشرے میں انسان مل جل کر رہتا ہے ، اور اسکے درمیان اکثر اختلافات ہوتے ہیں ، یہ اختلافات ، میاں بیوی سے لیکر عوام اور حکمرانوں تک ہوتے ہیں ، کیونکہ ہر فریق خود کو حق پر سمجھتا ہے اسلئے اسے تیسرے آدمی سے پوچھنا پڑتا ہے کہ کون حق پر ہے ، یہ فیصلہ کرنے کے لئے عدالت منعقد کی جاتی ہے ، جس میں بعض دفعہ ایک شخص کو اور بعض دفعہ ایک گروہ کو فیصلے کا اختیار دیا جاتا ہے ، اسے جیوری یا جج بھی کہتے ہیں ، جبکہ مقدمے کی پیروی کرنے والے کو وکیل کہا جاتا ہے ،اور مقدمے کرنے والے اور کرانے والے کو مدعی اور مدع علہیہ کہا جاتا ہے ، مدعی اکثر برا چاہتا ہے اسی لئے یہ شعر بہت مشہور ہے ، کہ مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے ، وہ ہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ، مقدمے کا ایک اور اہم شخص گواہ بھی ہوتا ہے جو مدعی یا مدعا علیہ کی طرف داری یا مخالفت کرتے ہیں ، اور اس مقدمے کے فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں ، عدالتیں خریدی بھی جاتیں ہیں بیچی جاتی ہیں انصاف بھی بکتا ہے ، گواہ بکتے ہیں ، وکیل اور جج اور جیوری بھی بکتی ہے ، مگر کچھ لوگ اسے نہیں مانتے اور انصاف کو ہر حال میں پورا کرتے ہیں ، کچھ منصور حلاج جیسے لوگ بھی انصاف کی بھینٹ چڑھتے ہیں اور کچھ بنا عدالت کے ہی انصاف پا لیتے ہیں ، انسان کو اپنے کئے کا کچھ بھی انجام مل سکتا ہے اور یہ ہی انسان انصاف کے قانون بناتا ہے اور خود توڑتا ہے ، اسی لئے عدالت کے جج سے لیکر سپاہی تک کالے رنگ کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ کالا رنگ ہر رنگ اپنے اندر سموئے ہوتا ہے ، عدالت کالے قانون سے لیکر کالے کرتوتوں تک نمپٹتی ہے ، اور اسکے لئے کالی قمیضوں والے سپاہی کالے کوٹوں والے وکیل اور کالے چغے والے جج کالی کرتوتوں والوں سے سازباز کرتے ہیں یا پھر انکی زندگی کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ ۔ یہ ہی عدلیہ کہلاتی ہے
اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب ) - 4 - بصریات (فلم ٹی وی سٹیج) خدا نے انسان کو ایک ذھین مخلوق بنایا ہے ، وہ اپنے حواس خمسہ ، یعنی دیکھنے ، سننے ، چکھنے ، بولنے اور محسوس کرنے کی صلاحیتوں کا مظاہرہ مختلف صورتوں میں کرتا ہے ، انسان زمانہ قدیم سے ، اپنے آپ کو دکھانا چاہتا ہے ، پہلے وہ تصویریں بناتا تھا اب وہ متحرک فلمیں بناتا ہے ، اپنے جذبات اور احساسات اور خیالات کو اسٹیج پر پیش کرتا ہے ، اپنی زندگی پر فلمیں بناتا ہے ، اور ان سب کو نشریات میں دیکھتا اور دیکھاتا ہے ، زندگی کو دکھانے کے لئے انسان نے بہت سارے طریقے ایجاد کئے جن میں سے چند یہ ہیں
اسٹیج - دنیا کا سب سے پرانا طریقہ اظہار ، جس میں ایک یا ایک سے زیادہ انسان ، کسی بھی تمثیل کو بیان کرتے ہیں ، کبھی اداکاری کر کہ اور کبھی گا کہ اور کبھی صرف تقریر کر کہ ، اسٹیج دنیا کا سب سے مقبول تفریح کا ذریعہ بھی ہے ، اسلئے ہزاروں برس سے اس کو ہر طرح کے اظہار کے لئے استعمال کیا جاتا ہے
فلم - جب انسان نے گذرے لمحات کو محفوظ کرنے کا طریقہ سیکھا تو اس نے اپنی کہانیاں اور تمثیلیں اور تخیلات فلموں کی شکل میں بنانے شروع کئے ، فلم کو اظہار کا اس وقت سب سے بہترین ذریعہ تصور کیا جاتا ہے ، فلمیں انسانوں کے ماضی کو نہ صرف محفوظ کرتیں ہیں بلکہ ان خیالات اور تصورات کو بھی محفوظ کرتیں ہیں جو فلم بنانے والا یا لکھنے والا یا پھر اس میں اداکاری کرنے والا کرتا ہے ، موجودہ دور کا انسان فلموں سے بہت اثر لیتا ہے اور بعض دفعہ اسی تخیلاتی دنیا میں رہنا پسند کرتا ہے جو صرف فلم میں ہی ممکن ہو سکتی ہے
ٹی وی - موجودہ دور میں ٹی وی نہ صرف انسانی ضرورت ہے بلکہ بعض اوقات مجبوری بھی ہے ، ٹی وی نے انسانوں کے درمیان فاصلے کم کئے ہیں ، مگر دوسری طرف انسانوں کو گھروں میں مقید بھی کر کہ رکھ دیا ہے ، آج انسان کھانے پکانے سے لیکر تجارت تک ٹی وی کے ذریعے کرتا ہے ، تفریح اور طبع کے لئے ٹی وی کو دیکھتا ہے اور تنہائی کا ساتھی بناتا ہے
اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب ) - 5 - سماعیات ( موسیقی ، تقاریر و وعظ) بصریات کے بعد دوسری چیز جو انسان پر بہت اثر کرتی ہے وہ ہے آواز یعنی سماع ، انسان ہر بات کا اثر لیتا ہے ، وہ بہتے جھرنوں اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے محظوظ ہوتا ہے وہ بادلوں کی گھن گرج سے خوفذدہ بھی ہوتا ہے وہ اپنے بنائے ہوئے سازوں کی آوازوں سے اپنی کیفیت بیان کرتا ہے ، وہ غم خوشی کے لمحات کو گیتوں میں ڈھال کر رقص کرتا ہے ، وہ تقریروں اور وعظوں سے زندگی سیکھتا ہے ، اور انقلاب لاتا ہے ، انسان کی زندگی میں آوازیں بہت اہم ہوتیں ہیں ، وہ دم آمد روتا ہے دم رخصت رلاتا ہے ، اور خامشی کو موت اور صدا کو زندگی سمجھتا ہے ۔
اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب ) - 6 - بڑے لوگ بڑے لوگ وہ انسان ہیں جنہوں نے اپنے ہونے سے دنیا کو بدل ڈالا ، ایسے لوگوں میں پیغمبر ، حکمران ، شاعر ، ادیب ، فنکار ، سائنسدان شامل ہیں ، دنیامیں ہر تبدیلی کا آغاز کوئی بڑا آدمی کرتا ہے ، بڑا آدمی وہ بنتا ہے جو عام لوگوں میں رہ کر خاص حالات کا مقابلہ کرتا ہے اور اپنے نظریات کی پاسداری اور پرچار کرتا ہے ، دنیا میں اللہ نے اپنے پیغمبر نامزد کئیے جنہوں نے دنیا کو نیکی اور بدی کا مفہوم سمجھایا ،اور انسان کو اسکے بلند مرتبے کا بھی بتایا جو خدا تعالٰی نے اسے ودیت کیا ہے ، اسکے علاوہ وہ حکمران جنہوں نے اپنے طرزحکومت سے دنیا کو امن اور جنگ کے زمانے دئیے اور وہ شاعر اور ادیب جنہوں نے لوگوں کو اپنی قادر کلامی سے مسحور کیا ، اور وہ فنکار جنہوں نے عام انسانوں کی تریبیت کی ، ایسے ہی لوگوں میں شمار ہوتے ہیں ، وہ سائنسدان جنہوں نے دنیا کا مطالعہ کیا اور انسان کی زندگی کو آسائشوں سے بھر دیا ۔ ۔ ۔ بڑا انسان وہ ہوتا ہے جو اپنی زندگی کو کسی بھی مقصد کے لئے وقف کر دے اور عام لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو ۔ ۔ ۔ جب کسی بھی جگہ پر بہت زیادہ چھوٹے لوگ ہو جاتے ہیں تو وہیں پر بڑا آدمی جنم لیتا ہے ۔ ۔ ۔اور زندگیوں کو بدل دیتا ہے ، ہمیں بڑے لوگوں سے سیکھنا چاہیے ، اور ان جیسی زندگی کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب ) - 7 - بڑوں کی باتیں جو بچے نہیں سمجھتے انسانوں کو بنیادی طور پر دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ایک بڑے ایک بچے ، بڑے وہ جو زندگی کو بہت زیادہ گذار چکے ہوتے ہیں اور مختلف تجربات سے گذر چکے ہوتے ہیں ، جبکہ بچے جو ابھی زندگی کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں ، موجودہ دور میں بڑوں کو چاہیے وہ باتیں یاد رکھیں جو بچے نہیں سمجھتے اس لئے بچوں کو ان باتوں کو سمجھنے کے لئے زور نہیں لگانا چاہیے اور نہ ہی بڑوں کو یہ باتیں بچوں پر امپوز کرنی چاہییں ، ان میں چند ضروری باتیں یہ ہیں
- جھوٹ بولنا ! بڑے اکثر جھوٹ بولتے ہیں ، بچوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کیوں ، اسلئے بڑوں کو چاہیے کہ بچوں کو جھوٹ بولنے کی وجہ پوچھنے کی اجازت نہ دیں اور بچوں کو چاہیے کہ وہ اسے بڑوں کی بات سمجھیں اور اس پر زیادہ مغز کھپائی نہ کریں - غصہ کرنا ! غصہ کرنا بھی بڑوں کی سب سے بڑی عادت ہوتی ہے ، اور کیونکہ غصہ کمزور پر اتارا جاتا ہے اسلئے بچے اسکا اکثر شکار ہوتے ہیں ، بچوں کو چاہیے کہ بڑوں کے غصے پر غصہ نہ کریں اور بڑوں کو چاہیے کہ بچوں پر غصہ نہ نکالیں - نوکری کرنا! بڑوں کو زندہ رہنے کے لئے نوکری کرنا پڑتی ہے ، جبکہ بچوں کو نوکری سے کوئی غرض نہیں ہوتی ، مگر کچھ بڑے بچوں کو بھی نوکری کرواتے ہیں ، ایسے بچے جلدی بڑے ہو جاتے ہیں ، اسلئے بڑوں کو چاہیے کہ نوکری صرف وہ کریں ، اور بچوں کو نوکری سے بچائیں
اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب ) - 8 - بچوں کی باتیں ، جنہیں بڑے سمجھتے تو ہیں مگر مانتے نہیں بچے اکثر بڑوں کے استاد ہوتے ہیں ، مگر بڑے ان باتوں کو اہمیت نہیں دیتے جسکی وجہ سے معاشرے میں انتشار پیدا ہوتا ہے ، بڑوں کو چاہیے کہ بچوں کی ان باتوں کو غور سے سنیں اور ان پر عمل کریں اور یہ طریقہ ہے بچوں کی تعلیم و تربیت کا
- سچ بولنا ! بچے فطری طور پر سچے ہوتے ہیں ، کنونکہ انہیں دنیا کے رد عمل کی خبر نہیں ہوتی ، بڑوں کو چاہیے کہ بچوں کے سچ پر توجہ دیں اور اس کے اثرات سے فائدہ اٹھائیں ، بچوں کے سچ بولنے سے اکثر بڑوں کا نقصان ہوتا ہے ، اور انکا بھانڈہ پھوٹ جاتا ہے ، مگر سچ سے انسان کو بہت فائدہ ہوتا ہے ، بڑوں کو یہ سمجھنا چاہیے - ضد کرنا ! بچوں کی سب سے بڑی عادت ہوتی ہے ضد کرنا ، بچے کھاناکھانے یا نہ کھانے سے لیکر کھلونے لینے تک ضد کرتے ہیں ، بڑے جو ضد پوری کر سکتے ہیں اسے پورا کر دیتے ہیں اور جو نہیں کر سکتے وہ بچوں کو رلا دیتے ہیں ، بچوں کو خفا کرنا اور رلانا اچھی بات نہیں ، اس سے بچے احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں ، بڑوں کو بچوں کی ضد کو اعتدال پسندی سے برداشت کرنا چاہیے - کھیلنا ! کھیلنا بچوں کا بنیادی حق ہے ، بچوں کو آمدن کا ذریعہ بنانا اچھی بات نہیں ہے ، انہیں کھیل کود کی پوری آزادی دینی چاہیے ، تبھی بچے زندگی میں رنگ بھر سکتے ہیں
اختتامیہ
مجھے نہیں معلوم کہ اس کتاب کا کیا رسپانس ہو گا ، مگر میں نے کوشش کی ہے کہ اسے پڑھنے والوں کے لئے کچھ فارمل اور انفارمل بنایا جائے ، میں جانتا ہوں کہ لکھنے کا یہ انداز کچھ نیا نہیں ہے ، مگر امید ہے کہ اسے پذیرائی ملے گی ، میں نے کوشش کی ہے کہ اس کتاب کو مختصر رکھا جائے اور نہ تو زیادہ طربیہ ہو اور نہ ہی انتہائی پیشہ وارانہ کہ پڑھنے والا بور ہو جائے ، میں نے مسودے کو بار بار پڑھا اس میں ترمیمات کیں ، پھر بھی اس میں بہت نقائص ہونگے کمیاں ہونگیں ، جن کے لئے میں قارئین کی آراء کا منتظر رہوں گا -
آپکی دعاؤں کا طالب اظہر الحق نسیم شارجہ ، متحدہ عرب امارات جنوری ٢٠٠٧ 2007/1/7 اردو کی درمیانی کتاب - 12 - طبیاتطبیات ، انسانی جسم کے علم کو بھی کہا جاتا ہے ، اس علم کو حاصل کر کہ انسان کو بیمار کیا جا سکتا ہے اور اسکی بیماری دور بھی کی جا سکتی ہے ، انسان آج تک اپنے آپ کو پوری طرح سے نہیں سمجھ پایا ، وہ اپنے لئے کیمیاء کی مدد سے دوائیں تیار کرتا ہے ، فزکس کی مدد سے اپنے اندر جھانکتا ہے ، حساب کی مدد سے اپنی عمر ناپتا ہے اور فلسفے کی مدد سے نئے نئے نظریات کو جنم دیتا ہے ، یہ سب کچھ کرنے کے لئے اسے طبی ضروریات کا بہت خیال رکھنا پڑتا ہے اور اسے صحت مند رہنے کے لئے طبیات کی ضرورت رہتی ہے ، انسان نے طبیات میں بہت ترقی کی ہے مگر ابھی تک وہ موت کو شکست نہیں دے سکا ، اور نہ ہی روح کو پکڑ پایا ہے ۔ ۔ ۔ اردو کی درمیانی کتاب - 11 - طبعیاتمادے کے علم کو کیمیاء کہتے ہیں اور اسکے تعلقات کے مطالعے کو فزکس (طبعیات) کہا جاتا ہے ، طبعیات بہت وسیع علم ہے جو اپنے اندر کیماء ، حساب ، فلکیات اور انسانیات سب کچھ سموئے ہوئے ہے ، کچھ صدیاں پہلے تک طبعیات کو فلسفے کی ایک شاخ کے طور پر ہی دیکھا جاتا تھا ، اسی لئے پرانے سائنسدان نہ صرف کیمیاء ، طبعیات اور دوسرے مادی علوم کے ماہر ہوتے تھے بلکہ وہ فلسفے پر بھی دسترس رکھتے تھے اردو کی درمیانی کتاب - 10 - کیمیاءمیر تقی میر کا شعر ہے ، لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام ، آفاق کی اس شیشہ کیماء گری کا ، اس شعر سے وضاحت ہوتی ہے کہ میر صاحب ایک کیماء گر بھی تھے ، کیمیاء کا بنیادی مقصد سونے بنانے کا طریقہ ایجاد کرنا ہے ، مگر اس چکر میں کیمیاء نے بہت کچھ دوسرا بنا لیا ہے ، جس میں تیزابوں سے لے کر ایٹم بم تک اسی علم کی مرہون منت ہے ، اس علم میں مادے کو توڑا جوڑا جاتا ہے ، اور طرح طرح کے دوسرے مادے جو کسی بھی حالت میں ہوں یعنی ٹھوس ، مائع یا گیس بنائے اور بگاڑے جاتے ہیں ، انسان کے سانس لینے کے عمل سے لے کر کائنات میں ہونے والے مظاہر تک سب کیمیاء گری میں آتے ہیں ردو کی درمیانی کتاب - 9 - حسابیاتجب انسان نے تعداد کا تعین کرنا شروع کیا تو حساب کا علم بنا ، حساب کے علم نے دولت کو جنم دیا ، دولت نے حساب کے علم کو استعمال کیا اور دنیا میں مزید تفریق پیدا کی ، حساب کا علم درج ذیل زمروں میں آتا ہے
جمع ! جب کبھی کچھ زیادہ کرنا ہو تو اسے جمع کرنا کہتے ہیں ، دنیا کا ہر انسان کچھ نہ کچھ جمع کرتا رہتا ہے ، اگر اسکے پاس کچھ نہ ہو تو وہ یادیں جمع کرتا ہے ، امیر آدمی دولت جمع کرتا ہے ، غریب دکھ جمع کرتا ہے ، سیاستدان ووٹر جمع کرتا ہے ، دوکاندار اشیائے صرف جمع کرتا ہے ۔۔ ۔ جمع کا عمل بہت زیادہ ہوتا ہے اس دنیا میں
تفریق! تفریق کا مطلب ہوتا ہے نکالنا ، مگر کچھ لوگ اسے کچھ اور معنوں میں بھی استعمال کرتے ہیں جیسے گورے اور کالے کی تفریق اور امیر و غریب کی تفریق ۔ ۔ ۔ تفریق دنیا کے لئے اکثر نقصان دہ ہی ثابت ہوتی ہے
تقسیم ! تقسیم کاٹنے کو کہتے ہیں ، تقسیم اصل میں تفریق کا ہی ایک طریقہ ہے مگر جب بہت زیادہ تفریق کرنی ہو تو تقسیم کرتے ہیں ، اسی لئے تقسیم اکثر تفرقے کا باعث بھی بنتی ہے ، دنیا کے بڑے لوگ تقسیم کر کہ ہی لوگوں پر حکمرانی کرتے ہیں
ضرب! ویسے تو ضرب کا ایک مطلب چوٹ لگانا بھی ہوتا ہے مگر یہ بھی ایک جمع کرنے کا طریقہ ہے جب بہت زیادہ جمع کی ضرورت ہو تو ضرب لگائی جاتی ہے ، ضرب کرنے والے کو ضارب اور کھانے والے کو مضروب بھی کہتے ہیں ، دولت مند اکثر اپنی دولت کو غریبوں پر ضرب لگا کر بڑھا لیتے ہیں اور حکمران بھی ضرب لگا کر رعایا کو قابو میں رکھتے ہیں
کھاتہ داری ! انگریزی میں اسے اکاؤنٹس کا علم بھی کہا جاتا ہے ، یہ علم بھی حساب پر چلتا ہے مگر اس حساب کی کتابت بھی کی جاتی ہے اسلئے اسے حساب کتاب بھی کہا جاتا ہے ، عام طور پر امیر لوگوں اور اداروں کو اسکی ضرورت ہوتی ہے ورنہ غریب نہ حساب جانتا ہے نہ کتاب افورڈ کر سکتا ہے
پیمائش ! فاصلہ اور راستہ کتنا ہے ، یہ پیائیش سے پتہ چلتا ہے ، زمیں کس کے پاس کتنی ہے ، اور کتنی نہیں ہونی چاہییے اسکی بھی پیمائش کی جاتی ہے ، پانی کتنا زمین میں ہے اور کتنا آسمان سے برسا ہے یہ بھی پیمائش کی جاتی ہے اور اسکا حساب رکھا جاتا ہے ، فلکیات میں ستاروں سیاروں کے لئے پیمائش کا علم استعمال کیا جاتا ہے اور اچھے اور برے زمانے کو یاد رکھنے کے لئے وقت کی پیمائش بھی مقرر کر دی گئی ہے ، جو لمحوں سے گھنٹوں اور دنوں سے سالوں اور صدیوں پر محیط ہے ۔ ۔ اردو کی درمیانی کتاب - 8 - فلکیاتزمین کا جغرافیہ معلوم ہونے کے بعد انسان نے کائنات کا جغرافیہ معلوم کرنے کا سوچا ، تو سب سے پہلے اسے فلک (آسمان) نظر آیا تو اسنے فلکیات کا علم حاصل کرنا شروع کیا ، زمانہ قدیم میں اسے آسمان میں سورج چاند ستاروں کے علاوہ دیوی دیوتا بھی نظر آتے تھے ، مگر اسنے آسمانی نشانیاں رکھ کر راستے بنائے ، اسنے وقت کی پیمائش آسمان کو ہی دیکھ کر کی ، ہر سمجھ نہ آنے والی چیزکو آسمانی کہا گیا ، اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انسان ستاروں سے آگے کے جہان دیکھنے کے قابل ہوا ، بڑی بڑی دوربینیں بنائیں ، اور پھر جب خلا میں پہنچا تو وہاں بھی دوربینیں لگا دیں ، تب اسے پتہ چلا کہ ستاروں سے آگے واقعہ ہی جہاں اور بھی ہیں ، انسان اب بلیک ہول اور وارم ہول کی باتیں کرتا ہے ، مکاں اور لامکاں کی طرف جانا چاہتا ہے ، وہ خلا کی وسعتوں میں گم ہونا چاہتا ہے ، وہ خلامیں مخلوق کو تلاش کر رہا ہے ، مگر نہ جانے خلائی مخلوق انسان کو کیوں تلاش نہیں کر رہی !!!! فلکیات میں ہم درج ذیل مطالعہ کرتے ہیں
خلا ! انسان پہلے سمجھتا تھا کہ دنیا ساری ایک لچکیلے مادے میں تیر رہی ہے مگر اب پتہ چلا کہ باہر کچھ نہیں ، انسان جانتا ہے جہاں کچھ نہیں ہوتا وہاں بہت کچھ ہوتا ہے ، اور وہ اسی ہونے کی تلاش میں خلا میں اپنی مشینیں بھیج رہا ہے
ستارے اور سیارے !! پہلے کہا جاتا تھا کہ کائنات ساکن ہے پھر متحرک ہوئی اور اب کائنات کا ذرہ ذرہ متحرک ہے ، ستارہ اسے کہتے ہیں جو اپنے اردگرد بہت سارے سیاروں کو گھماتا ہے ، اور سیارہ جو کسی ستارے کے گرد گھومتا ہے ، اس دنیا میں ہر ستارہ ایک سیارہ ہوتا ہے ، کیونکہ وہ ستارہ کسی اور مرکز کے گرد گھومتا ہے ، اور وہ مرکز بھی کسی اور مرکز کے گرد گھومتا ہے اور ایسے ہی یہ سلسلہ چلتا ہے ، انسان نے اس قدرتی مظہر سے بہت کچھ حاصل کیا ہے ، اب وہ ایک دوسرے کے گرد گھومنے کو جانتا ہے ۔
غائب اجسام ! جہاں انسان کو کچھ نہیں ملتا وہاں ہی انسان کہتا ہے کہ یہاں پر کچھ ہے ، اسی کچھ کو اسنے بلیک ہول کا نام دیا ہے ، کیونکہ یہ نظر نہیں آتا اسلئے اسے آنکھوں کے بجائے لہروں سے دیکھا جاتا ہے
وقت ! فلکیات کا اہم ترین مطالعہ وقت کا مطالعہ ہے ، کیونکہ انسان کو خلا میں کوئی سمت نہیں سجھائی دیتی تو اسنے وقت کو سمت بنا دیا ہے ، آئین اسٹائین کے مطابق اگر ہم روشنی کی رفتار سے دگنا ہو کر سفر کریں تو ہم روشن ہو جائیں گے ، کیونکہ ابھی تک انسان روشنی کی رفتار حاصل نہیں کر سکا اسلئے ابھی وہ روشن نہیں ہوا ، انسان ابھی تک نہیں جان پایا کہ جب وہ مادے سے توانائی میں بدلے گا تو وقت کا کیا ہو گا، ویسے دنیا میں انسان کمزور انسان کو مادے سے توانائ میں بدلتا ہے ایسے انسان کو مزدور کہتے ہیں ، اور یہ سب کچھ کرنے والے کو مالک ۔ اس سارے عمل میں مالک مزدور دونوں کا وقت نکل جاتا ہے ۔ ۔ ۔ اور مالک کی زندگی میں چاند ستارے اور مزدور کی زندگی میں خلا رہ جاتا ہے ، اور وہ فلک کی طرف دیکھتا ہے اور فلکیات کے علم کو دعائیں دیتا ہے
اردو کی درمیانی کتاب - 7 - جغرافیہجغرافیہ ایک ایسا علم ہے جس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم کہاں پر رہتے ہیں اور ہمیں کہاں نہیں رہنا چاہیے اور جہاں ہم کو رہنا چاہیے وہاں کیسے جانا چاہیے اور وہاں پر کیا کچھ ہے اور کیا نہیں ہے ، یعنی پہاڑ ہیں تو پانی کہاں ہے ، بارشیں اگر ہوتی ہیں تو کب اور کتنی ہوتی ہیں ، اور کہاں پر منظر اچھا ہے اور کہاں منظر اچھا بنایا جا سکتا ہے ، جغرافیہ کے مضمون کو عام دنیا میں پھیلانے میں سب سے زیادہ ہاتھ نیشنل جیوگرافیک میگزین کا ہے ، جس کی تصویروں سے لوگ دنیا کے اندر باہر جھانک سکتے ہیں ، قدیم انسان کا خیال تھا کہ دنیا چار چیزوں سے ملکر بنی ہے یعنی ، آگ ، مٹی ، ہوا اور پانی ، مگر بعد میں پتہ چلا کہ آگ بھی کئی طرح کی ہو سکتی ہے ، جو جھنگل کی آگ سے لیکر جگر کی آگ تک اقسام رکھتی ہے ، اور مٹی تو ہزار روپ رکھتی ہے ، پتھر ، ریت اور دھات ، اور پھر ہوا کو تو انسان نے بیسوں قسم کی گیسوں میں بدل دیا ۔ قدیم انسان آکسیجن کو نہیں جانتا تھا مگر زندہ رہتا تھا ، آج آکسیجن کو جانتا بھی ہے اور زندگی اور موت سے لڑتا بھی اسی سے ہے ، اور پانی ، پانی تو ہر طرح کا اسے ملا ، قدیم شربتوں سے لے کر جدید “ڈرنک“ تک پانی ہر رنگ میں ملتا ہے ، دنیا کی تقسیم ابھی تک جاری ہے ، مگ جغرافیائی طور پر دنیا کو یوں تقسیم کیا جاتا ہے
-
پانی ؛ دنیا زیادہ تر پانی میں ڈوبی ہے ، اور باقی دنیا سائنسدانوں کے خیال میں جلد ڈوب جائے گی ، پانی سے ہی زندگی ہے ، جہاں پانی ہو گا وہیں زندگی پائی جائے گی ، مگر قدرت پتھر کے اندر کیڑے کو بھی زندہ رکھ سکتی ہے ۔ ۔ جسکا جواب سائنسدان دیتے رہتے ہیں ، پانی دنیا میں سمندر ، دریا ، جھیلوں اور ندی نالوں کے علاوہ بادلوں میں بھی پایا جاتا ہے ، انسان پانی کو واٹر کولر میں اور نالیوں میں رکھتے ہیں , کچھ لوگوں کی آنکھوں میں بھی پانی پایا جاتا ہے ، مگر آجکل کے حالات سہ سہ کر اکثر آنکھوں کا پانی مر چکا ہے ، اسکے علاوہ انسان کبھی کبھی ڈوبنے کے لئے چلو بھر پانی کو بھی استعمال کرتا ہے
پہاڑ ! زندگی کی اونچ نیچ کو سمجھانے کے لئے قدرت نے پہاڑ بنائے ہیں ، پہاڑ ہر طرح کے ہوتے ہیں ، سرسبز بھی اور بنجر بھی ، پہاڑ کی چوٹیوں پر چڑھنے کا شوق ایک باقاعدہ صنعت کا درجہ حاصل کر چکا ہے ، اکثر پہاڑ اونٹ سے اوپر ہوتے ہیں ، اور طاقتور انسان جب کسی کمزور انسان کا راستہ روکتا ہے تو اسے بھی پہاڑ کہا جاتا ہے
موسم ! انسان کو تخیلاتی دنیا بسانے کے لئے قدرت نے شاعر بنایا اور شاعری کرنے کے لئے موسموں کو پیدا کیا ہےہ ، تا کہ شاعر دنیا کو بتا سکیں کہ سرد چاندنی راتیں کتیی حسین ہوتیں ہیں اور گرم دوپہر میں لسی پینے کا کیا مزہ آتا ہے یا پھر ساون میں جھولا ڈال کہ کس کو بلایا جاتا ہے ، جاڑوں میں پتوں کے گرنے کا منظر کتنا اداس ہوتا ہے ، مگر جغرافیہ کا علم صرف موسموں کا مشاہدہ کرتا ہے اسے اس شاعری سے کوئی غرض نہیں ہوتی ،
ایندھن ! اب جغرافیہ انسان کو ایندھن کی جگہیں بھی بتاتا ہے ، تیل سے تیل کی دھار تک ، اور کوئلے کی آگ سے میتھین کی آگ تک ، جغرافیہ ہی استعمال کیا جاتا ہے ، گھر کے چولھے سے لیکر ایک انڈسٹریل اسٹیت یا نیوکلیائی لیب تک سب جگہ ایندھن کی ضرورت ہے اور ایندھن کی تلاش جغرافیہ کی مدد سے کی جاتی ہے
انسان جغرافیہ کے علم کو اپنے عام رہن سہن سے لیکر جنگوں تک استعمال کرتا ہے ، اس لئے یہ علم بہت ضروری ہے جغرافیہ کے علم نے دنیا کو مختلف خشکی اور تری کے بڑے خطوں میں تقسیم کیا ہے ، خشکی والے حصے براعظم کہلاتے ہیں اور تری والے بحر یعنی سمندر - یہ تقسیم کچھ یوں ہے
براعظم ایشیاء ؛ یہ سب سے بڑا خطہ ارضی ہے جس پر مخلوق خدا سب سے زیادہ ملتی ہے ، انسان جانور چرند پرند پہاڑ دریا غرض ہر طرح کی دنیا یہاں آباد ہے اور زمانہ قبل از تاریخ بھی یہ ہی خطہ مقبول تھا ، اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ لاکھوں برس پہلے سارے خشکی کے حصے جو اب الگ الگ دکھائی دیتے ہیں ، براعظم ایشیاء میں ہی تھے
افریقہ ! افریقہ کو سیاہ براعظم بھی کہا جاتا ہے جبکہ کچھ محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ انسان نے اسی براعظم پر جنم لیا ، پرسرار جھنگلوں اور صحراؤں سے بھرا یہ براعظم کئی عظیم راز بھی رکھتا ہے
یورپ ! کچھ لوگ شاید اسے اب گوروں کی دنیا بھی کہیں ، مگر یہ کبھی ایشیاء کا حصہ تھا تب اسے یوریشیا بھی کہا جاتا تھا ، اب یہاں کے لوگ ایشیاء والوں پر حکمرانی کرتے ہیں ۔ ۔ اور خود کو بہت ہی گورا سمجھتے ہیں
جنوبی امریکا اور شمالی امریکا ! کچھ لوگ شاید اسے ریاست ہائے متحدہ سمجھیں مگر ایسا نہیں ہے امریکا بھی اصل میں ایک اور امریکہ کے اندر واقعہ ہے ، اور یہ امریکہ دو حصوں میں بٹا ہے ، شمالی اور جنوبی امریکہ ، مگر ان براعظموں کے رہنے والے خود کو امریکی نہیں کہلواتے سوائے ریاست ہائے متحدہ امریکا کے لوگوں کے
آسٹریلیا ! یہ ایک بہت بڑا جزیرہ ہے ، جس میں آسٹریلیا کا ملک شامل ہے ، نیوزی لینڈ بھی اسی جزیرے پر واقعہ ہے مگر اسے ایشیاء سے ملاتے ہوئے آسٹریلشیاء کا حصہ مانا جاتا ہے ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بھی ایشیاء کا حصہ تھا
انٹاریکٹیکا ! یہ واحد براعظم ہے جہاں ہر کوئی جانا چاہتا ہے مگر رہنا نہیں چاہتا یا رہ نہیں سکتا ، کیونکہ یہ براعظم برف سے ڈھکا ہوا ہے ، جہاں زندگی ممکن تو ہے مگر مشکل بہت ہے
۔
یہ سارے براعظم سمندر میں تیر رہے ہیں ، اور ان سمندروں کو مختلف نام دئیے گے ہیں جو یہ ہیں
بحر الکاہل ! یہ اس زمین کا سب سے بڑا حصہ ہے جسکا ایک نام ہے ، کاہل اسے اس اسلئے بھی کہتے ہیں کہ اسکا پانی بظاہر ٹہرا ہوا ہوتا ہے مگر بہت بڑے بڑے طوفان بھی اسی میں پائے جاتے ہیں ، یہ سمندر دنیا کے کتنے ہی راز اپنے اندر چھپائے ہے ، ہزاروں جہاز اس میں غرق ہوئے ہزاروں لوگوں نے اسکے اندر تک جھانکا ہے
بحر اوقیانوس! یہ بھی دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ گھیرے ہے اور یورپ امریکہ اور افریقہ کو آپس میں ملاتا ہے
بحر ہند ! ایشیا کا سب سے بڑا سمندر ہے جو افریقہ سے لیکر ایشیاء تک پھیلا ہے
بحر منجمد شمالی ! یہ سمندر برف سے ڈھکا ہوا ہے ، جو زمین کے قطب شمالی کے اردگرد پھیلا ہے اردو کی درمیانی کتاب - 6 - ادب اور شاعری - دنیا بھر کے لکھاریوں اور شاعروں کا انتخابانسان مشینوں کا بنانے والا تو ہے مگر اسکی جبلت اسے قدرتی ماحول میں رکھتی ہے ، جہاں اسے دوسرے انسان سے ملنا پڑتا ہے اس سے میل جول رکھنا پڑتا ہے اور اسی میل جول کی وجہ سے اسنے ادب و شاعری کو سنبھالے رکھا ہے ، شاید انسان کی پہلی سریلی آواز ہی شاعری ہو گی ، اور پہلا جذبہ ہی ادب کا پہلا فن پارہ ہو گا ، یا اسنے جب پہلی لکیر بنائی ہو گی وہیں سے مصوری کی ابتداء ہوئی ہو گی ، عام طور پر دنیا کی سب سے پہلی ادبی تحریر “گلگاش کی داستان“ کو مانا جاتا ہے جو ہزاروں برس پرانی ہے مگر دنیا کے پراننے دیش بھارت کی ویدوں کو بھی قدیم ادب میں شمار کیا جاتا ہے ، کیونکہ پرانے زمانے میں آٹو گراف کا رواج نہیں تھا اسلئے قدیم ادب کے خالق گمنام ہی رہے ہیں ، مگر کچھ لوگوں کو دنیا جانتی ہے جو مفکر بھی تھی اور فلاسفر بھی ، شاعر بھی اور ادیب بھی، چند مشہور لوگوں کا تعارف درج ذیل ہے
ارسطو ؛ یونان کی زمین دیوتاؤں کی زمین تھی ، جس پر زیادہ تر فلسفیوں نے جنم لیا ، ارسطو بھی ان میں سے ایک تھا ، اسے سکندر اعظم کا استاد بھی کہا جاتا ہے ، اور ارسطو خود پلاٹو کا شاگرد تھا اور پلاٹو سقراط کا شاگرد تھا اور سقراط کے بارے میں آگے بتایا جائے گا ، ارسطو نے ہر طرح کے مضامین پر طبع آزمائی کی ، اسکے چند مشہور اقوال یہ ہیں
- نوکری میں مزے کرنے سے ہی کام اچھا ہوتا ہے o
- بے شک قانون لکھ دیا جائے مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ اس پر عمل بھی کیا جائے o گھڑیوں کے بجائے وقت کو دل کی دھڑکن سے ناپنا چاہیے o سقراط ؛ سقراط بھی بہت مشہور فلسفی گذرا ہے اسکی مشہوری کی بنیادی وجہ فلسفے سے زیادہ زہر کا وہ پیالہ ہے جسے اسنے پی کر اپنی زندگی ختم کر دی ، سقراط کو ہی جدید فلسفی کا بانی کا جاتا ہے قدیم فلسفیوں کا ریکارڈ میسر نہیں اسلئے سقراط سے ہی فلسفے کا آغاز سمجھا گیا ہے ۔ سقراط اور پلاٹو کی بات چیت سے ہی اسکی فلاسفی کا اندازہ ہو سکتا ہے ۔ ۔ اسکے چند مشہور ڈائلاگ یہ ہیں
- موت ہی ساری انسانیت کی نجات ہے o - علم ہی اچھائی ہے اور لاپرواہی جہالت ہے o - جتنا کم چاہو گے اتنے ہی خدا کے قریب ہو گے o
بقراط ! فلسفے کے علم کے پیمانے کو بقراطیت سے ناپا جاتا ہے ، جس میں جتنا فلسفہ ہو گا اتنی ہی بقراطیت اس میں پائی جائے گی ، عمومی علم کے لئے یہ معلوم رکھنا ضروری ہے کہ بقراط بھی ایک یونانی فلسفی تھا
یونان کے علاوہ ، ہندوستانی فلسفی بھی مشہور ہیں ، جن میں نمایاں نام ، چندر گپت موریہ کا ہے ، اور چانکیہ کے فلسفے سے دنیا آج تک مستفید ہو رہی ہے ، چین کے فلسفی کنفیوشش کو بھی بہت زیادہ چاہا جاتا ہے جبکہ مسلمان فلسفیوں میں ابن سینا سے لے کر ڈاکٹر محمد اقبال المعروف علامہ اقبال تک بہت سارے نام ہیں ۔ ۔ جبکہ جدید دنیا میں فرائڈ ، لینن ، مارکس وغیرہ بھی قابل ذکر فلاسفر ہیں
فلسفے کے علاوہ ، لکھنے والوں میں ، تلسی داس اور شکسپیر کو تو ہر کوئی جانتا ہے ، دانتے ، موپاساں ، دستوفیسکی ، برنارڈشا جیسے لکھاری بھی اس دنیا میں رہے ہیں اور کیٹس اور خلیل جبران اور رومی جیسے شاعر اور نغمہ نگار بھی ابھی تک دلوں کو مسخر کئے ہیں اردو کی درمیانی کتاب - 5 - سائنس اور ٹیکنالوجی - نت نئی ایجادات اور انکا تعارفجب انسان کو ہنر ہاتھ لگے تو اسنے علم کی بنیاد رکھی ، جسے سائنس کہا گیا ، اس علم میں اسنے اپنی ذات سے لے کر آسمانوں کی آتھاہ گہرایوں کا مطالعہ کیا ، اور اسکے نتیجے میں نت نئی چیزیں بنائیں، اسکی پہلی ایجاد ڈنڈا تھی ، مگر کچھ لوگ ٹیکنکلی پہیے کو پہلی ایجاد مانتے ہیں ، ڈنڈے سے انسان سیدھا چلتا ہے جبکہ پہیہ اسے گھماتا ہے ، اور اسی گھومنے کو ہی ٹیکنالوجی بھی کہتے ہیں ، انسان نے آج تک سب سے زیادہ جو چیزیں ایجاد کیں ہیں وہ ہیں ہتھیار ، نیزہ بھالا تیرکمان اور منجنیق تو بہت پرانی باتیں ہیں اب یہ مشینں کھیلوں میں استعمال ہتیں ، اسکی وجہ شاید یہ ہے کہ انسان جلد باز ہے اسے موت چاہییے اور بہت ساری چاہیے ایک وقت میں ، اسکے لئے انسان نے ایٹم بم بنایا ، اور بڑی بڑی توپیں اور آگ برسانے والے طیارے اور مزائیل بنائے ، مگر اب بھی اسے قرار نہیں ۔ ۔ وہ اس سے بھی بڑھنا چاہتا ہے ، وہ موت کو مارنے کے لئے کلوننگ کر رہا ہے ، وہ زندگی کو بچانے کے لئے نت نئی دوائیں بنا رہا ہے ، مگر اپنے رویے میں وہ ہی ہزاروں برس پرانا انسان ہے ، موجودہ دور کی چند ایجادات کا تعارف درج ذیل ہے
ٹیلی ویژن ؛ فاصلوں کو مٹا کر اور اپنی تنہائی کو انسان نے اس چھوٹے سے چمکیلے ڈبے میں لا رکھا ہے ، خبریں ہوں یا موسیقی ، تمثیلیں ہوں یا مباحثیں ، تاریخ ہو یا ادب سائنس ہو یا مذہب سب کو اس کوزے میں بند کر کہ گھر گھر میں پہنچا دیا ہے انسان نے ، اب یہ ہر گھر کی ضرورت ہی نہیں مجبور بھی ہے
ٹیلی فون ؛ تنہائی کو دور کرنے کے لئے ٹی وی کو صرف سنا جا سکتا ہے ، مگر ٹیلیفون پر بولا بھی جا سکتا ہے ، پہلے یہ امارت کی نشانی تھا اب کچھ بھی نہیں ہے ، جسکو اسکی ضرورت نہیں اسکے پاس بھی ہے ، پہلے یہ ساکت تھا اب متحرک ہے ، انسان کو جتنا زیاد ایک دوسرے کے ساتھ اسنے ملایا ہے اتنا ہی دور بھی کر دیا ہے ، پہلے انسان مصافحہ اور معانقہ کرتا تھا اب ہیلو ہائے اور بائے کرتا ہے اور یہ سب کرامات اسی فون کی بدولت ہیں
ذرائعے نقل و حمل ؛ زمانہ قدیم میں انسان نے جانوروں کو اپنا تابع بنایا اور انسے نقل و حمل کا کام لیا ، مگر جب انسان کو اپنی تیزی کا علم ہوا تو اسنے ریل گاڑیاں اور ہوائی جہاز بنائے ، سمندروں کے سینے پر اپنے بحری بیڑے رکھے اور تیزی کو اپنا ساتھی بنایا ، آج انسان آواز سے زیادہ تیز ہے ، شاید اسی لئے وہ بہت ساری آوازیں سن نہیں پاتا ، یا پھر وہ خلا میں جا چکا ہے اسلئے وہاں آواز ہی نہیں ہوتی
کمپیوٹر ! انسان نے جو بھی چیز ایجاد کی قدرت کی ہی کاری گری کو دیکھ کر کی ، اسنے پرندوں سے گھونسلہ بنانا سیکھا ، اسنے سمندری جانوروں سے تیرنا اور ڈبونا سیکھا اسنے پرندوں سے اڑان سیکھی چرندوں سے تیزی لی اور ایسے ہی سب کچھ مگر انسان نے خود کو دیکھکر ایک ہی چیز بنائی وہ ہے کمپیوٹر ، دماغ کے اس سانچے سے انسان نے ہر طرح کے کام لئے ہیں اور لے رہا ہے ، گھر کی رکھوالی سے لے کر کائنات کے سربستہ رازوں تک اسنے کمپیوٹر کو استعمال کیا ہے ، ریموٹ کنٹرول سے لے کر مصنوعی ذھانت تک اپنے آپ کو آرام دیا ہے ، اپنی حقیقی زندگی کو تخیلاتی بنا دیا ہے ، اب وہ ویب سپیس سے لے کر کائناتی سپیس تک اس مشین کو ساتھ لئے پھرتا ہے ۔ ۔ ۔
بجلی ! آج سے صرف دو سو سال پہلے تک کا انسان بجلی سے واقف نہیں تھا ، تیسری دنیا کے بیشتر علاقے ابھی تک اس ایجاد سے مستفید نہیں ہو پائے ، مگر بجلی اوپر بیان کی گئی تمام ایجادوں کی ماں ہے ، اسلئے تمام ایجادوں کو استعمال کرنے کے لئے اسکا ہونا ضروری ہے ، امیر ممالک میں بجلی پیدا ہوتی ہے ، غریب ممالک میں گرتی ہے ، اور غریبوں کو پکڑتی ہے ، محلوں میں بجلی جلتی ہے ، جھونپڑیوں میں جلاتی ہے ، کچھ ممالک میں اسے آنے جانے کے لئے رکھا جاتا ہے جسے لوڈ شڈنگ بھی کہتے ہیں ۔ ۔۔
آج دنیا کی نت نئی ایجادات میں انسان ڈوب چکا ہے ، اسکی زندگی مشینی ہو چکی ہے ، گو وہ جانتا ہے کہ جسمانی طور پر وہ مشینوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا مگر ذھنی طور پر وہ ہر طرح کی جنگ کے لئے تیار ہے |
|
|