| Azhar Ul Haq 的个人资料اظہرالحق کی دنیا - Azhar...日志列表 | 帮助 |
|
|
2008/4/12 لالا ، لا ، لااب یہ مت سمجھیے گا کہ میں کوئی گانا گانے جا رہا ہوں، پنجاب اور سرحد میں بڑے بھائی کو پیار سے “لالا“ کہتے ہیں ، اور انگریزی میں “لا“ کا مطلب ہوتا ہے قانون LAW ، اور عربی میں “لا“ کا مطلب ہوتا ہے نہیں ۔ ۔ ۔ اب ذرا اسی جملے کو پڑھیں کہ “لالا LAW لا “ مگر یہ آخری والا “لا“ جو ہے وہ عربی والا نہیں اردو والا ہے ، یعنی لالا جی اب تو LAW ، لا دیں ۔ ۔ ۔ کیونکہ اگر LAW لا (عربی والا یعنی نہیں ) تو پھر سب پرابلم ہیں ۔ ۔ سو اسلئیے لالا ، LAW ، لا ۔ ۔ ۔ اب آپ کی مرضی اسے گائیں یا ۔ ۔ ۔ گنگنائیں ۔ ۔ ۔ ویسے اس کے جواب میں حکومتی جواب بھی ، لا لا لا ، لگتا ہے ، جبکہ عوام بھی چیخ رہی ہے لا لا لا (لانے والا لا ) جبکہ ہمارے وکلا بھی چیخ رہے ہیں LAW LAW LAW ، اب ہر جگہ سے لا لا کی صدائیں آ رہیں ہیں ۔ ۔ ۔ اب سمجھ نہیں آ رہا کہ کون کیا کہ رہا ہے سب مکس ہو گا ہے بلکے ری مکس ہو گیا ہے ۔۔۔۔ کیوں جی ذرا گائیں تو ۔ ۔ ۔ لا لا لا لا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔ 2008/1/13 متلاشی مر گئی ۔ ۔ ۔۔متلاشی کل مر گئی ، وہ کون تھی کیسی تھی ، کیسے بولتی تھی کیسے چلتی تھی مجھے نہیں معلوم ، نہ میں نے اسکی کوئی تصویر دیکھی نہ کبھی اسکی آواز سنی ، نہ ہی کبھی اس سے چیٹنگ کی ، مگر میں اسے جانتا ہوں ، کیسے ، اس جدید دنیا کی جدت کی وجہ سے ۔ ۔ وہ اس سائبر سپیس کی ایک ممبر تھی ۔ ۔ ۔ جس کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہی ہوئے جا رہا ہے ۔ ۔۔ مگر اس خلا کو پُر کرنا تو کبھی ممکن نہیں ، اور جب کبھی ایسی بات سننے کو ملتی ہے کہ کوئی اس سائبر سپیس میں نہیں رہا تو ۔ ۔۔بہت عجیب لگتا ہے ۔ ۔
وہ میری زندگی کی دوسری شخصیت تھی جسے میں اس خلا میں جانتا تھا ، جو اس دنیا سے چلی گئی ۔۔ اس سے پہلے بھی ایک دوست نے ایسے ہی زندگی سے منہ موڑ لیا تھا ۔ ۔ ۔ یقین نہیں آتا کہ ایسا بھی ہوتا ہے ۔ ۔۔ اس سائبر سپیس نے دنیا کو کیا کر دیا ہے ۔ ۔ لوگ پہلے بھی مرتے تھے اور ہمیشہ مرتے رہیں گے ۔ ۔ ۔ آج مجھے میٹریکس مووی بہت یاد آئی ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں کیوں متلاشی کی وجانے کس کی تلاش تھی ، مگر موت نے اسے تلاش کر لیا تھا ، زندگی جانے کی وجہ کینسر ہی سہی ، مگر کچھ لوگ دلوں میں زندہ رہتے ہیں ، میں سوچتا تھا کہ یہ لڑکی اتنی دکھی کیوں ہے ، ہمیشہ دکھ کی باتیں کیوں کرتی ہے ، اسکی شاعری میں غم کیوں کوٹ کوٹ کہ بھرا ہے ۔ ۔ ۔ جب وہ چلی گئی تو پتہ چلا کہ زندگی کو اسنے کیسے جھیلا تھا ۔ ۔ ۔
اسکی شاعری کی کچھ جھلکیاں ۔ ۔ ۔ مجھے تم سے محبت ہے
----------------------------------- کسی کمزور لمحے میں اگر میں تم سے یہ کہ دوں مجھے تم سے محبت ہے تم یہ مت سمجھ لینا کہ ۔ ۔ ۔ میں نے سچ کہا ہو گا ایسی دل نشیں باتوں کو ایسی دلبر اداؤں مین کہینا مجھے بچپن سے آتا ہے میری آنکھیں ، میرا چہرا میرا یہ بے ساختہ لہجہ یہ سب کچھ جھوٹ کہتا ہے مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس جھوٹ میں ،ایک سچ بھی ہوتا ہے کہ مجھے تم سے محبت ہے مجھے تم سے محبت ہے -------------------------------------------
اور اسکے یہ الفاظ تو شاید سب کو یاد رہیں ۔ ۔ ۔ ------------------------------------- تم سے بچھڑ کہ میں کیا ہوں ایک ادھوری نظم کا حصہ یا کوئی بیمار پرندہ کاپی میں ایک زندہ تتلی یا ایک مُردہ پیلا پتہ آنکھ ہو کوئی خواب زدہ سی یا آنکھوں میں ٹوٹا سپنا پلکوں کی دیوار کے پیچھے پاگل قیدی یا ایک آنسو دھوپ میں لپٹا لمبا صحرا یا پھر کوئی خوف زدہ سا بچہ ٹوٹی ہوئی چوڑی کا ٹکڑا یا کوئی بھول بِسرا وعدہ تم ہی بتاؤ تم سے بچھڑ کہ میں کیا ہوں ایک پرانی قبر کا کتبہ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ----------------------------------- لوگ اس سائبر سپیس میں بھی مرتے ہیں ۔ ۔ مگر پتہ نہیں ۔ ۔ ۔ اس سائبر سپیس پر کوئی قبرستان کیوں نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ؟؟؟ 2008/1/11 دیا جلائے رکھنا ہےاگر تمہیں پاکستان اتنا ہی برا لگتا ہے تو تم پاکستان چھوڑ کیوں نہیں دیتے ؟ میں نے اسے کوسنے والے انداز میں کہا
کاش چھوڑ سکتا ، تم خود تو شیخوں کے ملک میں بیٹھے عیاشی کر رہے ہو اسلئے ایسا کہ رہے ہو ، میں نے تو انتہائی مشکل حالات میں بھی پاکستان نہیں چھوڑا ۔ ۔ جو روکھی سوکھی مل رہی ہے کھا رہا ہوں ۔ ۔۔ تم تو لاکھوں کے چکر میں باہر ہو، کبھی ادھر آؤ تو آٹے دال کا بھاؤ پتہ چلے ۔ ادھر نہ بجلی ہے نہ پانی ۔ ۔ ۔ روکھی سوکھی ۔ ۔ ۔ بھائی تم ہر سال اپنی گاڑی کا ماڈل چینج کر رہے ہو ، میکڈونالڈ اور کے ایف سے سے نیچے کی چیزیں تم سے ہضم نہیں ہوتیں ۔ ۔ ۔ پانی تم منرل پیتے ہو ، سارا دن رات جنریٹر چلاتے ہو ۔ ۔ چائے و کافی کے لئے الیکٹرک ٹی پاٹ رکھے ہیں تم آٹے دال کا بھاؤ کیا جانو ۔ ۔ اتنی عیاشی تو ہم ادھر رہ کر نہیں کر پاتے جتنی تم پاکستان میں کرتے ہو ۔ ۔۔ ارے بدھو میں اپنی بات نہیں کر رہا ۔ ۔ مجھ پر تو اللہ کی رحمت ہے اپنا بزنس ہے ، اس سال بھی منافع اچھا گیا ہے ، ٹیکس بھی کافی بچا لیا ہےہ ، میں بات کر رہا ہوں ان پاکستانیوں کی جن کے لئے جینا دوبھر ہو چکا ہے ۔ ۔ ۔تم کبھی ادھر آ کہ تو دیکھو بیچارے سارا سارا دن آٹے کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں ، آفسز میں تو اب چھٹی کا بہانہ بن گیا ہے “آٹا“ اوہ ۔ ۔ ۔ اچھا تو تمہیں اپنے ہموطنوں کا درد محسوس ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ کیوں نہ ہو ۔ ۔ میں ان میں رہتا ہوں ۔ ۔ تمہاری طرح شیخوں کے درمیان تو نہیں رہتا ۔ ۔ ۔ ارے میں تو ادھر سب سے کم درجے کا شہری ہوں ، ہر وقت سر پر تلوار لٹکتی رہتی ہے ۔ ۔۔ کہ کب ادھر سے نکال دیں ۔ ۔ ہاں پاکستان کا یہ ضرور فائدہ ہے کہ ادھر جو آ جائے پہلی بات ہے وہ جاتا نہیں اور اگر زبردستی بھیجھا جائے تو واپس آنے کے ہزار راستے ہیں ۔ ۔ ۔ ہاں اگر انکل سام کی طرف بھیجھیں تو پھر واپسی کبھی کھبی شہادت کے بعد ہی ہوتی ہے مگر پھر بھی لوگ پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں نا ارے کون کافر رہنا چاہتا ہے ادھر ۔ ۔ ۔ وہ تو مجبوری ہے کہ ہم پر پاکستانی ہونے کا ٹھپہ لگ گیا ہے ۔ ۔ ورنہ ہم کب کے ہجرت کر جاتے ۔ ۔کسی اور دیس میں ۔ ۔۔ ویسے میں بھی تمہیں کہتا ہوں کہ پاکستان چھوڑ دو ابھی حالات کافی خراب لگتے ہیں ۔۔ ۔ نہیں میرے لئے خراب نہیں ہیں ۔ ۔ باہر ابھی تک اتنا منافع نہیں ہے جتنا ادھر ہے اور کام نکلوانے کی آسانی جو ادھر ہے وہ باہر نہیں ۔ ۔ مطلب تم یہ کہ رہے ہو کہ ہماری معیشت اچھی ہے اچھی ۔ ۔ بہت اچھی بھائی صاحب ۔ ۔ دیکھو ۔ ۔ میں ایک بزنس مین ہوں ۔ ۔ اگر کسی طرف سے میرے خام مال کے بھاؤ بڑھتے ہیں تو میں اپنی فنش پراڈکٹ کے بھاؤ بڑھا دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ سو میرا مال تب بھی بکتا ہے تو مجھے تو کوئی مسلہ نہیں ہوتا نا ۔ ۔ میں تو اتنی منافعے والی جگہ نہیں چھوڑ سکتا ۔ ۔ مگر امن و امان کا مسلہ تو ہے نا ادھر ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب کہاں کیا ہو جائے ۔ ۔۔ اب میں تمہیں بےوقوف نہ کہوں تو کیا کہوں ؟ کیا کسی بھی شہر کے پوش علاقے میں کبھی بھی کوئی ہڑتال کا اثر ہوا ہے کبھی لوڈ شیڈنگ یا گیس کی بندش ہوئی ہے یا پانی بند ہوا ہے اور اگر ہوا بھی ہے تو ٹینکر کمپنیاں موجود ہیں ، گیس سیلنڈر موجود ہیں ۔ ۔۔ ویسے بھی دھشت گردی میں غریب لوگ ہی ٹارگٹ ہوتے ہیں ۔ ۔ امیروں کے ساتھ ۔ ۔تو ۔ ۔ اللہ کی رحمت ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مگر ابھی تو ایک ہائی پروفائیل بھی تو اس دھشت گردی کا نشانہ بنی ہے ہاں مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ اسکی بے وقوفی تھی وہ کیسے ۔ ۔ کس نے کہا تھا کہ پبلک میں جا کہ پبلک کی بات کرے ۔ ۔۔ کس نے کہا تھا کہ غریبوں کے سر پر ہاتھ رکھے ۔ ۔ چاہے دکھاوے کو ہی سہی مگر ۔ ۔ جو فاصلہ لیڈر اور عوام کا ہونا چاہیے وہ برقرار رکھنا چاہیے ۔ ۔ ۔ جو نہیں رکھے گا وہ تو مار کھائے گا ہی نا ۔ ۔ تو پھر تم مسلے کا حل کیا سمجھتے ہو ۔ ۔ مسلے کا حل آسان ہے ۔ ۔ کیا؟؟ پاکستان چھوڑ دو ۔ ۔ ۔ مگر ابھی تو تم ہی کہ رہے تھے کہ تم نے پاکستان نہیں چھوڑنا ۔ ۔ بھئی میں اپنی بات نہیں کر رہا ۔ ۔ انکی بات کر رہا ہوں ۔ ۔ جو سڑکوں پر آٹے کی تلاش میں ہیں ۔ ۔۔ وہ کہاں جائیں گے اور کیسے جائیں گے ۔ ۔ اگر نہیں جا سکتے اور کچھ بول نہیں سکتے تو پھر ۔ ۔ تو پھر ۔ ۔؟؟ کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ نہیں بولو تو ۔ ۔ یار تم برا مان جاؤ گے ۔ ۔ ۔ نہیں مانو گا ۔ ۔ اچھا تو پھر انہیں ۔ ۔۔ اپنی شہادت کا انتظار کرنا چاہیے ۔ ۔ اور ہاں یاد رکھو کہ بڑے لوگ مرتے نہیں ۔ ۔ اور چھوٹے لوگ زندہ نہیں ہوتے ۔ ۔ ۔ ۔ اور ڈیڈ باڈیز کی قسمت میں آگ ہوتی ہے یا پھر مٹی ۔ ۔۔ ۔ (تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد) تم نے اداس کر دیا ۔۔ ۔ ہاں میں بھی اداس ہو جاتا ہوں یہ سب کچھ کہ کہ سن کے ۔ ۔۔ میں نے ہوٹل کے کمرے کی کھڑکی کا پردہ اٹھا دیا ۔ ۔ ۔ پورے شہر کی بجلی بند تھی ۔۔ ۔ ۔ سڑک پر گاڑیوں کی قطار تھی ۔ ۔ جسنے روشنی کی ایک لکیر بنا دی تھی ۔ ۔ یہ لکیر ایک کونے سے دوسرے کونے تک جا رہی تھی اور دونوں طرف یہ روشنی کی لکیر اندھیرے میں گم ہو رہی تھی ۔ ۔ ۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ اندھیرا روشنی کو کھا رہا ہے ۔۔ ۔ ۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے ہم اپنی چھوٹی چھوٹی مشعلیں لے کر اندھیرے کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ۔۔ اور اندھیرا ہے کہ یہ مشعلیں کھائے جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔ مگر نہ تو مشعلیں کم ہو رہی ہیں اور نہ ہی اندھیرا ۔ ۔ ۔۔۔ میں اپنے اندر ہی گنگنانے لگا ۔ ۔۔ موج بڑھے یا آندھی آئے ، دیا جلائے رکھنا ہے گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں ، گھر تو آخر اپنا ہے ۔ ۔ 2008/1/5 اک نوح نہیں جو ہمیں کشتی پہ بٹھا لےآج کافی دنوں کے بعد جب لکھنے بیٹھا تو بہت کچھ بدل چکا ہے ، کہاں سے شروع کروں کس موضوع پر لکھوں ، کچھ سمجھ نہیں آ رہا ، مگر اب سوچ رہا ہوں کہ مستقل لکھنے کی عادت ڈالوں ، بلاگر دوستوں کے ہاں یہ بحث بھی چل نکلی ہے کہ اردو بلاگنگ کو ترویج نہیں مل رہی ، مگر میرا خیال ہے کہ اس وقت اردو بلاگرز کو پڑھا جا رہا ہے ، بے شک کچھ لوگ محسوس نہیں کر رہے مگر انکے خیالات اور افکار سب کے سامنے موجود ہیں ۔ ۔ میں زکریا کے خیال سے متفق ہوں کہ اردو میں بلاگنگ اضافے کی طرف گامزن ہے ، میرے خیال میں اردو سیارہ کی طرح اور بھی اردو بلاگنگ پورٹل ہونے چاہییں۔
دوسری بات جس پر شاید بہت کچھ لکھا گیا ہے ، وہ پاکستان کے حالات ہیں ، بے نظیر کا قتل ہو یا سیاستدانوں کی چالبازیاں ، آٹے بجلی اور گیس کا بحران ہو یا
غریب عوام کے بے چارگیاں ۔ ۔ ۔ کیا لکھیں کیسے لکھیں ۔ ۔ ۔ بلکے اب تو کچھ لوگ یوں بھی کہتے ہیں کہ کیوں لکھیں ۔ ۔ ۔ بقول مرتضی برلاس
شاعر ہوں میں قبیلہ مردہ ضمیر کا
کس کام کی یہ جرات اظہار رہ گئی اور پھر قوم وہ بھی ہماری قوم
جس شاخ پہ بیٹھیے ہوں اسی شاخ کو کاٹیں
ہم لوگ ہی خود اپنی تباہی کا سبب ہیں مگر کیا کریں ہم لوگ جو لکھتے ہیں جو زندہ ہیں مرنے والوں کے ساتھ مر نہیں گئے ۔ ۔ ۔ ہمارے احساس کبھی بھی ہمیں چپ رہنے نہیں دیتے ۔ ۔ ۔ ۔
ہم فنکار ہیں مقابر کے مورخ تو نہیں
ہم کو ہوتا ہے جو محسوس وہ کیونکر نہ کہیں اس جمعرات کو دبئی میں ایک مشاعرہ ہوا ، دبئی کے نامور شعراء نے شرکت کی ، کچھ دوستوں کے ساتھ گپ شپ بھی رہی ، بات وہیں آئی درد کی ۔ ۔ ۔ سب نے مانا کہ ہم سب کسی نہ کسی طور پر بے حس ہیں اور اس بے حسی کی وجہ ہے ، نشہ ، ہمیں نشہ ہے طاقت کا حکومت کا دولت کا ،اور شاید ہماری واحد قوم ہے ، جسے نشہ ہے غربت کا ، ہم اپنے آپ کو نوچتے ہیں ۔ ۔ کاٹتے ہیں بھنبھوڑتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں ۔ ۔۔
یارومجھے بدمست نہ سمجھو کہ میں اکثر
جو بات پتے کی ہو وہ کہتا ہوں نشے میں ۔ ۔ ۔ اب اور کیا کہوں ۔ ۔ ۔ ہمارے پاس سب کچھ مگر
اک نوح نہیں جو ہمیں کشتی پہ بٹھا لے ورنہ کسی طوفان کے آثار بہت ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ 2007/4/14 کراچی - کچھ یادیں کچھ باتیں ۔ ۔ ۔میرا بچپن بیماری میں گذرا اور پھر نوجوانی اس بیماری کی ریکوری میں ، اور جوانی اپنا کئریئر بنانے میں ۔ ۔ اس دوران مجھے بہت سخت قسم کی محنت کرنی پڑی ، جسمانی کمزوری اور معزوری کو روند کر آگے بڑھا ، مجھے یاد ہے جب لیاقت ہسپتال کے ڈاکٹروں نے میری فیملی کو کہا تھا کہ اب میں ہمیشہ کے لئے معذور ہو سکتا ہوں تو میری ماں ساری رات میرے سرہانے بیٹھی روتی رہیں ۔ ۔ میں نے بے بسی کی انتہا دیکھی ہے ، میں اپنی انگلی تک خود نہیں ہلا سکتا تھا اور اب اللہ کے فضل و کرم سے اپنے ہی ہاتھوں یہ لکھ رہا ہوں ۔۔ ۔ میرے کچھ دوست خاصکر ویب والے مجھے “بے وقوف“ اور “بچکانہ“ اور بعض اوقات تو بہت ہی نازیبا الفاظ سے یاد کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ تو میرے سامنے میرا ماضی گھوم جاتا ہے ، جب میں نے ایک بار پھر نئی زندگی شروع کی تھی ، میں کالج جاتے ہوئے اکثر اوقات گر جاتا تھا ، کیونکہ ہر بار دیوار کا یا کسی دوست کا سہارا نہیں ہوتا تھا اور میں لاٹھی کا سہارا لینا نہیں چاہتا تھا ، مجھے ریل کی پٹریاں کراس کر کے کالج جانا ہوتا تھا ، اور کئی بار انہیں پٹریوں پر گرا ، اور ریل کو آتے دیکھا اور موت کو اتنا قریب دیکھا کہ کیا کہوں ۔۔ ۔ پھر شاہ فیصل کالونی میں ائیرپورٹ ریلوے اسٹیشن پر ایم کیو ایم والوں کے ہاتھوں مرتے مرتے بچا کہ میرے دوست کا بھائی یونٹ انچارج تھا ۔ ۔ ۔ اور مجھے اچھی طرح جانتا تھا ۔ ۔ ۔پھر جب مجھے پتہ چلا کہ میں بہت زیادہ مختلف ہوں دوسروں سے کہ میں تو چل بھی نہیں سکتا اور لوگ تو بھاگتے ہیں ، تو میں نے بھی اس ریس میں شامل ہونے کی ٹھانی ، میں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنی تعلیم کے لئے منتخب کیا ، لکھنا میرا شوق تھا ، موسیقی سیکھنا شروع کی ۔۔۔ ۔ میں نے ان آوازوں پر جو مجھے “لنگڑا“ ، “ڈانسر“ ، “بلڈوزر“ اور “بریک فیل“ جیسے خطابات سے نوازتی تھیں میں نے سننا ہی چھوڑ دیا ، اپنے کان بند کر لئے ۔ ۔ اور دن سے لے کر رات تک اپنے آپ کو اتنا مصروف کیا کہ مجھے ان سب باتوں کی پرواہ ہی نہ رہی ۔ ۔ ۔ اور پھر قدرت نے مجھے ایسے لوگوں سے ملوانا شروع کیا جنہیں لوگ وی آئی پیز کہتے ہیں ، جن سے ملنے کے لئے وقت لینا پڑتا ہے ، شاید میری محنت تھی ، آواز اخبار سے وابستگی ہوئی ، پاکستان قومی موومنٹ کے آفس میں آنا جانا ہوا ، آزاد صاحب سے سلام دعا ہوئی تو سیاست دانوں سے بھی لنک بنے ، اور پھر میں نے جب گلبرگ میں پڑھانا شروع کیا تو کتنے ہی لوگ ملتے چلے گئے ، اردو سپینکنگ ، سندھی ، بلوچی ، براھوی ، پٹھان اور پھر جب کچھ کام گلبرگ کے پولیس اسٹیشن میں کیا تو کتنے ہی راز کھل کہ سامنے آئے ، یہ وہ زمانہ تھا جب عزیز آباد نو گو ایریا میں آتا تھا ، جب لانڈھی کورنگی میں جانا موت کے منہ میں جانے کے برابر تھا ، مجھے یاد ہے جب میں اور موبین لانڈھی میں ایک کارخانے کے پروگرام کی ابتدائی سٹڈی کے لئے پہنچے تو ہمیں بندوقوں برداروں کے سائے میں کارخانے تک لایا گیا ۔ ۔ ۔ اور پھر انہیں دنوں جب لانڈھی کے کمیونٹی سنٹر میں ہم نے ایک ڈرامہ اسٹیج کیا (اس وقت تک میں ایک اسٹیج فنکار بن چکا تھا ) تو ۔ ۔ آزاد کے کردار نے مجھے بہت پہچان دی ۔ ۔ ۔ بلکے کتنے ہی عرصے تک لوگ مجھے آزاد کے نام سے ہی جانتے رہے ۔ ۔ ۔ پھر ائیر وار کالج میں ایک لیکچرار کے ساتھ ملکر کچھ کام کیا تو پتہ چلا کہ ہماری آرمی نے کتنا اچھا نیٹ ورک ڈائزائن کیا تھا ، تینوں فورسز کو ملانے کا ۔ ۔ پی این ایس رہبر پر اے ایس فور ہنڈرڈ پر جب سی لینگویج کے بارے میں (یونکس ورژن) کچھ کہنے کا موقعہ بھی ملا ۔ ۔ ۔اور پھر اسی طرح اپنے دیس کے بارے میں پتہ چلتا چلا گیا ۔ ۔ ۔ وہ اظہر جو اخبارات میں اے ہاشمی تھا اور دوستوں اور طالب علموں میں سر اظہر اور میڈیا میں اظہر بھائی تھا ایک جانے جانے والا انسان بن گیا ۔ ۔ اب کوئی مجھے دوسرے ناموں سے نہیں بلاتا تھا ۔۔ ۔ میں بس میں آتا جاتا تھا ، مگر ایک عام انسان جیسا ہی تھا ۔ ۔ ۔ اسلئے عام انسان کی بات ہی سمجھتا تھا ، مجھے بڑے لوگوں کی باتیں سمجھ نہیں آتیں تھیں ، وہ فائیو اسٹار ہوٹل میں بھاشن دیتے تھے مگر عملی طور پر صفر تھے اور جو انسان کو انسان سمجھتے تھے انہیں کوئی گھاس نہیں ڈالتا تھا ۔ ۔ ۔ایسے ہی انسانوں میں ایک ایدھی تھا ، انصار برنی تھا جن سے ملکر ایسا لگا کہ نہیں ابھی انسانیت باقی ہے ۔ ۔ ۔۔ ایک اور انسان کا ذکر نہ کروں تو زیادتی ہو گی ، وہ بلوچی تھے ، مگر سب لوگ انہیں اردو سپیکنگ سمجھتے تھے ، کہ وہ کالا بورڈ ملیر میں زندگی گزارتے تھے ، شاید بہت سارے لوگوں کو معلوم ہو کہ ملیر میں بھی ایک لال مسجد ہے ۔ ۔ اسی کے پاس وہ رہتے تھے ، وہ میرے کیمبرج انسٹیوٹ کی بلڈنگ کے مالک تھے ، پیتے بہت تھے ، مگر پابند صلوات بھی تھے ۔ ۔ ۔ ذرا کسی کی تکلیف دیکھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کی مدد کو پہنچے ۔ ۔ ۔ جب ملیر کے حالات بہت خراب ہوئے ، اور گلی گلی میں جوان ٹی ٹی پستول لے کر گھوم رہے ہوتے تو ۔ ۔ ۔ وہ کالا بورڈ سے عورتوں اور بچیوں کو اپنی حفاظت میں اندر لاتے ۔ ۔ ۔ مجھے یاد ہے اس دن میں کلاس لے رہا تھا جب ایک گولی ہماری کھڑی کا شیشہ توڑتی ہوئی دیوار میں پیوست ہو گئی ۔۔ اور لڑکوں میں سے ایک نے پستول نکال کر کھڑکی کے پاس پوزیشن لی اور ۔ ۔ ۔ ہم نے لڑکیوں کو ان کے حوالے کیا اور وہ اپنے گھر تک پہنچ گئیں ۔ ۔ ۔مجھے شاہ فیصل کالونی جانا تھا ۔ ۔۔ مگر جب تک میرا ایک اسٹوڈنٹ بھی وہاں موجود تھا میرے لئے ممکن نہیں تھا ۔ ۔ پھر ہمارے انسٹیوٹ کا گیٹ توڑنے کی کوشش کی گئی ۔ ۔ ۔ رات کے دس بجے تک جب تک ہمارے ایک اسٹوڈنٹ نے اپنے کسی جاننے والے کے توسط سے ہمیں سیف پیسج نہیں دیا ہم باہر نہیں نکل پائے ۔ ۔ ۔ اور جب ہم لوگ باہر جا رہے تھے تو ایک جوان نے آ کر کہا کہ آپ جئے الطاف کا نعرہ لگائیں ۔ ۔ تو میں نے انکار کیا اور کہا میں ایک استاد ہوں ، میں کوئی ایسی بات نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ تو میری کنپٹی پر اسنے ٹی ٹی رکھ دی ۔ ۔ اور پھر مطالبہ کیا ۔ ۔ مجھ سے میرے ساتھیوں نے کہا کہ کہ دو کہنے میں کیا حرج ہے مگر میں نے کہا نہیں ۔ ۔ یہ روز کا معاملہ ہے ۔ ۔ ۔ اسنے بہت دھمکایا مگر میں نہیں مانا ۔ ۔ ۔ اسنے کہا کہ تم پھر کبھی ملیر میں قدم نہیں رکھ سکو گے ۔۔ ۔ میں نے کہا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ایسا ہی ہو گا اگر نہیں تو میں اللہ سے نہیں لڑ سکتا ۔ ۔ ۔ اتنے میں لال مسجد والے ۔ ۔ ۔ آ گئے اور مجھے سر کہ کہ مخاطب کیا تو انہیں پتہ چلا کہ میں واقعٰی پڑھاتا ہوں ۔ ۔ تو اسنے معذرت کی ۔ ۔ میں نے کہا اللہ تمہیں معاف کرے ۔ ۔ ۔ آج یہ سارے واقعیات میری آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چل رہے ہیں ۔ ۔ ۔۔ میں نے اسکے بعد بھی وہاں پڑھایا ۔ ۔ ہمارا انسٹیٹیوٹ ملیر کا پہلا سندھ بورڈ کا امتحان دینے والا انسٹیٹیوٹ بنا ۔ ۔ ۔ جاوید ، ثروت ، فرح ، اقبال اور بہت سارے میرے اسٹوڈنٹ جنہوں نے بورڈ کے لوگوں کو حیران کیا ، کیونکہ ملیر کو کمپیوٹر کے حوالے سے بہت پسماندہ گردانا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مگر ملیر کے بچوں نے اسے غلظ ثابت کیا ۔۔ ۔ اور آج ملیر میں بہت کچھ ہو رہا ہے دوکانیں ہیں انسٹیٹوٹ ہیں ۔ ۔ ۔ مگر وہ پندرہ سولہ سال پہلے والی چیز شاید بہت کم لوگوں کو یاد ہو ۔ ۔ ۔ کہ ٹوکن کے اسٹاپ پر ایک انسٹیٹیوٹ ہوتا تھا میرے خیال میں اب وہاں ایک اسکول ہے ۔ ۔ ۔ پھر مدینہ میڈیکل کالا بورڈ کا پروگرام جب بنایا تو ۔ ۔ اتنے اچھے انسان سے ملا جو بہت کم لوگ ہوتے ہیں ایسے ۔ ۔ جو لوگ کچھ جاننا چاہیں کہ کیا زندگی ہوتی ہے ان سے ملیں ۔ ۔ ۔ یادوں کی کتاب بہت بڑی ہے ۔ ۔ ۔ میں نے بتایا نا کہ وہ دس سال میں نے بھاگتے ہوئے گذارے ۔ ۔ ۔ ہر طرح کے لوگوں سے ملا ۔ ۔ ۔ ہر طرح کے لوگوں نے مجھے عزت دی ، کیا میں گلبرگ کے رضوان کو بھول جاؤں ؟ جس نے مجھے بھائیوں جیسا پیار دیا ، کیا میں آئی سی ٹی گلشن اور کیمبرج ملیر کے اسٹوڈنٹس کو بھلا دوں جو مجھے اتنی عزت دیتے تھے کہ بعض دفعہ مجھے خود شرمندگی ہوتی تھی ۔ ۔ ۔کہ شاید میں خود کو اتنا قابل نہیں سمجھتا ۔ ۔ ۔ مگر اللہ نے مجھے بہت عزت دی ۔ ۔ ۔اور شہرت بھی ۔ ۔ کہ ایک وقت میں گلبرگ میں اسٹوڈنٹ سر اظہر کے لئے آیا کرتے تھے ۔ ۔ اور وہ علاقہ سارے کا سارا اردو اسپیکنگ کا ہے ۔ ۔ ۔ اور سب کو معلوم تھا کہ سر اظہر اردو اسپیکنگ نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مگر پھر بھی کبھی کسی نے یہ احساس نہیں دلایا ۔ ۔ تو میں کسی اردو اسپیکنگ کو کیسے برا کہ دوں ۔ ۔ میرے آج بھی جو بہترین دوست ہیں وہ کراچی سے ہیں ۔ ۔ ۔ کیوں ۔ ۔ اسلئے کہ یہ شہر محبتوں کا شہر ہے ، ہر ایک کے لئے بازو کھولے رکھتا ہے ۔۔ ۔ میں نے اس شہر کو سجتے دیکھا ہے ، میں نے جب پہلی بار دبئی دیکھا تھا تو مجھے کراچی اور دبئی میں کوئی فرق نظر نہیں آیا تھا اور ابھی تک نہیں آتا سوائے ان نعروں کے جو دیواروں پر لکھے ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ جیسے دبئی میں آپکو ہر نسل ہر قوم کے لوگ نظر آتے ہیں اور ملکر رہتے ہیں کراچی بھی ایسا ہی شہر ہے ۔ ۔ ۔ کبھی کبھی جب آنکھیں موند کر میں ستر کی دہائی میں جاتا ہوں جب میرے والد مرحوم کراچی میں آئ سی پی میں ملازمت کرتے تھے ، تو میں ڈبل ڈیکر بس میں جایا کرتا تھا اور ضد کر کہ اوپر والے حصے میں بیٹھتا تھا ۔ ۔ کیونکہ اس سے گاڑیاں چلتی اچھی لگتیں تھیں ، بلڈنگ اچھی لگتی تھی اور خاصکر فرئیر ہال اور سٹی کورٹ کی بلڈنگ خالق دینا ہال ۔ ۔ اور کیا کیا ۔۔ ۔ لکھوں ۔ ۔ ۔ اور جب آج سے سات سال پہلے میں کراچی ائیر پورٹ پر لینڈ کر رہا تھا تو دبئی اور کراچی کی لائٹس ایک جیسی لگیں ۔۔ ۔ اور بے اختیار احمد رشدی کا یہ گیت زباں پر آ گیا
شہر کا نام ہے کراچی
شہر کا نام ہے کراچی بابو جی ذرا ہٹ کہ بچ کہ ہم کراچی والے ، گورے ہوں یا کالے
بچ کہ رہنا مسٹر ، ہیں بڑے متوالے کہ ذرا ہٹ کہ بچ کہ ۔۔ ۔ کبھی سنیے گا مزہ آئے گا ۔ ۔
یادیں تو بہت ہیں ۔ ۔ جو وقتاً فوقتاً لکھتا رہوں گا ۔۔ مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ میری آنکھوں سے اس رکشہ ڈرائیور کی موت نہیں ہٹتی جسے شاہراہ پاکستان پر روکا گیا اور کہا گیا کہ جئے الطاف بولو اور جب وہ اکڑ گیا تو اسے کتنے ہی لوگوں کی موجودگی میں گولی مار دی گئیں ۔ ۔ اور مجھے یاد ہے کہ میرے منہ سے دو دن تک صحیح طرح سے الفاظ نہیں نکلتے تھے ۔ ۔ ۔ مگر شاید اب وقت بدل گیا ہے ۔ ۔ ۔ کاش بدل جائے ۔۔ اور بندر روڈ سے کیماڑی تک چلنے والی گھوڑا گاڑی ۔ ۔ ۔ ویسے ہی گاتی جائے جیسے آج سے کچھ سال پہلے جاتی تھی ۔ ۔ اور واجہ بھائی ۔ ۔ پتھروں والے ڈبے سے گدھے کو دوڑاتے تھے ۔ ۔ ۔ جب ریڈیو پاکستان کراچی سے مجھے ارشاد حسین کاظمی کی آواز آتی تھی تو ریڈیو بند کرنے کا دل نہیں کرتا تھا ۔۔ ۔ ۔۔ مگر شاید اب سب کچھ بدل گیا ہے ، کل ہی ارشاد حسین بھی چلے گئے ۔ ۔ ۔ رئیس امروہی تو کب کے گئے ۔ ۔ ۔ اب عالی جی ہیں ۔ ۔ اور فرمان فتح پوری ، جمیل جالبی جیسے لوگ ہیں ۔ ۔ جو ہمارے استاد ہی نہیں رہبر بھی رہے ہیں ۔ ۔ ۔ اللہ کراچی کو وہ بیتے دن لوٹا دے ، جس سے یہ شہر عروس البلاد کہلاتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔(آمین) |
|
|