Azhar Ul Haq 的个人资料اظہرالحق کی دنیا - Azhar...日志列表 工具 帮助

日志


2009/10/23

ایگری کلچر کنٹری Agreeculture country

چلیں جی ، جماعت اسلامی نے عوام سے پوچھ لیا ، کہ کیری لوگر بل چاہیے کہ نہیں ، ظاہر ہے چونکہ جماعت اسلامی کا جواب نہیں تھا اسلئے عوام نے بھی نہیں بولا، یعنی عوام کی زبان جماعت کی زبان ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟
اچھا ادھر بھی دیکھیں ، ہمارے وزیر مداخلہ کا بھی کہنا ہے کہ عوام اب ساتھ دے رہی ہے حکومت کا ، یعنی حکومت جو کچھ کر رہی ہے ، عوام بھی وہ ہی چاہ رہی ہے  ۔ ۔ ۔ یعنی جو حکومت کی بات وہ ہی عوام کی بات  ۔ ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟؟
اوہ ہو، آپ چینل بدل بدل کر کیوں دیکھ رہے ہیں ایک ہی چینل پر سب کچھ آتا ہے ، سوائے میز اور میزبانوں کے کچھ بھی فرق نہیں ، اور سب میڈیا بھی یہ ہی تو کہتا ہے نا  ۔ ۔  کہ عوام کی آواز ۔ ۔ ۔ میڈیا کی آواز  ۔ ۔  ایک ہی  ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟؟
آہا ، یہ ہمارے تاجر بھائی ہیں ، ساری کی ساری معیشت انکی دُم  ۔ ۔  اوہ سوری  ۔  ۔ انکے دَم سے چل رہی ہے ، بے چارے کبھی عدالت کی کھاتے ہیں کبھی دھشت گردوں کی  ۔ ۔ ۔ اور پھر بھی عوام انکی عظمتوں کی قائل ہے ، وہ چینی چالیس کی بیچیں یا ایک سو چالیس کی  ۔ ۔ ۔ عوام کو کوئی اعتراض نہیں  ۔ ۔ ۔ سو عوام انکے ساتھ اور وہ عوام کے ساتھ  ۔ ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟؟
اور ہاں جی زرا ابھی غازیوں کی طرف بھی نگاہ کریں ۔ ۔ ۔ ۔ آئی  ۔ایس پی آر (اس میں آئی اور آر اردو کا ہے باقی فرنگی زبان کا ، آر کے بعد پار لگانا مت بھولیے گا )  ۔ ۔  ۔ شہادتیں ہو رہیں ہیں ، دونوں طرف سے یعنی مارنے والا بھی جنتی اور مرنے والا بھی  ۔ ۔ ۔ اصل میں پہلے شہادت کی سند فوج جاری کرتی تھی اعزاز وغیرہ دے کر ، اب تو دوسری پارٹی بھی سند جاری کر رہی ہے ، بلکہ شہادت سے پہلے ایڈوانس میں  ۔ ۔ ۔ ۔  اور دونوں کا دعویٰ ہے کہ عوام انکے ساتھ ہیں  ۔ ۔ ۔  یعنی فوج عوام اور طالبان سب ٹھیک ۔۔۔۔۔ ہیں جی ؟؟؟؟؟
ارے میں تو اپنے جج صاحبان کو بھول گیا جنہیں کُرد بھائی فرعون بھی کہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ مگر سمجھ نہیں آتا کہ کہا جاتا ہے کہ ہر فرعون را موسٰی یعنی ہر فرعون کے لئے ایک موسٰی ہوتا ہے  ۔ ۔ ۔ مگر اتنے سارے فرعونوں کے لئے  ۔ ۔ ۔  ایک بھی موسٰی نہیں  ۔ ۔ ۔ ویسے بھی عوام فرعونوں سے راضی ہے  ۔ ۔  تو انصاف اور عوام راضی تو کیا کرے گا قاضی  ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟؟؟

بہت سوچا کہ آخر ایسا کیسے ممکن ہے کہ سب کے سب ٹھیک ہوں اور عوام سب کے ساتھ ہو!!!!!!!  اور پھر جواب مل گیا  ۔ ۔ ۔ ۔ جی ہاں جواب مل گیا   ۔ ۔ ۔ اصل میں ہمارا ملک ایگری کلچر کنٹری Agreeculture country  ہے  ۔ ۔ ۔  یعنی ہمارا کلچر ہے ایگری ہونا  ۔ ۔  ۔سو ہم ہر چیز سے ایگری ہیں  ۔ ۔ ۔ بلکہ ہم ایگری سے بھی ایگری ہیں اور ناٹ ایگری سے بھی ایگری یعنی ایگری ہیں  ۔ ۔  اور ظاہر ہے یہ ہمارا کلچر ہے اور سب کچھ بدل سکتا ہے ہمارا کلچر نہیں  ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ اور وہ بھی ایگری کلچر !!!!
مجھے یقین ہے آپ میرے سے ایگری ہوں گے  ۔ ۔ ۔  ہیں جی ؟؟؟؟
2009/9/19

میرا سلام

ایک دوست نے مدینے میں روضہ رسول (ص) پر میرا سلام دیا
 
قبول کر لیں سلام میرا، ایک عاصی یہ کہتا ہے
عاجزی کا بیغام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
نہیں مقدر میرا تو ، مدینے جانے والوں سا
مجبوری ہے نام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
آؤں طیبہ کی ہوا میں ، پیاس بجھ جائے برسوں کی
بھر جائے یہ جام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
موت آ جائے نہ میری ، مدینے جانے سے پہلے
زیست کا ہے اختتام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
اظہر اس بات پر نازاں ، کہ سلام ان تک پہنچا
شاید اتنا ہی دام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
2009/9/15

نعت


ہر درد کی دوا، نام آپ کا
ہر اک کا آسرا ، نام آپ کا
 
آپ ہی تو ہو وجہ دوجہاں
ابتداء اور انتہا ، نام آپ کا
 
گناہ کا مرض لگ جائے اگر
اس کے لئے شفاء، نام آپ کا
 
سب سے ارفع سب سے اعلٰی
رب نے ہے کہا، نام آپ کا
 
آدم کو کر دیا خدا نے معاف یوں
جب واسطہ بنا ، نام آپ کا
 
میں کہاں، کہاں آپکی ثناء
بس لکھتا رہا ، نام آپ کا
 
اظہر مجھے سکوں ہی ملا
جب بھی لے لیا ، نام آپ کا
 

مناجات

اے میرے خدا اے میرے خدا
ہم پر رحمت کا مینہ برسا
 
تنگ ہوئی ہم پہ یہ زمیں
روٹھا ہوا ہے عرش بریں
کس کو سنائیں حال اپنا
تیرے سوا تو کوئی نہیں
 
 
بس تو ہی تو ہے  آسرا  ۔ ۔ ۔  ۔
اے میرے خدا اے میرے خدا
 
 
ہم عاصی ہیں ہم نافرماں
ہم بھولے ہیں تیرا قرآں
ہم دنیا داری میں کھوئے
خسارے میں ہیں ہم  ناداں
 
 
معافی کی ہم مانگیں دعا

اے میرے خدا اے میرے خدا

 

تجھے واسطہ شاہ یثرب کا
تجھے واسطہ فاتح خیبر کا
تجھے واسطہ شہید کربل کا
تجھے واسطہ تیری رحمت کا
 
 
میں گر چکا ہوں مجھ کو اٹھا
اے میرے خدا اے میرے خدا
 
 
میرے دیس کو خوشحالی دے
میرے شہر کو رُت متوالی دے
میری گلیوں کو روشن کر دے
میرے گھر کو حُسن جمالی دے
 
 
ہمیں اپنی رحمت میں لے چھُپا
اے میرے خدا اے میرے خدا
2009/9/3

ایک کیو ایم - مزید باتیں اور جوابات

انکل اجمل نے میری ایم کیو ایم کی تحریر کو اپنے بلاگ پر جگہ دی ، جسکے لئے میں انکا شکر گذار ہوں ، آج میں اسی پوسٹ سے جڑے ہوئے کچھ سوالوں کے جواب دے رہا ہوں ، مگر پہلے کچھ میرے اپنے بارے میں تاکہ آپ لوگ سمجھ سکیں کہ یہ مضمون لکھنے والا کون ہے  ۔ ۔ ۔
- پہلی بات میری پیدائش کراچی میں نہیں ، پنڈی میں ہوئی تھی ، لیکن میرا بچپن ، جوانی کراچی میں ہی گذری ، پہلی کلاس سے گریجویشن تک تعلیم میں کراچی میں ہی حاصل کی ١٩٧٦ سے لیکر ١٩٩٩ تک میری فیملی بھی کراچی میں ہی تھی ، مگر اب پنڈی شفٹ ہو چکے ہیں
- میرا تعلق ایک کشمیری گھرانے سے ہے ، ہمارے آباء  کشمیر سے آ کر پنڈی میں آباد ہوئے ، اور میں مہاجر نہیں ہوں ، ہاں کراچی میں ہماری حیثیت مہاجروں کی سی تھی ، کیونکہ ہم نے زندگی وہاں گذاری اور اپنے وطن (یعنی پنڈی) میں بعد میں آئے ، مگر میں آج بھی کراچی کو اپنا شہر سمجھتا ہوں ، وجہ یہ ہے کہ میں تو پچھلے دس سال سے بیس دن سے زیادہ پنڈی نہیں رہا
- اور مہاجر (یعنی اردو اسپیکنگ) کے لوگوں سے میرا تعلق اتنا گہرا ہے کہ میری دو بھابھیاں خالص اردو اسپیکنگ فیملی سے ہیں ، اور انکی فیملیاں ایم کیو ایم کی کتنی قریب ہیں ، وہ یہ ہے کہ ان فیملیز میں دو “یونٹ انچارج“ ہیں  ۔ ۔ ۔
- میرے دوستوں میں زیادہ تر اردو اسپیکنگ ہیں ، اور انکا تعلق کراچی سے ہے ، اور وہ ایم کیو ایم کے بہت نزدیک ہیں ، مگر وہ ان لوگوں میں سے ہیں ایم کیو ایم کے جو تنقید برداشت بھی کرتے ہیں اور غلطیوں کو مانتے بھی ہیں ، اور بہت اچھے انسان ہیں ، اور اسی لئے وہ میرے دوست ہیں آج تک   ۔ ۔  ۔ ۔ 
- میں نے دس سال کراچی کے مختلف اسٹیٹیوٹ میں کمپیوٹر پڑھایا ہے ، پیٹرومین ، آئی سی ٹی اور ایڈوانس کمپیوٹر اکیڈیمی ، کیمبرج کمیپوٹر اور فاسٹ جیسے انسٹیٹیوٹ میں رہا ہوں  ۔ ۔  اور مجھے فخر ہے کہ ملیر میں میں پہلا انسٹریکٹر تھا جسنے ملیر جیسے ایریا میں سندھ ٹیکنیکل بورڈ سےمنظور کروایا اور ان کے اسٹوڈنٹس کو وہ جگہ دلائی جو اس زمانے میں صرف بڑے انسٹیوٹ کے لئے سمجھا جاتا تھا اور  ۔ ۔  یاد رہے میرے سارے اسٹوڈنٹ اردو اسپیکنگ تھے
- اور میں ہی وہ بندہ ہو جسنے کراچی کی پبلک لائبریری کو کمپوٹریز کیا تھا ، آپ کراچی کے ہمدردوں کو کتنی لائبریریز کا معلوم ہے ؟  تیموریہ ، یا لیاقت لائبریری  مگر فرئیر ہال لائبریری ، غالب لائبریری اور کورنگی اور اورنگی کی لائبریریز کو کون جانتا ہے ؟
- یاد رہے یہ میں اس وقت کر رہا تھا جب کراچی میں ایم کیو ایم ایک طاقت بن چکی تھی ، آپ نے ایم کیو ایم کی تنقید کا حصہ پڑھا مگر کسی نے ایڈمینسٹیریٹر فارق ستار کا پیراگراف پڑھا ہے ؟ ، کسی نے ایم کیوایم کے ان بچت بازاروں کا حصہ پڑھا ؟
- دوستو میں ایم کیو ایم کا مخالف نہیں ، میرے کالج میں یہ جماعت موجود تھی ، میرے محلے میں موجود تھی میرے گھر میں موجود تھی   ۔۔ ۔ ۔ سو کیا میں ایم کیو ایم کو نہیں جانتا؟؟
- ایک بات پتہ نہیں میں کیوں نہیں کہنا چاہتا تھا مگر اب کہنی پڑ رہی ہے ، میں اسی ٨٠ کے آخر سے ٩٠ کے درمیان تک ، میں میڈیا میں کافی ایکٹیو رہا ، یاد رہے یہ پاکستان میں پی ٹی وی کی اجارہ داری کے خاتمے کا آغاز تھا اور این ٹی ایم اور ایس ٹی این جیسا میڈیا شروع ہو چکا تھا ، میں ان دنوں ٹی وی ، ریڈیو اور فلم (ایسٹرن فلم اسٹیوڈیو میں شوٹنگ ہوتیں تھیں ) اور اسٹیج میں برابر حصہ لیتا تھا ، بے شک میرا زیادہ کام آف دا اسکرین ہے مگر شاید اب بھی کچھ لوگوں کو “اے ہاشمی“ یاد ہو  ۔ ۔
- یہ میری خود نمائی (اللہ مجھے معاف کرے ) صرف اسلئے بیان کر رہا ہوں کہ آپ دوستوں کو پتہ چلے کہ میں یہ باتیں کس بنیاد پر کرتا ہوں ، میرے ایک کالج فیلو کو قائد کے غدار کے طور پر قتل کر دیا گیا تھا ، اسکی ماں نے اسے اسکی انگلیوں سے پہچانا  ۔ ۔ ۔
- آپ کو شاید یاد نہ ہو میں یاد دلاتا ہوں کہ لاشوں کو عورتوں نے کندھا دیا ، بے شک مگر آپ کو معلوم ہے کیوں ؟ اسلئے نہیں کہ مرد نہیں تھے ، بلکہ انہیں مجبور کیا گیا تھا  ۔ ۔ ۔  ۔  ورنہ اس وقت کے اخبار میں ایم کیو ایم کے ایک ہمدرد ندیم کمانڈو کی نماز جنازہ تین پولیس والوں نے ادا کی تھی  ۔ ۔  ۔ جسکی تصویر اس وقت کے اخبارات میں موجود ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ 
- چلیں یہ سب اسٹیبلشمنٹ کی کارستانیاں تھیں ، فوج کو ایم کیو ایم سے خار تھی  ۔ ۔ ۔ مگر کوئی صرف اتنا بتا دے کہ کھجی گراؤنڈ میں کن لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا ، اور وہاں پولیس کے داخلے پر گھر گھر سے کیوں پتھراؤ ہوتا تھا ؟
- اگر آفاق اور عامر ایجنسیوں کے بندے ہیں تو آج بھی حقیقی کے علاقوں میں الطاف حسین کو کیوں برا سمجھا جاتا ہے ؟
- جو لوگ شاہ فیصل کالونی کے رہنے والے ہیں انہیں معلوم ہے ، کہ اسی چوراہے پر جہاں الطاف حسین کی تصویر پر روز تازہ پھول چڑھائے جاتے تھے وہیں اسی تصویر پر جوتوں کے ہار بھی پڑے !!!!!!!!
- آپ کیوں بھول جاتے ہیں اس زمانے میں جن جوانوں کے قتل پر الطاف بھائی خون کے آنسو روتے تھے ، انکے نام کیا تھے ؟ کیا وہ نام شریف لوگوں کے ہوتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔؟؟؟
- کیا الطاف بھائی نے مہاجر قوم کو اپنا سونا بیچ کر ہتھیار خریدنے کو کیوں کہا ؟ اور شاید میری بھلکڑ قوم طالبان کے آمد کے غوغے پر الطاف بھائی کے ہتھیار خریدنے کے بیان کو بھول چکے ہیں  ۔ ۔ ۔ تو پھر بیس سال پہلے کا بیان کہاں یاد آئے گا
اب میں ایک اور طرف آتا ہوں ، جہاں مہاجر قومی مومنٹ ، متحدہ قومی مومنٹ بنی  ۔ ۔  ۔ ۔  اور حقیقی کہاں سے آ گئی ، حق پرست کون تھے ؟ اور پھر کہاں گئے ؟ جی ہاں یہ چولے بدلے جاتے رہے ہیں  ۔ ۔ ۔  ایم کیو ایم کے یہ نام تو یاد ہیں مگر آپکو پی پی آئی یاد ہے ؟ جی ہاں پنجابی پختون اتحاد ، کیا کوئی بتائے گا یہ پی پی آئی کیوں بنی تھی ، یہاں ایک تبصرے میں ایک قوم کی بات کی گئی تھی ، میں نے اس “حملے“ کی وڈیو دیکھی تھی ، جسکا آغاز ایک سین سے ہوتا ہے جس میں اس مخصوص قوم کے گھر کو جلایا جا رہا تھا کہ کچھ بچے بھاگ کر نکلے اور انہیں پکڑ کر دوبارہ اسی آگ میں اچھال دیا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر ایک آبادی کو دیکھایا گیا جس کو “علاقہ غیر“ سے آنے والے لوگوں نے گھیرا اور پھر  ۔ ۔  ۔ ایک ایک گھر کو جلایا گیا اور وہ ہی کیا گیا جو انکے ساتھ ہوا تھا  ۔  ۔ ۔  میں ان کو الفاظ میں کیسے بیان کروں  ۔ ۔  ۔  بس انسان کو درندہ بنتے دیکھا ہے میں نے  ۔ ۔ ۔ ۔
خیر جب مہاجر قومی موومنٹ کو اپنی طاقت بنانے کے لئے جن لوگوں کا سہارا لیا تھا وہ کسی نہ کسی طرح جرائم میں ملوث تھے ، جب ایم کیو ایم نے دھونس دھاندلی سے جگہ بنا لی ، مگر ظاہر ہے آپ چاہے کتنے ہی طاقت ور ہوں ، اقتدار کے ایوانوں میں غنڈہ گردی نہیں چل سکتی ، وہاں غنڈہ گردی بڑی سطح پر کی جاتی ہے ، اس لئے مہاجر قومی موومنٹ نے “شدت پسند“ عناصر کو خود سے الگ کرنا چاہا ، تو ظاہر ہے وہ لوگ تو اس جماعت کو اوپر لے کر آئے تھے انکا اثر اتنی جلدی نہیں جا سکتا تھا  ۔ ۔ ۔  اس لئے ایک اچھے آدمی جسے دنیا عظیم طارق کے نام سے جانتی تھی ، اسنے ایم کیو ایم کو ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی شروع کی  ۔ ۔ ۔  تو انہیں وہ ہی صلہ ملے جو “غداروں“ کو ملتا ہے  ۔ ۔  ۔
اب ایم کیو ایم حق پرست جماعت بنی  ۔ ۔ ۔  اور پھر صوبائی اسمبلی سے قومی اسمبلی تک پہنچی ، ایم کیو ایم نے دو اتنخابات میں سمجھ لیا تھا کہ اسمبلیوں میں “شدت پسند“ نہیں بلکہ “چُپ شاہ“ جیسے لوگ چاہیے جو “خادم“ رہیں  ۔ ۔۔  اور پھر ملکی سطح پر قوم پرست جماعت کو وہ اہمیت نہیں مل سکتی تھی جو ایک سیاسی جماعت کو ملنی چاہیے ، اس کی مثالیں جئے سندھ تحریک اور سرائیکی تحریک اور بلوچی تحریک کے اسمبلی ممبران کی تھیں  ۔ ۔ ۔ ۔  اسلئے ملکی سطح پر چولا بدلا گیا  ۔ ۔ ۔  اور ایم کیو ایم نے یہ بھی سمجھ لیا تھا کہ عوامی بھتے سے انکا امیج متاثر ہو رہا تھا ، اور پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے ساتھ قربت سے بھی انہیں بہت کچھ سیکھ لیا تھا کہ “کمانے“ کے اور بہت اچھے ذریعے ہیں  ۔ ۔ ۔   جیسے ٹھیکوں میں کمیشن اور کمیشن پر ٹھیکے  ۔ ۔  ۔
سو ایم کیو ایم اب ایک سیاسی جماعت بن چکی ہے ، بالکل پی پی اور ن لیگ کی طرح ، اس میں وہ ہی سوچ ہے جو کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو سکتی ہے ، اقتدار کا راستہ اسمبلیوں سے ہو کر جاتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اب یہ جماعت اسی پر کاربند ہے 
اچھی بات یہ ہوئی ہے ، کہ یہ جماعت اب مڈل کلاس کی نمائیندہ بننے کی اہل ہے ، مگر اسکے لئے اسے اپنے ماضی سے تعلق توڑنا ہو گا اور قوم سے معافی مانگنا ہو گی ، اور اگر یہ لوگ اپنی غلطیوں کو نہیں مانیں گے تو پھر یہ ہمیشہ “متنازعہ“ رہیں گے  ۔ ۔  ۔ اور  کراچی کو منی پاکستان ہی رہنا ہو گا  ۔ ۔ ۔ 
باقی رہی الطاف حسین کی بات تو ظاہر ہے ہر سیاسی پارٹی شخصیت پرستی پر چلتی ہے ، ن لیگ کو نواز شریف چاہیے ، پی پی کو زرداری ، تو شخصیت پرستی ہر جماعت میں ہے ، تو پھر اس جماعت پر اعتراض کی وجہ کوئی نہیں ہونی چاہیے ، مگر پاکستانی جماعت کا لیڈر پاکستان میں ہی ہونا چاہیے ، کم سے کم کبھی کبھی پاکستان کا دورہ ہی کر لیا کرے صدر زرداری کی طرح  ۔ ۔ ۔ ۔
 
2009/9/1

بے نقاب سازش - عمران سیریز ایکسٹرا - آخری حصہ

ملک بھر میں امریکہ سفارت خانے کی توسیع کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے ،  انور کو مزید تفصیلات عمران دے رہا تھا جو کہ مغربی اور عرب سفارت خانوں سے حاصل کی جا رہی تھیں اور انور کا چینل انہیں بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کر رہا تھا ، امریکی حکومت نے اسکو سنبھالنے کے لئے نئے سفارت خانے میں بریفنگ کا انتظام کیا تھا ، صدر ، وزیر اعظم اور آرمی چیف کے ساتھ ساتھ نئے سیکرٹ سروس کے چیف مسٹر آر کو بھی مدعو کیا گیا تھا ، اسکے علاوہ تمام ممالک کے سفیر بھی موجود تھے ، ایک فوجی افسر نے سلائیڈز کی مدد سے نئے سفارت خانے کی توسیع کا ماڈل پیش کیا ، اور صدر اور وزیر اعظم اور چیفس کو وہ جگہ دکھائی گئی جسکے بارے میں انور کی رپورٹنگ تھی اور کہا گیا کہ یہ سرنگیں نہیں بلکے تہ خانے بنائے جا رہے ہیں ، جہاں پر ، بھاری اسلحہ رکھا جائے گا ، مگر جب آرمی چیف نے کہا کہ یہ تو بہت خطرناک ہو گا تو کہا گیا کہ اسکے لئے خصوصی انتظامات کئے جا رہے ہیں ، مگر مسٹر آر نے کہا کہ یہ مشینری اور وہ مشینری جو انور کی فوٹیج میں ہے بہت مختلف ہے ، اور یہ مشینری تہ خانے بنانے کے لئے استعمال نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ علاقہ کچے پتھروں کا ہے  ۔ ۔  ۔
ہمیں یقین تھا کہ آپ میں سے کوئی بھی اس بات کو سمجھ جائے گا  ۔ ۔ ۔  اس لئے ہم نے پلان بی تیار کیا ہے ، امریکی سفیر نے زہر خند لہجے میں کہا
پلان بی  ۔ ۔ ۔  صدر کے منہ سے نکلا
چینی سفیر کی بات پر آپ کو یقین ہو گا نا کیونکہ وہ آپکا قریبی دوست ہے اور آپکو اسپر اعتماد بھی ہے ہم نے ایسا ہی سفارت خانہ بیجنگ میں بنایا ہے  ۔ ۔
اتنے میں چینی سفیر وہاں پر آ گئے ، انکے ساتھ ایک بالکل دبلا پتلا مگر لمبا چینی تھا  ۔ ۔  ۔
آپ کیا کہتے ہیں سفیر صاحب
مسٹر پریزیڈنٹ ، مجھے آپ سے اکیلے میں بات کرنی ہے ، چینی سفیر نے بے باک انداز میں کہا
ہز ایکسلینسی ، یہ ہماری زمین ہے آپ کو ہمارے سامنے بات کرنی ہو گی  ۔ ۔
اوکے پھر میں جاتا ہوں  ۔ ۔  ۔ چینی سفیر مڑے ہی تھے کہ انکے سامنے انکا ہی آدمی انہیں روک کہ کھڑا ہوا گیا
انہوں نے چینی میں اسے کچھ کہا  ، تو اس نے بھی چینی میں کچھ کہا  ۔ ۔ ۔
مسٹر چانگ ، یہ ہمارا ہی آدمی ہے  ۔ ۔ ۔  سنگ ہی  ۔ ۔ ۔ ۔  امریکی سفیر نے کہا
ادھر ٹائگر اور چیف سچوائشن سمجھ چکے تھے ٹائگر ایکشن کے لئے ریڈی تھا مگر مسلہ صدر اور وزیر اعظم کا تھا ، اتنے میں چھے امریکی فوجی گنوں کو تانے ہوئے نمودار ہوئے
یہ کیا ہے  ۔ ۔ ۔  وزیر اعظم کی آوز حیرت سے بیٹھ گئی تھی
دوستو  ۔ ۔  ۔  اس جانب  ۔ ۔ ۔
یہ کیا بدتمیزی ہے  ۔ ۔  ۔  صدر صاحب نے شاید پہلی بار گڑ بڑ محسوس کی
آپ نے ایک معاہدے پر دستخط کرنے ہیں مسٹر پریزیڈنٹ
کونسا معاہدہ  ۔ ۔ ۔
وہ گنوں کی چھاؤں میں ایک کانفرنس روم میں پہنچ چکے تھے ، امریکی سفیر نے کہا تشریف رکھیے  ۔ ۔  ۔
اور سامنے رکھے انٹر کام پر کہا ، ڈاکومنٹ لے آؤ  ۔ ۔
ایک دروازہ کھلا اور ٹائگر اور چیف کو اپنی حیرت اور خوشی چھپانے کے لئے بہت ہی کنٹرول کرنا پڑا
دروزاے سے اندر ایک مرد اور دو عورتیں آئیں تھیں ، اور مرد کوئی اور نہیں عمران تھا ، انکے ہاتھ میں فائیلیں تھیں جنہیں صدر ، امریکی سفیر اور چینی سفیر کے سامنے رکھ دیا گیا
صدر نے فائل کھولی اس میں ایک ہی صفحہ تھا  ۔ ۔ ۔ صدر اسے پڑھتے گئے اور انکا چہرہ غصے سے لال ہوتا چلا گیا  ۔ ۔ ۔ انہوں نے فائل وزیر اعظم کی طرف بڑھائی  ۔ ۔ ۔  ادھر چینی سفیر کا بھی وہی رد عمل تھا جو صدر کا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔
یہ کیا بکواس ہے  ۔ ۔ ۔ ہم اپنے ایٹمی پروگرام اور چینی دوست کے ساتھ تعاون کو کبھی ختم نہیں کر سکتے  ۔ ۔ ۔ وزیر اعظم کی آوز جیسے گرج تھی
تم بھول رہے ہو مسٹر کہ چین اب ایک سپر پاور ہے  ۔ ۔ ۔  چینی سفیر نے بھی تیز آواز میں کہا
ٹائگر اور چیف اب سارا کھیل سمجھ چکے تھے اور عمران سنگ ہی کے پاس پہنچ چکا تھا  ۔ ۔ ۔  جو اسے دیکھ کر دانت پیس رہا تھا
تمہیں یہ سائن کرنے پڑیں گے  ۔ ۔ ۔ امریکی سفیر نے چلا کہ کہا
اور ساتھ ہی فون کے لاؤڈر سے امریکی صدر کی آواز آئی
گڈ آفٹرنون دوستو  ۔ ۔ ۔
مسٹر پریزیڈنٹ یہ سب کیا ہے  ۔ ۔ ۔ صدر صاحب نے نرم لہجے میں پوچھا
یہ ضروری ہے ، اگر آپ اسے نہیں کریں گے تو  ۔ ۔ ۔ آپکی امداد ختم کر دی جائے گی اور آپکو قرض دینے والی کمپیوں کے انڈر کر دیا جائے گا ، اور پھر آپ یہ جو تھوڑی سی پالیسی بنا سکتے ہیں وہ بھی نہیں کر پائیں گے ، یہ مت بھولو کہ تمہارا ملک ہمارے پاس گروی رکھا ہے  ۔ ۔ ۔
ہم مر جائیں گے مگر اس پر سائین نہیں کریں گے  ۔ ۔  ۔ صدر صاحب نے اس دفعہ بہت ہی سخت ہلجے میں کہا
اتنے میں چین کے سفیر نے جیب سے ایک چھوٹا سا فون نکال لیا تھا اور وہ اپنے پریزیڈنٹ کو چینی میں سچوئشن بتا رہے تھے
تو پھر اپنے ملک کی بربادی کے لئے تیار ہو جائیں  ۔ ۔ ۔ ۔
مسٹر پریزیڈنٹ  ۔ ۔ ۔ چین کے سفیر نے تیز لہجے میں کہا ، اگر آپ نے انہیں مجبور کیا ، تو چائنا اپنا سارا سرمایہ امریکی مارکیٹ سے نکال لے گا ، اور آپ جانتے ہیں کہ اسکا کیا مطلب ہے  ۔ ۔  ۔
ہز ایکسیلنسی آپ کو ہم مغربی بندر گاہ پوری دے دیں گے  ۔۔ ۔ امریکی صدر نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا
وہ پہلے ہی ہمارے پاس ہے ، ہم اپنے دوستوں کو تنہا نہیں چھوڑتے  ۔ ۔ ۔
ٹھیک ہے اگر آپ سائن نہیں کریں گے ، تو پھر آپ کے جسموں میں ایسا انجیکشن لگایا جائے گا کہ آپ کل ہی ختم ہو جاؤ گے  ۔  ۔۔
ہم مرنے کے لئے تیار ہیں  ۔ ۔  ۔ ۔ مگر ملک سے غداری نہیں کریں گے  ۔ ۔ ۔
میں اپنے ملک کو تمہاری کرتوت بتا رہا ہوں چینی سفیر نے موبائل اپنے کان سے لگایا ہی تھا کہ سنگ ہی نے اسے جھپٹ لیا ، عمران نے سنگ ہی کو پکڑ لیا تھا مگر وہ بام مچھلی تھا پھسل گیا  ۔ ۔  ۔ 
امریکی سفیر نے فوجیوں کو اشارہ کیا ، وہ سب اپنی گنیں اٹھا کہ صدر اور وزیر اعظم پر تان دیں مگر انہیں فوجیوں میں سے دو ان فوجیوں کی کنپٹیوں پر گنیں لگا دیں  ۔ ۔ ۔  روشی اور جولیا نے امریکی سفیر کو کور کر لیا تھا عمران سنگ ہی کے پیچھے کھڑا تھا  ۔ ۔ ۔ ٹائگر اور چیف نے اپنی خفیہ جیبوں کے ہتھیار نکال لئے تھے اور انہوں نے بقیہ چار فوجیوں سے گنیں چھین لیں تھیں  ۔ ۔  جو اب جولیا اور روشی کے ہاتھ میں تھیں  ۔ ۔  ۔
امریکی سفیر اس سیکنڈوں کی کاروائی میں سُن ہو چکا تھا ،  عمران نے سنگ ہی کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
مسٹر امریکن پریزیڈنٹ ، آپ کا سفیر اور سارا سفارت خانہ ہماری سیکرٹ سروس کے قبضے میں ہے ، آپکو اب ہماری بات ماننا ہو گی
رابرٹ یہ کیا کہ رہا ہے  ۔ ۔ ۔
سر یہ ٹھیک کہ رہا ہے یہاں سچویشن بدل چکی ہے  ۔ ۔ ۔ ہم سب انکے قبضے میں ہیں ، ہمارے فوجی بھی انہیں کے آدمی نکلے ہیں
اوہ  ۔ ۔ ۔  ٹھیک معاہدے پر دستخط نہ کرو  ۔  ۔ ۔  رابرٹ انہیں جانے دو  ۔ ۔  مسٹر پریزیڈنٹ میں تکلیف کی معافی چاہتا ہوں
نہیں مسٹر پریزیڈنٹ ، تمہیں اب میری قوم سے معافی مانگنا ہو گی  ۔ ۔ ۔ عمران نے چیختے ہوئے کہا
واٹ ، تم کون ہو ، تمہں پتہ ہے کہ میں سپر پاور کا صدر ہوں  ۔ ۔ ۔ امریکی صدر کی آواز میں غرور تھا
تمہیں معافی مانگنا ہو گی سپر پاور  ۔ ۔  ۔ ورنہ اس سفارت خانے کے تہ خانوں میں موجود ان تمام لوگوں کو قتل کر دیا جائے گا جو تمہاری فوج کے بڑے دماغ ہیں
اوہ  ۔ ۔ ۔ رابرٹ انہیں کیسے پتہ کہ  ۔ ۔  ۔ ۔ اوہ  ۔ ۔  نو
سر یہ لوگ جانے کب سے ہمارے سفارت خانے کے اندر ہیں  ۔ ۔ ۔
اوہ یہ بہت بڑا سیکیورٹی بریج ہے  ۔ ۔ ۔  مسٹر میں اپنے مشیروں سے بات کرتا ہوں
نہیں کوئی ٹائم نہیں  ۔ ۔ ۔  آپ کے پاس دس منٹ ہیں وہ بھی کسی چینل کو بلانے کے
میں اپنے چینل کو بلا رہا ہوں ، عمران نے جیب سے اپنا موبائل نکال لیا  ۔ ۔  انور آ جاؤ   ۔ ۔
اور انور جیسے پاس ہی کھڑا تھا اپنے کیمرا مین کے ساتھ وارد ہو گیا  ۔ ۔ ۔ کیمرا مین نے اسے کیو دیا  ۔ ۔
ناظرین ہم اس وقت امریکی سفارت خانے میں موجود ہیں جہاں کچھ دیر پہلے ملک کے صدر اور وزیر اعظم کو یرغمال بنا کر زبردستی ایک معاہدے پر دستخط کے لئے مجبور کیا گیا اور اسکے ساتھ ہمارے دوست ملک چین کو بھی  ۔ ۔  ۔ انور ابھی اتنا ہی کہ پایا تھا کہ سنگ ہی اس پر پل پڑا ، عمران نے اسے اسکے بالوں سے پکڑلیا تھا ، انور سنبھل چکا تھا اسنے مائک ہاتھ میں لیکر پھر شروع ہو گیا ، یہ ناظرین ایک بین الاقوامی مجرم ہے  ۔ ۔  ۔  سنگ ہی  ۔ ۔ 
سنگ ہی کے منہ سے گالیوں کا طوفان آیا ہوا تھا وہ انگریزی چینی اردو میں اکھٹی گالیاں دے رہا تھا عمران اسے رگید رہا تھا ، کہ اچانک ایک فوجی نے اسکے سر پر اپنی مشین گن کا دستہ دے مارا ، یہ فوجی کوئی اور نہیں جوزف تھا ، ارے ارے چچا ہے میرا  ۔ ۔ ۔  ۔ کالیے  ۔ ۔ ۔
باس ایسے ہی ٹائم ضائع کر رہا تھا  ۔ ۔  ۔ ۔ اے مسٹر ٹم بولو ۔ ۔  کیا بولٹا ٹم  ۔ ۔  وہ انور کی طرف مڑا جو دم بخود کھڑا تھا  ۔  ۔
رابرٹ یہ لائیو کیسے جا رہا ہے ، شاید پریزیڈنٹ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا وہ کیا کہے  ۔  ۔ ۔
سر سارا حفاظتی سسٹم ڈاؤن ہے  ۔ ۔ ۔  اس تقریب کی وجہ سے  ۔ ۔  ۔
اوہ  ۔  ۔ ۔  تو مسٹر پریزیڈنٹ تم معافی مانگو گے کہ نہیں  ۔ ۔ ۔
اوکے اوکے  ۔ ۔  ۔
میں امریکی پریزیڈنٹ ، اپنی طرف سے اور اپنی قوم کی طرف سے آپکی قوم سے اور اسکے لیڈروں سے انکے ساتھ ناروا سلوک پر معافی مانگتا ہوں ، اور ساتھ ہی چینی دوستوں سے بھی اپنے سفارت خانے کے عملے کے غلط رویے کی معافی مانگتا ہوں ، امید ہے اس واقعے سے ہمارے تعلقات متاثر نہیں ہونگے ،اور نہ ہی ہمارے کو آپریشن میں فرق آئے گا  ۔  ۔
زندہ باد  ۔ ۔  ۔ زندہ باد زندہ باد  ۔ ۔ ۔ ٹائیگر اور چیف نے نعرہ لگایا
ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ  ۔ ۔ ۔ عمران کے فون کی فائیرنگ رنگ پھر بج اٹھی سب چونک گئے ، عمران نے چور نظروں سے سب کو دیکھا اور فون کو کان سے لگا لیا  ۔ ۔ ۔  دوسری جانب سر رحمان تھے  ۔ ۔ ۔  ڈڈ ڈیڈی  ۔ ۔ ۔ سلام علیکم  ۔  ۔ ۔  مجھے تم پر فخر ہے بیٹے  ۔ ۔  ۔   جج جج شکریہ  ۔ ۔  مجھے بھی آپ پر وہ ہی ہے   ۔ ۔ ۔  تمہاری ماں تمہیں گھر بلا رہی ہیں فارغ ہو کر فورا آؤ ۔ ۔ ۔
جج جی  ۔ ۔ ۔ میں آتا ہوں  ۔  ۔ ۔  صدر نے  ۔ ۔ ۔ اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھا  ۔ ۔ ۔  ہم سب کو تم پر فخر ہے  ۔ ۔ ۔   ویل ڈن بوائے  ۔ ۔ ۔ ویل ڈن  ۔ ۔ 
وزیر اعظم نے بھی اسکے گالوں پر تھپکی دی  ۔ ۔ ۔ اور کہا شکریہ  ۔۔ ۔ میں آپ کا نام تو نہیں جانتا مگر مجھے بھی قوم کے اس سپاہی پر فخر ہے  ۔ ۔  شکریہ  ۔ ۔
جج جی  میں تو بس ایسا ہی ہوں سلمان کی مونگ کی دال کھانے والا   ۔ ۔ ۔
مونگ کی دال   ۔ ۔ ۔ سب ہنس پڑے  ۔  ۔۔ اور ہال کی جانب چل پڑے
صدر اور وزیر اعظم واپس اسی جگہ پر آئے جہاں پر سب مہمان تھے اور بڑی اسکرین پر یہ سب کچھ دیکھ چکے تھے ، فضا ایک بار پھر نعروں سے گونج اٹھی تھی  ۔ ۔ ۔  امریکی سفیر کا سر جھکا ہوا تھا  ۔ ۔  ۔
صدر صاحب نے وزیر اعظم کی طرف دیکھا اور ڈائس پر جا کھڑے ہوئے  ۔  ۔  دوستو آج جو کچھ ہوا ، اس میں جس کا بھی قصور تھا ، وہ سب کو معلوم ہو چکا ہے ، ہم سمجھتے ہیں اتقام سے معاف کر دینا زیادہ اچھا ہے  ۔ ۔ ۔ ہم اس کیس کے سب لوگوں کو معاف کرتے ہیں  ۔ ۔  ۔ ایک بار پھر تالیاں گونجی اور صدر صاحب اور وزیر اعظم  باہر کی جانب بڑھ گئے جہاں انکی کار موجود تھی  ۔۔ امریکی سفیر نے انہیں رخصت کرنے کے لئے ہاتھ ملانا چاہا ، مگر وزیر اعظم نے چینی سفیر کو بلایا اور ساتھ میں گاڑی میں بٹھا دیا  ۔ ۔  ۔اور امریکی سفیر سے ہاتھ ملائے بنا ہی رخصت ہو گئے ا، یہ سارا سین وہاں موجود میڈیا نے اپنے کیمروں کے توسط سے گھر گھر میں پہنچا دیا تھا  ۔ ۔  ۔۔
------------------------------------------------------------------------------------
عمران دانش منزل میں بلیک زیرو کے ساتھ تھا ، رانا پیلس کو کچھ دنوں کے لئے لاک کر دیا گیا تھا ، مسٹر آر رانا پیلس میں ہی تھا ، صدر صاحب نے خصوصی طور پر اسے پارلیمنٹ کے سامنے سب کچھ بتانے کا کہا تھا ، اب عمران بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کیا کیا جائے کس کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے  ۔  ۔ ۔ ظاہر ہے سیکرٹ سروس کے لوگ سامنے نہیں آ سکتے تھے کسی بھی صورت اور ٹائگر پہلے ہی سیکرٹ سروس کا چیف بن چکا تھا
سازش کے سیاست دانوں میں کچھ کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور کچھ پر مقدمات قائم ہو چکے تھے ، کچھ نے خود ہی پبلک کے سامنے اقرار کر لیا تھا ، امریکی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر نکالا جا چکا تھا ، عوام میں اس سیکرٹ سروس کے لوگوں سے ملنے کا شوق بڑھ رہا تھا ، مگر ظاہر ہے وہ نامعلوم ہیرو ہی رہنا چاہتے تھے ، صدر اور وزیر اعظم نے سر سلطان سے کہ کر خصوصی طور پر پارلیمنٹ میں ایکسٹو کے نمائیدے کو خطاب کی دعوت دی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔
آپ خود کیوں نہیں جاتے ، آپ کا سیکرٹ سروس سے تعلق نہیں ہے
نہیں کالے صفر ،  مجھے لوگ پہلے ہی لائیو ایکشن میں دیکھ چکے ہیں  ۔ ۔ ۔  ارے ہاں  ۔  ۔۔  اسنے فون اٹھایا اور نمبر ڈائیل کر کہ بولا
تم نے کل پارلیمنٹ سے خطاب کرنا ہے  ۔  ۔ ۔۔
بس کہ دیا نا  ۔  ۔ ۔ ۔ ۔
------------------------------------------------------------------------------
پارلیمنٹ ہاؤس آج فل تھا ، گیلیریز بھی بھر چکی تھیں ، آج سیکرٹ سروس کے نمائندے نے تمام حالات سے آگاہ کرنا تھا ، پچھلے دو دن سے ساری دنیا کے میڈیا میں چرچا تھا کہ کس طرح امریکی سازش اسی پر الٹ گئی تھی اور ساری دنیا کے سامنے امریکی قوم کو شرمندہ ہونا پڑا تھا ، جگہ جگہ امریکہ کے بارے میں تبصرے ہو رہے تھے اور چھوٹے ملکوں کے بارے میں اسکی سازشوں سے دنیا کو آگاہ کیا جا رہا تھا  ۔ ۔  ۔
سلیمان نے مکمل قومی لباس پہنا تھا ، تلاوت اور نعت کے بعد کاروائی شروع ہوئی ، سیکرٹ سروس کو خراج تحسین پیش کیا گیا ، اسپیکر نے کہا کہ سیکرٹ سروس کا نمائیندہ اس بارے میں تفصیل بتائے گا  ۔ ۔  ۔ اور یہ بھی بتایا گیا کہ سوال و جواب نہیں کیا جائے گا  ۔ ۔ ۔
سلمان نے  ۔ ۔ ۔ ڈائس پر کھڑے ہو کر ہال پر نظر ڈالی  ۔۔ ۔ ۔
مجھے سیکرٹ سروس نے آپ کو سب بتانے کے لئے سیلکٹ کیا ہے ، تفصیلات یہ ہے کہ  ۔ ۔ ۔  اسکے بعد سلمان نے سامنے رکھے ہوئے صفحے پڑھنے شروع کئیے ، وہ درمیان میں دو بار پانی بھی پی چکا تھا  ۔ ۔  سب لوگ حیرت سے سن رہے تھے اور جب اسنے بتایا کہ کس طرح صدر اور وزیر اعظم کو یرغمال بنایا گیا تھا ، ہال سے شیم شیم کی آوازیں آئیں  ۔ ۔ ۔ اور پھر اسنے آخری حصے پر کہا باقی تو آپ کو پتہ ہے جو لائیو دکھایا گیا  ۔ ۔۔ ۔
ہال تالیوں سے اور نعروں سے گونج رہا تھا ، سلمان نے اپنا پسینہ صاف کیا  ۔ ۔  ۔ ایک بات  ۔ ۔ ۔ ایک بات میں اپنی طرف سے کہنا چاہتا ہوں  ۔ ۔ ۔ ۔ میں اس ملک کا عام سا شہری ہوں ، ایک چھوٹے سے فلیٹ میں اپنے مالک کے ساتھ رہتا ہوں ، میں ایک باورچی ہوں  ۔ ۔ ۔   میری سلطنت باورچی خانہ ہے ، میں اس کے لئے بجٹ بناتا ہوں ، مجھے پتہ ہے کہ میرے صاحب کو بھوک لگتی ہے ، انہیں کھانا کیا دینا ہے ، میں اپنے باورچی خانے میں سب ضروری چیزیں رکھتا ہوں ۔۔  ۔ پہلے میں صاحب کو کھلاتا ہوں پھر خود کھاتا ہوں   ۔ ۔ ۔ کیا آپ لوگ اس ملک کو ایک باورچی کی طرح نہیں چلا سکتے  ۔ ۔ ۔  بھوک ہم سب کو لگتی ہے  ۔۔  ۔ مگر ہر کوئی باورچی نہیں ہوتا  ۔ ۔ ۔ آپ اپنے ملک کے باورچی ہو  ۔ ۔ ۔  ملک کو کھلانا آپ کی پہلی ذمہ داری ہے ، پہلے بھوکوں کو کھلائیے پھر خود کھائیے  ۔۔ ۔ ۔ نہ آپ بھوکے رہیں گے نہ عوام  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شکریہ  ۔  ۔ ۔ ۔
ایک بار پھر ہال تالیوں سے گونج اٹھا ، سلمان نے صدر اور وزیر اعظم اور اسپیکر اور اپوازیشن لیڈر سے ہاتھ ملایا اور انکے کان میں کچھ کہا اور پروقار انداز میں قدم اٹھاتا ہال سے باہر نکل گیا  ۔۔ ۔
اپوازیشن لیڈر نے مائک کو آن کیا اور کہنا شروع کیا ، جیسا کہ ہمیں پتہ ہے کہ ہماری سیکرٹ سروس کے پرانے چیف نے یہ سازش بے نقاب کی تھی ، مگر ہمارے حکمرانوں نے اسے ٹکنے نہیں دیا اور مستفعی ہونے پر مجبور کیا  ۔ ۔۔  اور ایسے ہی سر سلطان اور سررحمان جیسے لوگوں کو جنہوں نے اس ملک کے لئے بہت کچھ کیا ، میں انکی واپسی کا مطالبہ کرتا ہوں  ۔ ۔ ۔
صدر صاحب کھڑے ہوئے ، میں آپ کو یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ مسٹر ایکسٹو اپنے عہدے پر ہی موجود ہیں ، یہ ٹمپریری سیٹ اپ تھا جو انتظامی مجبوریوں کی وجہ سے بنایا گیا تھا ، سر سلطان اور سر رحمان  ۔۔ ۔ اپنے عھدوں پر ہی قائم ہیں  ۔ ۔ ۔ سر رحمان کا استعفٰی منظور نہیں کیا گیا ہے ۔ ۔ 
ہال ایک بار پھر تالیوں سے گونج اٹھا  ۔ ۔ ۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------
 
ایک بار پھر دانش منزل کے کانفرنس روم میں سب جمع تھے ، ماسوائے روشی کے ، جسے عمران نے کچھ دنوں کے لئے انڈر گراؤنڈ کروا دیا تھا ، عمران اور ٹائیگر بھی موجود تھے
عمران منہ ہلا رہا تھا ، مگر اسکے منہ میں چیونگم نہیں تھی  ۔ ۔ ۔ وہ خیالی ببل بنا کہ پھوڑ رہا تھا جولیا منہ بنا رہی تھی
اسپیکر سے سیٹی کی آواز آئی  ۔ ۔ ۔ سب ایکٹیو ہو گئے ، سوائے عمران کے اسکے چہرے پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا  ۔ ۔
آپ سب کو حالات کا علم ہے ، مجھے یقین ہے کہ اس کیس سے آپ کو نیا جذبہ ملا ہو گا ، میں خصوصی طور پر رضوان یعنی ٹائیگر کا شکر گذار ہوں کہ اسنے ان مشکل حالات میں بہت اچھے طریقے سے اپنے کردار کو نبھایا  ۔ ۔  ۔
تو کیا ٹائیگر اب ٹیم کا حصہ ہے  ۔ ۔ ۔
نہیں وہ اسی جگہ پر رہے گا جہاں اسکی ضرورت ہے  ۔ ۔ ۔
اوکے  ۔  ۔ ۔ اینڈ آل  ۔ ۔ ۔  ۔ ۔
چلو بھائی اب مجھے کھانا کون کھلا رہا ہےا  ۔ ۔  ۔
تمہارا باورچی ، کہاں گیا  ۔  ۔ ۔
ارے نہ پوچھو وہ اب لیڈر بن گیا ہے ، سارا دن لوگ اس سے ملنے آتے ہیں  ۔ ۔ ۔  انہیں وہ نت نئے کھانے کھلاتا ہے اور جب میں جاتا ہوں تو میرے سامنے وہ ہی مونگ کی دال رکھ دیتا ہے  ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ عمران نے منہ بنا کہ کہا  ۔  ۔ ۔ ۔
اور سب ہنس پڑے  ۔ ۔ ۔  ۔۔ تو پھر اب آپ کیا کریں گے  ۔ ۔ ۔  صفدر نے ہنستے ہوئے پوچھا  ۔ ۔  ۔۔
وہ ہی جو پہلے کر رہا تھا  ۔۔  ۔ ۔ ۔ اب میں ایک فلم بناؤں گا  ۔ ۔  ۔  پجابی فلم  ۔ ۔ ۔
باورچی گُجر  ۔ ۔ ۔  ۔
نہیں باورچی گُجر نہیں ، گُجر دا باورچی  ۔ ۔ ۔  یا باورچی دا گُجر  ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ نئیں گُجر باورچی  ۔ ۔ ۔ نئیں  ۔ ۔ ۔ عمران نے اپنے چہرے پر الجھن پیدا کر لی تھی  ۔ ۔ ۔
سب کے چہروں پر مسکرہٹیں تیرنے لگیں  ۔ ۔ ۔ ۔

بے نقاب سازش - عمران سیریز ایکسٹرا - حصہ اول

 
عمران کو اس دفعہ نئی ہی سوجھی تھی ، وہ پنجابی فلموں میں کام کے لئے اسٹوڈیو کے چکر لگا رہا تھا ، ان دنوں وہاں فلم “ووٹ گجر دا “ کی شوٹنگ چل رہی تھی جس میں مشہور اداکار “ذیشان“  گنڈاسہ لے کر گھر گھر سے ووٹ مانگنے کی ایکٹنگ کر رہا تھا ، اس کے ساتھ مشہور ہیروین تھی “پروین“ جسے انڈسٹری میں نیک پروین کے نام سے پکارا جاتا تھا ، پتہ نہیں کیوں ، حتہ کہ اس کی ساری فلمیں انتہائی “غیر فیملی“ تھی ۔ ۔ ۔ عمران اس وقت سیٹ پر موجود تھا ، اور ڈئریکٹر کے ساتھ سائے کی طرح لگا ہوا تھا ، جو اسے پچھلے دو دن سے  سگرٹوں کی ڈبیاں نہیں ڈبے منگوا رہا تھا ، اس وقت بھی وہ ہیرو کو سین سمجھا رہا تھا
دیکھ پتر ، تو پینو کے گھر ووٹ مانگنے کے لئے جاتا ہے ، پینو کا پیو اور بھرا (بھائی) باہر آتے ہیں ، تو انہیں ووٹ کے لئے کہتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ووٹ ماجھے بدمعاش کو دیں گے ، تو انہیں پیسے کا لالچ دیتا ہے ، وہ دونوں آپس میں مشورہ کر کہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے وہ ووٹ تمہیں ہی دیں گے مگر حقیقت میں وہ ماجھے سے اور تم سے صرف دولت سمیٹنا چاہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ سمجھا کاکے  ۔۔ ۔  یہ ڈائریکٹر کا تکیہ کلام تھا
سانڈ (وہ ساؤنڈ کو سانڈ ہی کہتے تھے ) ، کیمرا  ۔ ۔ ۔ ایکشن
اوئے چاچے ، تو ووٹ مینو ای دینا اے
پر اسی ووٹ ماجھے بدمعاش نوں دواں گے ، چاچے کے پتر نے سینہ تان کہ کیمرے کو آنکھیں دیکھائیں
اوئے میرے علاقے اچ رہ کہ ووٹ بدمعاشاں نوں
تو کہیڑا شریف ایں ، سانوں اک ووٹ دے پنج ہزار مل رے نیں ، تے زنانیاں دے اٹھ ہزار  ۔ ۔ ۔
اوئے میں تینوں دس دس ہزار دیاں گا ، پر یاد رکھ ، کہ نوٹ گجر دا تے فئیر ووٹ وی گجر دا  ۔ ۔ ۔ ہا ۔ ۔
ذیشان نے “ہا“ اتنے زور سے کیا کہ اسے کھانسی آ گئی  ۔ ۔ ۔  کٹ کی آواز سے سب ہیرو کی خبر گیری کو دوڑے  ۔ ۔  ۔  اور اسے آرام چئیر پر بیٹھایا ، دوسرا سین ریڈی تھا ، پروین کا ، جو دروازے میں کھڑی اپنے گجر کو دیکھ رہی تھی  ۔ ۔
سب خاموش  ۔  ۔ تھے پن ڈراپ سائیلنس  ۔ ۔ ۔ ۔
کیمرا رول شروع ہوا  ۔ ۔  ۔  آہستہ آہستہ جو ہیروین کی طرف بڑھ رہا تھا اور پروین ماتھے پر ہاتھ رکھ کہ ڈائلاگ بول رہی تھی
وے گجرا ، میرا ووٹ تیرا ای اے ، میرے دل دی آواز سن تینوں آواز آئے گی  ۔ ۔ ۔ ۔ ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ
اور ہیروین صاحبہ اچھل پڑیں بلکہ سارا یونٹ ہی اچھل پڑا  ۔ ۔ ۔  یہ آواز تھی عمران کے موبائیل کی  ۔ ۔  ۔ اسنے آجکل یہ ہی رنگ ٹون سیلکٹ کی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔ اسنے فون ہاتھ میں لے کر کہا  ۔ ۔ ۔ ہا ہا ہلیو  ۔ ۔ ۔ مگر اسکے ساتھ ہی اسے  ۔ ۔  اوے اینوں باہر سٹو  ۔ ۔ ۔  ساتھ ہی دو پہلوان عمران کو دھکے دینے لگے  ۔ ۔ ۔ ۔ دوسری طرف بلیک زیرو تھا  ۔ ۔ ۔ ۔
تم نے میری ساری شوٹنگ خراب کروا دی  ۔ ۔ ۔  اوے آرام سے میں ٹوٹ جاؤں گا  ۔ ۔ ۔  مگر شاید پہلوان اسے سی آف کرنے کے موڈ میں تھے  ۔ ۔ ۔  اسٹوڈیو کے گیٹ کے باہر انہوں نے اسے ایسے پھینکا کہ جیسے کوئی شریر بچہ پانی میں پتھر پھینکتا ہے  ۔ ۔ ۔
میں کال فئیر آؤں گا  ۔ ۔ ۔  ۔ عمران انہیں مکہ دیکھاتے ہوئے بولا   ۔ ۔ ۔
عمران صاحب ، جتنی جلدی ممکن ہو رانا پیلس پہنچیں  ۔ ۔ ۔ ۔  ۔
عمران نے اوکے کہ کہ فون بند کیا اور گاڑی کی طرف چل پڑا جو اسنے کافی دور کھڑی کی تھی کیونکہ وہ یہاں اپنے آپ کو ایک عام شوقین ظاہر کرتا تھا جو فلموں میں کام کے لئے اسٹوڈیو کے چکر لگاتا ہو  ۔ ۔ ۔
اسٹوڈیو سے رانا پیلس تک پہنچتے اسے چار گھنٹے لگ گئے تھے کیونکہ اسٹوڈیو دوسرے شہر میں تھا دارلحکومت میں فلم انڈسٹری نہیں تھی  ۔ ۔ ۔
رانا پیلیس پہنچ کر وہ سیدھا کنٹرول روم پہنچا جہاں بلیک زیرو نے اسکے اٹھ کر استقبال کیا  ۔ ۔ ۔ ۔
کیا ہوا، تم اتنے زیادہ ٹنس کیوں ہو ۔ ۔ ۔
بات ہی ایسی ہے عمران صاحب
کیا بات ہے  ۔ ۔ ۔  ۔  یہ دیکھیں  ۔ ۔ ۔  ۔  بلیک زیرو نے سامنے رکھے ہوئے ٹی وی کو ریموٹ سے آن کیا اور اس پر ایک نیوز چینل کا پروگرام چلنے لگا  ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ جس میں ایک خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کا انٹرویو چل رہا تھا ، وہ کہ رہا تھا کہ ہماری سیکرٹ سروس صرف اپنے ملک کے خلاف ہی کام کرتی ہے ، اسکا ایک ایک شخص بکا ہوا ہے ، ہر ایک ممبر کسی نہ کسی پارٹی کو سپورٹ کرتا ہے اور کیونکہ وہ لوگ سامنے نہیں آتے اسلئے وہ سیاست دانوں کے ساتھ ملکر غیر ملکی سازشوں کا حصہ بنتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔  ایکسٹو اسلئے سامنے نہیں آتا کہ وہ ایک پرانا مجرم ہے اگر وہ سامنے آ جائے تو اسے قانون سے کوئی بچا نہیں سکتا  ۔ ۔ ۔
عمران کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا ، وہ اس افسر کو اچھی طرح جانتا تھا ، وہ ایک رشوت خور اور بد کردار آدمی تھا ، مگر خوشامدی ہونے کی وجہ سے اور سیاست دانوں سے میل جول کی وجہ سے وہ بہت زیادہ مشہور تھا  ۔ ۔ ۔  مگر آج اسکی باتیں سن کر عمران کی کھوپڑی گھوم چکی تھی   ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ ۔
اسنے فون اٹھایا ، اور سر سلطان کے نمبر ملائے
پی اے ٹو فارن سیکٹری  ۔ ۔ ۔  آواز آئی
ایکسٹو  ۔ ۔ ۔ ۔  سر سلطان پلیز
جج جج  ۔ ۔ ۔  پی اے کی جیسے جان نکل گئی
سلطان ہیر ۔ ۔ ۔
سر سلطان ، ابھی اسی وقت میں صدر اور وزیر اعظم اور فوج اور ایجنسیوں کے سربراہوں کے ساتھ ملنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔
مگر کیوں  ۔ ۔ ۔
سر سلطان  ۔۔  ۔  کوئی سوال نہیں ، آپ سب کو آگاہ کریں  ۔ ۔
مگر صدر صاحب باہر ہیں  ۔ ۔  ۔ اور وزیر اعظم شہر میں نہیں ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔
انہیں ہم ہاٹ لائین سے  ۔ ۔ ۔  لنک کر لیں گے  ۔ ۔ ۔
آج تو نہیں کل ہو سکے گی یہ میٹنگ  ۔ ۔ ۔
ٹھیک ہے ، کل صبح دس بجے    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عمران نے ریسور رکھ دیا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اسکا چہرہ غصے سے اکڑ رہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  بلیک زیرو ایک ٹھنڈے پانی کی بوتل اور گلاس لے کر آیا  ۔ ۔ ۔ عمران نے بوتل ہی لیکر منہ سے لگا لی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
------------------------------------------------------------------
ایوان صدر میں ہلچل مچی ہوئی تھی ، ملک کی سیاسی اور فوج قیادت سب کی سب میٹنگ میں آ رہی تھی ، تھوڑی تھوڑی دیر بعد پروٹوکول کے ساتھ کوئی نہ کوئی حکمران یا افسر آتا اور اتنی تیزی سے اتر کہ اندر جاتا جیسے کوئی انکے پیچھے لگا ہوا ہو  ۔ ۔  ۔ یہ سب لوگ ایک بڑے ہال میں جمع ہو رہے تھے ہر ایک کرسی پر اس شخصیت کا اسٹیکر چسپاں تھا جسے ایک رہبر اس تک رہمنائی اور اسٹیکر کو اپنی جیب میں رکھ کر پر تکلف طریقے سے افسروں اور حکمران شخصیات کو بٹھا رہا تھا  ۔ ۔  ۔
سب لوگوں آمد مکمل ہو چکی تھی مگر سب لوگ خاموش تھے حتہ کہ آپس میں بات بھی نہیں کر رہے تھے ، سر سلطان سب سے آخر میں آئے اور وزیر خارجہ کے ساتھ آ کر بیٹھ گئے  ۔ ۔ 
ابھی تک ایک کرسی خالی تھی جس پر ایکسٹو نے آنا تھا ،  صدر اور وزیر اعظم کی کرسیاں بڑی تھی اور مرصع بھی تھیں ، ہال کے سارے دروازے بند ہو چکے تھے ، سب کی نظریں صدر اور وزیر اعظم کی کرسیوں کے پیچھے والے دروازے پر تھیں ، صدر اور وزیر اعظم آج ہی اپنے دورے مختصر کر کہ دارلحکومت پینچے تھے ، دروازہ کھلنے کی آواز آئی ، سب کھڑے ہونے کے لئے ریڈی ہوئے ، مگر وہاں سے دو خادم صدر اور وزیر اعظم جیسی مرصع کرسی لے کر برآمد ہوئے ،  اور اسے ان دو کرسیوں کے ساتھ رکھ دیا گیا ، سب کی نظروں میں الجھن نظر آنے لگی یہ تیسری کرسی کس کی ہے ؟ دونوں خادم واپس جا چکے تھے ، دروازہ ایک بار پھر کھلا اور ایکسٹؤ اپنی روایتی شان سے چلتا ہوا اپنی کرسی کی طرف بڑھا ، سب نے کھڑے ہو کر اسے تعظیم دی ، اور ایکسٹو اپنی کرسی پر براجمان ہو گیا ، ابھی لوگ صحیح سے بیٹھے نہیں تھے کہ دربان نے دروازہ پھر کھولا اور وزیر اعظم پروقار طریقے سے اپنی کرسی کی طرف بڑھے ، خادم نے کرسی کھسکا کر وزیر اعظم کو بیٹھایا ، سب لوگ کھڑے ہوئے تھے مگر ایکسٹو بیٹھا رہا ، مگر اسنے وزیر اعظم کو سر کے اشارے سے سلام کیا  تھا ، وزیر اعظم کے چہرے پر سنجیدگی تھی ، سب لوگ بیٹھ چکے تھے ، اب صدر صاحب کا انتظار تھا ، سب کو حیرانی تھی کہ وزیر اعظم صدر کے ساتھ کیوں نہیں آئے ایسی میٹنگ میں دونوں اکھٹھے ہی آتے تھے ، وزیر اعظم بار بار چور نظروں سے ایکسٹو کو دیکھ رہے تھے ، کہ دروزہ پھر کھلا اور صدر صاحب ایک سفید فام غیر ملکی کے ساتھ نظر آئے سب کھڑے ہو چکے تھے ،ایکسٹو بیٹھا رہا مگر اسکی آنکھوں میں پہلے حیرانی آئی اور پھر آنکھیں شعلے اگلنے لگیں  ۔ ۔ ۔  صدر صاحب اپنی کرسی کے آگے کھڑے ہو چکے تھے ، انکے ساتھ آنے والا امریکی سفیر تھا جو صدر اور وزیر اعظم کے درمیان کھڑا تھا  ۔ ۔  ۔ ۔ صدر صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو بیٹھنے کو کہا ، ابھی سب بیٹھ ہی رہے تھے ، کہ ایکسٹو کی گوجیلی آواز سنی تھی ، ٹھہریے مسٹر پریزڈنٹ ، یہ میٹنگ میں نے بلائی ہے اور اس میں امریکی سفیر کی موجودگی نہیں چاہیے ، صدر صاحب نے گھور کر ایکسٹو کو دیکھا اور پرغرور لہچے میں کہا ، مسٹر ایکسٹو ، بےشک میٹنگ آپ نے کال کی ہے ، مگر سفیر صاحب نے خصوصی ریکوسٹ کی تھی ، اس میٹنگ میں شرکت کے لئے  ۔ ۔ ۔
کیوں ؟ یہ ہماری خودمختاری میں مداخلت ہے ۔ ۔ ۔  ایکسٹو نے بات کاٹتے ہوئے کہا
ٹمہارا خوڈ مخٹاری اب ہمارے ہینڈ میں ہے ، مسٹر ایکسٹو  ۔  ۔۔  صدر صاحب کے جواب دینے سے پہلے ہی سفیر نے اردو میں بولا
مسٹر ایکسٹو آپ جانتے ہیں کہ ہماری تمام حکمت عملیاں اب امریکہ کی مرہون منت ہیں  ۔ ۔ ۔  یہ ہمارے دوست ہیں  ۔ ۔ ۔ وزیر اعظم نے کہنا چاہا  ۔  ۔ ۔ مگر ایکسٹو نے پھر بات کاٹ دی
جناب وزیر اعظم صاحب میرا ملک آزاد ہے ، ہم انکے نہیں یہ ہمارے مرہون منت ہیں ، اور آجکی میٹنگ میں نے اندرونی خلفشار کے لئے بلائی ہے ،  جسکی بڑی وجہ امریکہ ہے  ۔ ۔
وہ ہی تو ہم جاننا چاہتے ہیں مسٹر ایکسٹو ، ہم اس انارکی کے کیسے ذمے دار ہیں  ۔ ۔ ۔  سفیر نے اس دفعہ انگریزی میں کہا شاید اسے اردو میں مناسب الفاظ نہیں مل پائے  ۔ ۔ ۔
آپ جانتے ہیں مسٹر  ۔ ۔ ۔  اب میں آپکو برداشت نہیں کروں گا مہربانی فرما کر تشریف لے جائیں  ۔۔
یہ میری بے عزتی ہے  ۔ ۔ ۔ مسٹر پریزیڈنٹ  ۔ ۔ ۔
مسٹر ایکسٹو ، سفیر صاحب میٹنگ میں شریک ہونگے ، یہ میرا حکم ہے  ۔ ۔ ۔
مسٹر پریزیڈنٹ ، ریڈ فائیل  ۔ ۔ ۔ ۔
ریڈ فائیل کی ایسی کی تیسی  ۔  ۔۔  صدر صاحب اس دفعہ غصے میں آ گئے تھے  ۔ ۔ ۔
سر سر  ۔ ۔  وزیر اعظم نے جلدی سے صدر صاحب کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ، مسٹر ایکسٹو آپ پہلے سفیر صاحب کے ساتھ میٹنگ کر لیں اور پھر ہم کر لیں گے  ۔ ۔ ۔ ۔
میں اس میٹنگ کا حصہ نہیں ہونگا  ۔  ۔ صدر صاحب نے فوراَ لقمہ دیا  ۔ ۔ ۔
ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ ایکسٹو جو عمران تھا  ۔ ۔ ۔ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا  ۔  ۔ ۔ ۔
پھر میٹنگ شروع کی جائے  ۔ ۔  وزیر اعظم نے التجایہ نظروں سے ایکسٹو کی طرف دیکھا ، عمران سمجھ چکا تھا کہ سفیر نے صدر صاحب کو رام کر لیا ہے جبکہ وزیر اعظم کو مجبور کیا گیا ہے  ۔ ۔  ۔
ضرور  ۔ ۔ ۔ ایکسٹو نے ہاتھ اٹھا کہ کہا  ۔ ۔ ۔
جی مسٹر ایکسٹو ، آپ نے یہ ہائی پروفائیل میٹنگ کیوں کال کی ، صدر صاحب نے ایکسٹو سے پوچھا  ۔ ۔
پہلے میٹنگ تو شروع کریں  ۔ ۔ ۔ ایکسٹو نے کہا
میٹنگ شروع ہو چکی ہے  ۔ ۔ ۔ صدر صاحب نے کہا  ۔ ۔
نہیں  ۔ ۔  ابھی شروع نہیں ہوئی با قاعدہ شروع کی جائے  ۔ ۔ ۔
مم مم میں سمجھ گیا  ۔ ۔ ۔ وزیر اعظم نے کہا اور کہا  زعفرانی صاحب آپ تلاوت کریں  ۔ ۔  ۔ انکا اشارہ وزیر خارجہ کی طرف تھا جو اکثر میٹنگ میں تلاوت کیا کرتے تھے  ۔ ۔ ۔
صدر اور سفیر کے منہ سے صرف اوہ نکل سکا  ۔ ۔ ۔
دوسری طرف سر سلطان کے ہونٹوں پر عجیب سہ مسکراہٹ رینگ گئی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔
تلاوت کے بعد ایکسٹو نے کہنا شروع کیا  ۔ ۔ ۔
پچھلے ایک سال سے جب سے نئی حکومت بنی ہے ، اور فوج کا عمل دخل کم ہوا ہے حکومت میں ، کچھ عناصر میڈیا اور دوسرے ذرائع سے ہماری فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے خلاف عوام میں پروپگنڈا کر رہے ہیں ، اور فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی کالی بھیڑوں نے جنہیں ملک دشمن قوتوں نے خریدا ہوا ہے ، یہ کہتے ہوئے ایکسٹو نے نقاب سے سفیر کو آگ برساتی نظروں سے دیکھا ، سفیر صرف کرسی پر کسمسا کر رہ گیا ، ایکسٹو نے بات جاری رکھی ، ہماری خفیہ ایجنسیاں ملک کی حفاظت اور وقار کے لئے اپنی جان پر کھیل رہی ہیں اور ہم ان پر الزام لگا رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ 
صدر صاحب نے ٹوکا ، مسٹر ایکسٹو ، الزام لگانے والے بھی ایجنسیوں کے ہی لوگ ہیں
وہ خریدے ہوئے ہیں ، ایکسٹو نے جواب دیا
جو بک سکتے ہیں وہ ہی خریدے جاتے ہیں مسٹر ایکسٹو اس بار وزیر داخلہ نے جواب دیا
میں انہیں لوگوں کو سزا دینا چاہتا ہوں جو بکتے ہیں اور خریدتے ہیں  ۔ ۔ ۔
اسکلئے ہمارے ملک میں قانون موجود ہے  ، وزیر داخلہ نے بحث شروع کر دی
منسٹر صاحب ، آپ ایکسٹو کو انکا موقف پیش کرنے دیں ، وزیر اعظم نے ماحول کو دیکھتے ہوئے بات کاٹی
میں جانتا ہوں کہ قانون ان لوگوں کی گرفت کر سکتا ہے ، مگر نہیں کر رہا ، یہ لوگ ہماری ایجنسیوں کو بدنام کر رہے ہیں
وہ صرف ایجنسیوں کو نہیں بلکہ ہم سیاست دانوں کو بھی بدنام کیا جا رہا ہے  ۔ ۔ ۔  وزیر اعظم نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا
میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ میں اگر گرفت کروں گا تو چاہے کوئی بھی ہو اسکی پکڑ ہو گی
ٹھییک ہے آپ کے پاس کیا لاحہ عمل ہے مسٹر ایکسٹو
مجھے ان لوگوں سے پوچھ گوچھ کی اجازت دی جائے ، ایکسٹو نے ایک لسٹ وزیر اعظم کو دی
یہ  ۔ ۔  ۔ یہ  یہ تو بہت اہم لوگ ہیں ، آپ جانتے ہیں مسٹر ایکسٹو کہ ہم کسی بھی فارن مشن کو ایسے انٹروگیٹ نہیں کر سکتے  ۔ ۔ ۔
مجھے پتہ چلا ہے کہ یہ لوگ ملوث ہیں
مگر ثبوت  ۔ ۔ ۔   صدر صاحب نے پوچھا
ثبوت موجود ہیں ، مگر عدالت یا حکومت اسے قبول نہیں کرے گی ، آپ کو معلوم ہے تصاویر اور وڈیو کے قانون میں ترمیم کی وجہ سے یہ ثبوت قابل قبول نہیں رہے
اوہ  ۔ ۔  تو یہ بات ہے ، یہ  ۔ ۔ ۔یہ کیا  ۔ ۔  اس میں آپ نے مولانا صاحب کا نام بھی لکھ دیا ہے ، آپکو پتہ ہے کہ اس سے کتنا بڑا پرابلم ہو سکتا ہے   ۔۔
پرابلم ہی تو ختم کرنا چاہتے ہیں ہم ۔ ۔ ۔  دیکھیے مسٹر ایکسٹو ، ہم مفاہمتی حکومت چلا رہے ہیں ہم کسی کے ساتھ اپنے ریلیشن خراب نہیں کریں گے  ۔ ۔ دیٹس آل ۔ ۔  صدر صاحب نے دو ٹوک لہجے میں کہا
ٹھیک ہے ، آپ کے لئے اگر مشکل ہے تو میرے لئے مشکل نہیں  ۔ ۔ ۔  ایکسٹو نے کہا
مگر آپ کسی فارن مشن کو تنگ نہیں کریں گے  ۔ ۔ ۔  صدر صاحب نے تنبیہ کی
فارن مشن کا ایک ہی مشن ہے وہ ہے ہمارے وطن کی تباہی  ۔ ۔ ۔ ۔ اور میں اپنے وطن کا محافظ ہوں
ہم سب محافظ ہیں  ۔ ۔ ۔  وزیر اعظم نے کہا
محافظ غیروں کو اپنا ملک نہیں دیتے ایکسٹو نے امریکی سفیر کی دیکھ کر کہا
ہمیں عالمی برادری میں عزت سے رہنا ہے اور ہمارے دوست ملک ہماری مدد کر رہے ہیں  ، صدر صاحب نے کہا
یہ مدد ہے ، ہمارے محافظوں کو خریدا جا رہا ہے ، ملک میں انارکی پھیلائی جا رہی ہے  ۔ ۔ ۔  ایکسٹو نے کہا
اس کے لئے ہم خود بھی ذمے دارہیں وزیر خارجہ نے تیز لہجے میں کہا  ۔ ۔ ۔
جی نہیں صرف لیڈران ذمہ دار ہیں ، عوام نہیں  ۔ ۔ ۔  ۔ ایکسٹو نے بھی تیز لہجے میں کہا
عوام کو صرف ریلیف چاہیے ، صرف ریلیف کہاں سے ملتا ہے اسے ان سے کوئی مطلب نہیں  ۔ ۔ ۔ صدر صاحب نے کہا ۔ ۔
نہیں عوام عزت سے جینا چاہتی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔
مسٹر ایکسٹو  ۔ ۔ ۔ یہ بحث کا وقت نہیں ، آپ کو اجازت نہیں دی جاسکتی ، دس میٹنگ از اڈجرن ۔ ۔  ۔ صدر صاحب نے اٹھتے ہوئے کہا
سب اٹھ کھڑے ہوئے ، مگر ایکسٹو بیٹھا رہا ، مسٹر پریزیڈنٹ میں ریڈ فائل کے سیکنڈ رول کے مطابق اپنے اختیارات استعمال کروں گا
ریڈ فائل ریڈ فائل ریڈ فائل  ۔  ۔ ۔ ۔  مسٹر ایکسٹو یہ عوامی حکومت ہے ، سب محب وطن ہیں ، آپ کو من مانی کی اجازت نہیں دی جا سکتی ، اور آپ جس کے بل بوتے پر اچھل رہے ہیں ، کل ہی وہ ریڈ فائل کو ڈسمس کر دیا جائے گا پارلیمنٹ کے تھرو  ۔ ۔ ۔ 
سر ۔ ۔ ۔ سر سلطان نے پہلی بار زبان کھولی ، ریڈ فائل کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جا سکتا ، آپ کو معلوم ہے  ۔ ۔ ۔
مسٹر سلطان ، آئی ڈونٹ کئیر ، میں ملک کا صدر ہوں  ۔ ۔ ۔ اور ہماری پارٹی کی حکومت ہے ، ہم جو چاہیں گے کریں گے  ۔ ۔ ۔ انڈر سٹینڈ یو  ۔ ۔
وزیر خارجہ نے جو صدر صاحب کے قریب آ چکے تھے ، انکے کان میں کچھ کہا  ۔ ۔ ۔
اوہ  ۔ ۔  مسٹر سلطان ، آپ سے سیکرٹ سروس کا چارج واپس لیا جا رہا ہے ، آپ کو آرڈر مل جائے گا
سر سیکرٹ سروس کو ملٹری انٹیلی جنس میں مدغم کر دیں ، وزیر خارجہ نے چاپلوسی سے کہا  ۔ ۔
ٹھیک ہے  ۔ ۔ ۔
ٹھیک نہیں ہے مسٹر پریزیڈنٹ ، چیف آف آرمی اسٹاف نے  تیز لہجے میں کہا  ۔ ۔ ۔ ۔  آپ کو معلوم نہیں کہ ہماری سیکرٹ سروس کے کارنامے ساری دنیا میں مشہور ہیں ، یہ ٹیم بہت مختلف ہے  ۔ ۔  ۔  میں ایکسٹو کی بات کی حمایت کروں گا  ۔ ۔ ۔   سب لوگ ایک بار پھر کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے  ۔ ۔ ۔ صدر صاحب کے بیٹھتے ہی
مسٹر چیف ، آپکا سیکرٹ سروس ہمیں بھی بہت دسٹرائے کر چکا ہے ، سفیر نے بولا
آپکی کرتوتوں کی وجہ سے  ۔ ۔  ۔ ایکسٹو نے بھنائے ہوئے لہجے میں کہا  ۔  ۔ ۔ ۔  ۔
مسٹر پریزیڈنٹ ، اگر آپکی سیکرٹ سروس نے ہمارے کسی بھی پلان کو نقصان پہنچایا تو ، ہم آپ پر پابندیاں لگا دیں گے  ۔ ۔ ۔   اس بار وہ انگریزی میں بولا تھا
مسٹر سفیر آپ کو ایسی بات کہنا اچھا نہیں لگتا ، سر سلطان نے اس بار سخت لہجے میں کہا  ۔ ۔ ۔
مسٹر سلطان ، یہ ایک سپر پاور کے سفیر ہیں ، آپ کو انکے رتبے کا خیال رکھنا چاہیے  ۔ ۔
اس سپر پاور کو ہماری ضرورت ہے سر ، سر سلطان نے سمجھانے والے انداز میں کہا  ۔ ۔ ۔ ۔
یہ میٹنگ ختم ہو چکی ہے ، جو میں نے کہ دیا وہ ہی ٹھیک ہے ، اور مسٹر سلطان ، آپکو کل سے رئٹائرمنٹ لیو دی جا رہی ہے
ٹھیک ہے ، میں بھی اپنا استعفٰی پیش کرتا ہوں  ۔ ۔ ۔  ایکسٹو نے ایک پیپر صدر صاحب کی طرف بڑھایا  ۔ ۔ ۔ ۔ اور اٹھ کر تیز قدموں سے باہر نکل گیا ، سر سلطان اور آرمی چیف اسکے پیچھے بھاگے مگر وہ نکل چکا تھا ، سر سلطان دل کے مریض تھے اس لئے ہانپنے لگے ، آرمی چیف نے انہیں سہارا دیا  ۔ ۔ ۔
صدر اور سفیر بھی باہر چلے گئے ، وزیر اعظم کو سب نے گھیر لیا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وزیر اعظم کے چہرے پر بے بسی جیسے چپک گئی تھی  ۔ ۔  ۔
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
رانا ہاؤس میں سیکرٹ سروس کے سب ممبر موجود تھے ، سب کی نظریں سامنے کے اسپیکر پر لگی ہوئیں تھیں ، عمران موجود نہیں تھا  ۔ ۔
اتنی ایمرجنسی میٹنگ رات کے دو بج رہے ہیں ، تنویر کو غصہ آ رہا تھا کہ انہیں سوتے میں کیوں اٹھایا گیا
کچھ تو ایسا ہے ورنہ پہلے کبھی ایسا  نہیں ہوا ، جولیا نے پریشان کن لہجے میں کہا
مجھے تو کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے ، کیپٹن شکیل نے صفدر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
جواب میں صفدر نے سر ہلا دیا  ۔ ۔ ۔
اتنے میں اسپیکر سے سیٹی کی آواز نکلی اور ساتھ ہی سامنے کی دیوار میں ایک دروازہ پیدا ہوا اور ایکسٹو برآمد ہوا  ۔ ۔  ۔ اور ایک خالی کرسی پر بیٹھ گیا
سب ممبر کی آنکھیں حیرت سے پر تھیں ایکسٹو کبھی بھی ایسے میٹنگ نہیں کرتا تھا ، اسکا مطلب تھا کہ کوئی خاص ہی بات ہے صفدر نے سوچا
ایکسٹو نے سب کی طرف دیکھا اور کہا  ۔ ۔ ۔
میں نے سیکرٹ سروس سے استعفٰی دے دیا ہے
استعفٰی  ۔!!!!!!
 
سر سلطان کو جبری رئٹائیر کر دیا گیا ہے  ۔ ۔ ۔
جج  ۔ ۔ جج جی  ۔ ۔  ۔  سب کی زبانیں جیسے کنگ ہو گئیں تھیں
سیکرٹ سروس کو محکمہ خارجہ سے ملٹری انٹیلی جنس کے انڈر کیا جا رہا ہے
اوہ  ۔  ۔ ۔
آپ ممبران کی سروسز ملٹری سیکرٹ سروس کو دی جا رہی ہیں
کیا  ۔ ۔  ۔ سب کے منہ سے ایک ساتھ نکلا  ۔ ۔۔  ۔ ۔
آپکے پاس اختیار ہے کہ آپ مستفعی ہو جائیں یا ملٹری سیکرٹ سروس جوائن کر لیں
میں ریزائن کر دونگی  ۔ ۔ ۔ جولیا نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا
ہم بھی  ۔ ۔ ۔ ۔ سب نے ایک ساتھ کہا
نہیں سوچ سمجھ کہ فیصلہ کرو  ۔۔ اوکے  ۔ ۔ ۔ گڈ بائے  ۔ ۔ ۔ اور گڈ لک  ۔ ۔ ۔  میں دو دن تک اپنے نمبر پر موجود ہوں  ۔۔ ایکسٹو اٹھا اور اسی خفیہ دروزاے سے واپس چلا گیا
----------------------------------------------------------
سب کے چہرے سُتے ہوئے تھے  ۔ ۔  ۔ ۔۔یہ یہ یہ کیا ہے  ۔ ۔ ۔ کیا ہوا   ۔ ۔ ۔  ۔۔ ۔
ملک کے حالات خراب ہیں اور ہم لوگ اپنے کام کو چھوڑ دیں  ۔ ۔ ۔ نا ممکن  ۔ ۔ ۔ میں تو ملٹری سروس کو جوائن نہیں کروں گا  ۔  ۔ ۔ صدیقی نے تیز لہجے میں کہا  ۔ ۔
مگر ایسا ہوا کیوں  ۔ ۔  ۔  صفدر نے سوچتے ہوئے کہا  ۔۔ ۔
اس کیوں کا جواب صرف عمران دے سکتا ہے  ۔ ۔ ۔  ۔
اوہ عمران میٹنگ میں بھی نہیں آیا ، تنویر نے چونکتے ہوئے کہا  ۔ ۔
یہ سرکاری میٹنگ تھی عمران سیکرٹ سروس کا ممبر نہیں ہے  ۔ ۔ ۔ ۔
چلو اسی کے پاس چلتے ہیں  ۔ ۔ ۔  ۔ ۔  مگر پہلے اپنے استعفے تو لکھ دو  ۔ ۔
ابھی دو دن ہیں  ۔ ۔ ۔  ۔ چلو   ۔ ۔ ۔  صفدر نے کہا   ۔ ۔ ۔ ۔
اور سب جولیا کی فور وہیلر میں لد کر عمران کے فلیٹ پر پہنچے  ۔ ۔  ۔  عمران جو رانا ہاؤس کے کنٹرول روم میں یہ سب دیکھ رہا تھا  انے روانہ ہونے کے بعد اپنی  سپورٹ کار کو جولیا کی گاڑی کے پیچھے لگا دیا  ۔ ۔ ۔ ایسے کہ انہیں احساس ہی نہیں ہوا اور عمران ان سے پہلے فلیٹ کے نیچے کھڑا ہو چکا تھا  ۔ ۔
جب سب اسکے فلیٹ کے دروازے پر پہنچے عمران نے پیچھے سے آواز لگائی  ۔ ۔ ۔ ارے ارے  ۔ ۔  یہ میرے گھر پر حملہ کیوں کر رہے ہو  ۔ ۔  ۔۔
عمران  ۔ ۔ ۔  تم کدھر تھے  ۔ ۔ ۔  میں  ۔ ۔  میں تو ادھر ہی تھا  ۔ ۔ ۔ 
اچھا تھوڑی دیر میں سب اسکی ڈراینگ روم میں نظر آئے ، سلمان نے چائے کی ٹرالی لا کر سایڈ پر کھڑی کی تھی اور سب کو چائے بنا کہ دے رہا تھا  ۔ ۔  ۔
ہوں  ۔ ۔ ۔ تو تم نے بھی سیکرٹ سروس چھوڑ دی  ۔ ۔  ۔ یہ تو بہت ہی اچھا ہوا  ۔ ۔  اب تم بھی میری طرح سلمان کی مونگ کی دال کھاؤ گے  ۔ ۔  ۔
عمران ہم تمہارے پاس وجہ جاننے آئے ہیں ، تمہاری بکواس سننے نہیں  ۔ ۔ ۔ تنویر نے بھنائے ہوئے کہا  ۔ ۔ ۔
اوہ اچھا  ۔ ۔  میں تو سمجھا تھا کہ تم لوگ باراتی ہو ، میں تو ابھی چھوارے منگوانے والا تھا ، صفدر کو خطبہ یاد ہو گیا ہے ، کل ہی میں نے سنا تھا  ۔ ۔
عمران وجہ بتاؤ  ۔ ۔  اس بار جولیا نے پوچھا
لو جی ، وجہ خود کہ رہی ہے وجہ بتاؤ  ۔ ۔  ۔ ۔
بھاڑ میں جاؤ  ۔ ۔ ۔  میں خود کُش لوں گی  ۔ ۔ ۔ ۔
کیسے کرو گی  ۔۔ ۔ عمران نے منہ میں چیونگم ڈالا اور چائے کی پیالی کو منہ سے لگا لیا  ۔ ۔ ۔  اور پھر چیونگم کا منہ سے غبارہ بنایا  ۔ ۔  جس میں چائے بھی نظر آ رہی تھی  ۔ ۔ ۔
یہ کیا بے ہودگی ہے ، جولیا نے منہ پھیر کر کہا  ۔ ۔ ۔  تو عمران نے اتنی تیزی سے غبارہ منہ کے اندر لیا اور ایسے لگا کہ جیسے اسنے اسے نگل لیا ہو  ۔ ۔
عمران صاحب یہ سنجیدگی کا وقت ہے  ، کیپٹن شکیل نے اس دفعہ بے بسی سے کہا
اچھا عمران نے بیٹھ کر کہا  ۔ ۔ ۔ اور ایسے منہ بنا لیا کہ سب کو بے اختیار ہنسی آ گئی  ۔ ۔ ۔
ہاں اب بتاؤ کیا مسلہ ہے   ۔ ۔ ارے اس چوہے نے تم لوگوں کی جان چھوڑ دی اس سے اچھی بات کیا ہے  ۔ ۔ ۔
عمران ہم وجہ جاننا چاہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔
کیا تم نے آج کے اخبار نہیں پڑھے  ۔ ۔ ۔ عمران نے ایک اخبار سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کر سامنے رکھ دیا
اخبار میں سر سلطان کی رئٹائرمنٹ کی خبر تھی اور لکھا تھا کہ کل کی میٹنگ میں کچھ خفیہ ایجنسیوں کی کاروائی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے صدر کی طرف سے  ۔ ۔
اس میٹنگ میں سپر پاور کا سفیر بھی موجود تھا  ۔ ۔ ۔  جسکا ذکر نہیں ہے  ۔  ۔
اوہ  ۔ ۔ ۔  ۔ تو کیا یہ ملک کے شمال میں جو کچھ ہوا ہے اور آج کل جو فوج کے خلاف ہو رہا ہے وہ وجہ ہے
ہاں  ۔ ۔  عمران نے سنجیدہ لہجے میں کہا  ۔ ۔ ۔ ابھی وہ کچھ کہنے والا ہی تھا کہ سلمان نے دروازے پر آ کر آنکھوں سے اشارہ کیا   ۔ ۔۔  ۔
عمران فوراَ اٹھا  ۔ ۔ ۔ سلمان نے آنکھوں سے اسکے پرائیویٹ روم کی طرف اشارہ کیا  ۔ ۔ ۔ جسکا چھوٹا سا ریڈ بلب جل رہا تھا
اوہ  ۔ ۔  ۔ عمران تیزی سے کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ بند کر کے سامنے پڑے ہوئے سرخ فون کو اٹھا لیا ، ہاں طاہر کیا بات ہے  ۔ ۔
عمران صاحب ، چیف آف آرمی اسٹاف آپ سے فوراَ ملنا چاہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔
مجھ سے یا ایکسٹو سے  ۔ ۔ ۔
عمران صاحب آپ سے  ۔ ۔  ایکسٹو تو اب نہیں رہا  ۔  ۔ ۔  آپ نے ہی تو ایکسٹو کا نمبر ریکارڈنگ پر لگا دیا ہے ، اسی میں پیغام ملا ہے
اوہ  ۔ ۔  اوکے  ۔ ۔  ۔ ۔ ریسور رکھ کر اسنے دوبارہ اٹھا کر نمبر ڈائل کئے
جی ایچ کیو ڈسک ،
چیف سے بات کروائیں ، دس از عمران  ۔ ۔ ۔
اوہ سر  ۔ ۔ وہ آپکے فون کا ویٹ کر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔
ہیلو  ۔ ۔ ۔ چیف کی آواز آئی
عمران ہیر ، عمران اس چیف کی دل سے عزت کرتا تھا اسلئے اسنے اپنی عمرانیات سے ہٹ کہ بات کی
عمران مجھ سے ملو ، جتنی جلدی ممکن ہو ۔ ۔
اوکے  ۔۔ ۔  عمران نے ریسور رکھ دیا  ۔ ۔  ۔اور روم سے باہر آ گیا  ۔ ۔ ۔
چوہے کے شیرو ، مجھے ابھی جانا ہے پھر بات ہو گی  ۔ ۔ ۔ ۔
شیر ابھی کچھ کہنا چاہ رہے تھے کہ  ۔ ۔ ۔ ۔  عمران ٹاٹا کہ کہ باہر نکل گیا  ۔ ۔ ۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------
عمران کو آرمی چیف سے پتہ چلا تھا کہ امریکی حکومت اس دفعہ  سیاسی طور پر کمزور حکومت کو سہارا دینے کا لالچ دے کر اپنے قدم جمانا چاہ رہی ہے ، اور اسکا ہدف ملک کی ایٹمی تنصیبات ہیں ، اور صدر صاحب کو پہلے سے ہی رام کیا جا چکا تھا کہ ایکسٹو کی ٹیم کو ختم کیا جائے ، مگر وزیر اعظم اس کے مخالف تھے ، چونکہ صدر کے پاس وزیر اعظم کو ہٹانے کے اختیارات تھے اسلئے وزیر اعظم نے مزید سیاسی طوفان سے بچنے کے لئے چُپ ہی میں عافیت جانی تھی ، ویسے بھی وہ کابینہ کے کرپٹ وزیروں کے دباؤ میں تھے جو ایوان صدر کے ہر وقت طواف کرتے تھے ، آرمی چیف نے ملٹری انٹیلی جنس کی رپورٹ کے مطابق بتایا تھا کہ امریکہ اپنے سفارت خانے کی توسیع کر کہ اس میں بہت ہی اعلٰی درجے کی مشینری نصب کر رہا تھا جسکی مدد سے وہ ایٹمی پلانٹ کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھ رہا تھا ، حکومت نے سفارت خانے کی توسیع کے احکامات دے دئیے تھے ، اور مشینری بحری جہازوں پر نئی مغربی بندرگاہ پر پہنچایا جا رہا تھا ، یہ اطلاعات چیف کو چین کے توسط سے بھی کنفرم ہوئیں تھیں ، جہاں پر امریکہ کا سب سے بڑا سفارت خانہ موجود تھا ، چینی حکومت نے حال ہی میں کتنی ہی سازشیں پکڑی تھیں جن میں سفارت خانے کے ملوث ہونے کے ثبوت تھے ، مگر چین اس وقت اپنی اقتصادی قوت کی وجہ سے ان سازشوں کو اچھال نہیں رہا تھا  ۔ ۔ ۔
عمران کو نہ صرف اس مشینری کو دارلحکومت تک پہنچنے سے روکنا تھا بلکہ اسکی تنصیب کے بارے میں بھی ثبوت دینے تھے ، یہ سب مشینری سفارتی پیکچ کے طور پر آ رہی تھی اسلئے نہ تو اسکی کوئی چیکنگ تھی نہ ہی کوئی پوچھ گوچھ  ۔ ۔  ۔  پھر ملک کے حالات اور مشرقی اور مغربی سرحدوں کی وجہ سے بھی کافی زیادہ مشکلات تھیں  ۔ ۔۔  عمران نے آرمی چیف سے کچھ معلملات طے کئے  ۔ ۔  ۔  جنہیں ایکسٹو نے کنفرم کیا تھا  ۔  ۔ ۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
دوسرے دن عمران دارلحکومت کے مرکزی چوک پر کھڑا میگا فون سے امریکی حکومت کو گالیاں دے رہا تھا  ۔ ۔  ۔
میرے ہموطنوں ، تمہارے اوپر قرضہ ڈال دیا ہے ، اے بھائی اسنے ایک مریل سے مزدور کو پکڑا ، تمہیں پتہ ہے تہمارے اوپر کتنا قرضہ ہے
ہاں جی ، طیفے کے دو سو اور مامے کے پچاس روپے  ۔ ۔  ۔
نہیں تمہارے اوپر تیس ہزار روپے کا قرض ہے  ۔ ۔
نہ نہ جی  ۔ ۔   میں نے اپنی ساری زندگی میں تیس ہزار روپے نہیں کمائے تو قرض کدھر سے
امریکہ سے
امریکہ تو گیا ہی نیں
تم نہیں سمجھو گے  ۔  ۔ تم سب پر تیس ہزار کا قرض ہے  ۔ ۔ ۔ سب  ہنسنے لگے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک نوجوان آگے بڑھا ، تو قرض کون چکائے گا  ۔ ۔ ۔
یہ مزدور   ۔ ۔
یہ جو خود فاقے کر رہا ہے قرض چکائے گا   ۔ ۔ ۔
ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ پولیس کی گاڑی کا سائرن سنائی دیا  ۔ ۔  سب لوگ تتر بتر ہو گئے   ۔ ۔ عمران اکیلا کھڑا رہا  ۔ ۔ ۔
مگر جیسے ہی پولیس کی وین اس کے پاس آ کر کھڑی ہوئی وہ بھاگ کھڑا ہوا  ۔ ۔ ۔  اور ایک گلی میں مڑ گیا جہاں پر کرائم رپورٹر انور اپنے اسکوٹر پر ریڈی تھا  ۔ ۔ ۔  اور وہ گلیوں کے اندر سے ہوتے ہوئے رانا ہاؤس جا پہنچے  ۔ ۔  ۔
--------------------------------------------------------------------------------------------
روشی کو امریکی سفارت خانے میں آج ایک ہفتہ ہو چکا تھا ، عمران نے اسے سفارت خانے کی نوکری کرنے کو کہا تھا ، سفارت خانے کی طرف سے توسیع کی وجہ سے نئی اسامیوں پر بھرتی ہو رہی تھی ، روشی کو اسکے گورے اور ماڈرن لُک کی وجہ سے فوراَ جاب مل گئی اور ویسے بھی اسکے پیچھے عمران کے ایک امریکی دوست کی سفارش بھی تھی  ۔ ۔  روشی کو ثقافتی اتاشی کی سیکریٹری کی جاب ملی تھی ، روشی نے تھوڑے ہی دنوں میں اتاشی کو شیشے میں اتار لیا تھا ، ثقفاتی اتاشی جو ایک پرانی منجھی ہوئی سیکرٹ ایجنٹ تھی ، اسے خصوصی طور پر ہدایات دی گئیں تھیں کہ وہ عوام میں ملے جلے ، اور عوام کی سوچ کو امریکی حکومت تک پہنچاتی رہے  ۔ ۔ ۔  روشی نے خود کو عمران کی ہدایات کے مطابق کافی سے زیادہ بولڈ اور مغربی تہذیب کا دلدادہ ظاہر کیا تھا ، اور وہ اپنے اسٹائل سے لگتی بھی تھی  ۔ ۔ ۔  روشی ایک اپنی مخصوص گھڑی کی مدد سے عمران تک اسکی ضروری معلومات نہایت صفائی سے پہنچا رہی تھی  ۔ ۔ ۔ اور ساتھ ساتھ  ۔ ۔  گوروں کو پٹا بھی رہی تھی  ۔ ۔ ۔   اسے معلوم تھا کہ عورت اور شراب اس قوم کی کمزوری ہیں  ۔ ۔  ۔ اور وہ اس کمزوری سے فائدہ اٹھا رہی تھی  ۔ ۔  ۔ ۔ اسی دوران ملٹری اتاشی کی سیکریٹری بیمار ہو کر امریکہ چلی گئی اور عمران نے اسکی جگہ جولیا کو بڑی آسانی سے فٹ کروا دیا تھا  ۔ ۔  ۔۔

-------------------------------------------------
عمران اور انور ہر جگہ پر ایسے ہی تقریر کر کہ بھاگ جاتے ، اور انور ہی اپنے اخبار اور چینل میں اسے رپورٹ کرتا ، یہ خبر ظاہر ہے سر رحمان تک پہنچی اور انہیں اوپر سے بھی پوچھ پرتیت ہوئی ، فیاض کو اسے گرفتار کرنے کا کہا گیا مگر جب وہ نہ کر سکا تو سر رحمان نے اسے دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم دیا  ۔ ۔ ۔  آج بھی کیپٹن فیاض عمران کو گولی مارنے کے اردے سے نکلا تھا ، اسکے مخبر نے اسے بتایا تھا کہ عمران اس وقت بڑی مارکیٹ میں اپنا جلسہ کر رہا ہےا  ۔  ۔ وہ آندھی کی طرح مارکیٹ کی طرف اڑا جا رہا تھا  ۔ ۔    عمران اپنے میگا فون پر کہ رہا تھا
میرے ہم وطنوں ، ہمارے پاس فوج ہے ، پولیس ہے ، حکومت ہے ، ہم ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو پھر ہمیں کسی کی فوجی مدد کی کوئی ضرورت نہیں ، امریکہ جب چاہتا ہے منہ اٹھا کہ ہمارے ہم وطنوں کو مار دیتا ہے  ۔ ۔ ۔ جب اسکا دل کرتا ہے ہماری فوج کو بدنام کرتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔
ہالٹ ، فیاض نے چیختے ہوئے ہوائی فائر کیا  ۔ ۔ ۔ سب لوگ بھاگ کھڑے ہوئے ، انور کا اسکوٹر بھی تیار تھا ، مگر اس دفعہ اسکے پیچھے فیاض کی جیپ تھی  ۔ ۔ ۔  امریکی سفارت خانے کی طرف چلو  ۔ ۔ ۔  عمران نے انور کو کہا  ۔ ۔ ۔ مگر وہاں تو بہت زیادہ حفاظتی اقدامات ہیں  ۔۔ ۔ تم چلو تو سہی  ۔ ۔ ۔  اس سائیڈ پر جہاں نئی عمارتیں بن رہیں ہیں  ۔ ۔  ۔  تمہارا کیمرا ریڈی ہے نا  ۔ ۔  ہاں  ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے دو  ۔ ۔ ۔  عمران نے کیمرا لے کر ریکارڈنگ کے لئے تیار کیا  ۔ ۔ ۔  تمہیں پتہ ہے ہمیں کیا کرنا ہے  ۔ ۔۔  ہاں  ۔ ۔ ۔  سفارت خانے سے آدھے میل کے فاصلے پر ہی چیک پوسٹ تھی  ۔ ۔ ۔ انور اسے توڑتا ہوا بجلی کی طرح نکلا تھا  ۔ ۔  مشین گن کا برسٹ ان سے چند فٹ کے فاصلے پر لگا تھا  ۔ ۔ ۔ اور پھر دوسرا برسٹ کیپٹن فیاض کی جیپ پر مارا گیا جیپ رکاوٹ سے ٹکرا کر رک گئی تھی  ۔ ۔ ۔ عمران نے پیچھے دیکھا  ۔۔  کیپٹن فیاض ہاتھ اٹھائے باہر آ رہا تھا  ۔ ۔  ۔
یہ ہی جگہ ہے  ۔ ۔ ۔ عمران نے نے ایک طرف مڑنے کو کہا  ۔ ۔ ۔   اور کیمرا آن کر دیا  ۔ ۔  ۔  یہ ایک سرنگ نما رستہ تھا  ۔ ۔  ۔  عمران نے کہا آگے کا رستہ تمہیں یاد ہے نا  ۔ ۔  ۔ہاں جی  ۔ ۔ ۔ انور نے موٹر سائکل کی رفتار تیز کر دی تھی  ۔ ۔ ۔  عمران نے ہیلمنٹ پہن لیا تھا  ۔ ۔  ۔ اب وہ دونوں پوری طرح سے بلٹ پروف لباس میں تھے  ۔ ۔ ۔ کیمرا چل رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اب ایک بڑے سے ہال میں داخل ہو چکے تھے  ہال ایک ڈھلوان کی طرح نیچے کی طرف جا رہا تھا  ۔ ۔ ۔  اب وہ ہال کے آخر تک پہنچ چکے تھے جہاں بڑی بڑی مشینیں لگی ہوئیں تھیں جو کہ زمین کو کھود رہیں تھیں ، یہ سرنگ بنانے والی جدید ترین مشینیں تھیں  ۔ ۔ ۔ عمران انکو کیپچر کر رہا تھا  ۔ ۔ ۔  ایک دم انکے سامنے ایک بکتر بند گاڑی آ گئی  ۔ ۔ ۔ اور اسکی مشین گن نے انپر گولیوں کی بارش کر دی ، انور  ۔ ۔ ۔ ایگزٹ ۔ ۔۔   ۔ ۔ ۔  اوہ یہ تیزاب کا کنواں ہے  ۔ ۔ ۔  ادھر نہیں  ۔ ۔ ۔ عمران صاحب کیمرا پھینک دیں اسمیں  ۔  ۔ ۔ کیا کہ رہے ہو  ۔ ۔   مگر ہماری فوٹیج  ۔  ۔ وہ ضائع نہیں ہو گی  ۔ ۔ ۔ ۔  اتنے میں عمران کو لگا کہ وہ چاروں طرف سے گر چکے ہیں  ۔ ۔  ۔  گولیاں اب اسے ڈائرکٹ بھی لگ رہیں تھیں  ۔ ۔  کہ ایک برسٹ اسکے کیمرے پر لگا اور کیمرا تیزاب کے ایک ڈرم میں جا گرا   ۔ ۔ ۔ انور نے ایک لمحے کو موٹر سائکل روکی ادھر ادھر دیکھا اور ایک طرف تیزی سے بڑھتا چلا گیا   ۔ ۔ عمران صاحب مزائل فائیر کر رہا ہوں  ۔ ۔  اوکے    ۔ موٹر سائکل کے سامنے کی جانب سے ایک مزائل نکلا اور بکتر بند سے ٹکرایا دھماکہ اور اور بکتر بند الٹ گئی   ۔ ۔ انور تیزی سے نکلتا چلا گیا  ۔ ۔ ۔ اب وہ ایک بڑے پائپ میں تھے جو نکاسی کے لئے بنایا گیا تھا  ۔ ۔ ۔ عمران کو پتہ تھا کہ یہ ایک بڑے نالے میں جا گرتا ہے  ۔  ۔ ۔ اور وہ اسی نالے میں جا گرے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔   تب انہیں پتہ چلا کہ باہر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی  ۔ ۔  ۔ اور وہ نالے میں تیرتے ہوئے  ۔ ۔ ۔ باہر آئے  ۔۔ ۔ ساری محنت غارت ہوئی  ۔ ۔ ۔ کیمرا وہیں ختم ہو گیا  ۔ ۔  ۔ نہیں عمران صاحب ، اسکی ریکارڈنگ ادھر ہو رہی تھی  ۔ ۔ ۔ میرے سینے میں رکھی ہارڈ ڈسک میں  ۔ ۔ ۔ وہ تو صرف کیمرا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔
بہت خوب  ۔  ۔ انور زندہ باد   ۔ ۔ ۔ عمران نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارا  ، ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
--------------------------------------------------------------------------------------------------------
دوسرا دن بہت ہی سنسنی خیز خبروں والا تھا ، کیپٹن فیاض شدید زخمی ہو چکا تھا ، اور سر رحمان نے عمران کی حرکتوں کی وجہ سے استعفٰی دے دیا تھا ، اور انور کا چینل اس فوٹیج کو بار بار چلا رہا تھا جس میں سرنگ کھودنے کی مشینیں سفارت خانے کی نئی عمارت میں نظر آ رہی تھیں اور بتایا جا رہا تھا کہ یہ کھدائی ایٹمی پلانٹ کی جانب کی جا رہی تھی    ۔ ۔ ۔ ۔ امریکی حکومت اس کی تردید کر رہی تھی   ۔ ۔ ۔ ۔  ۔   بہرحال دونوں حکومتیں مشکل میں پڑ چکی تھیں  ۔ ۔۔   سیکرٹ سروس کے ارکان عمران کو ڈھونڈتے پھر رہے تھے اور عمران تھا کہ گدھے کے سر کے سینگ کی طرح غائب تھا ، ایکسٹو  ۔ ۔ ۔ کا نمبر بھی اب صرف میسج لینے پر لگا تھا  ۔ ۔  ۔ ۔
اسی اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر اور بھی تھی ، سیکرٹ سروس کے چیف ایکسٹو کے استعیفٰی کے بعد نئے سربراہ نے چارج لے لیا تھا نئے سربراہ کا نام تھا مسٹر آر یعنی رضوان، اور یہ رضوان کوئی اور نہیں عمران کا شاگرد ٹائیگر تھا  ۔ ۔  ۔ ۔ جس نے فرداَ فرداَ ایک بار پھر ساری ٹیم کو فون کر کہ رانا ہاؤس میں بلا لیا تھا  ۔ ۔ ۔  ۔
---------------------------------------------------------------------------------------------
مجھے پتہ ہے یہ سب عمران کی ریڈی میڈ کھوپڑی کا کمال ہے ، ورنہ کہاں ٹائگر کہاں سیکرٹ سروس کا چیف ، تنویر نے کہا ، وہ اس وقت رانا باؤس کے میٹنگ روم میں موجود تھے
نہیں مجھے اور صدیقی کو عرب سفارت خانے میں ایکسٹو نے جگہ دلوائی ہے  ۔ ۔ ۔ صفدر نے کہا
اتنے میں دروزے سے ٹائگر اندر آیا وہ ایک سیاہ چُست لبادے میں ملبوس تھا ، اسکے پیچھے جوزف اور جوانا فوجی یونیفارم میں باڈی گارڈ کے روپ میں موجود تھے  ۔ ۔ ۔
صفدر نے کھڑے ہونے کی کوشش کی  ۔ ۔ ۔ ٹائگر نے انہیں اشارے سے منہ کیا  ۔ ۔ ۔
آپ کو پتہ ہے کہ مجھے جن حالات میں یہ پوزیشن دی گئی ہے ، میرے دل میں آپ سب کی بہت قدر ہے بلکہ آپ میرے سب میرے ہیرو ہو  ۔ ۔ ۔ مجھے ایکسٹو کے حکم پر یہ جگہ دی گئی ہے
آپ مجھے مسٹر آر کے نام سے جانیں گے ، میں ایکسٹو کے نمبر پر ملوں گا  ۔ ۔ ۔ اس وقت خاور اور نعمانی صاحب کو فرانس اور روس کے سفارت خانے میں بھیجھا جا رہا ہے آپ کو وہاں سے یہ تفصیلات اکھٹھی کرنی ہیں  ۔ ۔ ۔  ٹائیگر نے دو لفافے دونوں کی طرف بڑھائے
تنویر صاحب آپ کو چین کے سفارت خانے میں رہنا ہے ، وہاں ایک لمبا اور دبلا چینی ہے جو ثقافتی اتاشی کے طور پر کام کر رہا ہے اس کی نگرانی کرنی ہے ۔ ۔ ۔ ۔  اور ایکسٹو کا خیال ہے کہ وہ کوئی اور نہیں سنگ ہی ہے  ۔ ۔ ۔ اسلئے احتیاط بہت ضروری ہے ، اسکی تمام تفصیلات آپ کو ایکسٹو کے نمبر پر دینی ہونگی ، آپکا میک اپ عمران صاحب کریں گے
اور ہاں  ایکسٹو کا پیغام ہے کہ وہ آپ سے دور نہیں ہے  ۔ ۔ ۔ ۔
گڈ لک   ۔ ۔ ۔ ۔  ٹائیگر اٹھا اور جوزف اور جوانا کے ساتھ باہر نکل گیا  ۔ ۔ ۔ ۔
 
2009/8/31

فوج ، ایجنسیاں ، سیاست دان ۔ ۔ ۔ ایک مطالعہ

یہ ایک چھوٹی سی کہانی ہے پاکستانی فوج اور ایجنسیوں کی ، شاید کچھ اب بدل جائے مگر ممکن ہے بھی اور نہیں بھی ، میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بیس پر لکھا ہے ، اگر کوئی غلطی ہو تو معذرت چاہوں گا ، آپ کی آراء کا منتظر رہوں گا ۔ ۔  
---------------------------------

پاکستانی فوج قیام پاکستان سے لے کر آج تک ساری دنیا کی نظروں میں رہی ہے ،  ہندوستان کے بٹوارے کے ساتھ ہر چیز کا بٹوارہ ہوا ، سو فوج کا بھی ہوا ، مگر چالاک انگریز نے پاکستانی فوج کا سربراہ ایک گورا ہی رکھا ، اور ہمارے رہنماؤں نے سوچا کہ چلو اس طرح شاید گورا انکا حکم مانے ، مگر گورے نے قائد کے حکم کو ماننے سے انکار کیا  (جنرل فرانک ) اور برطرفی سہی مگر اپنا جانشین ایک اور گورا ( ڈگلس گریسی ) کو چھوڑا اور اس نے بھی قائد کا حکم نہیں مانا مگر قائد تو دنیا ہی چھوڑ گئے ، تو گوروں نے فوج کو ایسا “ٹرین “ کیا کہ پاکستان کا پہلا ڈکٹیٹر پالنے کے لئے دے دیا ، پاکستان کی فوج اس وقت برٹش آرمی کا بہترین حصہ تھی ، اسی لئے جب سبھاش چندر بوس نے اپنی آرمی بنائی تو اس آرمی میں برٹش افسروں اور سپاہیوں نے اپنی خدمات پیش کیں تو جرمنوں نے انکی بہت تعریف کی (اصل میں ہٹلر اس آرمی کو اتحادی افواج کے خلاف استعمال کرنا چاہتا تھا )

انگریز نے اپنی حکومت قائم رکھنے کے لئے بہترین مخبری (انٹیلی جنس) کا نیٹ ورک بنایا تھا ، اسی لئے پاکستان فوج کے اس خصے کی زیادہ اہمیت تھی یعنی ملٹری انٹیلی جنس کی ، کشمیر پر ہندوستانی فوج قبضہ کر چکی تھی ، دوسری طرف مہاجرین کی آمد تھی ، تیسری طرف ایک نوزیدہ ملک کو بیرونی دنیا میں اپنی پہچان بنانی تھی  ۔ ۔ ۔  قدم قدم پر سازشوں کے جال تھے ایسے میں بہترین انٹیلی جنس ہی حکومت کی مدد گار تھی ، شروع میں ملٹری انٹیلی جنس اور پولیس نے مل جل کر ملک کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کیا ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان آرمی ، بانی پاکستان کو وہ سب کچھ نہیں دے سکی جو وہ چاہتے تھے ، حتہ کہ کشمیر کے موجودہ آزاد حصے کا سہرا بھی ان قبائیلوں کے سر جاتا ہے جنہوں نے اپنی جان دے کر بھارتی افواج کا مقابلہ کیا  ۔ ۔ ۔

میں سمجھتا ہوں پاکستان کے خلاف پہلی کامیاب سازش ، بانی پاکستان کی زیارت سے واپسی پر انکی ایمبولینس کا خراب ہونا اور پھر کسی دوسری گاڑی کا نہ ملنا  ۔ ۔ ۔  یہ وہ سازش تھی جس میں میں سمجھتا ہوں اس وقت کی آرمی اور پولیس کا بہت بڑا ہاتھ تھا کیونکہ وہ اسے بے نقاب نہیں کر سکیں  ۔ ۔ ۔

اور اس کامیابی نے سازشوں کو مزید پھیلا دیا ، جسکے نتیجے میں لیاقت علی خان کی شہادت ہوئی ، اور اس وقت تک فوج میں غیر ملکی  اثر نفوذ ہو چکا تھا ،  گورنر جنرل غلام محمد اپنی عیاشیوں میں گم تھے ، نوزیدہ مملکت تھی ، عوام میں خلوص تھا ، انصار مدینہ کی مثال قائم کر رہے تھے ، مگر وہیں پر ایسے بھی لوگ موجود تھے ، جو جھوٹے کلیم کا دھندا چلا رہے تھے ، بھارت سے آنے والے کروڑ پتی ، پاکستان آ کر فقیر بن چکے تھے ، اور فقیر لکھ پتی ہو چکے تھے ، حکمران جانتے تھے کہ عوام کے جذبات کو کیسے ابھارا جائے ، وہ بیداری جیسی فلموں پر ٹیکس معاف کر کے عوام کو پاکستانیت سکھا رہے تھے  ۔ ۔ ۔ پاکستان اور ہندوستان میں صرف ایک فرق تھا بٹوارے میں ، ہندوستان سے مہاجروں کی لٹی پٹی ریل گاڑیاں آ رہی تھیں اور پاکستان سے سونے سے لدی گاڑیاں ہندوستان جا رہی تھیں ، فسادات کا محور ہندوستانی مسلم اقلیت کے علاقے تھے ، نظام حیدر آباد اور خان آف قلات جیسے لوگ پاکستان کو مدد دے رہے تھے ورنہ پاکستان جن سازشوں کا شکار تھا وہ اسے زندہ نہ رکھ سکتیں  ۔ ۔

خیر بات ہو رہی تھی فوج کی ، پاکستان بنانے والے مخلص تھے ، لیاقت علی خان کے ذہن میں ١٩٤٥ کا بجٹ تھا ، سردار عبدالرب نشتر ، عبدلحق اور قاضی عیسٰی جیسے لوگ اقتدار کو خدمت سمجھتے تھے ، اسلئے وہ عوامی لوگ سمجھے جاتے تھے ، مگر فوج میں افسران اسکے بالکل برعکس تھے ، انہیں عوام سے لنک صرف مہاجرین کی آبادکاری اور سرحدی محافظت تک تھی ، فوج کے جونیر افسران بہت جذباتی تھے اور عوام کے ساتھ تھے سپاہی تو عوامی ہوتے ہی ہیں ، مگر فوج کے سربراہان اور حکمرانوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی شروع ہو چکی تھی ، اصل میں یہ سوچ شاید اسی دن بن گئی تھی جب جنرل گریسی نے قائد اعظم کے حکم کو رد کیا تھا  ۔ ۔ ۔ اور اسی سوچ نے اسکندر مرزا کو اقتدار سنبھالنے کا موقعہ دیا  ۔ ۔ ۔  ۔یہ اسکندر مرزا اس میر جعفر کی نسل میں سے تھا جسنے ٹیپو سلطان کو دھوکہ دیا تھا  ۔ ۔ ۔  اور اسی بنیاد پر اپنے اباء کی خدمات کی دہائی دے کر برٹش انڈیا کی فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا  ۔ ۔ ۔   اسکندر مرزا نے گورنر جنرل بن کر مارشل لاء لگا دیا  ۔ ۔ ۔ آج تک اس مارشل لاء کی کوئی منطق پیش نہیں کی جا سکی  ۔ ۔ ۔  اور یہاں سے ہی فوج میں اقتدار کے حصول کے لئے رسہ کشی شروع ہوئی ، اسکندر مرزا جو صدر بن چکے تھے انکو فیلڈ مارشل ایوب خان نے ہٹا دیا  ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں سے پاکستان کی فوج کا ایک نیا روپ بنا ، ایوب خان نے عوام پر اپنی گرفت مضبوط کی ، انٹیلی جنس کو شاید سب سے پہلے ملکی رہمناؤں کی جاسوسی پر لگایا گیا ، فوج نے سیاست میں حصہ بھی اسی دور میں لیا ، فاطمہ جناح کو شکست دینے کے لئے فوجی اور بیورکریسی نے مل جل کر انتخابات کا ڈرامہ رچایا  ۔ ۔ ۔  ۔  ایوب خان نے پاکستان کو بین الاقومی طور پر ایک فوجی طاقت کے طور پر متعارف کروایا  ۔ ۔  ۔  لیاقت علی خان نے روس کو چھوڑ کہ جو دورہ امریکا کیا تھا ، اس کے تاثر کو زائل کیا ایوب خان نے ، اور بھارت کے روس کی قربت کو کم کرنے کے لئے ایوب خان نے روس سے تعلقات کو استوار کیا ، جسکے نتیجے میں ہم نے اسٹیل مل حاصل کی ، پاکستان سیٹو اور سنٹو جیسے فوج معاہدوں کا رکن بنا یعنی پاکستان دونوں بلاک میں تھا  ۔ ۔ ۔ ایوب خان نے بیرونی دنیا پر اپنا رعب تو جما لیا تھا مگر اندرونی سطح پر وہ ناکام تھے، بھارت نے پاکستان کے اسی ابھرتے ہوئے امیج سے گھبرا کر اور اندرونی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر ١٩٦٥ کا حملہ کیا ، جو ناکام یا کامیاب رہا یہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اچانک حملے کی وجہ پاکستانی ایجنسیوں کی ناکامی تھی ، کیونکہ وہ تو ایوب خان کے اقتدار کو مضبوط کر رہی تھی  ، مشرقی پاکستان کے لیڈروں کو تنہا کیا جا رہا تھا  ۔ ۔  ۔  عوام میں ایوب خان کے خلاف غصہ بڑھ رہا تھا  ۔ ۔ ۔  ایوب خان ہر ڈکٹیٹر کی طرح اپنی ایجنسیوں پر بھروسہ کئے بیٹھے تھے  ۔ ۔ ۔  مگر جب وہ تاحیات صدر بننے کے خواب دیکھنے لگے (جو ہر ڈکٹیٹر دیکھتا ہے ) عوام بپھر گئی  ۔ ۔۔  ملٹری انٹیلی جنس نے ایوب کو جانے کا کہ دیا اور ویسے بھی اس دوران ایک نوجوان نے جو ایوب کو ڈیڈی کہتا تھا ، باپ کو عاق کر دیا تھا ، ظلفقار علی بھٹو  ۔ ۔ ۔  عوام میں اپنی اہمیت منوا چکا تھا  ۔ ۔ ۔  اور پھر ایوب خان نے اپنی کمان ایک شرابی اور عیاش جنرل یحیٰی خان نے حوالے کر دی  ۔ ۔ ۔ ۔ یحیٰی خان  ۔ ۔ ۔  پاکستان کا رنگیلے شاہ ثابت ہوا  ۔ ۔ ۔  اس دوران بھارت کو پھیر موقع ملا اور مشرقی پاکستان پر فوج کشی کر دی گئی  ۔ ۔ ۔  انتخابات بھی ہوئے  ۔ ۔  ہماری ایجنسیاں کچھ بھی نہ کر سکیں  ۔ ۔ ۔ جانے کہاں سوئ ہوہیں تھیں جب مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی اور شانتی باہنی کا بیج بویا جا رہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ سیاست دانوں نے اسی کو موقع جانا اور اقتدار کی رسہ کشی ہونے لگی  ۔ ۔ ۔ اور اسی میں رسہ ٹوٹ گیا  ۔  ۔ اور اپنے اپنے حصے کے رسے کے ساتھ سب رسہ کشی کرنے لگے  ۔ ۔ ۔  بھٹو جو کہ ایوب کے صحبت زدہ تھے ، اپنے ڈیڈی کی روایت پر عمل کیا اور سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گئے اور انہوں نے ایجنسیوں کو اپنی خدمات پر لگا دیا  ۔ ۔ ۔  بھٹو نے سات سال تک پاکستانی سیاست کو نئے رنگ دیے  ۔ ۔ ۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی تاریخ میں صرف بھٹو کا دور خالص سیاسی تھا ، بلکہ سیاسی اکھاڑہ تھا  ۔ ۔ ۔ بھٹو نے فوج میں بھی اپنا اثر چھوڑا  ۔ ۔ ۔ خاصکر ایجنسیوں میں  ۔ ۔۔  سیاست میں فوج تھی پہلے ہی مگر سیاسی مخالفت میں فوج کی خفیہ ایجنسیوں کو سب سے پہلے بھٹو نے استعمال کیا  ۔ ۔ ۔  ٹارچر سیل بنائے گے  ۔ ۔ ۔ سیاسی مخالفوں کی “عزت افزائی“ کی گئی  ۔ ۔ ۔  مگر بھٹو نے بھی اپنے ڈیڈی والی غلطی کی  ۔ ۔ ۔ وہ بین الاقوامی لیڈر تو بنے اور عوام میں مقبول ہونے مگر عوام کے لئے روٹی کپڑا مکان کے نعرے کے سوا کچھ نہ کر سکے  ۔ ۔ ۔ ۔  بھٹو کی حکومت کی وجہ سے فوج میں واضح تبدیلی ہوئی  ۔ ۔ ۔  فوج میں اسلامی عنصر واضح ہوا اور سیکولر عنصر نے بھی اپنی جگہ بنا دی  ۔  ۔  ایجنسیوں کا بھی قبلہ بدلنے لگا   ۔ ۔ ۔  ۔  اور اس قبلہ کی تبدیلی بھٹو جیسا سیاست دان بھی نہ سمجھ پایا اور  ۔ ۔ ۔  ۔  جنرل ضیاء الحق نے انکا دھڑن تختہ کر دیا تھا  ۔ ۔  ۔  میں ایک بات سمجھتا ہوں کہ شاید فوج نے جو پہلا اتحاد حکومت کے خلاف یا پیپلز پارٹی کے خلاف بنایا وہ قومی اتحاد تھا  ۔ ۔  ۔ کیونکہ اسے فوج کی حمایت حاصل تھی  ۔ ۔ ۔ مگر دوغلے سیاستدان اس “فیور“ کا فائدہ نہ اٹھا سکے اور اسلامی مارشل لاء لگ گیا  ۔ ۔ ۔  ۔

پاکستان روس افغان جنگ میں بین الاقوامی ایجنسیوں کا اڈا بن گیا  ۔ ۔ ۔  روسی کے جی بی ، امریکی سی آئی اے ، بھارتی را اور حتہ کہ ایرانی ایجنسیز تک پاکستان کے کونے کونے میں پھیل گیئیں مخبر خریدے اور بیچے جانے لگے  ۔ ۔ ۔  میں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ ایجنسیاں جو روس کے ساتھ جنگ کے لئے بنائی گئیں تھیں انہیں بعد میں ختم نہیں کیا گیا  ۔ ۔ ۔ ۔  ایم آئی (ملٹری انٹیلی جنس ) ، آئی بی (انٹیلی جنس بیورہ ) وغیرہ نے اپنی بہت سی ذیلی ایجنسیاں بنائیں  ۔ ۔ ۔ جو کافی حد تک خود مختار تھیں  ۔ ۔ ۔  ان ایجنسیوں نے افغانستان میں بہت “کارنامے“ انجام دئیے  ۔ ۔ ۔  “مجاہدین“ کے “ٹولے“ بنائے  ۔ ۔  ۔ اور پھر ان ٹولوں کو افغانستان میں پھیلا دیا  ۔ ۔ ۔  اندرونی طور پر بیرونی طاقتیں پاکستان کو کمزور کر رہی تھیں ، یعنی ہماری ایجنسیاں بیرون ملک سرگرم عمل تھیں اور بیرونی ایجنسیاں ہمیں کھوکلا کر رہی تھیں  ۔ ۔ ۔  روس افغانستان سے نکل گیا اور امریکہ پاکستان سے  ۔ ۔ ۔ اور باقی سب لوگ ادھر ہی رہ گئے  ۔ ۔ ۔ افغان “مجاہدین“ اور “مہاجرین“  ۔ ۔ ۔  ۔ اور بھارتی ایجنسیاں  ۔ ۔ ۔  اس چیز کا احساس ١٩٨٤ کے آغاز میں ہوا جب کراچی میں تشدد پھوٹ پڑا ایک طالبہ ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئی ، ہنگامہ ہوا  ۔ ۔ ۔  اور کرفیو لگا دیا گیا  ۔ ۔ ۔  فوجی حکمرانوں کی یہ ہی منطق خراب تھی  ایک طرف وہ سیاست دانوں کو ہم نوا بنا رہے تھے دوسری طرف انہیں کو دبا رہے تھے  ۔۔ ۔  ایک ایسے واقعے کو جسے عام پولیس ہینڈل کر لیتی  ۔ ۔ ۔ اسے سیاسی بنایا گیا اور پھر فوجی بنا کہ کرفیو لگا دیا گیا   ۔ ۔ ۔  ۔ ۔

اب ایجنسیوں نے اپنے گھر کی طرف دیکھا تو  ۔ ۔ ۔ ۔  چوں چوں کا مربعہ تیار تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ کسی کو کچھ پتہ نہ تھا کہ کیا کرنا ہے ، لیڈر خریدے اور بیچے جانے لگے  ۔ ۔ ۔   اور اس کام کے لئے وہ پیسہ استعمال کیا گیا جو افغان وار کی خدمات کا صلہ تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  جو فوج کے پاس “وافر“ مقدار میں موجود تھا  ۔ ۔ ۔ ۔   اور پھر ہمارے امیر المومنین مرد مومن مرد حق ضیاء الحق نے  بین الاقوامی سطح پر پر پرزے نکالنے شروع کئیے تھے  ۔ ۔  ۔ ۔  اور سیاست دانوں کو “تھلے “ لگانے کا منصوبہ بھی ریڈی تھا   ۔ ۔ ۔  ایم کیو ایم کو لسانی طور پر کھڑا کیا جا رہا تھا  ۔ ۔ ۔ کہ یہ لوگ سیاست دانوں پر پریشر گروپ بنا سکیں ۔ ۔  ۔  معصوم وزیر اعظم جونیجو اپنی آل پارٹی کانفرنس کے ڈرامے کی اور اوجڑی کیمپ کے حادثے میں جنرلوں کے ثبوت مٹانے کے عمل کا “راز“ فاش کرنے کی  سزا بھگت چکے تھے کہ  ۔ ۔ ۔  اللہ کے نیک بندے کو اللہ نے ہوا میں ہی اٹھا لیا  ۔ ۔ ۔ ۔

اس حادثے نے ہماری فوج کے ان تمام افسران کو ایک ہی جھٹکے میں ختم کر دیا گیا جو کسی نہ کسی حوالے سے روس افغان جنگ سے متعلق تھے  ۔ ۔ ۔  مجھے ان میں سب سے زیادہ افسوس تھا برگیڈیر صدیق سالک کی شہادت پر ، ایمرجنسی جیسے ناول کے خالق اور پھر سقوط ڈھاکہ کی پہلی سچی جھلک کے مصنف ہونے کی وجہ سے میں انکا مداح تھا  ۔ ۔ ۔

خیر اس حادثے میں اور کچھ بچا ہو یا نہ ہو  ۔ ۔ ۔  ہماری خفیہ ایجنسیاں بچ گئیں  ۔ ۔ ۔  جنرل حمید گُل  ۔ ۔  زندہ رہے ، اسد درانی زندہ رہے  ۔۔ ۔  اور اس وقت کے جہانگیر کرامت بھی کراماتی طور پر زندہ رہے  ۔ ۔۔ 

خیر ایجنسیاں جو خود مختار نہیں بھی تھیں ، انکی بھی ڈوریاں ہلانے والے نہ رہے  ۔ ۔ ۔  اور پھر فوج کو ڈر ہوا کہ کہیں عوام پیپلز پارٹی کو نہ لے آئیں  ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بے نظیر کا استقبال دیکھ چکے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور بے نظیر کی پارٹی فوج کو بھٹو کی موت کا ذمہ دار قرار دے چکی تھی  ۔ ۔ ۔  مگر  ۔ ۔   بے نظیر آ ہی گئی  ۔ ۔ ۔ ۔ اور ایجنسیاں ڈر کے مارے وہ کھیل کھیلنے لگیں جن کے نتیجے میں پاکستان کی ایجنسیاں جو صدر کے ماتحت تھیں  ۔ ۔  ۔  بے نظیر کو گرانے میں کامیاب ہو گئیں  ۔۔ ۔ ۔  اور نواز شریف کو لایا گیا  ۔ ۔  ۔  مگر نواز شریف جو خود ضیاء کی غیر جماعتی اسمبلی کی پیداوار تھے  ۔ ۔ ۔ اور بے نظیر کے دور میں پنجاب کے وزیر اعلٰی کے طور پر طفیلیے سیاست دان سے عوامی سیاست دان تک سفر کر چکے تھے  ۔ ۔ ۔ لہذا وہ بھی صدارتی محل کی بھینٹ چڑھ گئے  ۔ ۔ ۔  اب ایجنسیاں سیاست دانوں کو اپنے ہاتھوں پر نچا رہیں تھیں اور آنا جانا لگ گیا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  ہم نے امپورٹڈ وزیر اعظم تک استعمال کر لیا تھا  ۔ ۔ ۔  اور پھر اسی میوزیکل چئیر کے گیم میں جنرل مشرف نے ١٩٧٧ والا کھیل کھیلنا چاہا مگر اس وقت تک حالات بدل چکے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان جو بین الاقوامی طاقتوں نے بھلا دیا تھا ، گریٹ افغان گیم کا حصہ بن چکا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  اور نواز شریف اور بے نظیر دونوں کو باہر دھکیل دیا گیا  ۔ ۔ ۔ ۔

ایوب خان کو ٦٥ کی جنگ اور عالمی پولرازیشن نے اقتدار کو طول دینے کا موقعہ دیا تھا ، ضیاء کو روسی جارحیت نے اور مشرف کو نائن الیون نے  ۔ ۔ ۔ ۔  سامنے کے کھلاڑی اور تھے اور خفیہ اینجنسیاں نئے نئے کھیل کھیل رہیں تھیں ، بھٹو دور میں جیسے فوج دو حصوں میں بٹی تھی ایسے ہی مشرف دور میں ہوا ، اس دفعہ سیکولر طبقہ اوپر آیا مگر مشرف کی ضرورت سے زیادہ امریکہ نوازی نے ملک میں جو بحران جنم دئیے وہ مشرف کو لے ڈوبے  ۔  ۔۔  ایوب خان نے سیاسی طفیلیے بنانے کا فارمولہ بنایا ، ضیاء نے منشیات اور کلاشنکوف سے ملک کو بھر دیا اور مشرف نے خود کُش حملوں  کا تحفہ دیا  ۔ ۔ ۔ ۔

بے نظیر اور نواز شریف بین الاقوامی کھیل کو سمجھ چکے تھے ، اسی لئے دونوں نے میثاق جمہوریت کیا ، اور واپس آ گئے ، حکمرانوں کو نواز شریف سے اتنا ڈر نہیں تھا جتنا بے نظیر سے تھا ، امریکہ کو بھی بے نظیر کی فکر تھی کیونکہ اس کا لھجہ بدل چکا تھا  ۔ ۔  وہ اب عوامی زبان میں بول رہی تھی ۔۔۔۔ یہ زبان ویسی ہی تھی جیسی کبھی بھٹو کی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

ایجنسیوں کو پتہ تھا کہ اب اگر بے نظیر برسر اقتدار آئی تو فوج کا حکمرانوں پر اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا ، اس دوران انہیں ایجنسیوں کو پتہ تھا کہ بے نظیر کا امیج ایک سیکولر لیڈر کا ہے جبکہ نواز شریف کنزرویٹو سمجھے جا رہے تھے ،  پاکستان کی تیسری جماعت یعنی مذہبی جماعتیں سرحد میں اپنے اثر کو کھو چکی تھیں اور باقی ملک میں بھی انکی عزت انکے کرتوتوں کی وجہ سے نہیں تھی ، ١٩٧٧ کے بعد سے مذہبی جماعتوں کا جھکاؤ فوج کی جانب رہا تھا ، مگر اب فوج کو معلوم تھا کہ مذہب کے نام پر اب عوام سے نہیں کھیلا جا سکتا کیونکہ طالبان نے مذہب کی غلط تشہیر کی تھی  ۔ ۔ ۔  فوج کے سیکولراور کنزرویٹو حصوں دونوں نے دونوں لیڈروں کو منظر سے ہٹانے کا فیصلہ کیا مگر بے نظیر پر حملہ کامیاب ہوا  ۔ ۔  ۔ ۔

جنرل مشرف کا خیال تھا کہ بے نظیر اسکا ساتھ دے گی مگر ججز کی برطرفی اور ایمر جنسی نے بے نظیر کے خیالات کو بدل دیا تھا ، اور وہ ایک بار پھر نواز شریف کی ہم آواز تھیں  ۔ ۔ ۔ ۔

فوج کی ایجنسیاں ایک بار پھر سیاست دانوں کی ٹوہ میں تھیں  ۔  ۔ ۔ مگر اس دفعہ سیاست دانوں کے کھیل کھیلا  ۔ ۔ ۔  اور ایک آمر کو پہلی بار  “باعزت“ رخصت کیا  ، مگر سیاست دانوں کی اقتدار کی ہوس آج بھی ہے ہماری زیادہ تر ایجنسیاں صدر کے ماتحت ہیں اور اسی لئے صدر صاحب زیادہ تر ملک سے باہر رہتے ہیں  ۔ ۔ ۔  ۔ اور باقی ایجنسیاں  ۔ ۔ ۔  ۔  امریکی خاطر مدارات میں لگیں ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ ایک چھوٹی سی جھلک ہے جو ہمارے ملک کی ایجنسیاں کھیل کھیلتیں ہیں ، میں جانتا ہوں کہ آپ لوگ اس تاریخ کو جانتے ہیں مگر ایجنسیوں کی نظر سے دیکھیں تو شاید ہمیں پتہ چلے کہ ہم ابھی تک ایک ڈر سے نہیں نکل پائے کہ اقتدار اگر ہاتھ سے نکل گیا تو کیا ہو گا ، یہ ڈر سیاست دانوں اور فوجی افسران دونوں میں ہے ، اسی لئے ایک دوسرے کے خلاف یہ برسر پیکار رہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور دوسری طرف ہماری ڈسپلن فوج ، ان ڈسپلن سیاست دانوں کا شکار بھی بنتی ہے  ۔ ۔ ۔ 

آج ہمارے سیاست دانوں میں کوئی بھی قائد اعظم جیسا نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ ہماری فوج کے سربراہوں میں جنرل گریسی کی روح موجود ہے جو آج بھی عوامی نمائندے کا حکم ماننے سے انکاری ہے  ۔ ۔  ۔ ۔ ۔

2009/8/28

ایم کیو ایم - کچھ یادیں کچھ باتیں

آج ایک نئی بحث شروع ہوئی تو اپنے آپ کو روک نہیں سکا لکھنے سے ، میں سمجھتا ہوں کہ میرا فرض ہے کہ جو میں سمجھتا ہوں اسے اپنے ہم وطنوں تک پہنچاؤں ، میں نے اپنا بچپن اور جوانی کراچی میں گذاری ، اور جب باقی ملک “آزادی“ کے مزے لے رہا تھا ، ہم کراچی والے کرفیو کی “قید“ میں بند تھے ۔
میں کوشش کروں گا اپنے اس مضمون کو مختصر رکھنے کی ، یہ بات ہے ١٩٨٤ کے اواخر کی ، ملک میں مارشل لاء تھا مگر عوام کے لئے ایک “مرد مومن“ کی حکومت تھی ، ناظم صلات (نمازوں کو پڑھوانے والے )  کا دور تھا ، ہر طرف فوج کے جلوے تھے ، بین الاقومی سٹیج پر روس بکھر رہا تھا ، امریکہ افغانی “مجاہدین“ کے لئے مدد دے رہا تھا ، اور پاکستان “اخوت اسلامی“ کے ریکارڈ توڑتے ہوئے لاکھوں “بے سہارا“ افغانوں کی مدد سے کلاشنکوف اور ہیروئین کلچر میں خود کفیل ہو رہا تھا ۔
ایسے میں کراچی کے کالجوں میں ابھرتی ہوئی ایک تنظیم جو کراچی میں ہجرت کر کے آنے والوں کی اس نسل میں سے تھی جس نے اپنی آنکھ ہی اس آزاد ملک میں کھولی تھی ، جسے اس شہر میں ہی نہیں اس ملک میں ایک پڑھی لکھی اور سمجھدار قوم سمجھا جاتا تھا ، جس میں حکیم سعید جیسے سپوت تھے ، جس میں سلیم الزماں صدیقی جیسے سائینسدان تھے جس میں رئیس امروہی جیسا شاعر اور بجیا اور حسینہ معین جیسی لکھاری تھیں  ۔ ۔ ۔  اسی قوم کے جوانوں کی ایک تنظیم تھی اے پی ایم ایس او یعنی آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹ آرگنازئیزشن ، اور یہ کوئی خاص بات نہ تھی کہ اسی شہر کے کالجوں میں اور یونیورسٹیز میں پی ایس اے (پنجابی اسٹوڈنٹ ایسوی ایشن) اور پختون اسٹوڈنٹ فیڈریشن ، کشمیر اسٹوڈنٹ فیڈریشن جیسی تنظیمیں موجود تھیں تو کسی کو ایک اور “قومی“ تنظیم پر اعتراض کی وجہ نہیں بنتی تھی ، اور پھر ان سب سے بڑھ کر کراچی کے کالجوں میں جمعیت اور پیپلز اسٹوڈنڈنس جیسی سیاسی طفیلیے بھی موجود تھیں اور لسانی تنظیمیں بھی تھیں جن میں سرائیکی اور سندھی تنظیمیں تھیں
یہ سب بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ مہاجر اسٹوڈنڈنٹس کا ابھرنا کوئی خاص بات نہ تھی ، یہ بھی یاد رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب طلبہ تنظیموں پر پابندی تھی مگر در پردہ انکی آبیاری بھی کی جاتی تھی ، اے پی ایم ایس او سے بھی پہلے جمیعت کے جھگھڑے مشہور تھے اور کالجوں میں سب سے زیادہ اسلحہ بھی اسی تنظیم کے پاس تھا ، کیونکہ شہری حکومت بھی جماعت اسلامی کی تھی اس لئے اسکی ذیلی تنظیموں پاسبان اور جمیعت کی اجارہ داری تھی ، میں ان لوگوں کو کنفیوز لوگ سمجھتا تھا اور ہوں کیونکہ یہ لوگ نہ تو مذہبی بن سکتے ہیں اور نہ ہی سیکولر ، اس وجہ سے انکے نظریے میں ہمیشہ ایک خلا رہتا ہے ، جبکہ انکے مقابلے میں آنے والی تنظیم نظریاتی طور پر مستحکم تھی اور اسکی سمت معین تھی ، یہ  ٨٠ (اسی) کے عشرے کا درمیانی وقت تھا ، ہمارے افغانی “اسلامی“ بھائی سارے ملک میں منشیات اور اسلحہ پھیلا چکے تھے ، اور ہمارے حکمران افغانستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے ، ایسے میں کراچی جو ایک چھوٹا پاکستان تھا جس میں پنجابی سندھی بلوچی اور پٹھان کشمیری اپنے اردو سپیکنگ ہم وطنوں کے ساتھ رہ رہھے تھے ، اس پر سازش رچی گئی اور سازش کے لئے ہراول دستہ بنا ایم کیو ایم ، جو ایک فلاحی تنظیم کے طور پر ابھری تھی اور اسکی بنیاد تھی اسکی طلبہ تنظیم ، جنہوں نے بچت بازار لگائے تھے اور پھر مختلف اداروں میں اپنا نظریہ پھیلا دیا ، کوئی بھی جماعت یا تنظیم اس وقت ہی مقبولیت حاصل کر لیتی ہے جب اسے مظلوم ثابت کر دیا جائے ، ایسا ہی ہوا ایم کیو ایم کے ساتھ ، اسے ہمارے حکمرانوں نے کندھا دیا اور کراچی  “جئے مہاجر“ کے نعروں سے گونجنے لگا ، اور لوگوں کو ایک مسیحا نظر آیا “الطاف حسین“ ، جو عوام کے اندر سے اٹھا ، عام سا آدمی جو کسی بڑی گاڑی کے بجائے ایک ہنڈا ففٹی میں اپنی سیاست کرتا ، وہ عام لوگوں میں مل جل جاتا اور عوام اسے اپنے میں سے ہی سمجھتے ، پھر جسے اپنا سمجھتے اسکا حکم بھی مانتے ، اور پھر ہنڈا ففٹی ایک مقدس چیز بن گئی ، شاید بہت لوگوں کے علم میں ہو گا کہ کراچی کے ایک بڑے جلسے میں لوگوں نے اس ہنڈا ففٹی کو چوم چوم کر چمکا دیا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔
پاکستان کی بدقسمتی کہییے یا پھر قانون قدرت کہ جو بار بار یہ سمجھاتا ہے کہ اقتدار کے طالب ایک دن ذلت کی موت مرتے ہیں ، ایسے ہی ہوا ١٩٨٧ میں ، جب مرد مومن “شہید اسلام“ بن گیا ، اسلام کے اس سپاہی نے جو کارنامے انجام دئیے انکا شاخسانہ آج تک ہم بھگت رہے ہیں ، منشیات اور کلاشنکوف سے لیکر لسانی سیاست تک سب اسی دور کے پھل ہیں ، مگر اس کے بعد جو اقتدار کی رسہ کشی شروع ہوئی تو اگلے دس سال تک ایک میوزیکل چئیر کھیلا جانے لگا ، ایسے میں ہی کراچی کے “قائد عوام“ نے ان سب چیزوں کا فائدہ اٹھایا اور کراچی میں نو گو ایریا بن گئیے ، قائد کے غداروں کو بوری میں بند کیا جانے لگا ، اخبارات میں انسانوں کی مڑی تڑی لاشوں کی تصویریں چھپنے لگیں  ۔۔ ۔  اور پھر ہم بے حس ہو گئے  ۔ ۔ ۔
ایم کیو ایم ایک پریشر گروپ بن گئی ، جو ہر آنے والی حکومت کو بلیک میل کرتی ، پتہ نہیں لوگ کیوں بھول گئے کہ جب الطاف بھائی کی تصویریں آسمان سے لیکر پتے پتے پر جم رہی تھیں  ۔ ۔ ۔ ۔  جب فوج کے سپاہی عزیز آباد میں داخل ہونے کی کوشش کرتے تو پتھروں اور گولیوں سے انکا استقبال ہوتا ، لوگ کھجی گراؤنڈ کو کیوں بھول گئے پتہ نہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ادھر شہر کے اندر یہ ہولی کھیلی جا رہی تھی ادھر شہر کے مضافات میں اسلحے اور منشیات کے ڈیلر اپنے اڈے مضبوط کر رہے تھے ، وہ سہراب گوٹھ سے لیکر ناتھا خان کے پُل کے نیچے تک اپنے گاہک پیدا کر لئے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔
ضیاء الحق کے بعد تو کراچی میں وحشت کا راج ہو گیا تھا (میں نے جان بوجھ کہ وحشت لکھا ہے دھشت میں انسان صرف خوف کا شکار ہوتا ہے مگر ان دنوں کراچی کے لوگ وحشی بن چکے تھے )  جن لوگوں نے گولیمار اور سہراب گوٹھ کے واقعیات کی وڈیوز دیکھی ہیں وہ جان سکتے ہیں کہ میں نے وحشی کیوں کہا ، مجھے وہ رات آج بھی یاد ہے جب شاہ فیصل کالونی میں فساد ہوا تھا ، گرین ٹاؤن گولڈن ٹاؤن اور الفلاح سوسائٹی میں لوگ بازار جلا رہے تھے اور پھر رات ایک بجے کے قریب ہمیں شاہ فیصل کالونی کی جانب سے گولیوں کی آوازیں سنائیں دیں اور ان آوازوں سے بلند عورتوں اور بچوں کی چیخیں تھیں ، جو ایک عرصہ تک میرے کانوں میں گونجتی رہیں  ۔ ۔
وہ شخص وحشی ہی تھا نا جس نے شیر خوار بچوں کو چیر دیا تھا ، وہ آدمی کیسا تھا کہ جسکی لاش کے ساتھ یہ لکھا ملا کہ قائد کے غداروں کا یہ ہی انجام ہوتا ھے  ۔ ۔ ۔  کیا ہماری لائبریریوں میں اس وقت کے اخبار موجود نہیں ؟ جن میں سب جھوٹ تھا مگر کیا ایک سچ بھی نہیں مل سکتا  ۔ ۔  ۔ جذبات بہت ہیں مگر کیا کہوں کہ
                                  انسان کو جلتے دیکھا ہے جلاتے بھی دیکھا ہے
                                  بندوقوں سے بچوں کو بہلاتے بھی دیکھا ہے
خیرکرفیو لگا ، انتخابات ہوئے ، یہ کیسے انتخابات تھے ، کہ کراچی میں رجسٹر ووٹوں سے بھی زیادہ ووٹ ڈلے ، یہ کیسے انتخابات تھے کہ جن میں جیتنے والے اور ہارنے والوں کے درمیان لاکھوں کا فرق تھا  ۔ ۔  ۔ ۔  اور پھر کراچی میں آگ لگتی چلی گئی  ۔ ۔ ۔ ۔ اور ایم کیو ایم نے چولے بدلنے شروع کئے ، انہیں پتہ لگ گیا تھا کہ حکومت میں رہنے کا گُر کیا ہے ، کسی کی بھی حکومت آئے ، ایم کیو ایم اسکے ساتھ رہے گی ، ایم کیو ایم کو کیا چاہیے تھا ، حکومت اور شہید ، دونوں اسے ملتے رہے ، اور ابھی تک مل رہے ہیں  ۔ ۔  ۔  ایم کیو ایم نے ساحر لدھیانوی کے اس شعر کو سچ کر دیکھایا ہے کہ
                               برسوں سے رہا ہے یہ شیوہ سیاست
                               جب جواں ہو بچے ہو جائیں قتل
یہ سلسلہ چل پڑا ہے  اور چلتا ہی رہے گا ، اس جماعت کی بنیاد ایک لسانی تنظیم تھی اور آج تک ہے ، الطاف حسین ایک ایسی مچھلی ہے جس نے اپنی قوم کے تالاب کو اتنا گندہ کر دیا ہے جسے صاف کرنے میں شاید ایک صدی لگے ۔ ۔ ۔  الطاف حسین کو اپنی قوم سے کوئی ہمدردی نہیں ، وہ اس کمزور عورت (بے نظیر بھٹو) سے بھی کمزور ہے جو سب جاننے کے باوجود واپس آئی ، اور اپنی جان تک قربان کر دی ، مگر شاید الطاف حسین جو دوسروں کو چوڑیاں پہننے کا اکثر مشورہ دیتے ہیں ، خود چوڑیاں پہن کہ بھیٹھے ہیں  ۔ ۔  ورنہ  ۔ ۔ ۔ بقول شاعر ، قوم پڑی ہے مشکل میں اور مشکل کشا لندن میں ۔ ۔
بات کہاں کی کہاں نکل گئی ، میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں ، الگ ریاست کا خواب ایم کیو ایم کا اس وقت کا خواب ہے جب وہ مہاجر قومی موومنٹ تھی ، اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ١٩٨٤ سے پہلے کراچی کے تمام اداروں میں اردو سپیکنگ نہ صرف اچھی سروسز اور پوزیشنز پر موجود تھے بلکہ بہت اچھی شہرت بھی رکھتے تھے ، کراچی کے “بھیے“ سب قوموں کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے ، انکے آپس میں رشتے داریاں تھیں  ۔ ۔  ۔ دوستیاں تھیں  ۔ ۔ ۔  یہ ایم کیو ایم نے ہنستے کھیلتے کراچی کو کیا بنا دیا  ۔  ۔؟؟؟
ٹھیک ہے انہیں استعمال کیا گیا مگر جب وہ لوگ اقتدار میں آئے تو انہیں خود کو بدلنا چاہیے تھا ، یہ شاید ١٩٩٠ کے بعد کی بات ہے جب میری ملاقات ہوئی تھی اڈیڈمینسٹریٹر کراچی فاروق ستار سے ، میں سوچتا تھا کہ یار یہ بندہ تو بہت اچھا ہے ، جو عام لوگوں میں گھل مل جاتا ہے ، ان دنوں جب ٹارگٹ کلنگ عام تھی فاروق ستار جب بھی کہیں جاتے تو وہ آگے چلتے اور اتنا تیز چلتے کہ دوسرے لوگ انکا ساتھ نہیں دے پاتے  ۔ ۔ ۔   اور اگر وہ ایم کیو ایم  کو بہتر وقت دے سکتے مگر شاید وہ اپنی جماعت کے پابند تھے  ۔ ۔  اور اسی وجہ سے انکے بعد جماعت اسلامی نے کراچی کو “فتح“ کیا  ۔ ۔ ۔  اور اپنے مئیر کو لا سکی  ۔ ۔ ۔
اور جماعت اسلامی نے وہ ہی غلطیاں کیں جو اقتدار کے لالچی لوگ کرتے ہیں ، اور ان سے حکومت چھن گئی  ۔ ۔ ۔  گو انکے منصوبے اچھے بنے تھے مگر انکا افتتاح کسی اور نے کیا  ۔ ۔ ۔
مختصر یہ کہ ایم کیو ایم ایک پریشر گروپ سے ایک قومی جماعت بنی ، اس جماعت کا اور منشور اپنی جگہ مگر ایک شق لازمی ہے ، وہ ہے فوج کی کردار کُشی  ۔ ۔  ۔ اور یہ پہلے دن سے یہ ہی چل رہا ہے  ۔ ۔  ۔ اور ابھی تک چل رہا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ اور شاید چلتا رہے گا  ۔۔  کیونکہ “قائد“ لندن میں رہیں گے اور قوم ٹیلی فونک خطاب سنتی رہے گی ۔
2009/6/8

سفید کمرے کی کالی دیوار - آخری قسط

امریکی اور اسرائیلی کمانڈو انکے پیچھے لگ چکے تھے ، اسلئے اب انہیں اپنا مشن جلدی پورا کرنا تھا ، وہ اس وقت لیفکے شہر کے نواحی علاقے میں موجود تھے یہ ایک جھنگل نما جگہ تھی ، لیباٹری بھی اسی علاقے میں تھی ، کیونکہ اسکے سگنل بہت اسٹرنگ تھے اس جگہ  ۔ ۔ ۔ ۔  ناصر کے سامنے اس وقت سرکٹوں کا ڈھیر پڑا ہوا تھا ، یہ سرکٹ اسنے بہت ساری الیکٹرانکس دیوائیسز سے نکالے تھے  ۔ ۔ ۔  وہ انہیں جوڑ رہا تھا ، دوسری طرف صابر اور اسحاق ، بنگلے کے باغیچے میں تاریں بچھا رہے تھے ، جو کہ چھت پر ایک ڈش کے ساتھ لنک تھیں  ۔ ۔ ۔  انکے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ٹی وی تھا ، جسپر سگنل آ جا رہے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔انہوں نے وائرز کو ٹی وی تک لے جا کر چھوڑ دیا  ۔ ۔ ۔ تھا  ۔  ۔۔  ناصر نے انکی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا  ۔ ۔ ۔ یار کچھ کھا بھی لو  ۔  ۔۔
ٹائم کہاں ہے کھانے کا  ۔ ۔ ۔ پتہ ہے کوناگی میں لانچ رات آٹھ بجے تک پہنچ جائے گی  ۔  ۔ ۔
ہاں کام ہو گیا ہے ، بس فٹنگ کرنی ہے  ۔ ۔ ۔
مگر بتاؤ بھی کہ کیا ہوا ہے  ۔ ۔ ۔
بتاتا ہوں پہلے کچھ کھلا تو دو تم بے شک نہیں کھانا
ارے میں سینڈوچ بنا لاتا ہوں ۔ ۔ ۔ صابر نے کہا 
بلیک کافی کے ساتھ لانا  ۔  ۔۔
مجھے بھی  ۔ ۔  اسحاق نے کہا  ۔ ۔ ۔
اوکے باس  ۔ ۔ ۔ صابر کچن کی طرف چلا گیا  ۔ ۔ ۔
ناصر نے ٹی وی کے اندر ایک سرکٹ فٹ کیا  ۔ ۔ ۔ اور دوسرا سرکٹ لے کر باغیچے میں گیا اور تاروں کے ساتھ منسلک کر دیا جو اسحاق اور صابر نے بچھائیں تھیں  ۔ ۔ ۔ ۔
اسے مٹی میں دبا دینا چاہئے  ۔ ۔ ۔ اسحاق نے کہا  ۔ ۔ ۔
ہاں یہ تو کرنا پڑے گا پہلے ٹیسٹ ہو جائے  ۔ ۔ ۔
وہ واپس اسی کمرے میں آئے ٹی وی آن کیا  ۔ ۔ ۔ ۔ ناصر نے ریموٹ اٹھایا اور چینل سرچ کرنے لگا  ۔ ۔ ۔  ایک فریکیونسی پر آ کہ اس نے روک دیا ، ٹی پر آڑی ترچھی لائنز آ رہی تھیں  ۔ ۔ ۔   ہیڈ آفس ملاؤ  ۔ ۔ ۔ اسحاق نے سٹئلائٹ فون سے ایک کی دبائی ۔ ۔ ۔ ۔  پروگرام آ رہا ہے کیا  ۔ ۔ ۔  ناصر نے فون لے کر پوچھا  ۔ ۔ ۔ دوسری طرف سے اثبات میں جواب ملنے پر ناصر نے کہا کہ کنٹرول چیک کرو  ۔   ۔  آبجیکٹ کنٹرول میں ہے  ۔ ۔ ۔ ۔
اسی لمحے میں صابر کھانے کی ٹرے کے ساتھ اندر آیا  ۔ ۔ ۔
شکر ہے کام ہو گیا   ۔ ۔ ۔ ناصر نے فون بند کرتے ہوئے کہا  ۔ ۔ ۔ اب ہم جا سکتے ہیں 
مگر تم نے کیا کیا ہے  یہ تو بتاؤ  ۔  کیونکہ لیب تو ادھر ہی ہے اور  ۔ ۔ ۔
میں بتاتا ہوں  ۔ ۔ ۔  ناصر نے ایک سینڈوچ کا نوالہ لیتے ہوئے کہا  ۔ ۔ ۔
میری کوشش تھی کہ ہم قبرص سے باہر اس لیباٹری کو تباہ کریں ، اور میں اس میں کامیاب رہا ہوں ، ہم لیباٹری کے اندر نہیں جا سکتے اور نہ ہی کوئی ادھر سے باہر آئے گا ، مگر اس وقت لیباٹری میں تیس عدد وہ لوگ موجود ہیں جنکے برین میں چپ فکس کی جا چکی ہے ، میں نے انہیں کو کنٹرول کیا ہے ، اور ہیڈ آفس کے کنٹرول روم سے انہیں کنٹرول کر کہ چیک کیا جا چکا ہے  ۔ ۔ ۔
یعنی ہم انہیں لیب تباہ کرنے کے لئے استعمال کریں گے  ۔  ۔
بالکل  ۔ ۔ ۔
اور یہ سرکٹ ،
یہ ہمارے لئے لنک کا کام کرے گا سٹیلائٹ لنک کا  ۔ ۔ ۔ ۔
اور اس طرح کرے گا کہ کوئی اسے ڈی ٹیکٹ نہیں کر سکے گا اور کرے گا بھی تو اسے یہ سگنل اپنا ہی لگے گا  ۔  ۔  یاد ہے وہ وائرلیس جس سے میں نے چپ نکالی تھی  ۔ ۔ ۔  یہ وہ ہی چپ ہے  ۔ ۔  ۔
ہم نے چھے مہینے کا کرایہ دے چکے ہیں لہذا کوئی ادھر آئے گا نہیں ،
چلو پھر ریڈی  ۔ ۔ ۔  ہم بیس منٹ میں ساحل پر ہونگے  ۔ ۔ ۔
انشااللہ  ۔ ۔ ۔
اور تھوڑی دیر میں وہ کوناگی کے ساحل کی طرف جا رہے تھے جہاں پر ایک لانچ انکی منتظر تھی
-----------------------------------------------------
لیب کے اندر بہت خاموشی تھی ، پچھلے ایک ہفتے سے کوئی بھی شخص چپ کی فٹنگ کے لیئے نہیں لایا گیا تھا ، ڈاکٹر گور ایک میز پر بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر مختلف کمروں کے منظر دیکھ رہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ اسکے چہرے پر بے زاری نمایاں تھی  ، اسنے میز پڑے لال فون کو اٹھا اور ایک ہی نمبر دبایا ۔  ۔ ۔  تھوڑی دیر تک اسے انتظار کریں کا پیغام ملتا رہا  ۔  ۔۔ پھر ایک بھاری آواز گونجی  ۔ ۔ ۔ یہ کرنل ڈیوڈ تھا لیب کی سیکورٹی کا انچارج ، کرنل ہم کب تک یوں ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں گے ، ڈاکٹر گور نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا
جب تک خطرہ پوری طرح ٹل نہیں جاتا  ۔ ۔ ۔ ۔
کب تک ٹلے گا خطرہ  ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر نے پوچھا
کچھ کہا نہیں جا سکتا  ۔ ۔ ۔
اسی لمحے کمپیوٹر کی اسکرین پر ایک ونڈو کھلی جس پر لکھا تھا ارجنٹ میسج  ۔ ۔ ۔  میں تمہیں فون کرتا ہوں پھر ڈاکٹر نے کہا اور میسج کھول ، جس میں لکھا تھا کہ ، کچھ جوان جنکو چیپ لگائی تھی وہ اپنی زبان میں کوئی گیت گا رہے ہیں مل کر  ۔ ۔ ۔  اور ایک دوسرے پر سرکس کے انداز میں حرکتیں کر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔
ڈاکٹر نے جلدی سے کچھ کیز دبائیں  ۔ ۔  ۔ لیب ٹاپ کی اسکرین کالی دیوار والا ایک کمرہ تھا ، جس کے وسط میں جوان بیٹھے گیت گا رہے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔
ہونٹ انابی آنکھیں شرابی
چاند سا چہرہ ، مکھڑا گلابی
اس پے تیرا مسکرانا ، مر جاؤں گا
او جان جاناں مر جاؤں گا
ڈاکٹر مسکرا دیا  ۔ ۔ ۔ ارے یہ تو ایک فوک گیت ہے ، وہاں کے لوگ گاتے ہیں ایسے  ۔ ۔ ۔  اسنے دیکھا جوان ایک دوسرے کے کاندھے پر چڑھے ہوئے تھے اور ایک جوان کالی دیوار کو ہاتھوں سے ناپ رہا تھا  ۔ ۔  ۔ ۔   ہا ہا ہا  شاید یہ کمرے کی چھت سے باہر نکلنا چاہتے ہیں بے وقوف  ۔ ۔۔ ۔
-------------------------------
ہیڈ آفس کے کنٹرول روم میں ناصر  بہت ساری اسکرینوں کے سامنے بیٹھا تھا ، اس ہال میں بہت سارے ایسے ہی ڈیسک تھے  ۔۔ ۔ ۔  سامنے ایک بڑی اسکرین تھی جس پر کالی دیوار والے کمرے کا منظر تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  جس میں ایک جوان کالی دیوار ناپ رہا تھا  ۔ ۔ ۔
سر مجھے اسکا سنٹر پوائینٹ مل گیا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ایک طرف سے آواز آئی ، یہ عامر تھا ، میٹھمیٹکس ایکسپرٹ  ۔ ۔ ۔ 
گڈ  ۔ ۔ ۔
سر میں نے سب جوانوں کے قد  سے بھی اندازاہ کر لیا ہے کہ کون یہ کام کرے گا
ویری گڈ  ۔  ۔ ناصر نے کہا  ۔ ۔
او کے  ۔ ۔ ۔ ناؤ ایکشن  ۔ ۔ ۔۔
سر پروگرام فیڈ کیا جا چکا ہے ، ہمارے اندازے کے مطابق یہ کام دو منٹ میں پورا ہو گا اور کیونکہ ہمارا سٹالایٹ ڈیلے دو منٹ کا ہی ہے اسلئے ہمیں چار منٹ بعد نظر آئے گا  ۔۔ ۔  
مگر یہ جو دو منٹ کا بلیک آؤٹ ہے اسکا کیا ہو گا
یار اسی لئے کہا تھا کہ یہ کام وہیں کرنا چاہیے تھا قبرص میں صابر کی آواز گونجی 
نہیں سر یہ بلیک آؤٹ نہیں ہو گا  ۔ ۔ ۔  ہم پوری سٹڈی کر چکے ہیں  ۔ ۔ ۔
او کے پھر گو آہیڈ  ۔ ۔
بسم اللہ  ۔۔۔ ۔ ناصر نے کہا اور ایک بٹن دبا دیا ۔۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں جوانوں میں جیسے پارہ بھر گیا تھا  ۔ ۔ انہوں نے ایک جوان کو اٹھایا جو تیر کی طرح اکڑ چکا تھا اور اٹھا کر کالی دیوار کی طرف دوڑ لگا دی  ۔۔۔  اسی طرح ایک دوسرے جوان کو بھی کچھ جوانوں نے اٹھایا اور کالی دیوار کی طرف دوڑ لگا دی اور جیسے ہی انکے سر دیوار سے ٹکرائے  ۔ ۔ ۔ ایک چھناکے کی آواز آئی  ۔ ۔۔  اور کالی دیوار ریزہ ریزہ ہو گئی  ۔ ۔  ۔
اللہ اکبر  ۔ ۔ ۔ اللہ اکبر  ۔ ۔ ۔ سارا ہال گونچ اٹھا
--------------------
یہ یہ کیا کر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر گور نے  ۔ ۔  اپنی اسسٹنٹ کودیکھا  ۔ ۔ ۔ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ انہیں ایک جگہ مت رکھیں  ۔ ۔ ۔  کالی دیوار ٹوٹ چکی تھی  ۔۔۔   جوان ادھر ادھر بکھر گئے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ جوان کنٹرول مشین پر بیٹھ چکے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔
نہیں میں یہ نہیں ہونے دوں گا  ۔۔ ۔ ڈاکٹر گور نے چلاتے ہوئے کہا  ۔۔ ۔ ۔
مگر اسی وقت کنٹرول روم میں گن مین داخل ہوئے اور انہوں نے جوانوں پر گولیاں برسانی شروع کر دیں  ۔ ۔
ارے بے وقوفو یہ کیا کر رہے ہو ساری مشینری تباہ ہو جائے گی  ۔۔ ۔
کچھ جوانوں نے گن مینوں سے مشین گنیں چھین لیں تھیں  ۔ ۔ ۔
اور وہ لیب میں پھیل چکے تھے  ۔ ۔ ۔ اور بے دھڑک فائیرنگ کر رہے تھے  ۔ ۔ ۔
ڈاکٹر گور فون پر چلا رہا تھا  ۔ ۔  
ایک جوان کو اسنے کمیونیکیشن روم میں جاتے دیکھا  ۔ ۔  یہ یہ کیا کر رہا ھے  ۔ ۔  یہ ان پڑھ جاہل اس مشین کی فریکوینسی بدل رہا ھے  ۔ ۔ ۔ ۔  اوہ اوہ  ۔  ۔ اسنے اپنی اسکرین پر دیکھتے ہوئے کہا  ۔۔ ۔ نہیں یہ خواب ہے ایسا نہیں ہو سکتا  ۔ ۔ ۔
سب ہو سکتا ہے ڈاکٹر گور  ۔ ۔ ۔ اسکے لیب ٹاپ میں آواز ابھری  ۔ ۔ ۔ ۔ یہ لیب تباہ کی جا رہی ہے  ۔ ۔۔ ۔  مگر کیوں  ۔ ۔ ۔ اگر تھوڑی دیر اور ہم نے اس کمیونیکیشن کو جاری رکھا تو ہمارے بہت سارے راز کھل جائیں گے  ۔۔ ۔ ۔   گڈ بائے ڈاکٹر  ۔ ۔ ۔
نہیں   ۔ ۔ ۔ نہیں سنو  ۔۔ ۔ سنو  ۔ ۔  ۔ ۔ تم مجھے مار دو مگر یہ فارمولہ لے لو  ۔ ۔ ۔  یہ فارمولہ یہاں کے سوا کہیں نہیں ہے  ۔ ۔ ۔
کنٹرول تو بہت جگہ ہیں ڈاکٹر  ۔ ۔ ۔۔ ۔
مگر فارمولہ ادھر ہی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔  اور اگر یہ مین کمپیوٹر تباہ ہوا تو باقی سب کنکشن ختم ہو جائیں گے  ۔ ۔  ۔  اسنے لال فون کا ایک بٹن دبایا  ۔۔ ۔  پریزیڈنٹ پلیز  ۔ ۔۔ ۔ ۔
ہلیو  ۔ ۔ ۔  ۔ ایک آواز ابھری  ۔ ۔
سر ۔ ۔  ۔  چپ سیون ایٹ سیکس  ۔ ۔ ۔ ڈسٹرائے ہو جائے گی اگر لیب تباہ ہوئے  ۔ ۔ ۔ ۔
سوری ڈاکٹر  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ سب کا مشترکہ فیصلہ ہے
مگر گریٹ اسرئیل  ۔ ۔ ۔ ۔
اسرئیل از اگری  ۔ ۔ ۔
ناٹ پاسیبل  ۔ ۔ ۔  نو نو نو  ۔ ۔ ۔ نہیں ہو سکتا اسرائیل کبھی بھی نہیں ۔ ۔ ۔  تم گریٹ اسرائیل کو  ۔ ۔ ۔  نہیں روک سکتے  ۔ ۔  ۔
نان سنس  ۔ ۔  ۔  یو  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر نے پریزیڈنٹ کو ایک بھر پور گالی دی ۔ ۔ ۔ ۔
شٹ اپ  ۔ ۔ ۔  اور فون ڈسکنکٹ ہو گیا  ۔۔ ۔ ۔ ۔
اور ساتھ ہی کان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا  ۔ ۔۔ ۔  اور لیب کے پرخچے اڑ گئے   ۔ ۔ ۔  آبادی سے میلوں دور لوگ اسے صرف ایک دھم کی آواز ہی محسوس کر سکے کیونکہ ساری لیب زیر زمین تھی  ۔ ۔ ۔ ۔  اور چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں تھیں لیب کے اوپر جو اس دھماکے کی آواز کو دبا گئیں  ۔ ۔ ۔۔
-------------------------------------------------
ناصر یہ تہمارا کارنامہ ہے  ۔۔ ۔ ۔ ۔ نہیں  ۔ ۔ ۔ یہ میرا نہیں یہ اس جوان کا کارنامہ ہے جس نے اس راز کو بے نقاب کیا ہے
لال خان اور اقبال دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو رہے تھے
پروفیسر شکیل اور وکٹر بھی وہیں تھے  ۔ ۔۔  ۔  اور انہیں دلاسا دے رہے تھے
ویسے کیا خیال ہے کمانڈر اب ایسا کوئی اور اسٹیشن نہیں ہو گا  ۔۔ ۔
ہو گا تو سہی  ۔ ۔ ۔ مگر جیسے ہم نے دیکھا کہ ڈاکٹر گور کا کہنا تھا کہ وہ فارمولا وہیں تھا  ۔ ۔ ۔ ۔
نہیں فارمولا تو ڈی کوڈ ہو گیا تھا  ۔ ۔ ۔ ہاں چپ کا پلانٹ وہیں تھا  ۔ ۔ ۔ 
پھر بھی انہیں یہ کام کرنے میں اب کافی دیر لگے گی   ۔ ۔ ۔ ۔
ہم نے چپ ڈیٹیکٹر بنا لیا ہے اور ایک ایک کر کہ ہم ان جوانوں تک پہنچیں گے  ۔ ۔ ۔ جو اس کا شکار ہوئے ہیں
اور ہمیں انکی مدد سے بہت سارے دھشت گردوں کا بھی پتہ چلے گا  ۔ ۔ ۔
ویسے ایک بات ضرور کہوں گا ، شکیل صاحب بولے
جی وہ کیا
کہ اب مجھے بھی یقین آ گیا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی میں کسی سے کم نہیں ہیں
ہاں  ۔۔ ۔ اور اسکی وجہ ہے  ۔ ۔ ۔
وہ کیا  ۔۔ ۔ ہمارے برینز میں پیدائیشی طور پر ایک چپ ہوتی ہے
یعنی سارے ہموطنوں میں  ۔۔
جی اور وہ چپ ہے  ۔۔ ۔ محبت کی  ۔ ۔ ۔ دوستی کی اور وطن پرستی کی  ۔  ۔
ہاں یہ تو ہے  ۔ ۔  ۔
مگر یہ بھی تو ہے کہ اس چپ کو بھی کوئی نہ کوئی کنٹرول ضرور کر لیتا ہے  ۔ ۔۔ ۔
ہاں یہ بھی ہے ۔ ۔ ۔  جیسے ہمارے لیڈران اور دانش ور  ۔ ۔ ۔ وغیرہ انکو کنٹرول کیا جا سکتا ہے
مگر عام آدمی  ۔۔ ۔ ۔  کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے  ۔ ۔ ۔
ہاں یہ تو ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی لمحے کمانڈر اسحاق کے فون کی بیل بجی  ۔ ۔ ۔ اسنے فون سنا  ۔ ۔
او کے سر  ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے افسوس ہے ، آپ چاروں کے لئے ایک بری خبر ہے
وہ کیا  ۔ ۔ ۔۔  ۔ ۔
آپ بھی نام بھی گمشدہ لوگوں کی فہرست میں رکھا گیا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مگر  ۔ ۔ ۔
سوری  ۔ ۔ ۔  گڈ بائے  ۔ ۔۔ ۔ ۔  کمانڈر اسحاق  ۔ ۔ ۔ نے اپنی ٹوپی صحیح کی  ۔ ۔ ۔اور ناصر اور صابر کے ساتھ باہر نکل گیا
چند فوجی آئے اور انہیں بندوقوں سے ہانکتے ہوئے  ۔ ۔ ۔ ۔ ایک بند وین میں ڈال دیا  ۔ ۔
اور پھر وہ کسی نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہو گئی  ۔ ۔ ۔  ۔ ۔
-----------------------------------------------
اسے ایسا لگا کہ جیسے آنکھوں پر پڑا پردہ ہٹ گیا ہو  ۔۔ ۔ ۔  اس نے اپنے جسم پر لپٹا بارود دیکھا اور ہاتھ میں اسکا ٹریگر تھا  ۔ ۔ ۔  وہ چیخنے لگا  ۔ ۔۔ ۔ اور بھاگنے لگا   ۔ ۔ ۔  پولیس نے نشانے پر رکھا تھا  ۔ ۔ ۔ اور کچھ گرم سلاخیں اسکی پیٹھ میں گستی چلی گئیں  ۔ ۔ ۔ ۔ اسنے ویران ہوتی آنکھوں سے دیکھا کہ پولیس والے اس پر گولیاں برسا رہے تھے  ۔ ۔ ۔ اور اسکے ذہن میں صرف ایک ہی سوچ ابھر رہی تھی کہ کب کہاں اور کیسے  ۔ ۔۔ ۔  اسنے یہ بارود اپنے جسم پر باندھا  ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر اسکے ذھن کے پردے پر ایک کالی دیوار ابھری  ۔ ۔ ۔ ۔ اور  ۔۔ ۔ وہ دیوار اندھیرے میں بدل گئی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ساتھ ہی ایک دھماکہ ہوا اور اسکے جسم کے پرخچے اڑ گئے  ۔ ۔ ۔ اسکے ذھن نے ہاتھ کو ٹرئیگر دبانے کا سگنل دے دیا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔۔ ۔
2009/6/6

سفید کمرے کی کالی دیوار - دوسری قسط


ہے بھگوان ، میرے ساتھ ایسا کیا ہوا ہے ، کل پاپا بھی کہ رہے تھے کہ تم اب شلوار قمیض نہ پہنا کرو ، بلکہ پینٹ شرٹ میں رہا کرو ، لگتا ہے کسی نے مجھے مسلمان سمجھ کر اغواء کیا تھا ، مگر ایسا کیوں ، وہ جتنا سوچ رہا تھا اتنا ہی الجھ رہا تھا ۔۔۔
اگلے دن وہ جب یونیورسٹی پہنچا تو ، سب دوستوں نے گھیر لیا ، کیا ہوا کہاں تھے ، ہزار سوال مگر جواب کا تو اسے خود نہیں معلوم تھا ، مگر اسے بار بار اسے اس سفید کمرے کی کالی دیوار یاد آ رہی تھی ، اس نے اپنے سب سے قریبی دوست ، اقبال سے اسکا ذکر کیا ، اقبال اسکا واحد ایسا دوست تھا جو اس کی دلچسپیوں میں حصہ لیا کرتا تھا ۔
تم کیا سمجھتے ہو تمہارے ساتھ انہوں نے کیا کیا اور پھر تمہیں چھوڑ دیا
یار یہ ہی تو میں نہیں سمجھ پا رہا ، لال خان نے الجھے لہجے میں کہا
تم نے اپنے اندر کیا چینج فیل کیا ہے ؟ اقبال نے پوچھا
یار سوائے گنجا ہونے کے اور کوئی تبدیلی نہیں تھی مجھ میں
کیا سر کے کسی خاص حصے میں درد محسوس ہوتا ہے ؟
نہیں یار ۔ ۔ ۔ ۔  لال خان مزید الجھ چکا تھا
اچھا یہ بتاؤ کہ تہماری روز مرہ کی زندگی میں کیا فرق آیا ہے
کچھ نہیں ، سوائے اسکے کہ اب میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھے کچھ کرنا چاہیے ، ہاں کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے کوئی میرے اندر بول رہا ہو ۔ ۔ ۔۔ مگر شاید یہ وہم ہی ہو
ہم ۔ ۔ ۔ اقبال نے بھی گہری سانس لی
وہ دونوں ایک ہوٹل میں داخل ہوئے ، اور چائے کا آرڈر دیا  ۔ ۔ ۔
اچھا ایک کام کرتے ہیں  ۔ ۔ اقبال نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
کیا  ۔ ۔۔
تمہیں یاد ہے ہم لوگوں نے ڈائناٹیکس کے بارے میں کچھ کلاسز لیں تھیں
ارے ہاں ، وہ اپنے وکٹر پنگا  ۔ ۔   نے  ۔ ۔
پنگا نہیں بھائی ، پے نی گا  ۔ ۔۔ 
ارے وہی پنگا ہی ہوا نا  ۔ ۔ تو کیا تم چاہتے ہو کہ وہ میرا سیشن کرے
ہاں ، آزمانے میں کیا حرج ہے  ۔ ۔ ۔
چلو ابھی چلتے ہیں ، لال نے اٹھتے ہوئے کہا
ہاں ٹھیک ہے  ۔ ۔ ۔ دونوں نے چائے ختم کی اور وکٹر پےنگا کی طرف اپنی موٹر سائکلوں پر نکل پڑے
----------------------------------
وکٹر پے نگا ، لال کی یونیورسٹی میں کلرک تھا ، مگر اسکی سب کے ساتھ بنتی تھی ، ہنس مکھ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ سب کا ساتھ بھی دیتا تھا اسلئے اسٹوڈنس اور استاد سب کا دوست تھا ، اسے ماروئی علوم سیکھنے کا خبط تھا ، مگر سائنس کی بکس بھی پڑھتا تھا اسلئے الجھا ہوا رہتا تھا ،  اسکی فیملی کسی دوسرے شہر میں رہتی تھی ، اسلئے ایک کمرے کے گھر میں اکیلا ہی رہتا تھا ، جس میں اسکی کتابیں بکھری رہتی تھیں  ۔ ۔ ۔ اقبال نے اسکے گھر کے دروازے پر لگی بیل پر ہاتھ رکھ دیا  ۔  ۔۔
دروازہ ایسے کھلا جیسے وکٹر انہیں کے انتظار میں تھا  ۔۔ ۔
ارے لال بابو ، وہ اسے اسی نام سے بلاتا تھا جس سے لال کو چڑ تھی ، اور اسنے بھی جواب دیا
جی پنگا بھائی  ۔ ۔ ۔  ہم ہیں
پھر پنگا اے کتنی دفعہ کہا ہے کہ پے نی گا ،
اور میں نے کتنی بار کہا ہے کہ لال خان  ۔ ۔ ۔
ارے ارے تم تو ادھر ہی شروع ہو گئے ، اقبال نے درمیان میں ٹوکا ، وکٹر بھائی اندر نہیں آنے دو گے کیا  ۔ ۔
ارے ارے کیوں نہیں ، تو دروازہ پورا کھولو ، ورنہ یہ پھٹپھٹیاں کوئی اٹھا لے جائے گا  ۔ ۔
او کے اوکے   ۔ ۔ ۔
وہ موٹر سائکلیں صحن میں کھڑی کر کے اندر آ گئے ،
کیا پیو گے  ۔ ۔
صرف سادہ پانی  ۔۔  دونوں ایک ساتھ بولے
اور پھر ہنس پڑے
وکٹر نے فریج سے پانی کی بوتل نکالی اور گلاس میں پانی ڈال کہ لال خان کو دیا اور دوسرے گلاس میں پانی انڈیلتے ہوئے پوچھا  ۔ ۔ لال بابو کیا ہوا تمہارے ساتھ ، کچھ سراغ ملا ؟
سراغ کے لئے تہمارے پاس آئے ہیں ، لال کی جگہ اقبال بولا
میرے پاس وہ اسے گلاس پکڑاتے ہوئے حیرت سے بولا
تم نے ایک دفعہ کہا تھا نا کہ تم ڈائنایٹیکس کی مدد سے پتہ کر سکتے ہو کہ ہم چاہے بے ہوش ہوں تو ہمارے اردگرد کیا ہوا؟
ہاں ، آڈیٹنگ سے پتہ چل سکتا ہے ، مگر میں ایکسپرٹ نہیں ہو اس علم کا ، مجے بتاؤ کیا ہوا
یار لال کو اغواء والی جگہ پر ایک بار ہوش آیا تھا ، اور اسے صرف ایک کمرہ یاد ہے جسکی دیواریں سفید تھیں اور ایک کالی دیوار تھی  ۔۔ ۔
اوہ  ۔÷ ÷  ÷ یہ تو اچھی بات ہے ، یعنی تمہارا لاشعور واقعٰی ہی کام کر رہا تھا
تو پھر کیا تم میری مدد کر سکتے ہو ۔ ۔
کوشش کر سکتا ہوں  ۔ ۔۔ اگر چاہو تو میرے استاد کے پاس چلتے ہیں جس سے میں نے یہ علم جانا ہے  ۔ ۔
ہاں یہ ٹھیک ہے  ۔  ۔ ویسے وہ کون ہے  ۔ ۔ ۔
تم جانتے ہو انہیں
ہیں  ۔ ۔ ۔ اقبال نے حیرت سے پوچھا  ۔  ۔  ہم جانتے ہیں
پروفیسر شکیل صدیقی  ۔ ۔  ۔
سر شکیل  ۔  ۔ دونوں کے منہ سے نکلا  ۔ ۔ ۔ نہیں یار  ۔ ۔ ۔
ہاں   ۔ ۔۔ ۔   وکٹر کے لہجے میں اعتماد تھا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور تھوڑی دیر میں وہ شکیل صدیقی کے گھر میں تھے  ۔ ۔ ۔  جو لال کی آڈیٹنگ کے لئے تیار ہو چکے تھے  ۔ ۔ ۔
انہوں نے لال کو ایک ایزی چئیر پر بٹھایا  ۔۔ ۔
اور کہا آنکھیں بند کرو  ۔۔۔
بتاؤ تم کہاں تھے جب تمہیں اغواء کیا گیا
میں گھر جا رہا تھا ، جب ایک آدمی میرے پاس آیا  ۔۔ ۔ اور کہا کہ اسکی کار کا ٹائیر پنکچر ہو گیا ہے ۔ تو میںنے اسکی کار کی طرف گیا  تو پچھلی سیٹ کا دروازہ کھلا اور اس آدمی نے مجھے دھکا دیا اور میں گاڑی کےاندر تھا ۔۔۔ جیسے میں اندر گرا کسی نے میرے منہ پر گیلا کپڑا رکھ دیا  ۔ ۔ ۔ پھر مجھے کچھ ہوش نہیں کیا ہوا  ۔ ۔ ۔
شکیل صاحب نے اسے واقعہ پھر دھرانے کو کہا  ۔ ۔ ۔
میں گھر جا رہا تھا  ۔ ۔ کہ ایک آدمی میرے پاس آیا
آدمی کیسا تھا  ۔ ۔ ۔  اسنے کیا پہنا تھا  ۔  ۔۔ شکیل صاحب سوال کرتے گئے اور پھر لال خان بتاتا گیا ۔۔ ۔
شکیل صاحب ایک ہی واقعے کو بار بار سنتے اور ہر بار مزید تفصیل میں جاتے حتہ کہ جب لال خان نے بتایا کہ وہ کسی ایسی جگہ پر ہے جہاں فارسی بولی جاتی ہے  ۔ ۔ ۔ تو وہ اور اقبال حیران رہ گئے  ۔ ۔۔ ۔
اور جب قبرص کی لیباٹری کی بات ہوئی تو پروفیسر شکیل کے بھی پسینے چھوٹ چکے تھے  ۔ ۔ ۔
وہ آڈٹ سیشن کو کمپلیٹ کر چکے تھے  ۔ ۔۔  ۔ ۔ ۔
لال خان اب تھر تھر کانپ رہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  شکیل صاحب نے ٹھنڈے پانی کی بوتیلں لے کر آئے اور تینوں نے پانی پیا ۔ ۔ ۔ ایک عجیب سی خاموشی تھی  ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ یہ  ÷ ۔ ۔  ۔ ۔ بہت ہی خطرناک چیز ہے  ۔۔ ۔ مجھے گورمنٹ کو بتانا ہو گا  ۔  ۔ ۔
ہاں ۔۔۔ یہ بہت ضروری ہے  ۔ ۔ ۔ لال تم کوشش کرو کہ زیادہ وقت اقبال کے ساتھ گذاروہ  ۔ ۔ ۔ ۔ اقبال  ۔ ۔ ۔تم بھی اسکی ہیلپ کرنا بلکے ٹہرو میں ابھی اپنے ایک دوست کو فون کرتا ہوں ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پھر شکیل صاحب کے لنکس سے لال خان ، فوج کی ایک لیب میں پہنچ چکا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ اسکے والدین کو بھی بتا دیا گیا تھا ، اقبال اسکے ساتھ تھا ، پروفیسر شکیل کو بھی فوج نے اپنی حفاظت میں لے لیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب کچھ چند گھنٹوں میں ہوا تھا  ۔ ۔ ۔
ایم آر آئی ، کے بعد اسکے برین میں چھپی چپ کا پتہ چل چکا تھا ۔۔۔۔۔ جس سے ایک خاص قسم کی ریز نکل رہیں تھیں  ۔ ۔ ۔ جنہیں ڈی کوڈ کیا جا رہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  قبرص میں فوج کے ایجنٹ کو انفارمیشن دی جا چکی تھیں  ۔۔ ۔
تقریباً تین دن لگ گئے تھے ان سب باتوں میں اس درمیان لال خان نے اپنے ذہن میں آوازیں سنیں تھیں  ۔ ۔  اور اسنے اقبال پر حملہ بھی کیا تھا  ۔ ۔ ۔ اسلئے اسے احتیاط کے طور پر ایک کمرے میں بند کر دیا گیا تھا  ۔  ۔۔  جو بالکل خالی تھا ، اسے کھانا بھی چھت سے دیا جاتا تھا  ۔۔  ۔ لال پوری طرح سے سمجھتا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے ، اسلئے وہ تعاون بھی کر رہا تھا
قبرص سے انٹیلی جنس رپورٹس آ چکی تھیں ، اور ایک کمانڈو مشن ترتیب دیا جا چکا تھا ، لال کی ویوز کا منبع پتہ کیا جا چکا تھا اور وہ ایک امریکی سیارے کے چینلز استعمال کر رہا تھا  ۔  ۔ ۔  جو کہ جی پی ایس (گلوبل پوزیشنینگ سیسٹم ) کو استعمال کرتا تھا  ۔۔ ۔ یہ ایک عام سیارہ تھا جو کہ ہر طرح کی جی پی ایس ڈیوائس کے ساتھ لنک ہو جاتا تھا  ۔۔۔ لیکن جب لال جسے مسلسل مانیٹر کیا جا رہا تھا ،  نے چلانا شروع کیا کہ مجھے ادھر کیوں بند کیا ہے باہر نکالو  ۔ ۔ ۔  تو پتہ چلا کہ لال کو ایک روبوٹ کی طرح کنٹرول کیا جا رہا تھا  ۔ ۔ ۔ اسلئے اسے اب ایک میگنیٹک فیلڈ میں بھیج دیا گیا تھا ، اور اس کمرے کی دیواروں کو پلاسٹک سے بنایا گیا تھا تا کہ لال کو خودکشی پر مجبور نہ کیا جا سکے  ۔ ۔ ۔ ۔
دوسری طرف کمانڈر اسحاق کی ٹیم قبرص پہنچ چکی تھی  ۔ ۔ ۔  اور لیب کا پتہ بھی چلا لیا گیا تھا ، یہ سب کچھ انتہائی خفیہ تھا مگر پھر بھی کالی بھیڑوں کی وجہ سے اسرئیل اور امریکہ کے خفیہ ادارے بھی سرگرم ہو چکے تھے ، لیباٹری پر حفاظتی انڈیکیٹر انتہائی سطح پر کر دیا گیا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔
کمانڈر اسحاق اس وقت ایک شاپنگ پلازہ کے پلے لینڈ میں گیم کھیل رہا تھا ، وہ اس وقت ایک لاابالی جوان لگ رہا تھا ، جو قبرص میں پیسے اڑانے آیا ہو  ۔ ۔ ۔   اسکے ساتھ کیپٹن ناصر جمیل تھا جو کمیونیکیشن انجنئیر تھا اور اس وقت ہوٹل میں ڈانس فلور پر ایسے ناچ رہا تھا جیسے اسے ناچنے کے سوا کوئی کام ہی نا ہو ، یہ الگ بات کہ اس کی آنکھیں اس سیکیورٹی گارڈ پر لگی ہوں جسکے پاس ایک الگ طرح کا وائیرلیس نظر آ رہا تھا   ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اسی ڈانس فلور کے بار کے پاس میجر صابر تھا جو اس وقت بئیر کا مگ لئے چسکیاں لے رہا تھا ،  میجر صابر بلانوش تھا مگر نشہ اس پر ہوتا ہی نہیں تھا   ۔ ۔ ۔ ۔  پیسے بنانے کا ماہر تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  کسی بھی جگہ کسی کی جیب کی صفائی ہو یا پھر بینک ڈکیتی یا پھر اے ٹی ایم مشین  ۔ ۔ ۔ ۔ سب اسکے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا اور دوسری خصوصیت تھی کہ وہ روپ ایسے بدلتا تھا کہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا  ۔ ۔ ۔ اسی لئے اپنے بے تکلف دوستوں میں وہ بھانڈ کہلاتا تھا  ۔ ۔ ۔  مجھے وہ وائرلیس چائیے ناصر نے صابر کے پاس آ کر سیکورٹی والے کی طرف اشارہ کیا  ۔ ۔ ۔ مل جائے گا  ۔ ۔ ۔ میں کمرے میں جا رہا ہوں  ۔ ۔ ۔۔
تھوڑی دیر میں وہ تینوں ایک کمرے میں موجود تھے  ۔  ۔  ۔۔  ناصر نے اس وائرلیس کو جو  صابر نے اسے لا کر دیا تھا کھولا ہوا تھا ، مجھے یقین ہے یہ اسرائیلی کوڈ ہے  ۔۔ ۔  اسنے ایک چپ کو سرکٹ سے الگ کیا اور ایک  دوسرے سرکٹ میں لگا دیا جو اسنے بنایا تھا اس میں سے آوازیں آنے لگیں  ۔ ۔ ۔ ۔  لیب کو لاک کر دیا گیا ہے ، اب اس میں کوئی آ جا نہیں سکتا  ۔ ۔ ۔  ۔  اسی لمحے کمانڈر کے موبائیل کی بیل بجی  ۔ ۔ ۔ ۔ اور خطرہ ہے ۔۔ ۔ ۔  بھاگو  ۔ ۔ ۔  ناصر نے اپنا سرکٹ اٹھایا اور تنیوں ایک ساتھ کمرے سے باہر تھے  ۔ ۔ ۔ کاریڈور میں کوئی نہیں تھا  ۔ ۔ ۔  صابر نے آرام سے چلتے ہوئے ایک کمرے کے لاک پر ایک کارڈ لگایا  ۔ ۔ ۔ آٹومیٹک ڈور کھل گیا  ۔ ۔ ۔ اور تینوں کمرے کے اندر تھے  ۔ ۔ ۔  کمرے کے اندر پہنچتے ہی لاگ جیسے وہ کسی کاٹھ کباڑ کے کمرے میں آ گئے ہوں ، کمرے میں شاید مرمت کا کام چل رہا تھا  ۔ ۔ ۔اسی لمحے میں کان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا  ۔ ۔ ۔  تینوں تو تیار ہی تھے جیسے  ۔  ۔ ۔ پھر جیسے کاریڈور میں طوفان آ گیا ہو ، لوگ اپنے اپنے کمروں سے نکل رہے تھے  ۔۔ ۔  ۔ ۔ انہیں بھی دروازے سے دھواں اندر آتا دکھائی دیا اور ساتھ ہی فائر الارم بج اٹھا  ۔ ۔ ۔ ۔  تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور گیلے رومال منہ پر رکھ کر باہر نکل آئے کاریڈور میں بھگدڑ مچی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔  وہ اسی بھگدڑ میں شامل ہو کر ہوٹل سے نکل آئے تھے  ۔ ۔ ۔  تھوڑی دیر میں ہوٹل خالی ہو چکا تھا  ۔ ۔  ۔ ۔
(جاری ہے )
کوشش کروں گا کہ تیسری اور آخری قسط جلد پیش کروں
2009/4/25

سفید کمرے کی کالی دیوار - پہلی قسط

چپ ٧٨٦ ، ایک ایسی مائیکرو چپ ہے جو برین کے ایک مخصوص حصے میں فکس کی جاتی ہے ، اور پھر وہ شخص ایک سنٹرل سسٹم سے منسلک ہو جاتا ہے ، جسے اپنی مرضی سے استعمال کیا جاتا ہے ،
اسے ایک یہودی سائنسدان نے اٹلی میں بنایا تھا ، جو کہ معذور افراد کو دوبارہ فعال کرنے والے دماغی سسٹم پر کام کر رہا تھا ، مگر نائن الیون کے واقعٰی کے بعد اس نے اسے اسرائیل کو دے دیا اور پھر امریکہ کی ایک انتہائی جدید لیب میں اسے مزید اضافوں کے ساتھ خود کُش بمبار بنانے کے لئے استعمال کیا جانے لگا
ایسے لوگوں کے لئے ، عرب ممالک اور وسطی ایشیائی ممالک کے علاوہ ، برصغیر پاک و ہند سے بھی لوگوں کو اغوا کیا جانے لگا ، کوشش کی جاتی کہ مذہی طور پر جذباتی نوجوانوں کو اس کام میں استعمال کیا جائے ، کیونکہ چپ کی وجہ سے وہ آسانی سے اپنے آپ کو ختم کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ۔ ۔ ۔۔ ۔
مگر ایک غلطی نے اس چپ کو دنیا سے ہی مٹا دیا ، شاہد خان ، جو ایک سی آئی اے کی طرف سے بندے اٹھانے پر معمور تھا ، پشاور میں ایک لڑکے کو جب اٹھایا تو وہ بھول گیا کہ وہ لڑکا مسلمان نہیں تھا ، پشاور کے چند گنے چنے ہندو تاجروں میں سے ایک کا بیٹا تھا ، نام تھا اسکا لال خان ، دوسری غلطی یہ ہوئی کہ یہ لڑکا پڑھا لکھا تھا ، اور وہ بھی سائنس کا اسٹوڈنٹ ، جو اپنا فارغ وقت طرح طرح کے تجربات میں گذارتا تھا، مگر وہ بہت بحث کیا کرتا تھا ، کہ مسلمان اگر بہت اچھے ہیں تو پھر انکے ساتھ اتنا برا کیوں ہے ، اسی بحث مباحثے کی وجہ سے وہ شاہد خان کی نظروں میں آ گیا تھا  ۔ ۔ ۔
شاہد نے اسے اغوا کر کے کابل پہنچایا اور وہاں سے ایران اور پھر ترکی کے راستے یونانی قبرص ، جہاں چپ لگانے کی لیب تھی ، لال کو بے ہوش کیا گیا ، بلڈ چیک کر کے ڈاکٹروں نے آپریشن ٹیبل پر اسے ڈال دیا ، لال کا سر پہلے ہی مونڈ دیا گیا تھا ، اسے ٹیبل پر الٹا لٹایا گیا تھا ، ایک ڈاکٹر نے اسکا سر ایک شکنجے میں جکڑ دیا تھا ، اور اسکے اوپر ایک روبوٹیک آرم کو لایا گیا تھا ، یہ ایک بہت ہی سنسیٹیو روبوٹیک آرم تھی ، جسنے سارا آپریشن خودکار طریقے سے کرنا تھا ، اور پھر ایک مارکر سے ایک ڈاکٹر نے ایک ریپورٹ کو دیکھتے ہوئے گول دائرہ سا بنایا ، اور دوسرے ڈاکٹر نے اپنے سامنے کے پینل سے ایک بٹن کو دبا دیا ، روبوٹیک آرم سے ایک نیلے رنگ کی روشنی نکلی اور پھر اسی نشان پر آ کر رک گئی ، ایک چھوٹی سی آری چلنے لگی اور ساتھ ہی سرخ رنگی کی لیزر بھی چل رہی تھی ، جو زخم سے خون کے اخراج کو روک رہی تھی ، پھر ایک انچ کا گول دائرہ سا بن گیا ائر پھر ایک روبوٹیک آرم نے اسے اٹھایا ، اور اندر سے دماغ نظر آنے لگا ، روبوٹ نے چپ اٹھائی جسکے ساتھ ریشم کی طرح تار لپٹے ہوئے تھے ، پھر روبوٹ نے وہ تار دماغ کے ساتھ منسلک کرنے شروع کر دئیے ، اسکرین پر اسکا کافی بڑا عکس نظر آ رہا تھا ، ساتھ ہی آواز آنا شروع ہو گئی ، ویلڈنگ اسٹارٹ ، ویلڈنگ کمپلیٹ ، لیفٹ آرم ٹیسٹنگ ، لال خان کا بایاں بازو اوپر نیچے ہلنے لگا ، لیٍفٹ ہینڈ ٹیسٹنگ ، لال خان اپنے بائیں ہاتھ کو موڑنے لگا ، پھر آواز ابھری ، لیفٹ تھمب ٹیسٹنگ ، انڈیکس فنگر ٹیسٹنگ ، اور اسی طرح باری باری ہر اعضاء کا ٹیسٹ ہونے لگا ، ٹیسٹنگ کمپلیٹ کی آواز آتے ہی ، روبوٹ نے ، فکسنگ چپ کمپلیٹ کا میسج دیا اور ، پھر سر کے کاٹے ہوئے حصے کو دوبارہ اسی جگہ لگا دیا گیا ، اسیمبلنگ کمپلیٹ ، اور پھر روبوٹ نے ایک اسپرے کیا ، تو جلد ایسے برابر ہو گئی جیسے وہاں کبھی کچھ ہوا ہی نا تھا  ۔ ۔ ۔ پلاسٹک سرجری کمپلیٹ کی آواز آتے ہی روبوٹ آرمز ہٹ گئیں اور ایک ڈاکٹر نے اسکی آکسیجن اور دوسرے آلات کو لال خان کے جسم سے الگ کیا ، اور اسٹریچر کو دھکیلتے ہوئے ایک کمرے میں لے آئے ، جہاں اسے ایک بیڈ پر منتقل کیا گیا  ۔ ۔ ۔  اور وہ کمرے کا دروازہ بند کر کے چلے گئے ، لال خان ابھی تک بے ہوش تھا ، تھوڑی دیر میں وہ ہلنے لگا اور اسنے آنکھیں کھول دیں ، اسکی آنکھوں میں ویرانی سی تھی ، وہ دیوار کی طرف دیکھنے لگا جس کا رنگ کالا تھا ، اصل میں دوسری طرف سے اسے دیکھا جا رہا تھا ،  دوسری طرف ایک کنٹرول روم تھا ، جس میں مختلف لوگ اپنی اپنی اسکرینوں پر جھکے ہوئے  تھے ،  ایک وہیل چئیر پر ایک بوڑھا گھومتا پھر رہا تھا ، یہ ڈاکٹر گور تھا ، اس تمام پروجیکٹ کا نگران،  کنٹرول روم بہت سارے ایسے کمروں سے منسلک تھا جس میں آبجیکٹ کو رکھا جاتا تھا ، ایک طرف سے دروازہ کھلا اور ایک باوردی لمبا آدمی داخل ہوا اسکے ہاتھ میں ایک فائل تھی ، اس نے ڈاکٹر گور کو وہ فائل دی  اور بولا ، سر پی کے ون ون نائین ، فائنل رپورٹ ، اور فوجی انداز میں سلوٹ کر کہ چلا گیا ، ڈاکٹر نے لال خان کی طرف دیکھا جو ابھی تک صرف حیرت سے آنکھیں جھپکا رہا تھا ، ہونہ ، ماریا ، وہ اپنی وئیل چئیر کو ایک لڑکی کی ڈیسک کے سامنے لا کہ بولا ، ٹیسٹ ہم ، اوکے ڈاکٹر ، ماریا نے  اپنے کی بورڈ پر انگلیاں چلانا شروع کیں ، بیٹھو ، اور لال خان اٹھ بیٹھا ، اسکی آنکھوں میں ویرانی اور بڑھ چکی تھی ، قرآن سناؤ ، وہ چپ رہا ، قرآن سناؤ ، وہ پھر چپ رہا ، ڈاکٹر ماریا نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا ، اوکے کوئی اور کمانڈ دو ، ابھی وہ پوری طرح ہوش میں نہیں ہے
ہاتھ اوپر ، نیچے ، دیوار پر ہاتھ مارو  ۔ ۔ ۔ ایسے ہی ماریا اسے ٹیسٹ کرتی رہی ، اوکے ڈاکٹر یہ بالکل کنٹرول میں ہے ، ٹھیک ہے ، اسے کیمپ میں بھجھوا دہ ، لال خان کے کمرے میں ایک نرس داخل ہوئی اور اسنے لال خان کو انجیکشن لگایا ، اور پھر دو آدمی اسے ایک اسٹرئچر پر ڈال کہ باہر لے گئے  ۔ ۔۔ ادھر کنٹرول روم میں ڈاکٹر کے پاس ایک اور فائل آ چکی تھی  ۔ ۔ ۔
لال خان کو جب ہوش آیا تو اسنے اپنے آپ کو اپنی گلی کے نکڑ پر ٹیک لگا پایا ، پہلے تو وہ خالی آنکھوں سے سوچتا رہا پھر وہ یک دم چونک کہ اٹھا ، اسنے سر پر ہاتھ پھیرا تو پتہ چلا کہ اسکے بال نہیں ہیں ، اسنے اپنی جیبیں ٹٹولییں سب کچھ موجود تھا  ۔ ۔ ۔  رات کا وقت تھا اسنے اپنے گھر کا دروازہ کھٹکٹایا ، اوہ  ۔ ۔ ۔ اسکے باپ نے دروازہ کھولا تھا اور پھر وہ اس سے لپٹ گیا ، خداوند کا کرم ہے تو صحیح سے آ گیا ، وہ اس سے سوال پوچھ رہے تھے مگر لال خان کے پاس کچھ جواب نہیں تھا ، وہ کہتا رہا کہ اسے کچھ پتہ نہیں ہے ، اور جب اسنے سنا کہ وہ ایک ہفتہ غائیب رہا ہے تو ذہن پر زور ڈالنے کے باوجود اسے کچھ یاد نہ سکا ، ہاں بار بار اسے سفید کمرے کی کالی دیوار ضرور یاد آ رہی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔
 
 
 
(جاری ہے )
2009/4/22

میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

بہت دنوں کے بعد جب لکھنے بیٹھا تو ظاہر ہے اپنے حالات سامنے تھے ، دل خوں کے آنسو روتا ہے اور اسی دل کی یہ صدا ہے ، شاید ہم سب بھی یہ ہی کہنا چاہتے ہیں کہ “میرا دیس تو ایسا نہیں تھا“

یہ لڑنے جھگڑنے والوں کی بستی
یہ نفرت کی سیاست چالوں کی بستی
یہ آگ اور انگاروں کی دنیا
یہ بندوقوں بموں بھالوں کی بستی
 
جیسا ہے یہ تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
 
بنایا تھا اسکو خوں دے کہ اپنا
سجایا تھا  ہم نے مل کہ یہ سپنا
مل کہ ہم نے کیا تھا حاصل
اک ساتھ تھا سب کے دل کا دھڑکنا
 
اک تھا ،ٹکروں کے جیسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
آندھی بھی آئی ، طوفاں بھی آئے
بادل بھی گرجے ، سیلاب بھی آئے
روکا سب نے دیوار بن کہ
دشمن کے گولے سینے پے کھائے
 
جینا اور مرنا  تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
کوئی بھوک سے بلکتا نہیں تھا
دکھوں سے کوئی سسکتا نہیں تھا
چوری تو تھی پر ڈاکا نہیں تھا
زردار تھے مگر کوئی اندھا نہیں تھا
 
مقصد جیون کا پیسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
میرا خدا ہم کو اتحاد دے دے
اجڑے ہوؤں کو آباد دے دے
دے دے ہمیں تو رحمتیں اپنی
ٹوٹے دلوں کو تو شاد دے دے
 
 
خدا سے یوں جدا سا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
2009/4/10

میری پہچان ، پاکستان


زیادہ عرصہ نہیں گذرا مجھے اس صحرا میں (یعنی یو اے ای میں) ، گیارہ سال ہو گئے ہیں ، یعنی وطن سے بچھڑے گیارہ برس ہو چکے ہیں ، درمیان میں ہاتھ لگانے کے لئے جاتا رہا ہوں ، وہ بھی شاید اس لئے کہ میری فیملی ابھی ادھر ہی ہے ، ورنہ شاید وہ بھی نہ جاتا ، برسوں گذر جاتے ، میرا پاکستان سے تعلق صرف اتنا ہوتا کہ میرا پاسپورٹ پاکستانی ہے (یہاں ایسے بہت سارے لوگوں کو جانتا ہوں)، مگر پھر بھی آج میرے دوستوں میں یعنی قریبی دوستوں میں صرف پاکستانی ہی ہیں ، میرے لباس میں شلوار قمیض لازمی ہے ، میں کھانے پینے کے معمالے میں پاکستانی کھانے پسند کرتا ہوں ، میں اردو بولنا اچھا سمجھتا ہوں ، یعنی میں اندر اور باہر سے پاکستانی ہوں ، وہ ٢٣ مارچ ہو ١٤ اگست ہو یا پھر ٢٥ دسمبر ، میں آفس میں فخر سے اپنے سینے پر پاکستان کا پرچم سجاتا ہوں ، یہ چھوٹا سا دھاتی پرچم ہے ، جو آج سے ١٢ سال پہلے میں نے کراچی سے لیا تھا ، اور پھر جب میں ادھر آیا تو میں اپنے ڈیپارٹمنٹ کا دوسرا پاکستانی اور جس جگہ بیٹھ رہا تھا وہاں کا اکلوتا پاکستانی تھا ، پھر کچھ عرصے بعد ١٤ اگست آیا ، میں نے اور عمران نے فیصلہ کیا کہ اس بار ہم سارے اسٹاف کو مٹھائی بانٹیں گے ، اور پھر پاک غازی کے گلاب جامن ہم نے سارے اسٹاف کو کھلائے ، جن میں انڈین ، فلپینو، لبنانی اور لوکل سب کو حیرت ہوئی کہ ایسا کبھی نہ ہوا تھا ، خاصکر انڈینز کو ، اور پھر ١٥ اگست کو جب انڈیا کا یوم آزادی تھا تو انڈین دوستوں کو بھی ایسا ہی کرنا پڑا ، مگر کیا کرتے انڈیا کا جھنڈا نہ مل سکا سینے پر سجانے کے لئے تو میں نے انٹرنیٹ سے جھنڈے کو پرنٹ کیا اور انڈینز میں بانٹ دیا  ۔ ۔ ۔ ۔  ہماری پہچان پاکستان ہوئی ، پہلے شاید کوئی اپنی پہچان نہ کروا سکا تھا ، پھر یہ سلسلہ چل نکلا ، حتہ کہ اب جب ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں سب پاکستانی ہیں ، تو بہت اچھا لگتا ہے ، کہ ہماری پہچان ہمارا وطن ہے ۔
مگر ۔۔۔۔۔ اب ہم سبکو ڈر لگتا ہے ، کیوں   ۔ ۔ ۔ ہم دھشت گرد ہو چکے ہیں ، بیرون ملک ہماری پہچان اب دھشت گرد کے نام سے ہوتی ہے ، مجھے آج بھی ایک انڈینز دوست کی بات یاد آتی ہے کہ اظہر تم لوگوں کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ پاکستانی دھشت گرد بھی ہو سکتے ہیں ،  مگر اب میں کیا جواب دوں کسی کو ، ساری دنیا ہمیں دھشت گرد کہ رہی ہے ، میں لاکھ کہوں کہ یہ ہمارے خلاف سازش ہے ، مگر کون مانے گا ، جب میرے اپنے ہم وطن ہی نہیں مانتے ، جی ہاں کچھ اپنے ہی لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان ہی غلط ہے ، کچھ نے تو یہاں تک کہ دیا کہ اب جب پاکستانی پاکستان نہیں جانا چاہتے تو دوسرا کیوں کوئی جائے گا ، وہ پہچان کو چھپانے لگے ہیں ، انہیں پاکستان کے نام سے شرمندگی ہوتی ہے ، مگر کیا واقعٰی ہی ایسا ہی ہے ، قصور پاکستان کا ہے یا چند ناعاقبت اندیش حکمرانوں کا  ۔ ۔ ۔ خدا رہ پاکستانی رہیے پاکستان کی نمائندگی کیجیے پاکستان سے آپ ہیں پاکستان آپ سے ہے ، پاکستان آپکی پہچان ہے
اور یہ بات بھی یاد رکھیے کہ آج جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ صرف اسلئے ہو رہا ہے کہ ہم اپنی پہچان کھو رہے ہیں ، ہم بھول چکے ہیں کہ یہ وطن کیوں حاصل کیا گیا تھا ، خاصکر ہم لوگ جو بیرون وطن اپنے وطن کے سفیر ہیں ، ہمارے اوپر دھری ذمہ داری ہے ، کہ ہم اپنے وطن کا مقدمہ لڑیں ۔۔۔ اور ثابت کریں کہ ہم وہ نہیں ہیں جو ہمیں پیش کیا جا رہا ہے ، شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ دینے سے کچھ نہیں ہو گا ، ہمیں بولنا پڑے گا ، اپنے اردگرد کے لوگوں سے ، اپنے آپ سے  ۔ ۔ ۔ اور اپنے ہم وطنوں سے  ۔ ۔  ۔
سیماب اکبرآبادی کہ یہ قطعہ جو انہوں نے ١٩٤٧ میں کہا تھا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کیوں بنا
 
کارواں ملت کا ، آ پہنچا زمین پاک پر
چاند تارہ جگمگایا پرچم اسلام کا
بٹ گیا ہندوستاں ، کعبہ وفا کا بن گیا
اور آخر پھر گیا ، رُخ گردش ایام کا
 
 
خدارہ جو گردش ایام کا رخ اس وقت تک بدل چکا ہے ، اسے سمجھیے اور اقبال کی زباں میں بات یاد رکھیں
 
اے ارض پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہم
ہے خوں تیری رگوں میں اب تک رواں ہمارا
 
اور یہ بھی حقیقت ہے نا  ۔ ۔ ۔
 
 
سالار کارواں ہے،  میرِ حجاز اپنا
اس نام سے باقی آرام جاں ہمارا
 
2009/4/5

ایک دھشت گرد سے انٹرویو!

دوستو ان دنوں دھشت گردی بہت ہے اس کو جاننے کے لئے ہم نے بڑی مشکل سے ایک دھشت گرد کو انٹرویو دینے پر راضی کیا  ۔ ۔ ۔ اصل میں انہیں ایک جگہ خود کُش حملہ کرنے جانا ہے ، اور انہیں شہادت کی بہت جلدی ہے اسلئے زیادہ طویل انٹرویو نہیں دے سکیں گے  ۔ ۔ ۔
- آپ کا نام ؟
-دھشت گرد!!
- آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں !!
- دھشت نگری سے ، ویسے کچھ لوگ اسے پاکستان بھی کہتے ہیں !!
- اچھا ، مگر پاکستان میں تو اچھے لوگ رھتے ہیں
- ہاں مگر اب ہم نہیں رہنے دیں گے ، اپنی جان قربان کر کہ انہیں اپنے جیسا بنا دیں گے !!
- اگر آپ برا نہ مانیں تو آپ اپنی قومیت یا مذہب بتا دیں
- دھشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا قومیت بھی نہیں ہوتی صرف دھشت مذہب اور دھشت گردی قومیت ہو سکتی ہے
- اچھا آپ یہ دھشت کیوں پھیلاتے ہیں ؟
- اچھا لگتا ھے نا
- ہیں !!! اچھا لگتا ہے لوگوں کو مارنا
- دیکھو جیسے آپ کو کھانا کھانا پڑتا ہے زندہ رہنے کے لئے ایسے ہی ہمیں دھشت گردی کرنی پڑتی ہے ، جس دن کوئی دھشت نہ پھیلے کھانا ہضم ہی نہیں ہوتا  ۔ ۔ ۔
- مگر آپ کیوں ایسا چاہتے ہیں ؟ خود سکون سے رہیں اور باقی سب کو رہنے دیں
- کیوں کہ ہمیں سکون نہیں چاہیے ، آپ کو بھی سکون نہیں چاہیے ، دیکھو نا اگر دنیا میں لوگ ایک دوسرے کو حق دینا شروع کر دیں تو پھر یہ مسلہ ہی نہ ہوتا  ۔ ۔ ۔ مگر لوگ کسی کو بھی سکون میں دیکھنا نہیں چاہتے
- آخر آپ کو دوسروں کو مار کہ ملتا کیا ہے ؟
- تمہیں کھانا کھا کہ کیا ملتا ہے ؟ اور کھانا تم کیوں کھاتے ہو؟
- بھوک مٹانے کے لئے !!
- تو یہ بھی ایک بھوک ہے ، جو جانیں لے کر بجھتی ہے
- مگر آپ کو پتہ ہے کتنے گھر اجڑ جاتے ہیں کتنے  ۔ ۔ ۔
- بس بس بس  ۔  ۔۔  تم لوگ بھی عجیب ہو ، بموں سے ، مزائلوں سے اور ڈیزی کٹرز سے جب مارتے ہو تو کوئی گھر نہیں اجڑتا ؟ کوئی نہیں بولتا کسی کو درد نہیں ہوتا ، کیا وہ انسان نہیں ہوتے  ۔ ۔ ۔ کیڑے مکوڑے ہوتے ہیں نا ۔ ۔
 
 
- مگر اس طرح انہیں کو مارا جاتا ہے جو ہمارے امن کے لئے خطرہ ہوتے ہیں !!

- ہا ہا ہا ، امن کے لئے ہر جگہ ایک جنگ لڑی جا رہی ہے  ۔ ۔ ۔  چند دن کے بچے سے لیکر نوے سال کے بزرگ تک خطرہ ہیں امن کے لئے اور امن کن کے لئے  ۔ ۔ ۔ ۔ ان لوگوں کے لئے جو تم سے زیادہ امن میں ہیں ، تمہارے ہر شہر میں روز لاشیں گرتیں ہیں ، وہاں ایسا کب ہوتا ہے ، نشے میں ڈوبی شامیں ، مستی سے تھرکتے لوگ ، انہیں کیا پتہ کہ جنگ کیا ہوتی ہے  ۔ ۔ ۔ انہیں کیا پتہ لاش کیسی ہوتی ہے ، انکے لئے یہ صرف ایکشن فلم کے کسی منظر سے زیادہ نہیں ہے ، میرے پاس کتنا بارود ہے ، کتنا بارود ہے جس سے میں ماروں گا کتنے لوگوں کو ، ایک کو دس کو یا پھر سو کو ، مگر وہ تو ایک پل میں ہزاروں بستیاں اجاڑتے ہیں ، کاش میرے پاس اتنا بارود ہو کہ میں ان نشے میں ڈوبی بستیوں کو اڑا دوں  ۔ ۔ ۔ 
دھشت گرد کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں اور آنسو بھی ، جیسے پانی میں آگ لگی ہو  ۔ ۔ وہ ہچکیاں لینے لگا
- میں ۔ ۔ ۔ میں  ۔ ۔ تم سے بدلہ نہیں لے رہا ، میں تو مجبور ہوں ، میرے پاس کیا ہے ، کبھی مجھے ڈالر سے خریدا جاتا ہے کبھی بیچا جاتا ہے ، کبھی مجھے کافر کہ کہ خود سے الگ کر دیا جاتا ہے اور کبھی مجھے قبائیلی کہ کر ابسلیٹ کر دیا جاتا ہے  ۔ ۔ ۔  بہانے بہانے سے میرے گھر پر ڈاکے ڈالے جاتے ہیں ، تو میں کیا کروں  ۔ ۔ ۔
- مگر احتجاج کے اور بھی تو راستے ہیں ،
- کونسے راستے ؟ اور کس سے کریں احتجاج کون سنے گا ، جہاں پر منصف خود انصاف کی تلاش میں ہو وہاں کون سنے گا
- مگر اب ایسا نہیں ساری سوسائیٹی مظلوموں کے ساتھ ہے
- کونسی سوسائیٹی  ۔ ۔ ۔  جو آج تک کسی ایشو پر متفق نہیں ہو سکے ، ارے ہم دھشت گرد کم سے کم ایک بات پر تو متفق ہیں کہ دھشت پھیلائی جائے  ۔ ۔ ۔ تم تو امن کے لیے بھی متفق نہیں ہو ، کٹھ پتلیاں ہو جنکی ڈوریں کوئی اور ہلاتا ہے  ۔ ۔ ۔ اور ایسے لوگوں سے دنیا کو پاک ہو ہی جانا چاہیے  ۔ ۔ ۔ زنخے کہیں کے
- دیکھیں  ۔ ۔  آپ سبکو گالی دے رہے ہیں ، لوگ امن کے لیے جانیں قربان کر رہے ہیں
- امن کے لئے جان قربان کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ زندہ رہیں  ۔ ۔ ۔ ۔
- واہ جی ہی جان دینے والا کہ رہا ہے
- ہاں میں مجبور ہوں ، میری ڈوریں کوئی اور ہلا رہا ہے ، مگر تم تو آزاد ہو ، مل کیوں جاتے ، مجھے روک کیوں نہیں لیتے ، آج سارے لوگ ان علاقوں میں چلیں جہاں پر سورش ہے انہیں گلے لگائیں اور بتائیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں ، انہیں انکے درد سے درد ہوتا ہے ، کیوں نہیں جاتے وہاں ۔ ۔ ۔ کیوں بلوچوں کو اکیلے کرتے ہو ، کیوں سواتیوں کو اپنے سے الگ کر رہے ہو کیوں ادھر نہیں جاتے ، ویسے تو پکنک اور ہنی مون سپاٹ بنا رکھا تھا نا اسے ، اب کیوں ڈرتے ہو ، اپنے ہی لوگوں کو تکلیف میں چھوڑ دیا ہے تم نے ، اسی لئے آج ہم تمہیں یاد دلاتے ہیں خود کو مٹا کر کہ ہم مٹنے والے نہیں !!!
- مگر آپ کی لڑائی تو مغرب سے ہے امریکہ سے ہے آپ اپنے ہی جیسوں کو کیوں مار رہے ہو
- کیا تم نے کسی انگریز خود کُش حملہ آور کا سنا ہے ؟
- نہیں کبھی نہیں بلکہ تاریخ میں بھی ایسا نہیں
- کیا تم نے نے رومن گلیڈیٹر کا سنا ہے
- ہاں سنا ہے ، اور ہاں انگریزوں میں تو نائٹ ہوتے تھے نا
- ہاں ، کیا تم لوگوں میں کوئی ، نائٹ یا گلیڈیٹر ہے ؟
- آج کل ایسے لوگوں کو کمانڈو کہتے ہیں
- ہا ہا ہا ، ہاں یہ بھی خوب کہا کمانڈو  ۔ ۔ ۔  تمہارے ملک میں تو ایک خاکروب سے لیکر صدر تک کمانڈو ہوتے ہیں ، اور انکی حفاظت کے لئے مزید کمانڈو ، اور انکے لئے اور کمانڈو  ۔ ۔ ۔  دوست کمانڈو اور نائٹ میں بہت فرق ہوتا ہے ، نائٹ اکیلا ہوتا ہے اور کمانڈو بہت سارے  ۔ ۔ ۔   یعنی میں ایک نائٹ ہوں ۔۔ ۔
- نائٹ تو نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ بزدل نہیں ہوتا تھا ، وہ سامنے آ کر وار کرتا تھا
- میں سامنے ہی جا کر خود کو اڑاؤں گا تم دیکھ لینا
- کیا آپ یہ سب کچھ کر کہ جنت میں جاؤ گے  ۔ ۔ ۔
- جنت  ۔ ۔ ۔ میں نےسوات جیسی جنت کو جہنم بنتے دیکھا ہے ، اب کسی جنت کی تمنا نہیں  اور پھر میرا کوئی مذہب نہیں میں صرف ایک دھشت گرد ہوں ، صرف ایک دھشت گرد  ۔ ۔ ۔ جسکا کام صرف دھشت پھیلانا ہے ، نفرت پھیلانا ہے
- کیا کوئی ان تمام باتوں سے بچاؤ کا راستہ ہے ؟
- ہاں ہے ، اتحاد ، ایک قوم ایک جان ہو جائے تو ، کوئی بھی دھشت نہیں پھیلا سکتا ، کوئی سازش نہیں کر سکتا کوئی ظالم حاکم نہیں ہو سکتا کوئی ناانصافی نہیں ہو سکتی  ۔ ۔ ۔ تہمارے پاس تو اتنی بڑی دولت ہے ، ایمان ، اتحاد ، تنظیم ، اس سے بہتر کیا ہو گا ، کیا یہ تمہارے قائد نے نہیں کہا تھا کہ ہمیں تو آئین چودہ سو سال پہلے ہی دیا جا چکا ہے ، ہمارے قانون تو بنے بنائے ہیں بس انہیں نافذ کرنا ہے ، جب تک تہماری ہپو کریسی ختم نہیں ہوتی کچھ نہیں بدلے گا  ۔ ۔ ۔ 
- کیا آپ اپنا ارادہ بدل نہیں سکتے ؟
- کاش بدل سکتا ، ہمیں بدلنے کو تو کہ رہے ہیں خود کیوں نہیں بدلتے ، یاد رکھو جب تک خود نہیں بدلو گے کچھ نہیں بدلے گا ، اچھا اب تم جاؤ میں نے عبادت بھی کرنی ہے ،
- عبادت ، مگر آپ نے تو  ۔ ۔ ۔ ۔
- پلیز ، میں جانتا ہوں میں نے کیا کہا تھا ، مگر کچھ بھی ہو میں انسان ہوں ، اور جانتا ہوں رب نے مجھے کیوں بنایا ، اور میں اپنے رب کی دی ہوئی چیز کو ایسے ختم کر رہا ہوں ، اس سے معافی تو مانگ لوں
- یعنی آپ کے اندر کا انسان زندہ ہے ، تو پھر  ۔،  ۔ ۔
- انسان زندہ ہے ، مگر اسے درندگی نے بھنبھوڑ دیا ہے ، تم نے کبھی کوئی ہارر مووی دیکھی ہے جس میں ایک ڈیمن کا خون کسی دوسرے کو لگتا ہے تو وہ بھ ڈیمن بن جاتا ہے ، میرے دوست ایسا ہی ہو رہا ہے ہمارے ساتھ بھی ، جب تک اکیلے اکیلے ہم سے لڑو گے ہم تمہیں بھی ڈیمن بناتے رہے گیں  ۔ ۔ ۔ ۔ پھر تم چاہے صلیب دکھاؤ یا ہلال  ۔ ۔ ۔ ۔ یا پھر اوم  ۔ ۔۔  ۔ ہم پر کوئی اثر نہیں ہو گا  ۔ ۔  ۔۔  اب جاؤ  ۔ ۔ ۔
- مگر  ۔  ۔ ۔ ابھی اور بہت کچھ پوچھنا ہے  ۔ ۔
- کیا ؟ کیا تم یہ سب کچھ نہیں جانتے جو پوچھنا چاہتے ہو  ۔ ۔ ۔ ۔۔ اور کیا تمہیں پتہ نہیں تمہیں کیا کرنا ہے ؟
- ہاں شاید ۔۔ ۔
- تو پھر خدا حافظ  ۔ ۔ ۔ دھشت گرد نے کہا اور کھڑا ہو گیا ، میں نے اسے پہلی بار غور سے دیکھا تھا ، وہ ایک جوان آدمی تھا ، اسکی آنکھوں میں عجیب سی یاسیت تھی ، بال کچھڑی تھے اور ایسا لگتا تھا جیسے وہ کب سے نہ نہایا ہو  ۔ ۔  اس نے مجھے جلتی نظروں سے دیکھا مجھے لگا کہ وہ کہ رہا ہو مجھے روک لو ۔ ۔ ۔  میں بھی شاید اسے روکنا چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ مگر شاید مجھے بھی اسکی شہادت کی ضرورت تھی ، میں نے اسے نہیں روکا اور وہ چلا  گیا   ۔ ۔ ۔ ۔
 
2009/3/13

بھیڑئیے نے بھیڑئیے کو پھاڑ ڈالا ، بات ختم

بہت کچھ کہا جا رہا ہے بہت کچھ کہا جائے گا مگر میرے پسندیدہ مصنف و شاعر اسرار ناروی المعروف ابن صفی کا یہ قطعہ کتنا ہی سچا ہے ، اور سب کچھ کہ بھی رہا ہے
 
 
کچھ بھی تو اپنے پاس نہیں بجز متاع جاں
اب اس سے بڑھ کہ اور بھی ہے کوئی امتحاں
ہم خود ہی کرتے رہتے ہیں فتنوں کی پرورش
آتی نہیں ہے کوئی بلا ہم پہ ناگہاں
 
 
اور بعد میں انہیں کی زبان میں اسکا انجام
 
 
یہ تو جنگل ہے کسی کی لاش پہ روئے گا کون
بھیڑئیے نے بھیڑئیے کو پھاڑ ڈالا ، بات ختم
2009/2/4

اک حُسن پا بہ زنجیر ہے

اک حُسن پا بہ زنجیر ہے
ہر عشق جسکے لئے دلگیر ہے
آزادی جسکا خواب ہے
آزادی ہی تعبیر ہے
 
 
وہاں جو جواں و پیر ہے
ظلم کے ہاتھوں اسیر ہے
جہاں آزادی کا رانجھا ہے
جہاں شہادت کی ہیر ہے
 
اک حُسن پابہ زنجیر ہے
ہر عشق جسکے لئے دلگیر ہے
 
 
ہر ایک ہاتھ میں شمشیر ہے

  جذبے کی کماں وفا کا تیر ہے
آزادی جسکی تقدیر ہے

وہ میرا کشمیر ہے
وہ میرا کشمیر ہے

 

2009/1/15

ظلم رہے اور امن بھی ہو ، کیا ممکن ہے تم ہی کہو ؟

اس دنیا کی عجیب ریت ہے ، ظالم کمزوروں پر ظلم ڈھاتا ہے اور پھر ایک دن ظالم بھی مٹ جاتا ہے ظلم بھی ، تاریخ کا یہ سبق بار بار دہرایا جاتا ہے ، اور دہرایا جاتا رہے گا  ۔ ۔  ۔۔
فلسطین میں لاشوں کے انبار لگانے والے اسرئیل کو شاید معلوم نہیں کہ ایسے ہی منظر تاریخ نے کئی بار دیکھے ہیں اور پھر جنہوں نے یہ منظر بنائے تھے وہ اس اذیت سے مارے گئے کہ تاریخ آج تک انکے منہ پر کالک مل رہی ہے ، وہ فرعون ہو یا قارون ، وہ چنگیز خان ہو یا تیمور لنگ  ۔ ۔ ہٹلر ہو یا پھر ملزووچ  ۔ ۔  سب کے سب تاریخ کے آگے سرنگوں ہوتے ہیں  ۔ ۔
آج یہودی یہ سمجھ رہے ہیں کہ طاقت سے انہوں نے سب کی زبانیں بند کر دیں ہیں ، مگر وہ دن دور نہیں کہ یہ ہی یہودی انہیں مظلوموں سے رحم کی بھیک مانگ رہے ہونگے  ۔ ۔ ۔  میرے آقا و مولا (ص) نے ہمیں بتا دیا ہے کہ وہ وقت آنے والا ہے کہ جب یہ صہیونی درخت کے پیچھے چھپے گا اور درخت اس کا بتا دے گا  ۔  ۔۔
کیا انہہں معلوم نہیں کہ ایسا ہونے والا ہے ؟ معلوم ہے  ۔ ۔ ۔ مگر شاید یہ قانون قدرت ہے کہ طاقت ور کے بازو مضبوط ہو جاتے ہیں اور عقل کمزور  ۔ ۔ ۔  مجھے کچھ دوستوں نے ایسی ای میلز بھیجھیں ہیں کہ یہودی اسلئے طاقت ور ہیں کہ وہ علم میں برتر ہیں انہوں نے ایجادیں کیں ہیں انہوں نے دنیا کو نظام دیا ہے انہوں نے ہر شعبے میں ترقی کی ہے جبکہ مسلمانوں نے کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں کی  ۔ ۔ ۔ بلکے آپس میں لڑ مر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔  کیا یہ منطق ہے کہ اگر کوئی طاقت ور ہو جائے اور دوسرا کمزور تو اس کمزور کو ختم کر دیا جائے ؟  اگر یہ ہی دستور دنیا ہے تو دھشت گرد کیا برا کر رہے ہیں وہ بھی اپنی طاقت کے نشے میں کمزوروں کو اڑا رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ دھشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا  ۔ ۔ ۔  مگر ایک نظریہ ضرور ہوتا ہے  ۔ ۔  اور وہ ہے ظلم  ۔  ۔ ۔ 
دنیا کے سب ظالم چاہے وہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں ، ایک دن کمزور کے آگے اپنی ناکیں رگڑتے ہیں ، رحم کی بھیک مانگتے ہیں  ۔  ۔۔ اور وہ دن مجھے دور نہیں لگتا  ۔ ۔  ۔
برسوں پہلے کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ
ظلم رہے اور امن بھی ہو ، کیا ممکن ہے تم ہی کہو ؟
لہذا ظالم کو یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم جتنا بڑھے گا امن کی خواہش اتنی ہی کم ہوتی جائے گی ، اور پھر ظلم جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے  ۔ ۔ ۔ اور چاہے وہ کتنا ہی بڑا فرعون کیوں نہ ہو  ۔  ۔ وہ کتنا ہی بڑا دانشور کیوں نہ ہو  ۔ ۔ ۔  کمزور کے آگے کمزور پڑ ہی جاتا ہے  ۔ ۔  اور وہ وقت زیادہ دور نہیں  ۔ ۔ ۔  زیادہ دور نہیں
 
2009/1/5

العین میں پاک و ہند گرانڈ مشاعرہ

ان حالات میں جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر ھے ، انڈو پاک گرانڈ مشاعرہ کرانے کی ہمت ہمارے بہت ہی محترم دوست جناب سکھدیو صاحب نے کی ، امریک غافل  بھائی نے انکا ساتھ نبھایا اور العین کے حسین شہر میں ایک بہت ہی کامیاب مشاعرہ منعقد ہوا  ۔ ۔۔ جسکی صدارت جناب سرفراز علی حسین (پاکستان) نے کی اور مہمان خصوصی تھے بھارت سے آئے ہوئے انور جمال انور نے ، نظامت کے فرائض رفیق صاحب نےانجام دئیے  ۔ ۔ ۔
اس مشاعرے میں العین جیسے چھوٹے شہر کے بہت ہی اچھے سامعین شامل ہوئے ، جن میں زیادہ تعداد بھارتی دوستوں کی تھی ، اور سچی بات تو یہ ہے کہ میں جب سٹیج پر بلایا گیا ، تو سامنے دیکھ کر ٹانگیں کانپ کر رہ گئیں  ۔ ۔ ۔  اسکی وجہ شاید چند بڑے ناموں کے بیچ میرے جیسے عام بندے کی تھی  ۔ ۔ ۔  اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اسنے مجھے بہت عزت دی  ۔ ۔ ۔ اور مجھے میرے کلام پر جو کہ کچھ مختلف تھا دوسرے لوگوں کی بنسبت سراہا گیا   ۔ ۔ ۔
اصل میں میں نے سوچا تھا کہ میں اسکی تفصیل لکھوں گا مگر ذاتی مصروفیات کی بنا پر ایسا نہ کر سکا ، مگر اس مشاعرے کے چند اشعار ضرور جو ذھن میں رہ گئے پیش کر رہا ہوں اور پھر جو میں نے پڑھا اور اس مشاعرے کی کچھ تصاویر بھی  ۔ ۔ ۔
ایک بھارت کے شاعر ہیں جناب عابد صاحب (میں نام بھول رہا ہوں شاید) انکے اس شعر کو بار بار پڑھایا گیا
رشتہ دل سے رشتہ ہے جان کا
مان ہے یہ تو سارے ہندوستان کا
اور بھی ہیں ہمیں انکی بھی قدر ہے
رتبہ بہت بلند ہے اردو زبان کا
------------------------------------
ایک اور شاعر کے اس شعر پر بھی بہت تالیاں بجیں (انڈین اور پاکستانی مشاعروں کے درمیان داد دینے کا یہ سب سے بڑا فرق ہے )
نہ بچوں کا خیال نہ اہل و اعیال کا
کھو گئے ہو تم تو شاعروں کے بیچ میں
-------------------------------------
سرفراز صاحب نے اپنی مشہور غزل “دین و دنیا حاضر ہوں“ سنائی جسکے چند منتخب اشعار یہ ہیں
ہم مزدور کی بات تو سن لیں گے
لیکن پہلے خون پسینہ حاضر ہوں
قاضی صاحب باہر آئے ہیں
اچھا اچھا اچھا حاضر ہوں
---------------------------------------------------
اب وہ جو میں نے وہاں پڑھا
پھول کبھی آگ میں اگتے نہیں
ہرے پتے تو یوں ہی جلتے نہیں
نفرتوں کی زندگی ہے چار دن کی
محبتوں میں لوگ کبھی مرتے نہیں
-------------------------
پیغام (ایک نظم)
بارود کی فصل بونے والو
تم نے پھول اگائے ہوتے
بندوقوں کے شعلوں سے تم نے
نفرت کے گیت نہ گائے ہوتے
سیاست چمکانے کی خاطر
انساں ، انساں نہ لڑائے ہوتے
محلوں میں رہنے والو تم نے
غریبوں کے بھی سر چپھائے ہوتے
سرحدوں سے پہچان ہے اپنی
سرحد پے دل یہ ملائے ہوتے
جیسے ہم تم ہیں مل کہ بیٹھے
ایسے ہی دل بھی ملائے ہوتے
پڑوسی کبھی بھی بدلتے نہیں ہیں
بڑوں کے قول نبھائے ہوتے
اپنی اپنی پہچان نہ ہم کھوتے
جو اپنے کے ہم نہ ستائے ہوتے
-------------------------
میں بھی انساں تو بھی انساں
فاصلے اتنے کیوں درمیاں
کیا ہوا جو نام الگ ہیں
تیرا ایشور میرا رحماں
پیغام محبت کا سب دیتے ہیں
تیری گیتا میرا قرآں
خوشبو کا کوئی وطن نہیں
گل کا دیس بس گلستاں
اظہر سرحدیں کیوں مٹائیں
یہ تیری میری ہیں پہچاں
 
 
 
2008/11/22

معجزے آج بھی ہوتے ہیں

مجھے نہیں معلوم کہ  بات کیسے شروع کروں ، ہاں اس پروردگار کا شکر ہے جس نے مجھے اس مشینی دور میں معجزے دیکھنے کا موقع دیا اور ایسے لوگوں سے ملوایا جن کے بارے میں صرف سنا تھا یا پڑھا تھا ۔۔۔۔۔
پچھلے چالیس پچاس دن میرے لئے  کیسے گذرے میں جانتا ہوں یا میرا اللہ  ۔ ۔ ۔ ۔   اس دن میں آفس سے گھر آ رہا تھا کہ میری بیگم کی ڈاکٹر کا فون آیا ، کہ آپ کی وائف کی رپورٹس آئیں ہیں اور اچھی نہیں ہیں ، آپ اکیلے مجھ سے مل لیں  ۔۔  ۔ اور جب میں ان سے ملا تو بتایا کہ آپ کی وائف کو کارسینوما ہے جسے عرف عام میں بریسٹ کینسر کہتے ہیں ، اور مجھے فوراً آپریشن کروانا ہو گا کہ کینسر اپنی جڑیں پھیلا رہا ہے  ۔ ۔ ۔ میں صحیح معنوں میں کنگ ہو کر رہ گیا  ۔ ۔ ۔ میں کیسے بیگم سے کہوں گا کہ اسے کیا ہے میں جانتا ہوں کہ وہ بہت جلدی دل چھوڑ دیتی ہے چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لے لیتی ہے اور اتنی بڑی بات  ۔ ۔ ۔  اور پھر لفظ سرطان ہی ایسا لفظ ہے جو خود ہی ایک خطرناک ہے   ۔ ۔ ۔ بہرحال میں نے بیگم کو بتانے سے پہلے اپنی چھوٹی بہن جو پنڈی میں ہے اور ڈاکٹر ہے ، اس کو بتایا اور رپورٹس کو ای میل کیا  ۔ ۔  اسنے وہاں کے ڈاکٹرز سے مشورے کے بعد کہا کہ جتنی جلدی ہو سکے آپریشن کرنا ہے اور ایک ایک دن قیمتی ہے  ۔ ۔ ۔  میں اس پردیس میں اکیلا کیا کرتا یہاں یو اے ای میں فیملی میں سے کسی کو بلانا بہت مشکل تھا اور اوپر سے میری فنانشل پوزیشن بھی بہت خراب تھی  ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ آپریشن اور اسکے بعد کے پروسیجرز  ۔ ۔ ۔ مجھے چار ماہ سے ایک سال تک کے علاج کا کہا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  پھر میرے بچے کو کون سنبھالتا میری نوکری کا کیا ہوتا  ۔ ۔ ۔ بے شک میرے باسز اچھے ہیں انہوں نے سب کچھ سمجھا مگر نوکری تو نوکری ہی ہے  ۔ ۔ ۔ سو میں نے پاکستان میں آپریشن کروانے کا  فیصلہ کیا  ۔ ۔ ۔ اور اپنی بہن کے تعاون سے پاکستان میں اسکا ارینج کر لیا  ۔ ۔ ۔ بیگم کو بتایا کہ اس گلٹی کو نکالنے کا آپریشن کرنا پڑے گا اور کیونکہ بعد میں مشکل ہو گی  ۔ ۔ ۔ مگر پھر بھی نہیں بتایا کہ یہ کینسر ہے  ۔ ۔ ۔  اگر میں بتا دیتا تو شاید وہ آپریشن کے لئے تیار ہی نہ ہوتی  ۔ ۔  ۔
اسی دوران میں یہاں (شارجہ) میں ایک سرجن سے بھی کنسلٹ کیا تو انہوں نے بھی فوری آپریشن کا کہا  ۔ ۔ ۔ اور پھر میں ٢٨ اکتوبر کو پاکستان آ گیا  ۔ ۔ ۔ جہاں ٢٩ اکتوبر کو سب ٹسٹ دوبارہ کئیے گئے اور پتہ چلا کہ کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے اور ڈاکٹرز نے ٣٠ اکتوبر بروز جمعہ المبارک کو دوپہر ساڑھے تین بجے آپریشن شروع کیا گیا ، تین سرجن ڈاکٹر تین ڈاکٹر اور چار امدادی افراد نے اس آپریشن کو انجام دیا میری بہن نے بھی آپریشن کو اسسٹ کیا گو ڈاکٹروں نے منع کیا تھا مگر  ۔ ۔ ۔ اس نے نہیں مانا  ۔ ۔ ۔ دو سے ڈھائی گھنٹے کا آپریشن کہا گیا تھا مگر آپریشن چھے گھنٹے طویل ہو گیا  ۔ ۔ ۔ وہ چھے گھنٹے میں نے اور میری فیملی نے کیسے گذارے آپریشن تھیٹر کے باہر  ۔ ۔  ہمیں ہی معلوم ہے درمیان میں جب میری بہن نے بتایا کہ جتنا سوچا تھا اس سے کہیں زیادہ بڑا کینسر ہے تو ہم نے اللہ کے آگے اپنی جبینیں جھکا دیں  ۔ ۔ ۔  جس سے جو ہوا وہ پڑھا  ۔ ۔ ۔  دنیا میں جہاں جہاں میرے دوست تھے  رشتے دار تھے انہیں فون کر کہ دعا کے لئے کہا  ۔   ۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ اتنا لمبا انستھیزیا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے اور پھر میری بہن جب آپریشن تھیٹڑ سے نکلی اور مجھ سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کہ رونے لگی تو میرا دل جیسے بند ہو گیا  ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اسکے منہ سے نکلا کہ اللہ نے معجزہ کر دیا اتنا مشکل آپریشن کامیاب ہو گیا  ۔ ۔ ۔ تو میں  وہیں سجدے میں گر گیا  ۔  ۔ ۔ ۔ ۔
ہم سب نے سجدہ شکر ادا کیا اور بیگم کو آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا  ۔ ۔ ۔  انہیں ہوش میں لایا گیا تھا مگر ابھی تک وہ انستھیزیا کے اثر میں تھیں خون کی بوتلیں لگیں تھیں  ۔ ۔ ۔ ۔  اور پھر اگلے چوبیس گھنٹے ہمارے آنکھوں آنکھوں میں گذر گئے  ۔ ۔ ۔ اور پھر جب وہ تک وہ اچھی طرح سے ہوش میں نہیں آئیں مجھے ان سے نہیں ملنے دیا گیا  ۔ ۔ ۔ ۔
اور پھر ٹیسٹ پے ٹیسٹ اور جانے کیا کیا  ۔ ۔ ۔  اگر ایک قدم گھر میں تھا تو دوسرا قدم ہسپتال میں  ۔ ۔ ۔  میں سلام کرتا ہوں ان ڈاکٹرز کو جنہوں نے یہ آپریشن کیا  ۔ ۔ ۔ خاص کر ڈاکٹر شوکت جو شہریار ہسپتال کے جنرل سرجن ہیں ، اور دوسرے ڈاکٹر حنیف جو مین سرجن ہیں اور پھر فزیشن ڈاکٹر ابرار  ۔ ۔ ۔ جنکے مخصوص انداز نے میری بیگم کو بہت حوصلہ دیا  ۔ ۔ ۔   ان سب کے علاوہ ڈیوٹی ڈاکٹرز ، ڈاکٹر قاسم اور سسٹر انیتا نے بھی ہمیں ہماری پریشانی کو شئیر کیا  ۔ ۔ ۔ میری سسٹر کے ہسپتال کے ایم ڈی ، ڈاکٹر حسنین ، جنہوں نے بھائیوں کی طرح میرا ساتھ دیا  ۔ ۔ ۔ اللہ انہیں اسکی جزا دے
پھر ٨ نومبر کو میں نے اپنے ابو کی قبر پر حاضری دی ، اگلے دن انکی برسی تھی ، میں ذاتی طور پر مشکور ہوں صاحبزادہ ساجد الرحمَن صاحب جو بیہار شریف کے گدی نشین ہیں اور پاکستان کے بہت بڑے اسلامی ریسرچ اسکالر بھی ہیں ، انکی ابو کی برسی پر خصوصی شرکت کی اور ہمارے لئے دعائے خیر کی  ۔ ۔ ۔ (میری بیگم ان سے بعیت بھی ہیں )
اور پھر اگلے دن یعنی ١٠ نومبر کو بیگم کو ڈسچارج کر دیا گیا اور اسی رات میری دبئی کے لئے فلیٹ بھی تھی ، آفس میں میری بہت کمی ہو رہی تھی بہت سارے کام رک گئے تھے  ۔ ۔ ۔ سو میں واپس آ گیا  ۔ ۔  کیونکہ مجھے خرچے کا بھی انتظام کرنا تھا  ۔ ۔ ۔
مجھے پتہ تھا کہ آپریشن تو آغاز تھا اب مزید مشکل مرحلہ آنے والا تھا جسکے لئے ڈاکٹرز نے بیگم کو تیار کرنا تھا اور مزید ٹیسٹ لینے تھے اور پھر انہیں ٹیسٹ کے درمیان ایک اور چیز کا پتہ چلا کہ بیگم کے پتے میں پتھری ہے  ۔ ۔ ۔ اور اسکا علاج صرف از صرف پتے کا آپریشن ہے  ۔ ۔  یا خدایا ایک اور آپریشن  ۔ ۔ ۔ بیگم نے دل ہی چھوڑ دیا  ۔ ۔ ۔  گھر میں ایک بار پھر فضا بدل گئی میری بھی زندگی میں تناؤ بڑھ گیا  ۔ ۔ ۔ کام میں کیا دل لگاتا  ۔  ۔ صبح شام بس تسلیاں دے رہا تھا خود کو اور گھر والوں کو بھی  ۔ ۔ ۔ اور بیگم ایک بار پھر ہسپتال میں داخل ہو گئیں پتے کے آپریشن کے لئے ، ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ کیمیوتھراپی اور ریڈی ایشن سے پہلے آپریشن کرنا ضروری ہے کیونکہ کیمیو تھراپی سے انسان میں کمزوری ہو جاتی ہے اور پھر بہت مشکل ہو جائے گا آپریشن کرنا ، بہت سارے ٹیسٹ کے بعد گذشتہ جمعے کا دن آپریشن کا طے پا گیا (٢١ نومبر)  ۔ ۔ ۔
اور پھر اللہ نے ہم پر اپنا کرم کرنا شروع کیا ،  جمعرات کو میری ممانی نے ایک شخص کا پتا بتایا اور وہ شخص آیا اور اسنے آکر بیگم کو دم کیا اور پانی دیا  ۔ ۔ ۔ اور جمعے والے دن ہی انہوں نے پانی پیا اور انکا الٹرا ساؤنڈ بدل گیا  ۔ ۔ جی ہاں وہ پتھر  ۔ ۔  ریزہ ریزہ ہو گیا اور ڈاکٹرز حیران رہ گئے اور  ۔ ۔  ہر طریقے سے چیک کیا گیا  ۔  ۔ ۔ مگر دنیا کی سائنس کے پاس کوئی جواب نہ تھا اس اللہ کے کلام کی شفا کا  ۔ ۔ ۔ ۔  اور ڈاکٹرز کو کہنا پڑا کہ اب آپریشن کی ضرورت نہیں
بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوئی ، اگلے دن یعنی آج (٢٢ نومبر) کی صبح کو بیگم کا بون اسکین کیا گیا ، جس میں کینسر کا ایک بھی سیل نہیں تھا  ۔ ۔ ۔ یعنی بیگم کو اب شاید کیمیو تھراپی کی بھی ضرورت نہیں   ۔۔  ۔ ۔  یہ سب دو دن میں ہوا   ۔ ۔ ۔ دو دن پہلے کی رپورٹز اور دو دن کے بعد کی رپورٹز میں زمین آسمان کا فرق تھا  ۔ ۔  ۔ ۔ ہم سب سجدے میں چلے گئے اس رب کی جو ہر چیز پر قادر ہے  ۔  ۔ ۔  ڈاکٹرز نے اپنے یقین کے لئے بار بار ٹیسٹ کئے مگر اللہ کی سائنس کے آگے اس دنیا کی سائنس کچھ بھی نہیں تھی  ۔ ۔ ۔ ۔  کوئی جواب نہیں تھا  ۔ ۔ ۔ اور اللہ نے یہ شفا ایک عام سے آدمی کے ہاتھ میں رکھی تھی ، جسکے چہرے پر نہ تو داڑھی تھی نہ ہی وہ کوئی بہت اونچا نظر آتا تھا  ۔ ۔  ۔ وہ عام لگتا ہے  ۔ ۔ ۔ اور وہ شخص ہے جب ہم نے اسے کچھ دینے کی کوشش کی تو اسکی آنکھوں میں آنسو تھے وہ کہنے لگا کہ اگر میں انہیں ہاتھ بھی لگاؤں گا تو شاید اللہ مجھ سے یہ قدرت چھین لے  ۔  ۔  اسنے ہمیں شکرانے کے نفل پڑھنے کا کہا اور صدقے کا کہا  ۔ ۔  میں آج جب ان سے بات کر رہا تھا تو میرے منہ سے آواز نہیں نکل پا رہی تھی ۔ ۔ ۔  وہ شخص جو ہمارے لئے مسیحا بن کہ آیا  ۔ ۔ ۔ اور وہ خود بھی رو رہے تھے اور کہ رہے تھے کہ یہ سب اللہ کا کرم ہے جس نے انہیں یہ توفیق دی  ۔ ۔  ۔ اور پھر میں نے ان سے اجازت لی کہ میں انکے نام کو دوسروں تک پہنچاؤں تا کہ دنیا بھر کے لوگ انکی دعاؤں سے مستفیض ہو سکیں  ۔ ۔ ۔  اور انہوں نے کہا ضرور  ۔ ۔
تو دوستو اس اللہ کے دوست کا نام ہے  عابد کیانی ، اور انکا فون نمبر ہے  -5127632 -0092333  مجھے یقین ہے ضرورت مند انہیں فون کر کہ ضرور مستفیض ہونگے ، اور میں یہ بھی یقین رکھتا ہوں کہ دوست ان کے لئے دعا کریں گے اور مجھے بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا  ۔ ۔ ۔ ۔