Azhar Ul Haq 的个人资料اظہرالحق کی دنیا - Azhar...日志列表 工具 帮助
2009/10/23

ایگری کلچر کنٹری Agreeculture country

چلیں جی ، جماعت اسلامی نے عوام سے پوچھ لیا ، کہ کیری لوگر بل چاہیے کہ نہیں ، ظاہر ہے چونکہ جماعت اسلامی کا جواب نہیں تھا اسلئے عوام نے بھی نہیں بولا، یعنی عوام کی زبان جماعت کی زبان ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟
اچھا ادھر بھی دیکھیں ، ہمارے وزیر مداخلہ کا بھی کہنا ہے کہ عوام اب ساتھ دے رہی ہے حکومت کا ، یعنی حکومت جو کچھ کر رہی ہے ، عوام بھی وہ ہی چاہ رہی ہے  ۔ ۔ ۔ یعنی جو حکومت کی بات وہ ہی عوام کی بات  ۔ ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟؟
اوہ ہو، آپ چینل بدل بدل کر کیوں دیکھ رہے ہیں ایک ہی چینل پر سب کچھ آتا ہے ، سوائے میز اور میزبانوں کے کچھ بھی فرق نہیں ، اور سب میڈیا بھی یہ ہی تو کہتا ہے نا  ۔ ۔  کہ عوام کی آواز ۔ ۔ ۔ میڈیا کی آواز  ۔ ۔  ایک ہی  ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟؟
آہا ، یہ ہمارے تاجر بھائی ہیں ، ساری کی ساری معیشت انکی دُم  ۔ ۔  اوہ سوری  ۔  ۔ انکے دَم سے چل رہی ہے ، بے چارے کبھی عدالت کی کھاتے ہیں کبھی دھشت گردوں کی  ۔ ۔ ۔ اور پھر بھی عوام انکی عظمتوں کی قائل ہے ، وہ چینی چالیس کی بیچیں یا ایک سو چالیس کی  ۔ ۔ ۔ عوام کو کوئی اعتراض نہیں  ۔ ۔ ۔ سو عوام انکے ساتھ اور وہ عوام کے ساتھ  ۔ ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟؟
اور ہاں جی زرا ابھی غازیوں کی طرف بھی نگاہ کریں ۔ ۔ ۔ ۔ آئی  ۔ایس پی آر (اس میں آئی اور آر اردو کا ہے باقی فرنگی زبان کا ، آر کے بعد پار لگانا مت بھولیے گا )  ۔ ۔  ۔ شہادتیں ہو رہیں ہیں ، دونوں طرف سے یعنی مارنے والا بھی جنتی اور مرنے والا بھی  ۔ ۔ ۔ اصل میں پہلے شہادت کی سند فوج جاری کرتی تھی اعزاز وغیرہ دے کر ، اب تو دوسری پارٹی بھی سند جاری کر رہی ہے ، بلکہ شہادت سے پہلے ایڈوانس میں  ۔ ۔ ۔ ۔  اور دونوں کا دعویٰ ہے کہ عوام انکے ساتھ ہیں  ۔ ۔ ۔  یعنی فوج عوام اور طالبان سب ٹھیک ۔۔۔۔۔ ہیں جی ؟؟؟؟؟
ارے میں تو اپنے جج صاحبان کو بھول گیا جنہیں کُرد بھائی فرعون بھی کہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ مگر سمجھ نہیں آتا کہ کہا جاتا ہے کہ ہر فرعون را موسٰی یعنی ہر فرعون کے لئے ایک موسٰی ہوتا ہے  ۔ ۔ ۔ مگر اتنے سارے فرعونوں کے لئے  ۔ ۔ ۔  ایک بھی موسٰی نہیں  ۔ ۔ ۔ ویسے بھی عوام فرعونوں سے راضی ہے  ۔ ۔  تو انصاف اور عوام راضی تو کیا کرے گا قاضی  ۔ ۔ ۔ ہیں جی ؟؟؟؟

بہت سوچا کہ آخر ایسا کیسے ممکن ہے کہ سب کے سب ٹھیک ہوں اور عوام سب کے ساتھ ہو!!!!!!!  اور پھر جواب مل گیا  ۔ ۔ ۔ ۔ جی ہاں جواب مل گیا   ۔ ۔ ۔ اصل میں ہمارا ملک ایگری کلچر کنٹری Agreeculture country  ہے  ۔ ۔ ۔  یعنی ہمارا کلچر ہے ایگری ہونا  ۔ ۔  ۔سو ہم ہر چیز سے ایگری ہیں  ۔ ۔ ۔ بلکہ ہم ایگری سے بھی ایگری ہیں اور ناٹ ایگری سے بھی ایگری یعنی ایگری ہیں  ۔ ۔  اور ظاہر ہے یہ ہمارا کلچر ہے اور سب کچھ بدل سکتا ہے ہمارا کلچر نہیں  ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ اور وہ بھی ایگری کلچر !!!!
مجھے یقین ہے آپ میرے سے ایگری ہوں گے  ۔ ۔ ۔  ہیں جی ؟؟؟؟
2009/9/19

میرا سلام

ایک دوست نے مدینے میں روضہ رسول (ص) پر میرا سلام دیا
 
قبول کر لیں سلام میرا، ایک عاصی یہ کہتا ہے
عاجزی کا بیغام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
نہیں مقدر میرا تو ، مدینے جانے والوں سا
مجبوری ہے نام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
آؤں طیبہ کی ہوا میں ، پیاس بجھ جائے برسوں کی
بھر جائے یہ جام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
موت آ جائے نہ میری ، مدینے جانے سے پہلے
زیست کا ہے اختتام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
اظہر اس بات پر نازاں ، کہ سلام ان تک پہنچا
شاید اتنا ہی دام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
2009/9/15

نعت


ہر درد کی دوا، نام آپ کا
ہر اک کا آسرا ، نام آپ کا
 
آپ ہی تو ہو وجہ دوجہاں
ابتداء اور انتہا ، نام آپ کا
 
گناہ کا مرض لگ جائے اگر
اس کے لئے شفاء، نام آپ کا
 
سب سے ارفع سب سے اعلٰی
رب نے ہے کہا، نام آپ کا
 
آدم کو کر دیا خدا نے معاف یوں
جب واسطہ بنا ، نام آپ کا
 
میں کہاں، کہاں آپکی ثناء
بس لکھتا رہا ، نام آپ کا
 
اظہر مجھے سکوں ہی ملا
جب بھی لے لیا ، نام آپ کا
 

مناجات

اے میرے خدا اے میرے خدا
ہم پر رحمت کا مینہ برسا
 
تنگ ہوئی ہم پہ یہ زمیں
روٹھا ہوا ہے عرش بریں
کس کو سنائیں حال اپنا
تیرے سوا تو کوئی نہیں
 
 
بس تو ہی تو ہے  آسرا  ۔ ۔ ۔  ۔
اے میرے خدا اے میرے خدا
 
 
ہم عاصی ہیں ہم نافرماں
ہم بھولے ہیں تیرا قرآں
ہم دنیا داری میں کھوئے
خسارے میں ہیں ہم  ناداں
 
 
معافی کی ہم مانگیں دعا

اے میرے خدا اے میرے خدا

 

تجھے واسطہ شاہ یثرب کا
تجھے واسطہ فاتح خیبر کا
تجھے واسطہ شہید کربل کا
تجھے واسطہ تیری رحمت کا
 
 
میں گر چکا ہوں مجھ کو اٹھا
اے میرے خدا اے میرے خدا
 
 
میرے دیس کو خوشحالی دے
میرے شہر کو رُت متوالی دے
میری گلیوں کو روشن کر دے
میرے گھر کو حُسن جمالی دے
 
 
ہمیں اپنی رحمت میں لے چھُپا
اے میرے خدا اے میرے خدا
2009/9/3

ایک کیو ایم - مزید باتیں اور جوابات

انکل اجمل نے میری ایم کیو ایم کی تحریر کو اپنے بلاگ پر جگہ دی ، جسکے لئے میں انکا شکر گذار ہوں ، آج میں اسی پوسٹ سے جڑے ہوئے کچھ سوالوں کے جواب دے رہا ہوں ، مگر پہلے کچھ میرے اپنے بارے میں تاکہ آپ لوگ سمجھ سکیں کہ یہ مضمون لکھنے والا کون ہے  ۔ ۔ ۔
- پہلی بات میری پیدائش کراچی میں نہیں ، پنڈی میں ہوئی تھی ، لیکن میرا بچپن ، جوانی کراچی میں ہی گذری ، پہلی کلاس سے گریجویشن تک تعلیم میں کراچی میں ہی حاصل کی ١٩٧٦ سے لیکر ١٩٩٩ تک میری فیملی بھی کراچی میں ہی تھی ، مگر اب پنڈی شفٹ ہو چکے ہیں
- میرا تعلق ایک کشمیری گھرانے سے ہے ، ہمارے آباء  کشمیر سے آ کر پنڈی میں آباد ہوئے ، اور میں مہاجر نہیں ہوں ، ہاں کراچی میں ہماری حیثیت مہاجروں کی سی تھی ، کیونکہ ہم نے زندگی وہاں گذاری اور اپنے وطن (یعنی پنڈی) میں بعد میں آئے ، مگر میں آج بھی کراچی کو اپنا شہر سمجھتا ہوں ، وجہ یہ ہے کہ میں تو پچھلے دس سال سے بیس دن سے زیادہ پنڈی نہیں رہا
- اور مہاجر (یعنی اردو اسپیکنگ) کے لوگوں سے میرا تعلق اتنا گہرا ہے کہ میری دو بھابھیاں خالص اردو اسپیکنگ فیملی سے ہیں ، اور انکی فیملیاں ایم کیو ایم کی کتنی قریب ہیں ، وہ یہ ہے کہ ان فیملیز میں دو “یونٹ انچارج“ ہیں  ۔ ۔ ۔
- میرے دوستوں میں زیادہ تر اردو اسپیکنگ ہیں ، اور انکا تعلق کراچی سے ہے ، اور وہ ایم کیو ایم کے بہت نزدیک ہیں ، مگر وہ ان لوگوں میں سے ہیں ایم کیو ایم کے جو تنقید برداشت بھی کرتے ہیں اور غلطیوں کو مانتے بھی ہیں ، اور بہت اچھے انسان ہیں ، اور اسی لئے وہ میرے دوست ہیں آج تک   ۔ ۔  ۔ ۔ 
- میں نے دس سال کراچی کے مختلف اسٹیٹیوٹ میں کمپیوٹر پڑھایا ہے ، پیٹرومین ، آئی سی ٹی اور ایڈوانس کمپیوٹر اکیڈیمی ، کیمبرج کمیپوٹر اور فاسٹ جیسے انسٹیٹیوٹ میں رہا ہوں  ۔ ۔  اور مجھے فخر ہے کہ ملیر میں میں پہلا انسٹریکٹر تھا جسنے ملیر جیسے ایریا میں سندھ ٹیکنیکل بورڈ سےمنظور کروایا اور ان کے اسٹوڈنٹس کو وہ جگہ دلائی جو اس زمانے میں صرف بڑے انسٹیوٹ کے لئے سمجھا جاتا تھا اور  ۔ ۔  یاد رہے میرے سارے اسٹوڈنٹ اردو اسپیکنگ تھے
- اور میں ہی وہ بندہ ہو جسنے کراچی کی پبلک لائبریری کو کمپوٹریز کیا تھا ، آپ کراچی کے ہمدردوں کو کتنی لائبریریز کا معلوم ہے ؟  تیموریہ ، یا لیاقت لائبریری  مگر فرئیر ہال لائبریری ، غالب لائبریری اور کورنگی اور اورنگی کی لائبریریز کو کون جانتا ہے ؟
- یاد رہے یہ میں اس وقت کر رہا تھا جب کراچی میں ایم کیو ایم ایک طاقت بن چکی تھی ، آپ نے ایم کیو ایم کی تنقید کا حصہ پڑھا مگر کسی نے ایڈمینسٹیریٹر فارق ستار کا پیراگراف پڑھا ہے ؟ ، کسی نے ایم کیوایم کے ان بچت بازاروں کا حصہ پڑھا ؟
- دوستو میں ایم کیو ایم کا مخالف نہیں ، میرے کالج میں یہ جماعت موجود تھی ، میرے محلے میں موجود تھی میرے گھر میں موجود تھی   ۔۔ ۔ ۔ سو کیا میں ایم کیو ایم کو نہیں جانتا؟؟
- ایک بات پتہ نہیں میں کیوں نہیں کہنا چاہتا تھا مگر اب کہنی پڑ رہی ہے ، میں اسی ٨٠ کے آخر سے ٩٠ کے درمیان تک ، میں میڈیا میں کافی ایکٹیو رہا ، یاد رہے یہ پاکستان میں پی ٹی وی کی اجارہ داری کے خاتمے کا آغاز تھا اور این ٹی ایم اور ایس ٹی این جیسا میڈیا شروع ہو چکا تھا ، میں ان دنوں ٹی وی ، ریڈیو اور فلم (ایسٹرن فلم اسٹیوڈیو میں شوٹنگ ہوتیں تھیں ) اور اسٹیج میں برابر حصہ لیتا تھا ، بے شک میرا زیادہ کام آف دا اسکرین ہے مگر شاید اب بھی کچھ لوگوں کو “اے ہاشمی“ یاد ہو  ۔ ۔
- یہ میری خود نمائی (اللہ مجھے معاف کرے ) صرف اسلئے بیان کر رہا ہوں کہ آپ دوستوں کو پتہ چلے کہ میں یہ باتیں کس بنیاد پر کرتا ہوں ، میرے ایک کالج فیلو کو قائد کے غدار کے طور پر قتل کر دیا گیا تھا ، اسکی ماں نے اسے اسکی انگلیوں سے پہچانا  ۔ ۔ ۔
- آپ کو شاید یاد نہ ہو میں یاد دلاتا ہوں کہ لاشوں کو عورتوں نے کندھا دیا ، بے شک مگر آپ کو معلوم ہے کیوں ؟ اسلئے نہیں کہ مرد نہیں تھے ، بلکہ انہیں مجبور کیا گیا تھا  ۔ ۔ ۔  ۔  ورنہ اس وقت کے اخبار میں ایم کیو ایم کے ایک ہمدرد ندیم کمانڈو کی نماز جنازہ تین پولیس والوں نے ادا کی تھی  ۔ ۔  ۔ جسکی تصویر اس وقت کے اخبارات میں موجود ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ 
- چلیں یہ سب اسٹیبلشمنٹ کی کارستانیاں تھیں ، فوج کو ایم کیو ایم سے خار تھی  ۔ ۔ ۔ مگر کوئی صرف اتنا بتا دے کہ کھجی گراؤنڈ میں کن لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا ، اور وہاں پولیس کے داخلے پر گھر گھر سے کیوں پتھراؤ ہوتا تھا ؟
- اگر آفاق اور عامر ایجنسیوں کے بندے ہیں تو آج بھی حقیقی کے علاقوں میں الطاف حسین کو کیوں برا سمجھا جاتا ہے ؟
- جو لوگ شاہ فیصل کالونی کے رہنے والے ہیں انہیں معلوم ہے ، کہ اسی چوراہے پر جہاں الطاف حسین کی تصویر پر روز تازہ پھول چڑھائے جاتے تھے وہیں اسی تصویر پر جوتوں کے ہار بھی پڑے !!!!!!!!
- آپ کیوں بھول جاتے ہیں اس زمانے میں جن جوانوں کے قتل پر الطاف بھائی خون کے آنسو روتے تھے ، انکے نام کیا تھے ؟ کیا وہ نام شریف لوگوں کے ہوتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔؟؟؟
- کیا الطاف بھائی نے مہاجر قوم کو اپنا سونا بیچ کر ہتھیار خریدنے کو کیوں کہا ؟ اور شاید میری بھلکڑ قوم طالبان کے آمد کے غوغے پر الطاف بھائی کے ہتھیار خریدنے کے بیان کو بھول چکے ہیں  ۔ ۔ ۔ تو پھر بیس سال پہلے کا بیان کہاں یاد آئے گا
اب میں ایک اور طرف آتا ہوں ، جہاں مہاجر قومی مومنٹ ، متحدہ قومی مومنٹ بنی  ۔ ۔  ۔ ۔  اور حقیقی کہاں سے آ گئی ، حق پرست کون تھے ؟ اور پھر کہاں گئے ؟ جی ہاں یہ چولے بدلے جاتے رہے ہیں  ۔ ۔ ۔  ایم کیو ایم کے یہ نام تو یاد ہیں مگر آپکو پی پی آئی یاد ہے ؟ جی ہاں پنجابی پختون اتحاد ، کیا کوئی بتائے گا یہ پی پی آئی کیوں بنی تھی ، یہاں ایک تبصرے میں ایک قوم کی بات کی گئی تھی ، میں نے اس “حملے“ کی وڈیو دیکھی تھی ، جسکا آغاز ایک سین سے ہوتا ہے جس میں اس مخصوص قوم کے گھر کو جلایا جا رہا تھا کہ کچھ بچے بھاگ کر نکلے اور انہیں پکڑ کر دوبارہ اسی آگ میں اچھال دیا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر ایک آبادی کو دیکھایا گیا جس کو “علاقہ غیر“ سے آنے والے لوگوں نے گھیرا اور پھر  ۔ ۔  ۔ ایک ایک گھر کو جلایا گیا اور وہ ہی کیا گیا جو انکے ساتھ ہوا تھا  ۔  ۔ ۔  میں ان کو الفاظ میں کیسے بیان کروں  ۔ ۔  ۔  بس انسان کو درندہ بنتے دیکھا ہے میں نے  ۔ ۔ ۔ ۔
خیر جب مہاجر قومی موومنٹ کو اپنی طاقت بنانے کے لئے جن لوگوں کا سہارا لیا تھا وہ کسی نہ کسی طرح جرائم میں ملوث تھے ، جب ایم کیو ایم نے دھونس دھاندلی سے جگہ بنا لی ، مگر ظاہر ہے آپ چاہے کتنے ہی طاقت ور ہوں ، اقتدار کے ایوانوں میں غنڈہ گردی نہیں چل سکتی ، وہاں غنڈہ گردی بڑی سطح پر کی جاتی ہے ، اس لئے مہاجر قومی موومنٹ نے “شدت پسند“ عناصر کو خود سے الگ کرنا چاہا ، تو ظاہر ہے وہ لوگ تو اس جماعت کو اوپر لے کر آئے تھے انکا اثر اتنی جلدی نہیں جا سکتا تھا  ۔ ۔ ۔  اس لئے ایک اچھے آدمی جسے دنیا عظیم طارق کے نام سے جانتی تھی ، اسنے ایم کیو ایم کو ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی شروع کی  ۔ ۔ ۔  تو انہیں وہ ہی صلہ ملے جو “غداروں“ کو ملتا ہے  ۔ ۔  ۔
اب ایم کیو ایم حق پرست جماعت بنی  ۔ ۔ ۔  اور پھر صوبائی اسمبلی سے قومی اسمبلی تک پہنچی ، ایم کیو ایم نے دو اتنخابات میں سمجھ لیا تھا کہ اسمبلیوں میں “شدت پسند“ نہیں بلکہ “چُپ شاہ“ جیسے لوگ چاہیے جو “خادم“ رہیں  ۔ ۔۔  اور پھر ملکی سطح پر قوم پرست جماعت کو وہ اہمیت نہیں مل سکتی تھی جو ایک سیاسی جماعت کو ملنی چاہیے ، اس کی مثالیں جئے سندھ تحریک اور سرائیکی تحریک اور بلوچی تحریک کے اسمبلی ممبران کی تھیں  ۔ ۔ ۔ ۔  اسلئے ملکی سطح پر چولا بدلا گیا  ۔ ۔ ۔  اور ایم کیو ایم نے یہ بھی سمجھ لیا تھا کہ عوامی بھتے سے انکا امیج متاثر ہو رہا تھا ، اور پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے ساتھ قربت سے بھی انہیں بہت کچھ سیکھ لیا تھا کہ “کمانے“ کے اور بہت اچھے ذریعے ہیں  ۔ ۔ ۔   جیسے ٹھیکوں میں کمیشن اور کمیشن پر ٹھیکے  ۔ ۔  ۔
سو ایم کیو ایم اب ایک سیاسی جماعت بن چکی ہے ، بالکل پی پی اور ن لیگ کی طرح ، اس میں وہ ہی سوچ ہے جو کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو سکتی ہے ، اقتدار کا راستہ اسمبلیوں سے ہو کر جاتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اب یہ جماعت اسی پر کاربند ہے 
اچھی بات یہ ہوئی ہے ، کہ یہ جماعت اب مڈل کلاس کی نمائیندہ بننے کی اہل ہے ، مگر اسکے لئے اسے اپنے ماضی سے تعلق توڑنا ہو گا اور قوم سے معافی مانگنا ہو گی ، اور اگر یہ لوگ اپنی غلطیوں کو نہیں مانیں گے تو پھر یہ ہمیشہ “متنازعہ“ رہیں گے  ۔ ۔  ۔ اور  کراچی کو منی پاکستان ہی رہنا ہو گا  ۔ ۔ ۔ 
باقی رہی الطاف حسین کی بات تو ظاہر ہے ہر سیاسی پارٹی شخصیت پرستی پر چلتی ہے ، ن لیگ کو نواز شریف چاہیے ، پی پی کو زرداری ، تو شخصیت پرستی ہر جماعت میں ہے ، تو پھر اس جماعت پر اعتراض کی وجہ کوئی نہیں ہونی چاہیے ، مگر پاکستانی جماعت کا لیڈر پاکستان میں ہی ہونا چاہیے ، کم سے کم کبھی کبھی پاکستان کا دورہ ہی کر لیا کرے صدر زرداری کی طرح  ۔ ۔ ۔ ۔
 
 

订阅源

所有者还没有为此模块指定订阅源。

订阅源

所有者还没有为此模块指定订阅源。

Naseem Azhar Ul Haq

职业
地点
兴趣
I'm Azhar, Azhar mean Open, shining . . yes I'm like my name . . .
میں ہوں اظہر ، اپنے نام کی طرح کھلا اور ظاہر ۔ ۔ ۔
یھ وہ سائیٹس ہیں جن پر میں اکثر جاتا ھوں
میرے دوست بلاگرز جن کے بلاگ پڑھنا میرے معمولات میں شامل ہے
اردو میں ویب پر شائع ہونے والے رسائل و جرائد